Frequently Asked Questions
Hadith & Sunnah
Ref. No. 3940/47-10135
In the name of Allah, the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
If you deposit money in a bank and the bank gives you a fixed and predetermined amount every month as profit, then according to Islamic law this is considered interest (riba), whether the bank uses that money for investment or lends it out.
The reason is that:
The principal amount is safe and guaranteed.
The profit is fixed in advance.
There is no sharing in profit and loss.
Legally (in Shariah), this arrangement becomes a case of taking an additional amount in return for a loan, and every conditional increase on a loan is interest.
In Islam, lawful investment is that in which:
Profit is not fixed in advance,
Both parties share in profit and loss, and
The capital is invested in genuine trade or business.
Therefore, in the situation described, the amount received is interest and is not permissible.
And Allah knows best
Darul Ifta
Darul Uloom waqf Deoband
Hadith & Sunnah
Ref. No. 3940/47-10135
In the name of Allah, the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
If you deposit money in a bank and the bank gives you a fixed and predetermined amount every month as profit, then according to Islamic law this is considered interest (riba), whether the bank uses that money for investment or lends it out.
The reason is that:
The principal amount is safe and guaranteed.
The profit is fixed in advance.
There is no sharing in profit and loss.
Legally (in Shariah), this arrangement becomes a case of taking an additional amount in return for a loan, and every conditional increase on a loan is interest.
In Islam, lawful investment is that in which:
Profit is not fixed in advance,
Both parties share in profit and loss, and
The capital is invested in genuine trade or business.
Therefore, in the situation described, the amount received is interest and is not permissible.
And Allah knows best
Darul Ifta
Darul Uloom waqf Deoband
Hadith & Sunnah
Ref. No. 3825/47-9970
الجواب
الجواب وباللہ التوفیق: ۔ کان کے لو کے پاس جو چہرے کی ہڈی ہوتی ہے اس کےنیچے کے بال داڑھی کا حصہ ہیں، اگر داڑھی ابھی نہیں آئی ہے تو اس کو کاٹنا درست ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Hadith & Sunnah
Ref. No. 3756/47-10078
In the name of Allah, the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
If there is a strong likelihood of severe and unbearable harm, and trustworthy, qualified medical specialists also recommend termination, then abortion is permissible before the completion of four months of pregnancy.
And Allah knows best
Darul Ifta
Darul Uloom Waqf Deoband
Hadith & Sunnah
Ref. No. 3305/46-9072
In the name of Allah the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
Friendship has a profound impact on those involved, that is why it is crucial to choose good friends carefully who will have a positive impact on you. In a society like India, where people of various religions live side by side, maintaining harmonious relationships and fostering tolerance is of utmost importance. If your non-Muslim classmates treat you with respect and kindness, cultivating a good relationship with them is certainly not contrary to Islamic principles. In fact, Islam teaches us to interact with others with good manners and to uphold their rights. The life of Prophet Muhammad (saws) is filled with examples of how to build positive relationships and show kindness, even towards non-Muslims.
The core message of this hadith is that your closest friends should be those who enhance your spiritual life and help you stay on the righteous path. It is important to be cautious of friendships that might jeopardize your beliefs, lead you astray, or cause harm in any way. If your non-Muslim friends respect your faith and treat you with kindness, then forming a friendship with them is permissible, as long as they do not negatively influence your religious views, and you are surrounded by companions who encourage you toward righteousness. May Allah grant us the wisdom to live with the best character and the guidance to follow the right path! Ameen
قوله: باب ما يجوز من الهجران لمن عصى۔۔۔ أراد بهذه الترجمة بيان الهجران الجائز؛ لأن عموم النهي مخصوص بمن لم يكن لهجره سبب مشروع، فتبين هنا السبب المسوغ للهجر وهو لمن صدرت منه معصية فيسوغ لمن اطلع عليها منه هجره عليها ليكف عنها". (فتح الباری،10/497،ط:دارالمعرفة بیروت)
And Allah knows best
Darul Ifta
Darul Uloom Waqf Deoband
Hadith & Sunnah
Ref. No. 3292/46-9024
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ "ثاقب " عربی زبان کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے روشن ،چمک دار ، "مُحسِن" عربی زبان کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے: احسان کرنے والا۔ "اسرائیل" یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے، یہ ”اسرا“ اور”ایل“ دو لفظوں سے مرکب ہے، جس کا معنی ہے عبداللہ یعنی اللہ کا بندہ۔ معنی کے اعتبار سے یہ سب نام اچھے ہیں، اس لئے ان میں سے کوئی بھی نام رکھنا درست ہے۔ انگریزی میں آپ اس طرح لکھ سکتے ہیں۔ Saqib, Muhsin, Israeel.
(2) مفرد نام رکھنا ہی ضروری نہیں ہے، بلکہ مرکب نام رکھنا بھی درست ہے بشرطیکہ معنی میں کوئی خرابی نہ ہو، البتہ نام رکھنے میں بہتر یہ ہے کہ صحابہ و تابعین کے ناموں سے انتخاب کیاجائے؛ وہ نام اچھے بھی ہوتے ہیں اور ان میں برکت بھی ہوتی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Hadith & Sunnah
Ref. No. 3276/46-8086
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ لاشعوری اور غفلت کی زندگی گزارنا، اپنے فرائض منصبی سے پہلو تہی اختیار کرنا ، تعلیمی اور فنی میدان میں پیچھے رہ جانا، اسلامی طرز زندگی اور اسلامی اخلاق کا ان کی زندگی سے عنقاء ہوجانا مسلمانوں کے زوال کے اہم اسباب ہیں۔ جب تک ان امور پر محنت نہیں ہوگی اور قومی مفاد پر اپنے ذاتی مفاد کو ہی ترجیح دی جاتی رہے گی مسلمانوں کا عروج واپس نہیں آئے گا۔
آپ نے مدارس کے حوالہ سے جو دو باتیں ذکر کی ہیں یقینا وہ قابل توجہ ہیں اور قابل عمل بھی۔ اس سلسلہ میں اہل علم کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں میں موجودہ عوامل پر قابو پایاجاسکے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Hadith & Sunnah
Ref. No. 3242/46-9016
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اپنے نام کے ساتھ اپنے والد کے نام کو جوڑ نا اور اپنا نام تبدیل کرنا جائز اور درست ہے اور آپ اپنا ثاقب بن محسن (Saqib bin mohsin) رکھ سکتے ہیں۔ عربی میں نام کے بعد ابن بن اور بنت کا ضابطہ یہ ہے کہ نام یا تو مذکر ہوگا یا مؤنث ہوگا، اگر مذکر ہو تو مندرجہ ذیل شروط پائی جائیں گی تو پھر نام کے بعد لفظ بن لکھا جائے گا۔(۱) لفظ ابن سے پہلے اور بعد میں کوئی علم ہو۔(۲) ابن اور اس علم کے درمیان کوئی فاصلہ نہ ہو، بلکہ دونوں متصل ہوں۔ (۳) لفظ ابن ماقبل والے اسم کی صفت ہو۔(۴) دوسرا اسم پہلے والے اسم کا حقیقی والد ہو۔تو اگر مذکورہ چاروں شرطیں پائی جائیں تو پھر لفظ بن بغیر ہمزہ کے لکھا جائے گا، اور اس کے علاوہ باقی صورتوں میں لفظ ابن ہمزہ کے ساتھ لکھا جائے گا، جیسا کہ:(۱) جب کسی انسان کی نسبت دادا، یا پر دادا یا اس سے اوپر شجرہ نسب کی طرف کردی جائے، جیسے محمد ابن عبد المطلب، یاابن آدم وغیرہ۔(۲) جب دونوں میں باپ بیٹے کا رشتہ نہ ہو، جیسے زید ابن الجزائز، ابن السبیل وغیرہ۔(۳) جب دونوں میں حقیقی باپ بیٹے کا رشتہ نہ ہو، جیسے زید ابن محمد۔(۴) جب دونوں (لفظ بن اور علم) کے درمیان اتصال نہ ہو، جیسے طارق ہوا بن زیاد۔(۵) جب بیٹے کی نسبت ماں کی طرف ہو، جیسے عیسی ابن مریم۔(۶) جب پہلے یا بعد میں علم نہ ہو، جیسے زید ابن الشجعان۔(۷) جب لفظ ابن سے ابتداء کی جائے جیسے ابن عبد اللہ، ابن مسعود۔(۸) جب التقائے ساکنین ہو، جیسے رسولنا ابن عبد اللہ۔(۹) جب لفظ ابن خبر واقع ہو، جیسے کوئی پوچھے محمد ابن من؟(۱۰) جب فلاں کو ولد اور فلاں کو والد بنایا جائے جیسے فلاں ابن فلاں۔(۱۱) جب لفظ ابن کو تثنیہ بنایا جائے جیسے قاسم، ابراہیم، ابا محمد۔ (۱۲) جب لفظ ابن پر حرف ندا داخل ہو جیسے یا ابن اخی۔پس مذکورہ سب صورتوں میں لفظ ابن ہمزہ کے ساتھ لکھا جائے گا اور اگر وہ مؤنث ہے تو پھر لفظ بنت لکھا جائے گا، جیسے فاطمۃ بنت محمد۔نیز اسلامی نام رکھنے کا کوئی متعین طریقہ نہیں ہے، بہتر ہے کہ اچھے معنی پر مشتمل نام رکھا جائے، نام کا اثر بچے پر پڑتا ہے، اس لیے یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام رکھا جائے یا جو آپ نے نام پسند کئے ہیں وہ نام رکھے جائیں، مختلف احادیث میں محمد نام رکھنے کی فضیلت وارد ہوئی ہے، اس سلسلہ میں آب نام کیسے رکھیں مصنف مفتی خالد قاسمی، راہنمائے اسلامی نام مصنف مولانا عبد الشکور قاسمی ،نام ہوں تو ایسے ہوں مصنف مولانا غیاث الدین رشادی، اسلامی ناموں کی فہرست مصنف مفتی محمد رضوان راولپنڈی ،اسلامی ناموں کی لغت مصنف پروفیسر ندیم احمد صدیقی جیسی کتابوں سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
’’ما ضر أحدکم لو کان في بیتہ محمد ومحمد ان وثلثۃ‘‘ (فیض القدیر: ج ۵، ص: ۴۵۳)’’قال بعض الحفاظ واصحہا أي اقربہا للصحۃ مر ولد لہ مولود فسماہ محمد حبایی وتبرکا باسمي کان ہو ومولودہ في الجنۃ‘‘ (السیرۃ الحلبیۃ: ج ۱، ص: ۱۲۱، دار الکتب، العلمیۃ، بیروت)’’عن ابن عمر عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال أحب الأسماء إلی اللّٰہ عز وجل عبد اللّٰہ وعبد الرحمن‘‘ (ابن ماجہ: رقم الحدیث: ۳۷۲۸)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Hadith & Sunnah
Ref. No. 3038/46-4852
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ فجر کی نماز طلوع آفتاب سے اتنی دیر پہلے پڑھنی چاہئے کہ مسنون قراءت کے ساتھ نماز پڑھنے کے بعد اگر نماز میں کسی فساد کا علم ہو اور نماز کے اعادہ کی ضرورت پڑے تو وقت کے اندر ہی نماز کا اعادہ ممکن ہو۔ عام طور پر فجر میں مسنون قراءت کرنے کے لئے دس سے پندرہ منٹ درکار ہوتے ہیں۔ اس لئے فجر کی نماز طلوع آفتاب سے کم از کم پچیس منٹ قبل پڑھنی چاہئے۔ اتنی تاخیر کردینا کہ نماز میں شبہہ ہوجائے یا نماز فاسد ہونے کی صورت میں اعادہ کا وقت باقی نہ رہے ، بالکل مناسب نہیں ہے۔ لیکن اگر تاخیر سے نماز ہوتی ہے اور مسنون قراءت کے ساتھ ہوتی ہے مگر مسنون قراءت کے ساتھ اعادہ کا وقت باقی نہیں رہتاہے تو ایسا کرنا مناسب نہیں لیکن یہ وعید میں داخل نہیں ہوگا، کیونکہ اس نے نماز میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبندHadith & Sunnah
Ref. No. 2974/45-4711
Answer
In the name of Allah the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
It is not permissible for a woman to go on a long journey without a mahram, so it is better to leave the girl behind with a mahram. However, if the mahram is not available and you fear fitnah, you can take her with you in this case only. Your statement that the brother-in-law is a temporary mahram is wrong and it has no root in Sharia.
And Allah knows best
Darul Ifta Darul Uloom Waqf Deoband