Frequently Asked Questions
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3765/47-10085
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ وقف کی زمین کو رفاہ عامہ میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے، اس لئے جو زمین وقف ہوگئی اس کو متولیان کے مشورہ سے بھی اجارہ پر دینے کی اجازت نہیں ہے۔ جو زمین وقف ہے اس کا حساب الگ رکھاجائے اور جو زمین لوگوں نے اجارہ پر دینے اور اجرت کو رفاہی کاموں میں استعمال کرنے کے لئے دی ہے تو ان کی زمین کی اجرت کو رفاہی کاموں میں صرف کیاجائے گا۔ لیکن وقف زمین کا کرایہ وقف کی حفاظت میں ہی استعمال ہوسکتاہے، اس کا خیال رکھاجائے۔ اور وقف کی پروپرٹی کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3930/47-10139
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ شرعاً کسی کی ذاتی ملکیت کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر میت دفن کرنا ناجائز اور غصب کے حکم میں ہے۔ اس طرح کے دفن سے وہ زمین قبرستانِ شرعی نہیں بنتی اور ملکیت بدستور اصل مالک ہی کی باقی رہتی ہے۔فقہِ حنفی کے مطابق اگر قبریں اتنی پرانی ہو جائیں کہ میت کے جسمانی آثار مٹی میں بالکل ختم ہو چکے ہوں، تو اس زمین کو دوبارہ جائز استعمال میں لایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ بے حرمتی مقصود نہ ہو اور آدابِ شریعت کا لحاظ رکھا جائے۔صورتِ مسئولہ میں چونکہ:زمین زید کی ملکیت ہے اور مردوں کی تدفین بلا اجازت ہوئی تھی،قبریں ۲۰–۲۵ سال پرانی ہو کر بوسیدہ ہو چکی ہیں،لہٰذا اصولی طور پر زید کے لیے اس زمین میں مکان تعمیر کرنا شرعاً جائز ہے اور عمر و اس کے خاندان کو شرعاً اس تعمیر کو روکنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔البتہ جس قبر پر اینٹ یا واضح پختہ نشان باقی ہوں، اس پر براہِ راست تعمیر کرنا درست نہیں؛ پہلے اس قبر کو شرعی طریقے سے ہٹا کر زمین برابر کر لی جائے اور اطمینان کر لیا جائے کہ میت کے آثار باقی نہیں رہے، پھر تعمیر کی جائے۔ احتیاطاً تعمیر سے قبل زمین کو ہموار کر کے قبروں کے واضح نشانات مٹا دینا اور احترام کا لحاظ رکھنا لازم ہے۔اگر کھودائی میں میت کی ہڈیاں وغیرہ ملیں تو ان کو احترام کے ساتھ کسی قریبی عمومی قبرستان میں دفن کردیاجائے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3838/47-9976
الجواب
الجواب وباللہ التوفیق: ۔ ۔ اگر بہن کا انتقال والدین کی حیات میں ہی ہوگیا تھا تو بہن کا کوئی حصہ نہیں ہوگا لیکن اگر والدین کی وفات کے بعد آپ کی بہن کی وفات ہوئی ہے تو آپ کے حصہ کے بقدر اس بہن کا بھی حصہ نکالاجائے گا جواس بہن کے وارثین کو ملے گا اور ان میں شرعی اعتبار سے تقسیم ہوگا ۔ جو حصہ آپ کی بہن کا ہے اگر اس کی صرف ایک بیٹی ہے اور دوسرا کوئی نہیں ہے تو اس کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے، چھ حصے اس کی بیٹی کو، دودو حصے ہر بھائی کو اور ایک ایک حصہ ہر ایک بہن کو ملے گا۔ اب کل جائداد جو والدین نے چھوڑی ہے اس کو چوراسی (۸۴) حصوں میں تقسیم کریں گے، جن میں سے دونوں بیٹوں کو ۲۶-۲۶ حصے، اور دونوں بیٹیوں کو ۱۳-۱۳ حصے ، اور مرحومہ کی بیٹی کو چھ حصے ملیں گے۔ اور اگر دیگر ورثہ ہوں تو ان کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کریں اور بتائیں کہ مرحومہ بیٹی کا شوہرہے یانہیں ۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3814/47-1008
الجواب
الجواب وباللہ التوفیق: ۔ باپ جوکچھ اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں بلاعوض دیتاہے وہ ہبہ کہلاتاہے۔جس کا حکم یہ ہے کہ مالک بنادینا اور قبضہ دینے سے ہبہ مکمل ہوجائے گا اور اس میں کوئی وراثت جاری نہیں ہوگی اور یہ ہر ایک کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی۔ نیز باپ اس میں کمی زیادتی بھی کرسکتاہے لیکن بہتر ہے کہ تمام اولاد کو برابر حصہ دے کمی زیادتی نہ کرے الا یہ کہ کوئی معقول وجہ ہو۔ بہرحال بیٹی کو شادی کے وقت اس کے حقیقی وارثتی حصہ کے برابر زندگی میں دینا جائز ہے۔ خیال رہے کہ آپ موت کے بعد وارثوں کے حقوق کو بلاشرط ختم نہیں کر سکتے؛ وصیت ایک تہائی تک محدود ہے (بقیہ کے لیے وارثین کی رضا درکار ہے۔باپ کے انتقال کے وقت باپ کی ملکیت میں جو کچھ ہوگا وہ تمام اولاد میں تقسیم ہوگا اور زندگی میں ہبہ کرنے کا کوئی اثر اس تقسیم پر نہیں پڑے گا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3800/47-9900
الجواب
الجواب وباللہ التوفیق: بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں کہ دادا ابو نے یہ رقم (22 لاکھ روپے) آپ کے والد صاحب کو ادھار کے طور پر دی تھی، اور والد صاحب نے بعد میں یہ رقم واپس نہیں کی، بلکہ کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں،تو شرعاً وہ رقم دادا ابو کا قرض شمار ہوگی۔کیونکہ ضابطہ یہی ہے کہ جس نے کسی کو مال دیا بطورِ قرض، وہ مال دینے والے کی ملکیت میں باقی رہتا ہے، جب تک واپس نہ کیا جائے یا صاف طور پر معاف نہ کیا جائے۔ اس لئے دادا ابو جب تک اس قرض کو صاف لفظوں میں معاف نہ کریں، وہ رقم واجب الادا قرض رہے گی۔اگر دادا ابو نے صرف مجبوری یا ناراضگی میں کہا ہو کہ "میرے حصے سے کٹ جائیں"، تو یہ قرض کی معافی نہیں مانی جائے گی۔شریعت میں قرض، وراثت تقسیم ہونے سے پہلے ادا کیا جاتا ہے۔پھر یہ بھی یاد رکھئے کہ اگر دادا ابو کے انتقال سے قبل یہ رقم واپس نہ کی گئی اور انہوں نے معاف بھی نہ کی،تو یہ 22 لاکھ روپے ان کے ترکہ (وراثت) میں شمار ہوں گے۔اور والد صاحب پر لازم ہوگا کہ 22 لاکھ واپس کریں۔اس کے بعد وہ ان کے تمام وارثوں (5 بیٹے اور 2 بیٹیاں) میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔یعنی:ہر بیٹے کو دو حصے،ہر بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔ اگر والد صاحب نے دادا ابو سے جھوٹ بولا کہ "میرے پاس پیسے نہیں ہیں" حالانکہ پیسے تھے تو یہ عمل باعث گناہ ہے ، ایسے شخص پر لازم ہے کہ وہ سچی توبہ کرے اور قرض ادا کرے۔نبی ﷺ نے فرمایا:مطل الغنی ظلم “مالدار کا قرض ادا کرنے میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔” (صحیح بخاری: 2400)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3803/47-9898
الجواب
الجواب وباللہ التوفیق: ۔ اگر بہو کو پلاٹ پر قبضہ نہیں ملا تھا ، تو وہ پلاٹ دادا ہی کی ملکیت رہا، اور وراثت میں شامل ہوگا۔اگر بیٹے نے قسطیں بلا شرط دی تھیں تو وہ واپسی کا حق نہیں رکھتا۔اگر قسطیں شرط کے ساتھ قرض کے طور پر دی تھیں تو دادا پر واجب ہے کہ وہ رقم واپس کریں (اگر باحیات ہوں)، یا ان کے ترکے سے ادا کی جائے۔پلاٹ کی شرعی تقسیم کے لیے قبضہ، نیتِ ہبہ، اور وراثت کی تفصیلات طے کر کے حساب لگانا ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3787/47-9894
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر پہلی میت کی ہڈیاں بوسیدہ ہو کر مٹی میں مل چکی ہوں (یعنی جسم کا کوئی حصہ باقی نہ ہو)، تو اسی قبر میں دوبارہ میت دفنانا جائز ہے۔لیکن جب تک پہلی میت کا جسم یا ہڈیاں باقی ہوں، دوسری میت کو اس میں دفن کرنا ممنوع ہے۔ عام طور پر ۳ سے ۵ سال میں جسم مٹی میں مل جاتا ہے۔لیکن کچھ علاقوں میں نمی یا سخت زمین کی وجہ سے ۷ یا ۸ سال بھی لگ سکتے ہیں۔اس سلسلہ میں ماہرین سے اندازہ لے لیا جائے، اور اگر قبر کھولنے پر معلوم ہوا کہ پہلی میت ابھی باقی ہے تو مٹی کی آڑ بناکر اس میں دوسری میت دفن کی جا سکتی ہے۔
"وسئل أبو بكر الأسكافي عن المرأة تقبر في قبر الرجل؟ فقال: إن كان الرجل قد بلي ولم يبق له لحم ولا عظم جاز، وكذا العكس، وإلا فإن كانوا لايجدون بداً يجعلون عظام الأول في موضع، وليجعلوا بينهما حاجزا بالصعید." (حاشية طحطاوی، ص: 613، ط: دار الکتب العلمیة)
"ولا يدفن اثنان أو ثلاثة في قبر واحد إلا عند الحاجة." (الھندیۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، کتاب الصلوٰۃ، ص/166، ج/1، ط/رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3773/47-9842
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مرحومہ کا کل ترکہ ۳۶ حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں سے شوہر کو ۹حصے، والدین میں سے ہر ایک کو چھ ۶ حصے، اور بیٹے کو ۱۰ حصے اور بیٹی کو ۵ حصے ملیں گے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3697/47-9826
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ (۱) مرحوم نے جو زمین اپنی زندگی میں اپنی دوسری بیوی کودیدی اور مالک بنادیا وہ زمین دوسری بیوی کی ذاتی ملکیت ہے، اس میں میراث جاری نہیں ہوگی۔ (۲) مرحوم کی وفات کے وقت جو مال و اسباب اان کی ملکیت میں تھے ان مٰں سے قرض ادا کیاجائےگا اور پھر جو بچے گا اس میں وراثت جاری ہوگی، اور دوسری بیوی کو بھی اس وراثت میں حصہ ملے گا۔ (۳) اگر وہ مسلمان ہونے کا دعوی کرتی ہے توغیرمسلم سے نکاح کرنے پر وہ وراثت سے محروم نہ ہوگی، (۴) اگر سوال مذکور میں تین بھائیوں سے مراد مرحوم کے تین بھائی ہیں تو پوری جائداد اور مال کو 144 حصوں میں تقسیم کریں گے جن میں سے ہر ایک بیٹی کو 32 حصے، اور ہر ایک بیوی کو 9 حصے اور مرحوم کے ہر ایک بھائی کو 10 حصے ملیں گے۔
(نوٹ: ۔ اگر تین بھائی سے مراد تین بیٹے یعنی بیٹیوں کے بھائی ہیں تو مسئلہ بدل جائے گا)۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3696/47-9827
In the name of Allah, the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
Whatever the mother gave to her children during her lifetime — whether it was land, a house, or money from the sale of such property — and made them its rightful owners, now belongs solely to them. It will not be counted as part of her estate after her death.
If she gave it by selling property or from her own personal funds, it remains the exclusive possession of the recipients.
It should also be noted that any money the sons contributed toward the construction of the house was merely to assist their father. Therefore, it will be considered a voluntary contribution (tabarru‘ and ihsān), and they are not entitled to claim that amount back or deduct it from the estate.
Accordingly, the entire current value of the house must be included in the estate and distributed among all the heirs.
(However, if at the time of contributing funds there was any formal agreement made with the father, it should be presented in writing, and the ruling may be reconsidered in light of that agreement.)
Finally, all the existing property, wealth, and belongings should be divided into eleven equal shares, with each son receiving two shares and each daughter one share, in accordance with Islamic inheritance law.
And Allah knows best
Darul Ifta
Darul Uloom Waqf Deoband