طلاق و تفریق

Ref. No. 3806/47-10168

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:  ۔     شوہر  نے پہلی مرتبہ اپنی بیوی کو  لڑائی کے دوران یہ کہا کہ  " تم میری طرف سے فارغ ہو" تو اس سے   بیوی  پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ، اور  نکاح ختم ہوگیا اور بقیہ جملوں سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔اور چونکہ دوبارہ نکاح نہیں ہو ا اس لئے بعد کی طلاقیں لغو ہوں گی اس لئے کہ عورت طلاق کا محل باقی نہیں رہی۔ عورت پر لازم ہے کہ اپنے شوہر سے دور رہے اور اس کے ساتھ کوئی تعلق قائم نہ کرے۔ اگر عورت اسی مرد سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے تو نکاح کرکے دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں۔ بلا نکاح ایک ساتھ رہنا جائز نہیں ہے۔ عورت خوب غور کرلےکہ اس کے ساتھ رہنا ہے یا نہیں پھر نکاح کی پیش کش کرے۔ تاکہ وہ بار بار طلاق دے کر اس کو پریشان نہ کرسکے۔

والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية". "الدر المختار " (3/ 301):

"(الفصل الخامس في الكنايات) لايقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام: (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي، اعزبي، قومي، تقنعي، استتري، تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية، برية، بتة، بتلة، بائن، حرام، والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب، ففي حالة الرضا لايقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين، وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جواباً ورداً فإنه لايجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله: اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لايصدق فيها كذا في الهداية. وألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بخلية وبرية وبتة وبائن وحرام أربعة أخرى ذكرها السرخسي في المبسوط وقاضي خان في الجامع الصغير وآخرون وهي لا سبيل لي عليك، لا ملك لي عليك، خليت سبيلك، فارقتك ولا رواية في خرجت من ملكي، قالوا هو بمنزلة خليت سبيلك، وفي الينابيع ألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بالخمسة ستة أخرى وهي الأربعة المتقدمة وزاد خالعتك والحقي بأهلك هكذا في غاية السروجي." (الھندیۃ، کتاب الطلاق،الباب الثانی فی ایقاع الطلاق،ج:۱،ص:۳۷۴،۳۷۵،دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق

Ref. No. 3953/47-10177

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ (۱-۴) آپ کی والدہ نے جو زیورات بطور عاریت دئے  تھے ان کی واپسی لازم ہے، واپسی کا مطالبہ درست ہے اور حدیقہ پر اس کا واپس کرنا لازم ہے۔ (۵) بغیر شوہر کی رضامندی کے عدالت کا خلع دیدینا درست نہیں ہے، اس لئے نکاح ابھی باقی ہے۔ (۶) حدیقہ ابھی آپ کے نکاح میں بدستور ہے اس لئے اس کا کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، اگر نکاح کرے گی تو یہ حرام کاری ہوگی۔ (۷) بدل خلع طے کرنے کا اختیار شوہر کو ہے، (۸) زیورات تو والدہ کے ہیں، آپ خلع منظور کرنے کے لئے زیورات کی واپسی کی شرط رکھ سکتے ہیں لیکن وہ زیورات والدہ کے ہوں گے اور آپ کو کچھ نہیں ملے گا۔ (۹) آپ کی عدالت کو اس کا اختیار نہیں ہے۔ (۱۰) میاں بیوی کے الگ رہنے سے، جہیز کا سامان واپس کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔ (۱۱) جو عورت شوہر کی مرضی کے خلاف میکے چلی جائے اس کا نفقہ شوہر کے ذمہ نہیں رہتاہے۔ (۱۲) ایک نے ہدیہ کا دعوی کیا جبکہ دینے والا عاریت بتاتاہے تو عاریت کا قول  قابل ترجیح ہوگا۔ (۱۳) رسومات کے اخراجات کا مطالبہ درست نہیں ہے۔ (۱۴) ہدیہ و تحفہ جس کو دیاجاتاہے وہ اس کا مالک ہوجاتاہے، اس کی واپسی کا مطالبہ مناسب نہیں ہے۔ (۱۵) عورت کو شوہر سے رشتہ استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، اگر عورت کو شوہر ناپسند ہو اور اس کے ساتھ رہنے کو تیار نہ ہو تو طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہے، اور شرعی دارالقضا سے بھی اس سلسلہ میں رجوع کرسکتی ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 3965/47-10172

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بلا تقسیم میراث والد کے کاروبار کو آگے بڑھانے پر سارا کاروبار والد کی ہی ملکیت شمار ہوگام اور أولاد کی طرف سے جو بھی بڑھوتری و ترقی ہوئی وہ سب تبرع میں شمار ہوگی،  لہذا تمام جائداد کو اس طرح تقسیم کریں کہ مرحوم کی بیوی کو آٹھواں حصہ دیدیاجائے، اور باقی سات حصوں کو أولاد میں تقسیم کریں گے ، أولاد میں ہر بیٹی کو اکہرا اور  بیٹوں کو دوہرا حصہ دیاجائے گا۔یعنی کل جائداد کے 72 حصے کرکے 9 حصے مرحوم کی بیوی کو ، اور 14 حصے ہر ایک بیٹے کو، اور 7 حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔ تخریج حسب ذیل ہے:

مسئلہ۔۔۔۔۔۔8/72

بیوی          ابن       ابن      ابن      بنت    بنت   .بنت

9         14      14      14      7        7        7

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

متفرقات

Ref. No. 3964/47-10173

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ منگنی کے بعد آپ کوشش کریں کہ جلد از جلد نکاح منعقد ہوجائے، اس کے علاوہ اس مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، جب تک نکاح نہیں ہوتا ، روزہ رکھنے کا اہتمام کریں۔ اگر آپ منگیتر سے بات کرتے ہیں تو بات چیت کرنا بند کردیں۔ صبح و شام ۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ العظیم ۔ سو مرتبہ پڑھا کریں، اپنے آپ کو دوسرے کاموں میں زیادہ سے زیادہ مشغول رکھیں، تاکہ غیرضروری خیالات دل میں نہ آئیں۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

بدعات و منکرات

Ref. No. 3963/47-10171

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ختم  قرٓآن و ختم بخاری کے پروگرام جائز و شرعی حدود میں کرنا جائز ہے، لیکن اس کے لئے طلبا و طالبات  اور بچوں کے سرپرستوں سےچندہ کرنا  اور دباو ڈال کر طیب خاطر کے بغیر لینا جائز نہیں ہے۔ چندہ میں طیب خاطر کو ملھوظ رکھناضروری ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

متفرقات

Ref. No. 3962/47-10174

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔سوال میں مذکور تمام امور میاں بیوی  کے لئے جائز ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

فقہ

Ref. No. 3961/47-10185

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔    واضح رہے کہ مسجد کا مال شرعاً وقف ہوتا ہے، اور وقف کے مال میں اصل قاعدہ یہ ہے کہ جس مقصد کے لیے وقف کیا گیا ہو، اسی میں خرچ کرنا لازم ہے۔ واقف کی شرط شرعاً واجب الاتباع ہوتی ہے، جیسا کہ فقہ کا مسلم اصول ہے:شرطُ الواقف كنصِّ الشارع۔ فقہِ حنفی کے مطابق مسجد کی آمدنی اور چندہ  کو مسجد کی تعمیر، مرمت اور توسیع، بجلی، پانی، صفائی اور دیگر ضروری اخراجات جیسےامام، مؤذن اور خادم کی تنخواہ، اسی طرح مسجد سے متعلقہ ضروری اشیاء (فرش، پنکھے، ساؤنڈ سسٹم وغیرہ)   اور جو چیزیں مصالح میں شمار ہوتی ہیں ان سب میں خرچ کرنا درست ہے۔ آج کل مکاتب کو مسجد کے مصالح میں  داخل  مانا جاتاہے اور دینی ضرورت بھی ہے، اس لئے ذمہ داران مسجد مکاتب قائم کرسکتے ہیں، اور اس کا اعلان بھی کردیا جائے تاکہ چندہ دینے والے مکاتب کے لئے بھی چندہ دیں،  تاہم مسجد کے تقدس کا خیال رکھنا ضروری ہے  اور اس بات کا پورا اہتمام ہو کہ نمازیوں کو کوئی تکلیف یا دشواری کا سامنا نہ ہو۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Eating & Drinking

Ref. No. 3960/47-10184

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔    واضح رہے کہ فقہِ حنفی کے مطابق سمندری جانوروں میں سے صرف مچھلی کا کھانا حلال ہے، اس کے علاوہ تمام سمندری جانور خواہ وہ شکل میں مچھلی سے مشابہ ہوں یا نہ ہوں، حلال نہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ﴾ (المائدہ:۹۶)فقہاءِ احناف نے اس آیت کی تفسیر میں احادیث اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں یہ قاعدہ مقرر فرمایا کہ“صيد البحر” سے مراد صرف وہ جانور ہیں جو عرفاً اور حقیقتاً مچھلی ہوں۔اورچونکہ اسکوئیڈ مچھلی نہیں ہےاور فقہِ حنفی میں مچھلی کے علاوہ کوئی سمندری جانور حلال نہیں، اس لئے اسکوئیڈ (Squid) کا کھانا فقہِ حنفی کے مطابق  جائز نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Divorce & Separation

Ref. No. 3959/47-10183

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر میں جماع کی قدرت بالکل معدوم نہیں ہے، بلکہ وقتی اور عارضی نوعیت کی نفسیاتی کیفیت (Situational Performance Anxiety) کی وجہ سے ابتداً ہمبستری نہ ہو سکی، اور ماہر مسلم ڈاکٹر کے مطابق کوئی دائمی جسمانی نقص یا مستقل جنسی معذوری ثابت نہیں، اس لیے شرعاً اس شخص کو عنّین (نامرد) قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ عنّین وہ ہے جو عورت سے جماع پر مستقل طور پر قادر نہ ہو؛ لہٰذا نکاح نامہ میں نامردی کی شرط کے ساتھ تفویضِ طلاق کا جو حق دیا گیا تھا وہ شرط شرعاً متحقق نہیں ہوئی، اس بنا پر بیوی کو فی الحال اس شرط کے تحت طلاق لینے کا اختیار حاصل نہیں، اور نہ ہی ایسی صورت میں فوراً علیحدگی یا فسخِ نکاح درست ہے، بلکہ اگر بالفرض عنّین ہونے کا دعویٰ قاضی کے سامنے پیش کیا جائے تو شرعاً ایک سال کی مہلت دینا ضروری ہوتاہے، نیز اگر بیوی اس غیر متحقق شرط کی بنیاد پر ابھی طلاق کو استعمال کرے تو وہ طلاق شرعاً معتبر نہیں ہوگی، البتہ اگر شوہر اس کو طلاق دیتا ہے تو چونکہ عورت نے خودسپردگی کردی تھی اس لئے و ہ مکمل مہر کی حقدار ہوگی۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

زکوۃ / صدقہ و فطرہ

Ref. No. 3958/47-10182

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  زکوٰۃ و صدقۂ فطر کو مدرسہ کے عمومی فنڈ میں شامل کرنا اور وہاں سے فیصد مقرر کر کے مدرسین کو بطور تنخواہ دینا جائز نہیں ہے۔مدرسین کو 40٪ دینا اسی صورت میں جائز ہے جب وہ:غیر زکوٰۃ چندہ سے دیا جائے، یامستحق ہونے کی صورت میں زکوٰۃ بطور ملکیت دی جائے۔سب سے بہتر اور محفوظ صورت یہ ہے کہ:زکوٰۃ اور غیر زکوٰۃ کی رقوم مکمل الگ رکھی جائیں۔زکوۃ کی رقم زکوۃ کے مستحق افراد خواہ وہ اساتذہ ہوں یا طلبہ کو ہی بلاکسی معاوضہ کے دے دی جائے، تنخواہ میں دینا جائز نہیں ۔ غیرزکوۃ کی رقم سے تنخواہ اور دیگر مصارف تعمیر وغیرہ کو پورا کریں ، تنخواہ میں اور عمارت میں اور عمومی مصارف میں غیرزکوۃ کی رقم صرف کریں۔ زکوہ کی  رقم بلا تملیک  ہرگز نہیں۔  

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند