بدعات و منکرات

Ref. No. 3963/47-10171

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ختم  قرٓآن و ختم بخاری کے پروگرام جائز و شرعی حدود میں کرنا جائز ہے، لیکن اس کے لئے طلبا و طالبات  اور بچوں کے سرپرستوں سےچندہ کرنا  اور دباو ڈال کر طیب خاطر کے بغیر لینا جائز نہیں ہے۔ چندہ میں طیب خاطر کو ملھوظ رکھناضروری ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

بدعات و منکرات

Ref. No. 3957/47-10181

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ واضح رہے کہ اولاد کا ہونا یا نہ ہونا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی حکمت کے تابع ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے: ﴿يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾ (الشورى: 49).

شرعاً محض بدگمانی کی بنیاد پر یہ یقین کر لینا کہ کسی نے جادو کر دیا ہے، درست نہیں۔ اکثر اوقات طبی یا طبعی اسباب کی بنا پر اولاد میں تاخیر ہوتی ہے، اس لیے سب سے پہلے جائز طبی علاج اور ماہر ڈاکٹروں سے رجوع کرنا لازم ہے۔

رہا “روحانی بابا” کے پاس جانے کا مسئلہ  تواگروہ ایسا شخص ہو جو غیب دانی کا دعویٰ کرے، جادو کے ذریعے جادو توڑنے کی بات کرے، جنات سے مدد لینے، غیر مفہوم منتر، تعویذ یا شرکیہ کلمات استعمال کرے، یا یقینی طور پر یہ کہے کہ فلاں نے جادو کیا ہے، تو ایسے شخص کے پاس جانا حرام اور ناجائز ہے، بلکہ بعض صورتوں میں ایمان کے لیے خطرہ ہے۔

البتہ اگر کوئی متقی، باشرع عالم یا دیندار شخص ہو جو صرف قرآنِ کریم، مسنون دعاؤں اور ثابت شدہ شرعی رُقیہ کے ذریعے علاج کرے، کسی قسم کے شرکیہ یا غیر شرعی اعمال نہ کرے، اور غیب دانی یا جادوگر ہونے کا دعویٰ نہ کرے، تو ایسے شخص سے دم کرانا یا دعا کروانا جائز ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

بدعات و منکرات

Ref. No. 3936/47-10145

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ (۱)  دستاربندی بذاتِ خود نہ فرض ہے، نہ واجب اور نہ سنتِ مؤکدہ، بلکہ یہ ایک عرفی اور انتظامی عمل ہے، جس کا مقصد حفاظِ کرام اور اہلِ علم کی حوصلہ افزائی اور قرآن کریم و علمِ دین کی تعظیم ہے۔ اس اعتبار سے اگر دستاربندی کو محض تکریم اور تشویق کے طور پر، بلا کسی شرعی قباحت کے انجام دیا جائے تو وہ جائز ہے۔ تاہم اسے لازمِ دین، ضروری شعار یا دینی فریضہ سمجھ لینا شرعاً درست نہیں، کیونکہ شریعت میں اس کی کوئی پابند شکل متعین نہیں کی گئی۔ (۲) چار یا پانچ لاکھ روپے خرچ کرکے عظیم الشان جلسہ منعقد کرنا شرعاً ہرگز ضروری نہیں۔ چونکہ دستاربندی خود واجب نہیں، اس لیے اس کے لیے کثیر اخراجات، مہنگے اسٹیج، بے تحاشا لائٹس، بلند آواز اور دور تک پھیلنے والی مائکنگ، وسیع تشہیر اور دیگر لوازمات کو ضروری قرار دینا درست نہیں۔ اگر سادہ، باوقار اور محدود انتظامات کے ساتھ، ایک یا دو متقی، صاحبِ نسبت اور باعمل بزرگوں کے ذریعے جامع مسجد میں دستاربندی کرادی جائے اور مقصدِ اصلاح و دعوت حاصل ہو جائے تو شرعاً یہی صورت کافی بلکہ افضل ہے ۔ (۳) مروجہ عظیم الشان جلسوں میں درج ذیل امور پائے جانے کی صورت میں وہ شرعاً قابلِ اعتراض اور اصلاح طلب ہیں:اسراف و فضول خرچی:غیر ضروری آرائش، اسٹیج، لائٹس، مائکنگ اور دیگر ظاہری تزئینات پر کثیر رقم خرچ کرنا؛ خصوصاً ایسے پسماندہ علاقے میں جہاں مدرسہ خود محتاج ہو، اسراف کے زمرے میں آتا ہے، جو قرآن و سنت کی رو سے ناپسندیدہ ہے۔(۴) طلبہ کو چندہ، تشہیر اور دیگر انتظامی امور میں اس حد تک مشغول کرنا کہ ان کی تعلیم و تربیت متاثر ہو، امانت کے خلاف اور شرعاً قابلِ گرفت عمل ہے۔(۵) جلسۂ وعظ میں خوش الحان شاعری، نغمگی، وجد کی کیفیت، تالیاں بجانا اور شاعروں پر پیسہ نچھاور کرنا جلسے کے وقار کے منافی ہے اور دینی اجتماع کو تفریحی مشاعرے کی شکل دے دیتا ہے، جو اکابرِ اہلِ علم کے طریقے کے خلاف ہے۔ (۶) پردے کے نام پر ویڈیو گرافی، اسکرینوں کی کثرت اور غیر ضروری بصری اہتمام اگر فتنہ کا سبب بنیں تو شرعاً ان سے اجتناب لازم ہے۔(۷) مقررین کو محض مجمع کشی کے لیے آخر وقت میں بلاکر بھاری رقوم دینا، جبکہ یہ عمل ایک باقاعدہ تجارت کی صورت اختیار کر لے، اخلاص کے منافی اور دینی ذوق کو نقصان پہنچانے والا ہے۔ ہدیہ اگر ہو تو عرف، استطاعت اور سادگی کے مطابق ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(۸) دستاربندی سادہ اور باوقار طریقے سے کی جائے؛غیر ضروری اخراجات، تشہیر اور نمائش سے اجتناب کیا جائے؛اصلاحِ عوام اور اخلاصِ نیت کو اصل مقصد بنایا جائے؛طلبہ کو ان کے اصل مقصد، یعنی تعلیم و تربیت، تک محدود رکھا جائے؛جلسہ دین کے وقار، سنجیدگی اور اثر پذیری کا مظہر ہوناچاہئے، اس کو تفریح اور مقابلہ بازی کامیدان  بنانا جائز نہیں ہے۔ (۹) دستاربندی اور اصلاحِ عامہ کے لیے سب سے آسان، محفوظ اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ جمعہ کے دن، جامع مسجد میں چند نیک، باوقار، صاحبِ علم اور صاحبِ نسبت مقررین کی مختصر اور مؤثر تقریریں کرادی جائیں۔ چونکہ جمعہ کی نماز کے موقع پر مسلمانوں کی بڑی تعداد  جمع ہوتی ہے اور اس وقت ذہنی و قلبی طور پر سنجیدگی اور توجہ کا غلبہ ہوتا ہے، لہٰذا نصیحت اور اصلاح کا اثر زیادہ اور دیرپا ہوتا ہے۔اوراس طریقے سے غیر ضروری اسٹیج، پنڈال، لائٹس، مہنگی مائکنگ، وسیع تشہیر اور دیگر زائد انتظامات کی حاجت نہیں رہتی، جس کے نتیجے میں اخراجات نہایت محدود رہتے ہیں، اور اسراف و فضول خرچی سے حفاظت ہو جاتی ہے۔اورچونکہ اجتماع مسجد کے دائرے میں باوقار ماحول میں منعقد ہوتا ہے، اس لیے غیر سنجیدہ حرکات اور دیگر مروجہ رسوم و رواج کے در آنے کا قوی اندیشہ نہیں رہتا۔نیز مرد و زن کے اختلاط، غیر ضروری ویڈیو گرافی، اسکرینوں اور دیگر بصری فتنوں سے بھی بڑی حد تک حفاظت ہو جاتی ہے، اور اجتماع اپنی اصل دینی روح اور وقار کے ساتھ قائم رہتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

بدعات و منکرات

Ref. No. 3916/47-10108

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  صورتِ مسئولہ میں منعقد کیے جانے والے اجلاس کا مقصد بظاہر علماءِ کرام اور حفاظِ عظام کی عزت و تکریم، عوام میں ان کی قدر و منزلت پیدا کرنا اور دینی خدمات کا اعتراف ہے، جو فی نفسہٖ ایک محمود اور شرعاً  مباح مقصد ہے؛ کیونکہ شریعتِ اسلامیہ نے اہلِ علم کے احترام و اکرام پر خاص زور دیا ہے۔اصولی طور پر:اعزاز دینا، تمغہ پیش کرنا، عباء یا شال وغیرہ پہنانا، یہ سب عرفی اور انتظامی امور میں سے ہیں، جن کا تعلق عبادات سے نہیں بلکہ معاشرتی نظم و ترغیب سے ہے۔ایسے امور میں اصل حکم اباحت کا ہوتا ہے، جب تک ان میں کوئی شرعی ممانعت نہ پائی جائے۔اس لیے محض عباء پہنانے کی وجہ سے اسے بدعت قرار نہیں دیا جا سکتا۔تفاخر، مبالغہ اور شخصیت پرستی سے اگر بچاجائے تو اس کو بدعت نہیں کہاجائے گا۔

  واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

بدعات و منکرات

Ref. No. 3894/47-10072

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔قرآنِ مجید کی تلاوت مکمل کرنے کے بعد دعا کرنا شرعاً جائز بلکہ مستحب ہے، اور اسے بدعت کہنا درست نہیں ہے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ وہ قرآن ختم کرنے کے بعد اپنے اہلِ خانہ کو جمع فرما کر دعا کرتے تھے۔ اسی طرح تابعین سے منقول ہے کہ قرآن کے ختم کے وقت دعا کی قبولیت کی امید کی جاتی ہے۔ یہ آثار اس بات کی دلیل ہیں کہ ختمِ قرآن کے بعد دعا کرنا سلف صالحین کے عمل میں شامل رہا ہے۔اسی طرح کسی حدیث یا دینی کتاب کے ختم پر دعا کرنابھی جائز و درست ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، البتہ اگر دعا بعد الکتاب کو فرض یا لازم سمجھ لیا جائے،  یا کسی مخصوص دعا، خاص الفاظ یا خاص ہیئت کو شرعاً واجب قرار دیا جائے، تو اس صورت میں یہ بدعت کے زمرے میں آ سکتا ہے۔لہٰذا دعا بعد الکتاب جائز و مستحب ہے، بشرطیکہ اسے لازم یا فرض نہ سمجھا جائے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

بدعات و منکرات

Ref. No. 3643/47-9743

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:  ۔  ختم قرآن اور ختم بخاری شریف کے موقع پر دعا کی قبولیت آثار و سنن سے ثابت ہے۔ اس لئے دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ طلبہ اور محلہ کے چند لوگ جمع ہوجائیں اس طرح اجتماعی دعا میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے، تاہم اعلان کرکے منظم طریقہ پر لوگوں کو دور دراز علاقوں سے جمع کرنا درست نہیں ہے، اور اگر خواتین بھی اس اجتماع میں شریک ہوتی ہوں تو اس کی قباحت میں کوئی شبہ نہیں۔ اس لئے اس موقع پر بہت زیادہ اہتمام کرنے سے گریز کیاجائے  ورنہ مفاسد سے بچنا مشکل ہوجائے گا۔

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

بدعات و منکرات

Ref. No. 3572/47-9575

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔  آپ کے لیے بازو کے بال شیوِنگ مشین سے صاف کرنے کی گنجائش ہے، اس میں کوئی گناہ نہیں۔  جو لوگ گناہ بتاتے ہیں وہ غلط کہتے ہیں۔ ان کو اکھاڑنے کی بھی  گنجائش  ہے اور بلیڈ سے یا شویونگ مشین سے صاف کرنے کی  بھی  گنجائش  ہے۔

وفی حلق الشعر والصدر ترک الادب کمافی القنیۃ   (الھندیۃ 5/358)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

بدعات و منکرات

Ref. No. 3565/47-9596

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔   مسجد کے ذمہ داروں کو نماز کے وقت کا خیال رکھنا چاہئے تاہم کبھی اگر چند منٹ کی تاخیر ہوجائے تو مقتدیوں کو بھی صبر کرنا چاہئے اور اختلاف و انتشار سے بچنا چاہئے۔ عوامی کام میں  سب کو تعاون کرنا چاہئے اور اس میں کوئی ایسا شوشہ نہیں چھوڑنا چاہئے کہ جس سے وہ اہم کام متاثر ہوجائے۔

     واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

بدعات و منکرات

Ref. No. 3373/46-9246

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ قبروں میں کچی اینٹ اور بانس وغیرہ کا استعمال کرنا چاہئے،  پکی اینٹ یا سیمنٹ کے بلاک استعما ل کرنے سے حتی الامکان گریز کرنا چاہئے، تاہم اگر قبر کی مٹی بہت نرم ہے اور قبر کی دیواریں گرنے کا اندیشہ ہے تو ایسی ضرورت میں پکی اینٹ اور سیمنٹ کے بلاک استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ پکی اینٹ یا سیمنٹیڈ بلاک  کی دیواروں کو اگرمٹی سے لیپ دیاجائے تو بہتر ہے۔

ویسوي اللبن علیہ والقصب لا الآجر المطبوخ (الدر) وفي الرد: ونصّوا علی استحباب القصب فیہا کاللبن (رد المحتار: ۳/ ۴۱۲، زکریا)

ويكره الآجر ودفوف الخشب، لما روي عن إبراهيم النخعي أنه قال: كانوا يستحبون اللبن والقصب على القبور، وكانوا يكرهون الآجر" انتهى. ( 1 / 318(بدائع الصنائع" للكاساني1/318)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

بدعات و منکرات

Ref.   No.  3327/46-9180

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ڈیجیٹل تصاویر اور ویڈیوگرافی مختلف فیہ مسئلہ ہے، ہندوستان کے زیادہ تر اہل علم اس کو تصاویر محرمہ کے ضمن میں رکھتے ہیں، تاہم اشاعت دین اور دفاع دین کے لئے ویڈیو بنانے کی گنجائش ہے، اس لئے اگر مولانا صاحب اس لئے ویڈیو بناتے ہیں تاکہ جو لوگ مسجد میں نہیں آتے ہیں ان تک بھی دین کا پیغام پہونچے تو اس کی گنجائش ہے ، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے ۳۳ویں سیمینار کی تجویز میں اس کی اجازت دی گئی ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند