Frequently Asked Questions
طہارت / وضو و غسل
Ref. No. 3954/47-10178
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ فقہ کا قاعدہ ہے کہ محض شک کی بنا ء سابقہ حالت نہیں بدلتی ، اور یقین کو شک کی وجہ سے نہیں چھوڑاجائے گا۔لہذا اگر وضو پہلے سے ہے تومحض شک یا احساس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔وضو کے بعد اعضاء کے خشک ہونے کا شک بھی غیر معتبر ہے۔پیشاب کے بعد معمولی انتظار اور پانی کی چھینٹیں کافی ہیں۔عارضی احساس یا وہم سے غسل لازم نہیں ہوتاہے۔وسوسہ کی بنا پر بار بار وضو یا غسل کرنا درست نہیں، بلکہ اسے چھوڑنا شرعاً لازم ہے۔آپ پر لازم ہے کہ وسوسہ کو نظر انداز کریں اور یقین کی بنیاد پر عبادت انجام دیں۔ جب تک وضوکے ٹوٹنے کا یقین نہ ہو محض شک کی بنیاد پروضو ہرگز نہ کریں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طہارت / وضو و غسل
Ref. No. 3707/47-9875
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔فقہ کا اصول ہے:"الیقین لا یزال بالشک"یعنی یقین کو شک سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ صورت مسئولہ میں آپ کو یقین نہیں کہ ہاتھ پر ناپاکی لگی تھی، بلکہ صرف شک ہے — اور پھر یہ بھی شک ہے کہ وہ کور پر لگی یا نہیں، اور اس کے بعد لنگی یا چٹائی تک پہنچی یا نہیں۔ ایسے تمام مراحل میں “یقین” کہیں بھی نہیں ہے بلکہ صرف تسلسل کے ساتھ شک ہے۔لہٰذا جب تک ناپاکی لگنے کا یقین نہ ہو، کوئی چیز ناپاک نہیں مانی جائے گی۔شک یا خیال سے پاک چیز ناپاک نہیں ہوتی ہے اس لئے آپ کے تولیہ، لنگی، بیڈ کور، چٹائی — سب پاک ہیں۔ان پر نماز پڑھنا، لیٹنا یا کپڑے رکھنا بالکل درست ہے۔خیال رہے کہ وسوسہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، وسوسہ پر اگرآپ غور کرنا چھوڑ دیں اور یقین پر عمل کریں، تو رفتہ رفتہ یہ وسوسہ ختم ہو جاتا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طہارت / وضو و غسل
Ref. No. 3544/47-9549
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ اگر ساڑھے پانچ دن پر سرخ خون بند ہوجاتاہے اور ہلکا سبز رنگ کی تری نظر آتی ہے، تو اگر یہ تری دس دن سے متجاوز ہوتی ہے تو ساڑھے پانچ دن حیض کے ہوں گے اور باقی استحاضہ کے ہوں گے۔ اور اگر یہ سبز رنگ کی تری دس دن حیض کے مکمل ہونے سے پہلے بند ہوجاتی ہے تو یہ حیض ہی ایام شمار ہوں گے اور ان کے بند ہونے کے بعد ہی عورت حیض سے پاک ہوگی۔ ہلکے سبز رنگ کا مادہ بھی خون ہی کے حکم میں ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طہارت / وضو و غسل
Ref. No. 3538/47-9539
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ نیل پالش لگانے سے ناخن تک پانی نہیں پہنچتا ہے جبکہ اعضا تک پانی پہنچانا فرض ہے، اس لئے وضو و غسل دونوں میں ناخن تک پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے پاکی حاصل نہیں ہوتی ہے۔ لیکن اگر کوئی رنگ لگایا جائے کہ جو ناخن تک پانی کے پہنچنے سے مانع نہ ہو تو اس کو لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے، عضو تک پانی پہنچ جائے گا اور طہارت حاصل ہوجائے گی۔
" في فتاوى ما وراء النهر: إن بقي من موضع الوضوء قدر رأس إبرة أو لزق بأصل ظفره طين يابس أو رطب لم يجز وإن تلطخ يده بخمير أو حناء جاز. وسئل الدبوسي عمن عجن فأصاب يده عجين فيبس وتوضأ قال: يجزيه إذا كان قليلا. كذا في الزاهدي وما تحت الأظافير من أعضاء الوضوء حتى لو كان فيه عجين يجب إيصال الماء إلى ما تحته. كذا في الخلاصة وأكثر المعتبرات. ذكر الشيخ الإمام الزاهد أبو نصر الصفار في شرحه أن الظفر إذا كان طويلا بحيث يستر رأس الأنملة يجب إيصال الماء إلى ما تحته وإن كان قصيرا لايجب. كذا في المحيط. ولو طالت أظفاره حتى خرجت عن رءوس الأصابع وجب غسلها قولا واحدا. كذا في فتح القدير. وفي الجامع الصغير سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي يبقى في أظفاره الدرن أو الذي يعمل عمل الطين أو المرأة التي صبغت أصبعها بالحناء، أو الصرام، أو الصباغ قال كل ذلك سواء يجزيهم وضوءهم إذ لايستطاع الامتناع عنه إلا بحرج والفتوى على الجواز من غير فصل بين المدني والقروي. كذا في الذخيرة وكذا الخباز إذا كان وافر الأظفار. كذا في الزاهدي ناقلا عن الجامع الأصغر. والخضاب إذا تجسد ويبس يمنع تمام الوضوء والغسل. كذا في السراج الوهاج ناقلاً عن الوجيز". (الفتاوى الهندية (ج:1، ص:4، ط:دار الفكر)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طہارت / وضو و غسل
Ref. No. 3480/47-9395
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ نماز کے دوران اگر مذی کا قطرہ یا پیشاب کا قطرہ نکل جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ اور نماز بھی فاسد ہوجائے گی۔ استنجا کرنے کے بعد دوبارہ وضو کرکے نماز پڑھنی ضروری ہے۔واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طہارت / وضو و غسل
Ref. No. 3429/47-9320
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ اگر کپڑے پر کوئی اس طرح کا نشان نہیں ہے تو بلاوجہ شک و شبہ میں پڑنا درست نہیں ہے۔ اس طرح تو پھر کسی بھی چیز پر اعتماد نہیں کیاجاسکتاہے۔ اس لئے اگر کوئی ناپاکی لگی ہوئی نہیں ہے اور نہ ہی آپ نے اپنی آنکھوں سے کچھ دیکھاہے تو بلاوجہ شبہ میں نہ پڑیں۔ اپنے وسوسہ اور وہم سے باہر نکلیں اور اس کو پاک شمار کرکے اس میں نماز وغیرہ پڑھ سکتے ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طہارت / وضو و غسل
Ref. No. 3317/46-9182
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ محض شک کی بنائ پر کوئی عمل نہ کریں۔ جب تک یقین نہ ہو شک کے مطابق عمل کرنے سے انسان وہم اور وسوسہ کے مرض میں مبتلا ہوجائیں گی۔ اس لئے آپ کی فجر کی نماز بھی درست ہے اور روزہ بھی صحیح ہے۔خیال رہے کہ روزہ کے صحیح ہونے کے لئے پاکی شرط نہیں ہے ۔ اورتری کے تعلق سے مذی، ودی، پسینہ یا پیشاب ہونے کے بھی احتمالات ہیں ، ان تمام صورتوں میں غسل کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ اس لئے آپ کو جس وقت تری کے منی ہونے کا یقین یا غالب گمان ہو اسی صورت میں غسل کریں ورنہ وضو کرکے نماز پڑھ لیا کریں۔
"وإن رأى بللاً إلا أنه لم يتذكر الاحتلام، فإن تيقن أنه (مذي) لا يجب الغسل؛ لأن سبب خروج المني ههنا لم يوجد، فلا يمكن أن يقال بأنه مني ثم رق لطول المدة، بل هو مذي حقيقة، والمذي لا يوجب الغسل وإن شك أنه مني أو مذي، قال أبو يوسف رحمه الله: لا يوجب الغسل حتى يتيقن بالاحتلام، وقالا يجب الغسل، هكذا ذكر شيخ الإسلام رحمه الله." المحيط البرهاني في الفقه النعماني (1 / 85)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طہارت / وضو و غسل
Ref. No. 3078/46-4948
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ناپاکی کی حالت میں نماز اداکرنا جائز نہیں ہے، یہ گناہ کبیرہ ہے، اس لئے غسل کرکے ہی نماز کی قضاء کی جائے گی۔ اگر کسی نے ایسی حالت میں نماز اداکی ہے تو اس پر توبہ و استغفار لازم ہے۔ تاہم اگر کوئی تنگئ وقت کی بناء پر تیمم کرکے نماز پڑھے تو گناہ نہیں لیکن بعد میں اس نماز کی قضاء بہرحال ضروری ہوگی۔
قلت: وبه ظهر أن تعمد الصلاة بلا طهر غير مكفر كصلاته لغير القبلة أو مع ثوب نجس، وهو ظاهر المذهب كما في الخانية۔۔۔(قوله: غير مكفر) أشار به إلى الرد على بعض المشايخ، حيث قال المختار أنه يكفر بالصلاة بغير طهارة لا بالصلاة بالثوب النجس وإلى غير القبلة۔۔۔لأن الموجب للإكفار في هذه المسائل هو الاستهانة، فحيث ثبتت الاستهانة في الكل تساوى الكل في الإكفار، وحيث انتفت منها تساوت في عدمه، وذلك لأنه ليس حكم الفرض لزوم الكفر بتركه، وإلا كان كل تارك لفرض كافرا۔۔۔(قوله: كما في الخانية) حيث قال بعد ذكره الخلاف في مسألة الصلاة بلا طهارة وأن الإكفار رواية النوادر وفي ظاهر الرواية لا يكون كفرا، وإنما اختلفوا إذا صلى لا على وجه الاستخفاف بالدين، فإن كان وجه الاستخفاف ينبغي أن يكون كفرا عند الكل۔۔۔أقول: وهذا مؤيد لما بحثه في الحلية لكن بعد اعتبار كونه مستخفا ومستهينا بالدين كما علمت من كلام الخانية، وهو بمعنى الاستهزاء والسخرية به، أما لو كان بمعنى عد ذلك الفعل خفيفا وهينا من غير استهزاء ولا سخرية، بل لمجرد الكسل أو الجهل فينبغي أن لا يكون كفرا عند الكل تأمل۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، ج:1، ص:185)
قال الحلبی فالاحوط ان یتیمم ویصلی ثم یعید(قوله: قال الحلبي): اي البرهان الحلبي في شرحه علي المنية، وذكر مثله العلامة ابن امير الحاج الحلبي في الحلية شرح المنية، حيث ذكر فروعاً عن المشايخ، ثم قال: ماحاصله: ولعل هذا من هؤلاء المشايخ اختيار لقول زفر؛ لقوة دليله، وهو ان التيمم انما شرع للحاجة الی اداء الصلاة في الوقت فيتيمم عند خوف فوته … فينبغي العمل به احتياطاً، ولاسيما كلام ابن الهمام يميل الی ترجيح قول زفر كماعلمته، بل قدعلمت من كلام القنية انه رواية عن مشايخنا الثلاثة ونظیر ھذا مسالہ الضیف الذی خاف ریبہ فانھم قالو یصلی ثم یعید“ (درمختار مع ردالمحتار ،باب التیمم، جلد1 ،صفحہ 434،دار المعرفۃ ،بیروت)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طہارت / وضو و غسل
Ref. No. 3079/46-4949
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جس وقت سے کنویں کی ناپاکی کا علم ہوا اس وقت سے ہی اس کو ناپاک شمار کیاجائے گا، اس لئے ناپاکی کا علم ہونے سے پہلے جو کپڑے اس کنویں کے پانی سے دھلے گئے وہ سب پاک شمار ہوں گے۔ البتہ اگر نجاست گرنے کا وقت یقینی طور پر معلوم ہوجائے تو پھر اس وقت سے اس کو ناپاک شمار کیاجائے گا ۔اوراس ناپاک پانی سے وضو یا غسل کرکے، یا اس سے کپڑے دھو کرجتنی نمازیں پڑھی ہیں ان کا اعادہ بھی ضروری ہوگا ۔
فلا نحكم بنجاسته بالشك على الأصل المعهود إن اليقين لا يزول بالشك." (بدائع الصنائع، كتاب الطهارة ،فصل في بيان المقدار الذي يصير الماء نجساّ،ج :1 ،ص :73 ،ط:رشيدية)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طہارت / وضو و غسل
Ref. No. 2939/45-4619
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مصنوعی ہاتھ کو ہر بار اتار کر اصل ہاتھ اور پاؤں کا جتنا حصہ وضو میں دھونا فرض ہے اس کو دھونا ضروری ہوگا، صرف مسح کرنے سے وضو درست نہیں ہوگا۔اس لئے امام صاحب جس طرح فجر میں مصنوعی ہاتھ کو اتار کر بقیہ ہاتھ دھوتے ہیں، اسی طرح باقی نمازوں میں بھی ان کو اتار کر ہی وضو کریں۔ اگر وضو نہیں ہوا تو نماز بھی نہیں ہوگی۔ ان کو صحیح مسئلہ سمجھادیاجائے۔
ولو قطعت يده أو رجله فلم يبق من المرفق والكعب شيء سقط الغسل ولو بقي وجب، كذا في البحر الرائق. وكذا غسل موضع القطع، هكذا في المحيط.وفي اليتيمة: سئل الخجندي عن رجل زمن رجله بحيث لو قطع لايعرف هل يجب عليه غسل الرجلين في الوضوء؟ قال: نعم. كذا في التتارخانية". (الھندیۃ، الفصل الاول فی فرائض الوضوء، کتاب الطہارۃ ، جلد 1 ص:5 ط: دار الفکر)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند