Zakat / Charity / Aid

Ref. No. 3949/47-10153

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔    ایسا قرض جو فی الحال واجب الادا نہ ہو بلکہ مدت کے ساتھ قسطوں میں ادا ہونا ہو، وہ پورا قرض زکوٰۃ کے حساب میں منہا نہیں کیا جاتا، بلکہ صرف وہ قسط منہا ہوگی جو سالِ زکوٰۃ میں واجب الادا ہے۔یعنی سال گزرنے پر زکوۃ کے حساب سے صرف اس رقم کو منہا کریں گے جو اس سال آپ نے قسط میں جمع کردی ہے۔ آئندہ سالوں کی جو قسط ابھی باقی ہے ، ان پر سال رواں زکوۃ واجب ہے۔

ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة (الی قولہ) (ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا رحمهم الله تعالى كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض الخ (الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، ج 1، ص 172، ط: ماجدیہ)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Zakat / Charity / Aid

Ref. No. 3903/47-10100

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ :۔(۱)  زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے شرط ہے کہ:زکوٰۃ کسی مستحق (فقیر / مسکین) کی ملکیت میں دی جائے، بغیر تملیک کرائے زکوۃ کی رقم سے براۃ راست عمارت بنانا،تنخواہیں دینا،بجلی، پانی، انتظامی اخراجات جائز نہیں ہیں۔ (۲) حیلہ تملیک میں اگرقرض دینے والا پہلے سے جانتا ہو کہ یہ رقم گھوم پھر کر مدرسے ہی کو واپس آنی ہے سارا عمل صرف کاغذی اور ظاہری ہو، مستحق کو حقیقی اختیار حاصل نہ ہو، توایسی صورت  میں  زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔(۳) اگربالغ طلبہ یا نابالغ کے والدین تحریری طور پر مدرسہ کو اپنا وکیل بنا دیں کہ:“ہماری زکوٰۃ ہماری ضروریات میں خرچ کریں” توجائز اخراجات: کھانا، رہائش، تعلیم و کتب، ٹرانسپورٹ، اور جو بھی طالب علم کی ذاتی ضرورت میں شامل ہوں سب زکوٰۃ سے ادا کیے جا سکتے ہیں۔(۴) لیکن   اساتذہ و عملہ کی تنخواہیں،بجلی، پانی، عمومی سہولیات، مدرسے کی تقریبات، مہمانوں کا کھانا، مقررین کو ہدیہ، ان کے سفر کے اخراجات، یہ سب زکوٰۃ سے ادا کرنا جائز نہیں۔(۵)  اگر زکوٰۃ دینے والے کی نیت مخصوص مدرسہ میں دینے کی ہو،تو مہتمم  اپنی مرضی سے دوسرے مصرف میں خرچ کرنے  یا خود رکھ لینے سے خیانت کا مرتکب ہوگا اور زکوٰۃ کی عدمِ ادائیگی کا بھی گناہ ہوگا۔

(۶)  اگرگاڑی خاص نیت سے دی گئی، پھر ذاتی یا غیر متعلقہ استعمال میں لائی گئی تویہ:شرطِ واقف / معطی کی خلاف ورزی، خیانت،اور گناہ ہے  پٹرول خواہ ذاتی ہو یا مدرسے کا ہو، مدرسہ کی گاڑی ذاتی استعمال میں لانا ناجائز ہے۔(۷)  وقف عمارت میں اگر  نقصان ، استعمالِ معمول سے ہو، تو  وقف سے مرمت جائز ہے، اگر نقصان استاد کی لاپرواہی سے ہو تو پھراس  کا ضمان متعلقہ استاد پر ہوگا۔ (۸)  تنخواہ معروف اور عرف کے مطابق ہو ،اسراف نہ ہو،ادارے کی مالی حالت ملحوظ ہو،مہتمم بقدرِ خدمت، علاقے کے عرف کے مطابق تنخواہ لے۔ اور اساتذہ کو اوقات، ذمہ داری ،رہائشی / غیر رہائشی فرق کے مطابق  تنخواہوں میں تفاوت جائز ہے۔ رہائشی استاد  کے لئے  تنخواہ مع طعام کا  تفاوت شرعاً درست ہے۔

  واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Zakat / Charity / Aid

Ref. No. 3735/47-9797

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  تملیک کی نیت سے قرض دینے سے  زکوۃ ادا ہوجائے گی۔ اس لئے کہ آپ قرض دیتے وقت اس مال کا مقروض کو مالک بناتے ہیں اسی لئے وہ ان کو اپنے ذاتی استعمال میں لاتاہے، اس لئے تملیک تو پائی گئی، البتہ جب آپ نے زکوۃ کی نیت سے دیا تو آپ کی نیت اس کو واپس لینے کی نہیں ہے، اس لئے اس سے زکوۃ اداہوجانے میں کوئی شبہہ نہیں ہے۔ آپ کی زکوۃ قرض کی کہہ کر دینے سے بھی اداہوجائے گی۔

'' ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أو قرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح، هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغى والقنية'' (الفتاوى الهندية (1/ 171):

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Zakat / Charity / Aid

Ref. No. 3607/47-9627

In the name of Allah, the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

Gold or silver jewelry that you hand over to your son or daughter and transfer ownership of will belong to them, and you will no longer be responsible for paying zakat on it. Once they themselves possess wealth equal to the nisab threshold, zakat will become obligatory upon them; otherwise, it will not. In summary, any jewelry or wealth that you have given to your children and made them the rightful owners of is exempt from your zakat obligation.

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband

Zakat / Charity / Aid
Ref. No. 3533/47-9531 & 9532

Zakat / Charity / Aid

Ref. No. 3533/47-9531 & 9532

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ (۱(۔ اگر مرغی کو ذبح کرنے کے بعد کھولتے ہوئے پانی میں اتنے کم وقت کے لیے رکھا جائے کہ اس کے اندر جو غلاظت موجود ہے گوشت میں اس کا اثر پیدا نہ ہو تو یہ گوشت پاک اور حلال ہے اگر اتنی دیر پانی میں رکھے کہ نجاست کا اثر گوشت میں منتقل ہوجائے تو اس صور ت میں گوشت ناپاک ہوجائے گا اور کھانا جائز نہ ہوگا ۔

(۲) ۔ تجارتی سامان کی زکوۃ قیمتِ فروخت کے اعتبار سے ادا کی جاتی ہے یعنی جو سامانِ تجارت تاجر کے پاس موجود ہے زکوۃ کی ادائیگی کے وقت بازار میں اس کی جو قیمت ہو سکتی ہے اس کے حساب سے اس سامان کی زکوۃ ادا کی جائے گی؛ لہذا صورت مسئولہ میں جو سامان ابھی فروخت نہیں ہوا ہے اور وہ تجارت کی غرض سے ہے، تو سامان کی زکوۃ ادائیگی کے وقت بازار کی قیمتِ فروخت کے اعتبار سے ادا کی جائے گی۔ 2۔ صورت مسئولہ میں اگر کسٹمر نے بیچنے والے سے مکمل سودا کر لیا ہے اور اپنی ذمہ داری پر وہ سامان منگواتا ہے یعنی سامان ہلاک ہونے کی صورت میں کسٹمر پر اس کا تاوان لازم ہوتا ہے، تو اس صورت میں اس سامان کی زکوۃ مشتری کے ذمے لازم ہوگی بائع پر اس کی زکات لازم نہیں ہوگی۔ 3۔ اس صورت میں اگر سامانِ تجارت زکوۃ ادا کرنے کی مقررہ تاریخ سے دو دن پہلے آئے اور وہ زکوۃ ادا کرنے والی تاریخ تک موجود رہے، تو اسے زکوۃ میں شمار کر کے اس کی زکوۃ ادا کی جائے گی۔ 1

۔ ويعتبر القيمة يوم الوجوب وقال:  يوم الأداء قال المحقق: وفي المحيط:  ويعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليها عنده وعندهما. (رد المحتار، بابو زكاه الغنم، ج: ٢، ص: ٢٨٦، ط: دار الفكر بيروت)2۔ ولو اشترى دهنا دفع القارورة إلى الدهّان وقال للدهان ابعث القارورة إلى منزلي فبعث فانكسرت في الطريق قال الشيخ أبو بكر محمد بن الفضل إن قال للدهان ابعث على يد غلامي ففعل فانكسرت القارورة في الطريق فانها تهلك على المشترك وقال ابعث على يد غلامك فبعثه فهلك في الطريق فالهلاك يكون على البائع لأن حضرة غلام المشتري تكون كحضرة المشتري وأما غلام البائع فهو بمنزلة البائع. كذا في فتاوى قاضي خان. (فتاوى هنديه ،كتاب البيوع، الباب الرابع، الفصل الثاني، ج:٣، ص: ٢٢،ط: اتحاد دىوبند)3۔ من كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه فضمه الى ماله وزكاه سواء كان المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك. (فتاوی ہندیہ، کتاب الزکوۃ، الباب الاول، ج: ١، ص: ٢٤٧، ط: اتحاد دىوبند)

    واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Zakat / Charity / Aid

Ref. No. 3408/46-9302

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔     زکوٰۃ صرف ان لوگوں کو دی جا سکتی ہے جو "فقیر" یا "مسکین" ہوں۔ یعنی جن کے پاس نصاب کی مقدار سے کم مال ہو (یعنی تقریباً ساڑھے 52 تولہ چاندی کی مالیت جتنا سونا/چاندی/رقم یا سامانِ تجارت نہ ہو) ، صرف بیوہ ہونا مستحق زکوۃ ہونے کے لئے کافی نہیں ہے۔ بیوہ عورت کے پاس جو سونا یا دیگر زائد اشیا موجود ہیں ان کو بیچ کر اپنا خرچ چلائے ۔ زیورات  اگر نصاب کی مقدار کے برابر ہیں تو اس کے لئے مستقل آمدنی نہ ہونے کی بنا پر زکوۃ لینا جائز نہیں ہوجائےگا۔ بلکہ صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے خود اس پر زکوۃ کی ادائیگی فرض ہے۔

"أعلمهم أن الله افترض عليهم صدقة تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم."(بخاری، حدیث: 1395)

"من كان مالكًا للنصاب فلا تحل له الزكاة..." (رد المحتار، ج 2، ص 342)

ولا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابًا فاضلًا عن حاجته الأصلية." (الفتاویٰ الهندیة، جلد 1، ص 188)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Zakat / Charity / Aid

Ref. No. 3377/46-9261

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔   صرف سونا ہو تو سونے کا نصاب معتبر ہے اور سونا چاندی اور اموال تجارت جمع ہونے کی صورت میں چاندی کے نصاب کا اعتبار کیا گیا ہے اور اس کی وجہ انفع للفقرائ ہونا ہے۔ یعنی زکاۃ کے وجوب میں فقراء کی حاجت کو بنیادی اہمیت  دی گئی ہے، چنانچہ جس میں فقراء کا فائدہ ہو فقہاء کرام نے اس کو اختیار کیا ہے، چونکہ موجودہ دور میں چاندی کا نصاب کم ہے، لہٰذاچاندی کا اعتبار کرکے  زکاۃ واجب ہونے کی صورت میں فقراء کا فائدہ  زیادہ ہوگا۔ نیز سونا چاندی رقم اور اموال تجارت ثمنیت میں برابر ہیں۔ لہذا ان سب میں چالیسواں حصہ زکوۃ میں نکالنا ضروری ہوتاہے۔  رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کا طریقہ  سونے کو چاندی کے ساتھ ملا کر اور چاندی کو سونے کے ساتھ ملاکر زکاۃ نکالنے  کا تھا‘‘۔

یعنی اگر سونا یا چاندی میں سے کوئی ایک نصاب کو نہ پہنچے، لیکن دونوں کو ملاکر کسی ایک کے نصاب کو پہنچ جائے تو صحابہ کرام اس کی زکاۃ ادا کیا کرتے تھے۔اس لئے آج کل چاندی کو معیار بنایاجائے گا اور چاندی کے حساب سے اگر کوئی صاحب نصاب  ہے تو اس پر زکوۃ کی ادائیگی واجب ہوگی۔

""فأما إذا كان له الصنفان جميعاً فإن لم يكن كل واحد منهما نصاباً بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم، فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا... (ولنا) ما روي عن بكير بن عبد الله بن الأشج أنه قال: مضت السنة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بضم الذهب إلى الفضة والفضة إلى الذهب في إخراج الزكاة ؛ ولأنهما مالان متحدان في المعنى الذي تعلق به وجوب الزكاة فيهما وهو الإعداد للتجارة بأصل الخلقة والثمنية، فكانا في حكم الزكاة كجنس واحد ؛ ولهذا اتفق الواجب فيهما وهو ربع العشر على كل حال وإنما يتفق الواجب عند اتحاد المال. وأما عند الاختلاف فيختلف الواجب وإذا اتحد المالان معنىً فلا يعتبر اختلاف الصورة كعروض التجارة، ولهذا يكمل نصاب كل واحد منهما بعروض التجارة ولا يعتبر اختلاف الصورة، كما إذا كان له أقل من عشرين مثقالاً وأقل من مائتي درهم وله عروض للتجارة ونقد البلد في الدراهم والدنانير سواء فإن شاء كمل به نصاب الذهب وإن شاء كمل به نصاب الفضة، وصار كالسود مع البيض، بخلاف السوائم؛ لأن الحكم هناك متعلق بالصورة والمعنى وهما مختلفان صورة ومعنى فتعذر تكميل نصاب أحدهما بالآخر".(بدائع الصنائع " (2/ 19):)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Zakat / Charity / Aid

Ref. No. 3322/46-9131

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ انکم ٹیکس کی رقم کو زکوۃ کی رقم کے طور پر شمار نہیں کیاجائے گا۔ زکوۃ غریب اور محتاج لوگوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ہوتی ہے، اس لئے کسی مستحقِ زکاۃ شخص کی تملیک میں زکوۃ کی رقم دینے سے ہی زکوۃ ادا ہوگی۔ ٹیکس سے زکوۃ کا کوئی تعلق نہیں۔

"قال في التنجيس والولوالجية: السلطان الجائر إذا أخذ الصدقات، قيل: إن نوى بأدائها إليه الصدقة عليه لايؤمر بالأداء ثانياً؛ لأنه فقير حقيقةً.۔ ۔ ۔  ۔ ومنهم من قال: الأحوط أن يفتى بالأداء ثانياً، كما لو لم ينو؛ لانعدام الاختيار الصحيح، وإذا لم ينو، منهم من قال: يؤمر بالأداء ثانياً. وقال أبو جعفر: لا؛ لكون السلطان له ولاية الأخذ فيسقط عن أرباب الصدقة، فإن لم يضعها موضعها لايبطل أخذه، وبه يفتى، وهذا في صدقات الأموال الظاهرة، أما لو أخذ منه السلطان أموالاً مصادرةً ونوى أداء الزكاة إليه، فعلى قول المشايخ المتأخرين يجوز. والصحيح أنه لا يجوز وبه يفتى؛ لأنه ليس للظالم ولاية أخذ الزكاة من الأموال الباطنة. اهـ.

أقول: يعني وإذا لم يكن له ولاية أخذها لم يصح الدفع إليه وإن نوى الدافع به التصدق عليه؛ لانعدام الاختيار الصحيح، بخلاف الأموال الظاهرة؛ لأنه لما كان له ولاية أخذ زكاتها لم يضر انعدام الاختيار ولذا تجزيه سواء نوى التصديق عليه أو لا، هذا، وفي مختارات النوازل: السلطان الجائر إذا أخذ الخراج يجوز، ولو أخذ الصدقات أو الجبايات أو أخذ مالا مصادرة إن نوى الصدقة عند الدفع قيل يجوز أيضا وبه يفتى، وكذا إذا دفع إلى كل جائر نية الصدقة؛ لأنهم  بما عليهم من التبعات صاروا فقراء والأحوط الإعادة اهـ وهذا موافق لما صححه في المبسوط، وتبعه في الفتح، فقد اختلف التصحيح والإفتاء في الأموال الباطنة إذا نوى التصدق بها على الجائر وعلمت ما هو الأحوط.

قلت: وشمل ذلك ما يأخذه المكاس؛ لأنه وإن كان في الأصل هو العاشر الذي ينصبه الإمام، لكن اليوم لاينصب لأخذ الصدقات بل لسلب أموال الناس ظلماً بدون حماية، فلاتسقط الزكاة بأخذه، كما صرح به في البزازية. فإذا نوى التصديق عليه كان على الخلاف المذكور (قوله: لأنهم بما عليهم إلخ) علة لقوله قبله: "الأصح الصحة"، وقوله: بما عليهم تعلق بقوله: فقراء" (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2 / 289)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Zakat / Charity / Aid

Ref. No. 3135/46-6032

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  شریعت مطہرہ نے زکوٰۃ کے مصارف متعین کردیئے ہیں، ان مصارف کے علاوہ کسی دوسری جگہ زکوٰۃ کی رقم خرچ نہیں کی جاسکتی۔ زکوۃ میں تملیک ضروری ہے یعنی زکوۃ دینے والوں پر لازم ہے کہ زکوۃ کسی مستحق شخص کی ملکیت میں دیں،  بلا تملیک مال کو کسی غریب پر خرچ کردینے سے بھی زکوۃ ادا نہیں ہوتی ہے، نیز  زکوۃ کی رقم براہ راست  رفاہی کاموں میں بھی  استعمال نہیں کی جاسکتی ہے۔  لہذا سیاسی پارٹی کے عام چندہ میں  زکوۃ کی رقم دینے  سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔ہاں اگرکوئی سیاسی آدمی  زکوۃ کی رقم جمع کرکے فقراء  و مساکین اورمستحق  بیواؤں میں تملیک کے طور پر تقسیم کرے تو اس کی گنجائش ہے۔ اس سلسلہ میں لوگوں میں بیداری لائی جائے کہ سیاسی جماعت کے عام چندہ میں زکوۃ کی رقم نہ دیں، ورنہ  زکوۃ ادانہیں ہوگی۔ 

"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله  تعالى ." (الفتاوي الهندية، ص: 170، ج:1،کتاب الزکاۃ،ألباب الأول،ط:دار الفكر،بيروت)

"وَ لَايَجُوزُ أَنْ يَبْنِيَ بِالزَّكَاةِ الْمَسْجِدَ، وَكَذَا الْقَنَاطِرُ وَالسِّقَايَاتُ، وَإِصْلَاحُ الطَّرَقَاتِ، وَكَرْيُ الْأَنْهَارِ وَالْحَجُّ وَالْجِهَادُ وَكُلُّ مَا لَا تَمْلِيكَ فِيهِ، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يُكَفَّنَ بِهَا مَيِّتٌ، وَلَا يُقْضَى بِهَا دَيْنُ الْمَيِّتِ كَذَا فِي التَّبْيِينِ، وَلَا يُشْتَرَى بِهَا عَبْدٌ يُعْتَقُ، وَلَا يَدْفَعُ إلَى أَصْلِهِ، وَإِنْ عَلَا، وَفَرْعِهِ، وَإِنْ سَفَلَ كَذَا فِي الْكَافِي." (الھندیۃ، كتاب الزكوة، الْبَابُ السَّابِعُ فِي الْمَصَارِفِ، ١ / ١٨٨، ط: ظار الفكر)

"وَ لَا يَخْرُجُ عَنْ الْعُهْدَةِ بِالْعَزْلِ بَلْ بِالْأَدَاءِ لِلْفُقَرَاءِ." (شامي، كتاب الزكوة، ٢ / ٢٧٠، ط: دار الفكر)

"وَ يُشْتَرَطُ أَنْ يَكُونَ الصَّرْفُ (تَمْلِيكًا) لَا إبَاحَةً كَمَا مَرَّ." (شامي، كتاب الزكوة، باب مصرف الزكوة و العشر، ٢ / ٣٤٤، ط: دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند