Frequently Asked Questions
ربوٰ وسود/انشورنس
Ref. No. 3917/47-10109
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر الیکشن کے موقع پر دیا جانے والا پیسہ ووٹ خریدنے، اثر و رسوخ ڈالنے، یا ناجائز فائدہ حاصل کرنے کے لیے ہو تو ایسا پیسہ رشوت کے حکم میں آتا ہے، اور اس کا لینا دینا دونوں ناجائز اور حرام ہیں۔ اگر امام مسجد نے الیکشن کے دوران دیا جانے والا پیسہ رشوت یا ووٹ کے بدلے لیا ہے تو اس کے لیے یہ عمل شرعاً ناجائز اور گناہ ہے، اور امام جیسے دینی منصب پر فائز شخص کے لیے یہ عمل زیادہ سنگین ہے۔البتہ اگر امام نے کوئی جائز قانونی خدمت انجام دی ہو اور اسی کی اجرت لی ہو، تو اس کی گنجائش ہو سکتی ہے۔
اگر امام نے واقعی ناجائز (رشوت والا) پیسہ لیا ہے تو وہ گناہگار ہوگا، مگر اس کے پیچھے پڑھی گئی نماز ادا ہو جائے گی؛ کیونکہ نماز کے صحیح ہونے کا تعلق امام کے فاسق ہونے یا نہ ہونے سے نہیں بلکہ نماز کی شرائط و ارکان کی ادائیگی سے ہے۔البتہ ایسی صورت میں بہتر اور اولیٰ یہ ہے کہ متقی اور دیانت دار امام کے پیچھے نماز ادا کی جائے، اور اس امام کو نرمی اور حکمت کے ساتھ نصیحت کی جائے۔اگراپنے اس عمل پر توبہ کرلیں تو ان کی امامت میں کوئی کراہت بھی نہیں ہوگی۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
ربوٰ وسود/انشورنس
Ref. No. 3895/47-10073
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ سود لینا اور دینا دونوں شرعاً حرام اور سخت گناہ ہیں۔ اس لیے اصولی حکم یہ ہے کہ سودی قرض لینا ہی ناجائز ہے، اور اس سے حتی الامکان بچنا لازم ہے۔ بینک سے ملنے والی سودی رقم مالک کی ملک نہیں بنتی، بلکہ وہ مالِ خبیث ہے، جسے اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں۔ایسی سودی رقم کو بلا نیت ثواب صدقہ کرنا ضروری ہوتاہے۔ تاہم اگر آپ بیٹے کی اجازت سے، اس کے بینک اکاؤنٹ میں جمع صرف سودی رقم قرض پر لگنے والے سود کی ادائیگی میں استعمال کر لیں ، تو اس کی گنجائش ہے، کیونکہ یہ سود کو سود سے دفع کرنا ہے ۔آئندہ سودی معاملات سے سچی توبہ کی جائے اور حتی الامکان سودی قرض سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
ربوٰ وسود/انشورنس
Ref. No. 3885/47-10040
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ صورت مسئولہ میں سود کا معاہدہ بینک اور حکومت کے درمیان ہے، قرض لینے والا:نہ سود دینے کا پابند ہے، نہ اس پر سود کی شرط ہے، نہ سود اس کے ذمے ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص سودی معاہدے کا فریق ہی نہیں تو وہ گناہ میں شامل نہیں ہوگا۔ قرض لینے والابینک سے اصل رقم بطور قرض لے رہا ہے،جتنی رقم لی، اتنی ہی واپس کر رہا ہے،اس نے سود پر رضامندی ظاہر نہیں کی، سود ادا کرنے کا کوئی وعدہ یا اقرار نہیں، اس لیے وہ سود دینے والا نہیں کہلاتا۔سبسڈی حکومت کی طرف سے اعانت / امداد ہے، یہ نہ قرض کے عوض مشروط سود ہے نہ بینک کو دی جانے والی زائد رقم، لہٰذا یہ سبسڈی جائز ہے اور اس کے استعمال میں شرعاً کوئی قباحت نہیں، الغرض قرض لینے والا،صرف اصل رقم ادا کرے، سود ادا کرنے کا ذمہ دار نہ ہو ، قرض کے کاغذات میں:اس پر سود کی شرط لازم نہ کی گئی ہو، حکومت واقعی سود خود ادا کرے (یہ محض کاغذی نہ ہو) اگر کسی مرحلے پرسود قرض لینے والے پر ڈال دیا جائے، یا بعد میں سود کی ذمہ داری اس پر آ جائےتو پھر یہ معاملہ ناجائز ہو جائے گا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
ربوٰ وسود/انشورنس
Ref. No. 3879/47-10104
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بیع چونکہ ان حضرات نے ایک مخصوص معیار اور سہولیات کے ساتھ ٹاؤن دکھا کر کی تھی، اور خریدار نے انہی وعدوں پر اعتماد کرکے خریداری کی، جبکہ اب چار سال گزرنے کے باوجود ٹاؤن کی تعمیر نہ ہونے بلکہ اس کے آثار تک نہ پائے جانے سے یہ بیع ’غلط تشہیر‘ اور ’غَرَر‘ پر قائم ہوئی، لہٰذا شریعت میں ایسی بیع فاسد کہلاتی ہے۔ ایسی صورت میں خریدار کو پورا حق حاصل ہے کہ یا تو بیچنے والےاس کو عین وہی معیاری پلاٹ فراہم کریں جس کا وعدہ اور اشتہار میں اظہار کیا تھا، اور اگر وہ ایسا نہ کر سکیں تو خریدار اپنی ساری اصل رقم بغیر کسی کمی کےفوری طور پرواپس لینے کا شرعی حق رکھتا ہے۔البتہ وہ نفعِ مفروضہ (جو ٹاؤن مکمل ہونے کی صورت میں متوقع تھا) کا مطالبہ شرعاً نہیں کر سکتا، کیونکہ ایسا نفع محض امکان ہے، حقیقی یا ثابت شدہ حق نہیں ہے۔اس لئے صورت مسئولہ میں آپ صرف اپنی اصل رقم کی واپسی کا مطالبہ کرسکتے ہیں، اس سے زیادہ کا مطالبہ شرعا ممنوع ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
ربوٰ وسود/انشورنس
Ref. No. 3862/47-9989
الجواب
الجواب وباللہ التوفیق:۔حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب ایک متبحر اور جہاں دیدہ عالم دین ہیں، معیشت و تجارت کے اصول و قوانین اور شرعی حدود وقیود سے اچھی واقفیت رکھتے ہیں، تاہم ان کے قائم کردہ اسلامی بینکاری کے نظام کو جب تک بالفعل مشاہدہ کرکے تجربہ نہ کرلیا جائے اس پر کوئی حکم نہیں لگایاجاسکتاہے۔ اور جن لوگوں نے اعتراض کیا ان کو چاہئے کہ براہ راست حضرت مفتی صاحب سے اس نظام کو سمجھیں اور پھر اپنی رائے پیش کریں۔ حضرت مفتی صاحب کے ورع و تقوی اور تفقہ فی الدین سے غالب گمان یہی ہے کہ ان بینکاری میں اسلامی حدود کی رعایت رکھی گئی ہوگی۔ بہرحال بالاستیعاب اس نظام کا مشاہدہ ہی اس کا حل ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
ربوٰ وسود/انشورنس
Ref. No. 3844/47-9948
الجواب
الجواب وباللہ التوفیق:۔ قرض دینے والے بھائی کے لیے دکانوں کا کرایہ قرض کی وجہ سے لینا جائز نہیں ہے، یہ سود میں شمار ہوگا اور اس کا لینا حرام ہوگا۔ باہمی رضامندی سے بھی سودی معاملہ کی ہرگز اجازت نہیں ہے، بلکہ دونوں فریق گنہگار ہوں گے۔ کل قرض جر نفعا فھو ربا ۔(الحدیث)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
ربوٰ وسود/انشورنس
Ref. No. 3662/47-9778
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ سود کا لین دین شریعت اسلامیہ میں حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ اگر کسی کے پاس سود کی رقم آ جائے تو اس کو اپنے ذاتی فائدے، آرام یا ضروریات (مثلاً: وکیل کی فیس، ذاتی علاج، سفر، کھانے پینے وغیرہ) میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ ناپاک اور خبیث مال ہے۔
البتہ اگر کسی کے پاس سود کی رقم آ گئی ہے تو اس کا صحیح مصرف یہ ہے کہ بغیر ثواب کی نیت کے اسے غرباء و مساکین، یتیموں، مسافر حاجت مندوں یا آفات و حادثات کے متاثرین پر خرچ کر دیا جائے۔ اس میں حکومتی فنڈ یا کسی انفرادی امدادی تنظیم کو دینا بھی درست ہے، لیکن نیت صرف ناجائز مال کو نکالنے کی ہوگی، ثواب کی نیت نہیں کرنا جائز نہیں ہے۔
“یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ” (البقرہ: 278-279)
“لَعَنَ اللّٰهُ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ، وَقَالَ: هُمْ سَوَاءٌ” (صحیح مسلم، حدیث: 1598)
“وأما الربا المحرَّم فينبغي أن يتخلَّص منه بصرفه في مصالح المسلمين كالفقراء والمساكين ولا يجوز أن يُنتفع به لنفسه.” (المجموع شرح المہذب، ج 9، ص 428)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
ربوٰ وسود/انشورنس
Ref. No. 3524/47-9489
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ مذکورہ ایپ کے ذریعہ آپ کے ریچارج کرنے پر آپ کے ریفر کنندہ شخص کو ملنے والی ایک ہزار کی رقم اس کے لئے جائز ہے، روزانہ ویڈیوز پر OK کرنے اور اسٹار دینے سے جو رقم مل رہی ہے اس میں دھوکہ ہے کیونکہ یہ اس لئے کیاجاتاہے تاکہ ناظرین کے اعداد و شمار زیادہ نظر آئیں اور خریدار ان کے پروڈکٹ کی طرف راغب ہوں، اس کے لئے طریقہ کار سے ریٹینگ بڑھوائی جاتی ہے ، اور ایک ہی ویڈیوز پر متعدد مرتبہ کلک کرنے سے بھی یہی تاثر دینا مقصود ہوتاہے جوکہ خلاف واقعہ ہے، اور دھوکہ ہے اس لئے اس عمل پر اجرت لینا درست نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
ربوٰ وسود/انشورنس
Ref. No. 3518/47-9493
In the name of Allah, the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
If something (like a plot of land) is bought on installments at a fixed price — and no discount was agreed upon at the time of the contract — and later the seller offers, "If you pay the full amount early, we will give you a discount," then accepting this discount is allowed in Islam and it is not considered interest (riba).
It is permissible for the rightful owner to take the full payment or to forgive part of it. However, if someone demands extra money unfairly — for example, charging a penalty for late payment — this is considered interest (riba) and is forbidden in Islam.
"وإذا كان لرجل على رجل دين إلى أجل، وهو من ثمن مبيع فحط عنه شيئا على أن يعجل له ما بقي فلا خير فيه ولكن يرد ما أخذ والمال كله إلى أجله، وهو مذهب عبد الله بن عمر - رضي الله عنهما - وكان زيد بن ثابت - رضي الله عنه - يجوز ذلك ولسنا نأخذ بقوله؛ لأن هذا مقابلة الأجل بالدراهم ومقابلة الأجل بالدراهم ربا، ألا ترى أن في الدين الحال لو زاده في المال ليؤجله لم يجز فكذلك في المؤجل إذا حط عنه البعض ليعجل له ما بقي والذي روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «لما أجلى بني النضير فقالوا: إن لنا ديونا على الناس فقال - صلى الله عليه وسلم - ضعوا وتعجلوا» فتأويل ذلك ضعوا وتعجلوا من غير شرط أو كان ذلك قبل نزول حرمة الربا." (المبسوط للسرخسی، ج:13،ص:126،باب العیوب اللتی یطعن المشتری بہا،دارالمعرفۃ)
"الفضل عند التعجیل فی الثمن لیس بربا لأنہ من باب التنازل لا من باب القرض." (رد المحتار، جلد 6، صفحہ 79)GPT
" حط البائع مقدارا من الثمن المسمى بعد العقد صحيح و معتبر" )شرح المجلة لسليم رستم باز : المادة: 256 ، ص: 133)۔
And Allah knows best
Darul Ifta
Darul Uloom Waqf Deoband
ربوٰ وسود/انشورنس
Ref. No. 3353/46-9213
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ وہ سرکاری اسکیمیں جن میں پیسہ جمع کرکے سود کی شرح پر نفع کمایا جائے وہ حرام اور ناجائز ہے چاہے وہ سود کم ہو یا زیادہ اور پرائیوٹ کمپنی دے یا سرکار۔ البتہ سرکاری ایسی اسکیمیں جن میں کاغذی کارروائی کے نام پر پیسے لئے جائیں پھر سرکار تعلیم کے نام پر یا شادی کے نام پر یا اسی طرح کسی اور نام پر مدد کے طور پر رقم دیتی ہے وہ جائز ہے۔ اگر ہر اسکیم میں ماہانہ یا سالانہ رقم جمع کرنے پر انٹرسٹ ہی کم یا زیادہ کرکے دیاجائے تو پھر ایسی اسکیم سے نفع حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔ آپ کوئی پلاٹ قسطوں پر خرید لیں یا زیورخرید کر رکھ لیں تو اس سے بھی شادی وغیرہ کے موقع پر مدد ملے گی۔ اگر آپ نے سرکاری اسکیم لےلی ہے تو اس کی قسطیں جمع کرتے رہیں جب آپ رقم نکالیں تو اپنی جمع کردہ رقم اپنے استعمال میں لائیں اور اضافی رقم جو انٹرسٹ کے طور پر ملتی ہے اس کو غریبوں میں بلانیت ثواب تقسیم کردیں۔
قال اللّٰہ تعالی:وأحل اللہ البیع وحرم الربا الآیة (البقرة: ۲۷۵)، عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہما قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا وموٴکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء (الصحیح لمسلم، ۲: ۷۲، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، الربا فضل خال عن عوض بمعیار شرعي مشروط لأحد المتعاقدین في المعاوضة (تنویر الأبصار مع الدر والرد، کتاب البیوع، باب الربا، ۷: ۳۹۸- ۴۰۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، ﴿وَلَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ أي بالحرام، یعني بالربا، والقمار، والغصب والسرقة(معالم التنزیل ۲: ۵۰)۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند