طلاق و تفریق

Ref. No. 4118/48-10467

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔  صورتِ مسئولہ میں شوہر نے لفظِ"حرام" استعمال کیا ہے جوصریح بائن طلاق  کا لفظ ہے،یعنی اس سے بغیر نیت کے طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے۔ اس لئے ایک طلاق بائن واقع ہوگئی، نکاح ختم ہوگیا، اب عورت پر لازم ہے کہ عدت گزار کر جہاں چاہے نکاح کرلے۔ سابق شوہراگر راضی ہو تو اس سے بھی نکاح کرنے کی اجازت ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق

Ref. No. 4015/47-10232

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ بہتر ہوگا کہ کسی معتبر شرعی دارالقضا سے رجوع کیا جائے، اور بالمشافہ مل کر معاملہ کے حدود کو سمجھ لیاجائے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق

Ref. No. 4017/47-10225

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ اگر اس کا کہنا کہ تو میری بیوی نہیں، طلاق کی نیت سے تھا تو شرط پائے جانےپر ایک طلاق واقع ہوجائےگی، اور اگر طلاق کی نیت نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ طلاق کی بات کسی طرح بھی بیوی سے کرنا مناسب نہیں ہے، اس سے احتراز کرنا چاہئے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق

Ref. No. 4084/48-10259

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ اسلام میں نکاح ایک پاکیزہ رشتے کا نام ہے،اسلام نے اس کی پائداری پر زور دیا ہے، اور اس کے لیے باہمی الفت ومحبت اور دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی ہے لیکن اگر کسی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان نااتفاقی ہونے لگے تو پہلے دونوں خاندان کے بزرگ کو صلح کرانے کی کوشش کرنی چاہیے؛ کیوںکہ اسلام میں طلاق ناپسندیدہ فعل ہے اور بلا ضرورت اسکا استعمال درست نہیں ہے۔ پھر بھی اگر نباہ کی کوئی صورت نہ بن سکے اور فتنہ وفساد کا اندیشہ ہو تو ایک طلاق صریح دے کر دونوں کو الگ ہو جانے کا حکم ہے۔ ایک طلاق کے بعد اگر دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو عدت میں رجوع کے ذریعہ اور عدت کے بعد نکاح کے ذریعہ دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں۔ ایک ساتھ تین طلاق دینا شرعاً گناہ ہے اور ملکی قانون کے مطابق قابل مواخذہ جرم ہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی زید نے فاطمہ کو تین طلاقِ مغلظہ دی تھیں تو فاطمہ اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی، اور بغیر شرعی حلالہ کے دوبارہ نکاح جائز نہ رہا۔ بعد ازاں فاطمہ نے عدت گزار کر عمر سے نکاح کیا، پھر عمر نے بھی اس کو طلاق دے دی، تو اب دیکھا جائے گا کہ آیا عمر کے ساتھ نکاح صحیح اور اس میں صحیح خلوت/جماع بھی ہوا تھا یا نہیں۔اگر عمر کے ساتھ نکاح صحیح تھا اور دخول (جماع) بھی ہوچکا تھا، پھر طلاق کے بعد عدت بھی پوری ہوگئی تھی، تو اس صورت میں فاطمہ زید کے لیے دوبارہ حلال ہوسکتی تھی۔

لیکن صورتِ مذکورہ میں چونکہ فاطمہ نے عدت کے بعد (نکاح کے بغیر) زید سے ناجائز تعلق قائم کیا جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی، تو اب شرعاً حکم یہ ہے کہ حمل کی حالت میں نکاح جائز نہیں، لہٰذا فاطمہ کا زید سے (یا کسی بھی شخص سے) نکاح وضعِ حمل سے پہلے جائز نہیں ہوگا۔

وضعِ حمل کے بعد، اگر عمر کے ساتھ نکاح صحیح اور دخول کے ساتھ ہوا تھا، تو عدت کے بعد فاطمہ زید سے نیا نکاح کرسکتی ہے، ورنہ نہیں۔ اورچونکہ یہ حمل نکاح کے بغیر (زنا کے نتیجے میں) ٹھہرا ہے، اس لیے شرعاً اس بچے کا نسب نہ زید سے ثابت ہوگا اور نہ عمر سے، بلکہ بچہ صرف اپنی ماں (فاطمہ) کی طرف منسوب ہوگا۔خیال رہے کہ یہ فعل (نکاح کے بغیر تعلق قائم کرنا) سخت گناہِ کبیرہ ہے، اس پر سچی توبہ و استغفار لازم ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق

Ref. No. 4074/47-10245

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ شرعی اور قانونی اعتبار سے طلاق کے بعد بیوی کی جائیداد مکمل طور پر اسی کی ملکیت رہتی ہے۔ سابق شوہر کا اس پر کوئی حق باقی نہیں رہتا، الا یہ کہ بیوی اپنی مرضی سے اجازت دے۔ اگر طلاق یافتہ بیوی خوش دلی سے اجازت دے دے تو سابق شوہر اس جائیداد سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اگر پہلے سے کوئی باقاعدہ معاہدہ (مثلاً کرایہ یا شراکت) طے ہو، تو اس کے مطابق استعمال جائز ہوگا۔ بغیر اجازت استعمال ناجائز ہے۔اگر سابق شوہر بغیر اجازت  مطلقہ بیوی کی جائیداد استعمال کرتا ہے تو یہ شرعاً ناجائز اور غصب (ناحق قبضہ) شمار ہوگا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق

Ref. No. 4063/47-10212

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ اگر شوہر نے دھمکی، جبر یا مارپیٹ کے خوف سے مجبور ہو کر بھی طلاق کے الفاظ کہہ دیے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، بشرطیکہ شوہر نے خود اپنے اختیار سے الفاظ ادا کیے ہوں۔لہذااگر شوہر نے واقعی طلاقِ مغلظہ (مثلاً تین طلاق) کے الفاظ کہہ دیے ،اور وہ الفاظ واضح طور پر طلاق کے تھے،تو طلاقِ مغلظہ واقع ہو جائے گی اور نکاح ختم ہو جائے گا، اور زبردستی کرنے والا گنہگار ہوگا۔البتہ اگر :اس نے زبان سے کچھ نہیں کہا بلکہ مجبوری میں کاغذ پر لکھا یا  طلاق نامہ پر دستخط کیا تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔

في البحر أن المراد الإکراہ علی التلفظ بالطلاق فلو أکرہ علی أن یکتب طلاق امرأتہ فکتب لا تطلق لأن ا لکتابة أقیمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة ہنا (شامي: ۲/۴۲۱)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق

Ref. No. 3806/47-10168

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:  ۔     شوہر  نے پہلی مرتبہ اپنی بیوی کو  لڑائی کے دوران یہ کہا کہ  " تم میری طرف سے فارغ ہو" تو اس سے   بیوی  پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ، اور  نکاح ختم ہوگیا اور بقیہ جملوں سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔اور چونکہ دوبارہ نکاح نہیں ہو ا اس لئے بعد کی طلاقیں لغو ہوں گی اس لئے کہ عورت طلاق کا محل باقی نہیں رہی۔ عورت پر لازم ہے کہ اپنے شوہر سے دور رہے اور اس کے ساتھ کوئی تعلق قائم نہ کرے۔ اگر عورت اسی مرد سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے تو نکاح کرکے دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں۔ بلا نکاح ایک ساتھ رہنا جائز نہیں ہے۔ عورت خوب غور کرلےکہ اس کے ساتھ رہنا ہے یا نہیں پھر نکاح کی پیش کش کرے۔ تاکہ وہ بار بار طلاق دے کر اس کو پریشان نہ کرسکے۔

والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية". "الدر المختار " (3/ 301):

"(الفصل الخامس في الكنايات) لايقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام: (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي، اعزبي، قومي، تقنعي، استتري، تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية، برية، بتة، بتلة، بائن، حرام، والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب، ففي حالة الرضا لايقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين، وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جواباً ورداً فإنه لايجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله: اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لايصدق فيها كذا في الهداية. وألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بخلية وبرية وبتة وبائن وحرام أربعة أخرى ذكرها السرخسي في المبسوط وقاضي خان في الجامع الصغير وآخرون وهي لا سبيل لي عليك، لا ملك لي عليك، خليت سبيلك، فارقتك ولا رواية في خرجت من ملكي، قالوا هو بمنزلة خليت سبيلك، وفي الينابيع ألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بالخمسة ستة أخرى وهي الأربعة المتقدمة وزاد خالعتك والحقي بأهلك هكذا في غاية السروجي." (الھندیۃ، کتاب الطلاق،الباب الثانی فی ایقاع الطلاق،ج:۱،ص:۳۷۴،۳۷۵،دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق

Ref. No. 3953/47-10177

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ (۱-۴) آپ کی والدہ نے جو زیورات بطور عاریت دئے  تھے ان کی واپسی لازم ہے، واپسی کا مطالبہ درست ہے اور حدیقہ پر اس کا واپس کرنا لازم ہے۔ (۵) بغیر شوہر کی رضامندی کے عدالت کا خلع دیدینا درست نہیں ہے، اس لئے نکاح ابھی باقی ہے۔ (۶) حدیقہ ابھی آپ کے نکاح میں بدستور ہے اس لئے اس کا کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، اگر نکاح کرے گی تو یہ حرام کاری ہوگی۔ (۷) بدل خلع طے کرنے کا اختیار شوہر کو ہے، (۸) زیورات تو والدہ کے ہیں، آپ خلع منظور کرنے کے لئے زیورات کی واپسی کی شرط رکھ سکتے ہیں لیکن وہ زیورات والدہ کے ہوں گے اور آپ کو کچھ نہیں ملے گا۔ (۹) آپ کی عدالت کو اس کا اختیار نہیں ہے۔ (۱۰) میاں بیوی کے الگ رہنے سے، جہیز کا سامان واپس کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔ (۱۱) جو عورت شوہر کی مرضی کے خلاف میکے چلی جائے اس کا نفقہ شوہر کے ذمہ نہیں رہتاہے۔ (۱۲) ایک نے ہدیہ کا دعوی کیا جبکہ دینے والا عاریت بتاتاہے تو عاریت کا قول  قابل ترجیح ہوگا۔ (۱۳) رسومات کے اخراجات کا مطالبہ درست نہیں ہے۔ (۱۴) ہدیہ و تحفہ جس کو دیاجاتاہے وہ اس کا مالک ہوجاتاہے، اس کی واپسی کا مطالبہ مناسب نہیں ہے۔ (۱۵) عورت کو شوہر سے رشتہ استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، اگر عورت کو شوہر ناپسند ہو اور اس کے ساتھ رہنے کو تیار نہ ہو تو طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہے، اور شرعی دارالقضا سے بھی اس سلسلہ میں رجوع کرسکتی ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق

Ref. No. 3952/47-10176

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  مذکورہ واقعات کی روشنی میں شوہر کا مسلسل بیوی کو والدین کے گھر بٹھائے رکھنا، نان و نفقہ ادا نہ کرنا، طویل عرصہ بلاعذر ترکِ سکونت، صلح اور بسانے سے عمداً گریز، طلاق یا خلع کے مطالبے پر ٹال مٹول اور دھمکی آمیز جملے کہنا شرعاً واضح تعنت، ایذا رسانی اور حقوقِ زوجیت کی صریح پامالی ہے؛ تاہم شوہر کے الفاظ آزاد ہے کہنے سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی، اگر شوہر نے اس کے بعد رجوع نہیں کیا اور عدت گزرگئی تو عورت بائنہ ہوگئی اور نکاح ختم ہوگیا۔ اور بعد میں واٹس ایپ پر او کے لکھنے سے  کوئ طلاق  واقع نہیں ہوئی۔  اگر شوہر نے عدت کے دوران رجعت کرلی ہو تو بھی چونکہ شوہر نہ ساتھ رکھتا ہے، نہ خرچ دیتا ہے، نہ طلاق دیتا ہے اور بیوی کو معلق رکھے ہوئے ہے، اس لیے بیوی کو شرعاً دارالقضاء کے ذریعے خلع یا فسخِ نکاح کا پورا حق حاصل ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق

Ref. No. 3951/47-10175

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ واضح ہو کہ فقہِ حنفی کے اصول کے مطابق نکاح کے قائم رہنے کی حالت میں اگر بیوی شوہر کی اجازت سے بیرونِ ملک تعلیم یا کسی جائز مقصد کے لیے گئی ہوتو شوہر پر بیوی کا نان و نفقہ واجب رہتا ہے، خواہ شوہر خود بے روزگار ہو یا قرض لے کر یہ خرچ پورا کرے۔ لہٰذا خلع سے پہلے نکاح کے قائم رہنے کے زمانے میں شوہر شرعاً نان و نفقہ کا ذمہ دار تھا۔نان و نفقہ میں شرعاً کھانا، لباس، رہائش (کرایہ)، ضروری علاج اور اس ملک کے لازمی قانونی اخراجات (مثلاً واجب انشورنس) شامل ہیں۔ البتہ تعلیمی فیس شوہر پر اصلًا واجب نہیں، تاہم اگر شوہر نے اپنی خوشی سے یا ذمہ لے کر ادا کی ہو تو وہ اس کی طرف سے تبرع شمار ہوگی، نان و نفقہ نہیں۔خلع واقع ہونے کے بعد شوہر پر آئندہ کے لیے نان و نفقہ واجب نہیں رہتا، اور عورت اپنے اخراجات کی خود ذمہ دار ہوتی ہے۔ خلع کے وقت اگر مہر یا سابقہ نان و نفقہ سے دستبرداری صلح یا عدالتی فیصلے کے تحت ہوئی ہو تو اسی کے مطابق حکم ہوگا۔

رہا یہ مسئلہ کہ شوہر کے بھائیوں نے جو رقم شوہر کو قرض دی، تو شرعاً اس قرض کی ادائیگی شوہر ہی کے ذمہ ہے، کیونکہ لڑکی نے نہ ان سے قرض لیا اور نہ اس کی ضامن بنی۔ لہٰذا شوہر کے بھائیوں کا لڑکی سے اخراجات کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند