Islamic Creed (Aqaaid)

Ref. No. 3888/47-10070

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ شریعتِ اسلامیہ کے مطابق اصولی بات یہی ہے کہ ایمان کے بغیر اعمالِ صالحہ آخرت میں نجات کا ذریعہ نہیں بنیں گے۔  قرآن کہتاہے:  وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَنْثُورًا (الفرقان: 23) ترجمہ: جنہوں نے ایمان نہیں لایا، ان کے اعمال آخرت میں بکھرے ہوئے غبار کی مانند ہوں گے۱۲۔غیر مسلم اگر نیکی کرے، عدل، خدمت یا اخلاق دکھائے تودنیا میں اسے اس کا بدلہ مل سکتا ہے (عزت، سکون، کامیابی)، مگر آخرت میں نجات ایمان کے بغیر نہیں ہوگی یہی الہی قانون ہے،مگر آخرت کے عذاب میں تخفیف ممکن ہے۔تاہم علماء نے ان لوگوں کے بارے میں تفصیل بیان کی ہے جن تک اسلام کا پیغام بالکل نہیں پہونچا یا صحیح صورت میں نہیں پہنچا، یا تحریف شدہ صورت میں پہنچا،ایسے افراد کا معاملہ اللہ کے عدل و رحمت پر چھوڑا گیا ہے، قطعی حکم نہیں لگایا جاتا۔جو غیر مسلم  ایک اللہ کا قائل ہے لیکن حضرت محمد ﷺ کی رسالت پراس کا ایمان نہیں ہے جبکہ دلالۃً اس تک دعوت پہونچ چکی ہے تو اس کے اعمال نجات کا سبب نہ ہوں گے۔ ہاں جو اللہ پر ایمان رکھتاہو لیکن رسول اللہ ﷺ کی رسالت اس تک کسی بھی طرح نہ پہونچی ہو تو اس کا حساب اللہ پر چھوڑدیاجائےگا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Islamic Creed (Aqaaid)

Ref. No. 3858/47-9990

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:۔اسلام میں عمومی طور پر کسی خاص رنگ کو شادی یا خوشی میں منع نہیں کیا گیا۔کالا، سفید، سبز، نیلا — سب پہننا جائز ہے ۔ بشرطیکہ: پردے کے تقاضے پورے ہوں تکبر، نمود و نمائش نہ ہواورکسی حرام کام کی نیت نہ ہو۔ حدیث میں سیاہ لباس پہننا ثابت ہے۔ سوال میں مذکورہ عقیدہ کی شرعا کوئی حیثیت نہیں ہے، اور سفید و سیاہ رنگ  کو خوشی یا غمی کی علامت قراردینا درست نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Islamic Creed (Aqaaid)

Ref. No. 3842/47-9946

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:۔ صوفیانہ کلام کو ظاہر پر محمول نہیں کرنا چاہئے، ورنہ اس کے کفر کا شائبہ ہوتاہے۔اردو اور فارسی کے اشعارمیں اس طرح کے استعارات کا استعمال عام بات ہے، انہیں الفاظ کے ظاہر؎ی معنی پر محمول نہیں کیا جاتا ہےبلکہ انہیں محض شعر سمجھا جائے گا، الا یہ کہ شاعر خود اس کی وضاحت کرے۔   اس طرح کے کلام میں ظاہر کے مقابلہ میں باطن کی طرف توجہ دینے کی ترغیب  ہوتی ہے، اور ایک مسلمان کا اصل مقصد کیاہونا چاہئے، اور اپنے اعمال کا مرکز کس کو بناناچاہئے اس جانب توجہ دلائی جاتی ہے۔ سب کاحاصل یہ ہوتاہے کہ اصل توجہ اپنے تعلق کو اللہ کے ساتھ تنہائی میں مضبوط کرنے  پر دی جائے اور ظاہرکومطمح نظر نہ بنایا جائے، جیساکہ عام لوگوں کا  یہی  حال ہے  کہ مسجدیں آباد ہیں لیکن   اللہ سے جو محبت کی شدت  درکار ہے اس  سے دل خالی ہیں ۔

"لہٰذا مذکورہ اشعار میں بظاہر کچھ الفاظ شریعت کے خلاف محسوس ہوتے ہیں، لیکن صوفیانہ کلام کے معروف اندازِ بیان اور مجموعی معنی کے اعتبار سے ان میں کوئی ایسا جملہ نہیں جو قطعی طور پر کفر کے دائرے میں داخل ہو۔ البتہ اس قسم کے کلام کا استعمال عوام میں مناسب نہیں، کیونکہ ظاہری الفاظ غلط فہمی کا باعث بنتے ہیں۔"

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Islamic Creed (Aqaaid)

Ref. No. 3812/47-1010

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:  ۔اگر وہ تحریر اسی شوہر کی لکھی ہوئی تھی، اور اس میں صاف الفاظ میں طلاق لکھی گئی تھی تو اسی وقت طلاق واقع ہو گئی، طلاق کے وقوع کے لئے شوہر کا طلاق لکھ دینا ہی کافی ہے۔پھربعد میں اس شخص نے کھلے عام سب کے سامنے  بھی کہا کہ “میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے” ۔ اگر شوہر نے تحریر  میں تین طلاقیں دی تھیں تو عورت حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی۔ اور اگر ایک یا دو طلاقیں دی تھیں اور بعد میں طلاق کا اقرار کرتے ہوئے انہی ایک یا دو طلاقوں کی خبر دی تو اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، اس لئے واضح کریں کہ تحریر میں کتنی طلاقیں درج تھیں۔ سب کے سامنے طلاق دینا یا طلاق کا اقرار کرلینا شہادت کے لئے کافی ہے لہذا اس کا انکار معتبر نہیں ہوگا۔ بلکہ انکار کے باوجود طلاق واقع ہوگی۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Islamic Creed (Aqaaid)

Ref. No. 3778/47-10195

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر ایمان لانا اور راضی رہنا ہی ایمان کی اصل روح ہے۔ کامیابی یا ناکامی، آسانی یا مشکل — سب کچھ اللہ کی حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔  شرطی سوچ، فال گیری اور وہم پرستی اسلامی عقیدہ کے منافی ہیں۔اللہ کی رضا کو جاننے کا ذریعہ عملِ صالح اور تقویٰ ہے۔انسان کا  اللہ کی رضا کو کسی خودساختہ علامت کے تابع بنا لینا درست نہیں ہے۔گر انسان نیک عمل، تقویٰ، انصاف، دیانت اور صبر کے راستے پر ہے تو اللہ کی رضا میں ہے۔اگر انسان گناہ، ظلم، یا نافرمانی میں مبتلا ہے  تو اللہ کی ناراضگی میں ہے۔لہٰذا اللہ کی رضا عمل سے جانی جاتی ہے، نہ کہ اتفاقات یا وقتی کامیابیوں سے۔ دنیا میں ہر شخص اپنی کوشش کرتاہے، اس کا اس کوشش میں دنیاوی اعتبار سے کامیاب ہوجانا  اللہ کی رضا کی دلیل نہیں۔ کفار بھی یہی کہتے ہیں کہ اگر اللہ ہم سے ناراض ہے اور ہم جہنم والے ہیں، اور اس کی لعنت ہم پر برستی ہے  تو وہ ہم کو اتنا کیوں نوازتاہے وغیرہ۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Islamic Creed (Aqaaid)

Ref. No. 3676/47-9736

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ نقل کفر کفر نباشد۔ کفریہ بات کسی نے کہی تو اصل کہنے والا ماخوذ ہے، نقل کرنے والے نے تو محض اس کی کفریہ بات کو نقل کیا ہے۔ اس میں نقل کرنے والے کو گستاخ یا کافر کہنا جہالت ہے۔ تاہم سیاق و سباق سے اس کا بھی اندازہ لگایاجائے گا کہ  کفر کے نقل کرنے میں اس نےکہیں کوتاہی تو نہیں کی یا اس کی تائید میں کوئی کلمہ تو نہیں  کہا ۔ کفر کا یا کسی پر گستاخ کا حکم لگانے سے پہلے اس کی پوری بات سننی ضروری ہے اور ایک مسلمان اگر کوئی بات کرتاہے تو اس کو حتی الوسع کفر سے پھیرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ کسی کی بات کو زبردستی کفر پر لانا اور سے کفر یا گستاخی ثابت کرنا خلاف شریعت امر ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Islamic Creed (Aqaaid)

Ref. No. 3497/47-9506

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔       (۱) بعض مرتبہ تقریر کے دوران وقت کا اندازہ نہیں ہوپاتا ہے اس لئے امام صاحب کو سلیقہ سے نماز کا یاد دلانا کوئی غلط بات نہیں ہوگی۔ مگر امام سے معافی مانگنے کا مطلب یہ معلوم ہوتاہے کہ آپ کے یاد دلانے میں سلیقہ مندی نہیں تھی  جو بظاہر امام کی توہین تھی ، آپ کو آئندہ ایسی حرکت سے پرہیز کرنا چاہئے تاہم جب عذر معذرت ہوچکی تو اس کو طول دینا  ٹھیک نہیں ۔ (۲) جب امام صاحب نے معذرت کرلی اور بات ختم ہوگئی تھی تو پھر کچھ لوگوں کا اس معاملہ کو اٹھانا اور لوگوں میں انتشار پیدا کرنا ہرگز جائز نہیں ہے۔ (۳) کسی کو مسجد سے نکالنے کی دھمکی دینا غلط  بات ہے اور باعث گناہ ہے  (۴) مسجد اللہ کا گھر ہے کسی کو کوئی مسجد سے روکے گا تو روکنے والا گنہگار ہوگا ؛ قرآن  نے ایسے شخص کو بڑا  ظالم  قرار دیا ہے۔ قال تعالی:۔ و من اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیھا  (سورۃ البقرۃ) ۔ (۵) مسجد نماز کے لئے بنائی جاتی ہے اور وہ وقف ہوتی ہے اس میں ہر مسلمان برابر کا حق رکھتاہے۔ (۶) مسجد میں ایسا کوئی کام کرنا یا ایسی بات کرنا جس سے اختلاف پیدا ہو بالکل جائز نہیں ہے۔    اگر کبھی کوئی اختلاف اتفاقاً پیدا ہوجائے تو اس کو سلجھانے کی کوشش کی جائے۔ شریعت میں فتنہ و فساد پھیلانے کی سخت مذمت بیان ہوئی ہے۔ اس لئے اللہ کی رضاکے لئے ایک دوسرے کو معاف کردیں  اور ہر طرح کے انتشار سے  پورے طور پر بچیں۔  

    واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Islamic Creed (Aqaaid)

Ref. No. 3484/47-9426

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔       رقم جمع کرنے کی حیثیت شرعی قرض کی ہے۔ اور قرض پر   مشروط یا غیرمشروط  نفع حاصل کرنا  شرعا سود کے زمرے میں  آتاہے۔ اس لئے پیسے جمع کرکے قرعہ اندازی کے ذریعہ جو انعام دیاجاتاہے وہ قرض  پر نفع لینے کی وجہ سے سود میں داخل ہے  جوبلاشبہ ناجائز و حرام ہے۔ اس لئے اس  طرح کے  غیر شرعی اور ناجائز معاملات میں حصہ دار بننا اور انعام لینا جائز نہیں ہے۔

کما في اعلاء السنن : عن فضالة بن عبيد، أنه قال: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا أهـ (ج 14 ص510 ط: ادارة القرآن)۔ وفي الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعاً حرام اھ (ج5 ص166، ط:سعید)۔ وفي رد المحتار: تحت (قولہ کل قرض جر نفعاً حرام) إذا كان مشروطاً ( إلى قوله ) وان لم يكن النفع مشروطاً في القرض فعلى قول الکرخی لا بأس به اھ (ج 5، ص166، ط: سعید)۔ وفي فقه البيوع : الثالث ما جرى به عمل بعض التجار أنهم يعطون جوائز لعملا ئھم الذين اشتروا منهم كمية مخصوصة، ولو في صفقات مختلفة ، وقد تعطی هذه الجوائز بقدر الكمية لكل أحد، وقد تعطى بالقرعة (إلى قوله) فھی هبة مبتداة موعودة من البائع لتشجيع الناس على أن يشتروا البضائع منه، وجواز اخذها مشروط بأن لا يكون البائع زاد في ثمن البضاعة من اجل هذه الجوائز والا صار نوعا من القمار، لأن ما زاد على ثمن المثل انما طولب به على سبيل الغرر (إلى قوله) وكذلك ان كان الثمن ثمن المثل ، فإنه يشترط أن يكون المشتري يقصد شراء البضاعة حقيقۃ ولا يشتريها لمجرد احتمال الحصول على الجائزة والا ففيه شبهة القمار اهـ ( ج ۲ ص ۷۷ ، مكتبه معارف القرآن)۔ وفي رد المحتار: ويردونها على اربابها ان عرفوهم والا تصدقوا بھا،لان الكسب الخبيث التصدق اذا تعذر الرد على صاحبہ اھ (ج6، ص،385،ط:سعید)۔

    واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Islamic Creed (Aqaaid)

Ref. No. 3370/46-9264

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:   بشرط صحت سوال واضح رہے کہ کسی  بھی مسلمان پر  بغیر کسی واضح شرعی دلیل  کے کافرہونے کا حکم لگانا اور اس سلسلے میں  جلدبازی  دکھانا سخت گناہ ہے خود کفر کا حکم لگانے والے  کے لئے  بھی خطرناک ہے اس سے خود کے بھی ایمان جانے کا خطرہ بن جانا ہے،  لہذا اس سے مکمل پر ہیز کرنا چاہئے ۔ حضرت عبد اللہ ابن عمر وؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے کسی ایک پر کفر لوٹ گیا، یعنی یا تو کہنے والے پر یا اس شخص پر جس کو اس نے کافر کہا ۔( مسلم شریف حدیث  نمبر ۲۱۵) لہذا اس معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے ایسے افراد کو جنہوں نے کفریہ اور شرکیہ اعمال کئے  ہوں اولا تو حکمت و تدبیرسے  سمجھانا چاہئے ،  اگر وہ تائب ہو جائیں تو پھر تجدید ایمان اور تجدید نکاح عمل میں لایا جائے ۔ اور اگر سمجھانے سے بھی باز نہ  آئیں تو  پھر ان سے قطع تعلق کرلینا چاہئے۔ صورت مسئولہ میں جو قطع تعلق یعنی بائکاٹ کا جو عمل بغیر ان کا موقف جانے اور بغیرسمجھائے شروع کردیا گیا اور اب تک اس پر عمل  جاری ہے یہ سخت گناہ ہے۔ اس سے تمام لوگوں کو توبہ واستغفار کرنا چاہئے۔ خاص طور پر ان حضرات کو جو اس میں اب بھی شریک ہیں اور دوسروں کو بھی تلقین کررہے ہیں۔

رہا اس لڑکے کا مسئلہ جو یہ وضاحت کررہاہے کہ وہ اس عمل میں شریک نہیں تھا اس کی اس وضاحت کو قبول کرلینا چاہئے ، لہذا اس کو تجدید ایمان و تجدید نکاح کی کوئی ضرورت نہیں ہے، احیتاطا اگر  وہ دونوں عمل کرلے تو کوئی حرج نہیں  ہے مگر توبہ واستغفار ضرور کرے۔

لیکن ان تین لڑکوں کا عمل جیسا کہ نقل کیاگیا ہے واقعی کفریہ ہے لہذا ان کے لئے تجدید ایمان وتجدید نکاح ضروری تھا جو ہوگیا ہے تو اب کسی طرح کی کوئی سختی نہیں کرنی چاہئے۔

والدین کو زبردست مورد الزام ٹھہرانا ، بغیر کسی شرعی دلیل کے سخت گناہ ہے اور حرام ہے جیسا کہ اوپر کی تحریر سے واضح ہوگیا ہے۔

وقال الامام النووی: التوبۃ ما استجمعت ثلاثۃ أمور:أن یقلع عن المعصیۃ، وأن یندم علی فعلہا، وأن یعزم عزما جازماً علی أن لا یعود إلی مثلہا أبداً ۔۔۔۔۔( آلوسی،روح المعاني:14/353)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Islamic Creed (Aqaaid)

Ref. No. 3182/46-7019

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  اللہ تعالیٰ کی ذات، اسماء و صفات  قدیم  ہیں  اور مخلوق کی ذات و صفات حادث ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ  کا کوئی مشابہ نہ موجود ہے اور نہ ہی کوئی  ہوسکتاہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ  "لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ."  یعنی اس کی طرح کا کوئی  بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالی کے لئے قرآن و حدیث میں جن اعضاء کا ثبوت ملتاہے ان سے مراد اللہ تعالی کی ذاتی صفات ہیں جن کے لئے نہ کسی عضو کی ضرورت ہے اور نہ کسی جسم کی۔ اللہ تعالی  کا دیکھنا یا سننا وغیرہ امور ہماری طرح عضو ِکان اور عضوِ ناک وغیرہ کے محتاج نہیں ہیں۔ اس لئے ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کے لئے دونوں ہاتھوں سے پکڑنا یا دونوں آنکھوں سے دیکھنا یا دونوں کانوں سے سننا وغیرہ صفات سے وہ متصف ہے مگر اس کی حقیقت کا  علم  نہیں کہ وہ کس طرح دیکھتا، سنتا اور پکڑتاہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ اللہ تعالی اپنی  دونوں آنکھوں سے دیکھ رہاہے جیسا کہ اس کی شان ہے کوئی گناہ یا گمراہی کی بات نہیں ہوگی ۔ جمہور اہل سنت والجماعت کا یہی مذہب ہے کہ نصوص میں وارد صفات اللہ تعالی کے لیے بلاکیف ثابت ہیں، اور متشابہات کے باب میں بہت زیادہ غور خوض کرنے سے منع کیاگیاہے۔

قولہ تعالی: ید اللہ فوقَ أیدِیہم، قولہ تعالی: ما منعک أن تسجد لما خلقتُ بیديَّ اور مثلاً نفس کما فی قولہ تعالی حکایة عن عیسی -علیہ السلام- تعلم ما في نفسي ولا أعلم ما في نفسک․ وفي الحدیث، وفي الحدیث الشریف: أنت کما أثنیتَ علی نفسک․ اور مثلاً لفظ عین (آنکھ) کما في قولہ تعالی: ولتصنع علی عیني وغیرہ۔ (القرآن)

والواجب أن ینظر في ہذا الباب أعني في باب الصفات فما أثبتہ اللہ ورسولہ أثبتناہ وما نفاہ اللہ ورسولہ نفیناہ (شرح الطحاویة: ۱۶۸، ط: سعودی) والمشہور عند الجمہور من أہل السنة وا لجماعة أنہم لا یریدون بنفي التشبیہ نفي الصفات بل یریدون أنہ سبحانہ لا یشبہ المخلوق في أسمائہ وصفاتہ وأفعالہ (شرح الفقہ الاکبر ص:۱۷ ط: اشرفی)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند