Frequently Asked Questions
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 4092/47-10351
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔شریعتِ مطہرہ میں باہمی رضامندی سے طے پانے والے معاہدات کی بڑی اہمیت ہے، اگر کوئی معاہدہ (زبانی یا تحریری)
باہمی رضامندی سے ہوا ہو، کسی حرام یا ناجائز امر پر مشتمل نہ ہو، اور اس میں کسی کا حق دبایا نہ گیا ہو، تو ایسا معاہدہ شرعاً لازم اور واجب العمل ہوتا ہے۔جب فریقین نے معاہدہ کو قبول کر کے اس پر دستخط کر دیے، تو اب اس سے پھر جانا یا اس پر عمل نہ کرناشرعاً ناجائزہے، اور اگر کسی کا حق روکا جا رہا ہو تو یہ ظلم اور حق تلفی کے زمرے میں آئے گا، سب سے پہلے نرمی، حکمت اور خاندان کے بزرگوں کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی جائے۔اگر اس کے باوجود بھی فریق حق ادا نہ کرے توآپ اپنے حق کے حصول کے لیے عدالت (شرعی یا ملکی) سے رجوع کر سکتے ہیں، یہ بھی شرعاً جائز ہے، کیونکہ یہ بھی اپنا حق حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 4091/47-10348
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے انتقال کے بعد ان کا ترکہ تمام شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا۔ چونکہ ان کی کوئی اولاد نہیں، شوہر کا پہلے انتقال ہوچکا ہے، اور والدین بھی موجود نہیں، اس لئے وراثت بھائیوں اور بہنوں (یا ان کی اولاد( کی طرف منتقل ہوگی۔
مرحومہ کی زبانی یہ خواہش کہ ساری جائیداد صدقہ کر دی جائےکا کوئی اعتبار نہیں۔ مرحومہ کی ساری جائداد تمام ورثاءمیں شرعی حصوں کے اعتبار سے تقسیم ہوگی۔ جو ۶بہنیں اور ایک بھائی مرحومہ سے پہلے انتقال کر چکے ہیں،ان کا اور ان کی أولاد کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔یعنی مذکورہ صورت میں بھانجے، بھانجیاں اور بھتیجے، بھتیجیاں وارث نہیں ہوں گے۔لہٰذا موجودہ صورت میں صرف زندہ حقیقی بھائی ہی وارث ہوں گے، اور وہ برابر برابر ترکہ کے مستحق ہوں گے۔اور مذکورہ فتویٰ کہ جائیداد صرف زندہ دو بھائیوں میں برابر تقسیم ہوگی، درست ہے۔ بشرطیکہ کوئی اور قریبی وارث (مثلاً والدین وغیرہ) موجود نہ ہو۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 4086/47-10254
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔صورتِ مسئولہ میں بیوی چونکہ شرعاً وارث ہے، اس لئے اس کے حق میں رہائش کی وصیت (یعنی تاحیات مکان میں رہنے کا حق دینا) بھی وصیت فی حق الوارث کے حکم میں داخل ہے۔لہٰذا قاعدہ "لا وصیۃ لوارث إلا أن یجیزھا الورثۃ" کے مطابق ایسی وصیت دیگر ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگی۔ اگر تمام بالغ ورثاء وفات کے بعد اس کی اجازت دے دیں تو یہ وصیت نافذ ہو جائے گی، اور بیوی کو تاحیات رہائش کا حق حاصل ہوگا، ورنہ بلا اجازت یہ وصیت لازم نہیں ہوگی۔البتہ اگر ورثاء از خود خوش دلی سے بیوی کو رہنے دیں تو یہ احسان اور حسنِ سلوک میں داخل ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3765/47-10085
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ وقف کی زمین کو رفاہ عامہ میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے، اس لئے جو زمین وقف ہوگئی اس کو متولیان کے مشورہ سے بھی اجارہ پر دینے کی اجازت نہیں ہے۔ جو زمین وقف ہے اس کا حساب الگ رکھاجائے اور جو زمین لوگوں نے اجارہ پر دینے اور اجرت کو رفاہی کاموں میں استعمال کرنے کے لئے دی ہے تو ان کی زمین کی اجرت کو رفاہی کاموں میں صرف کیاجائے گا۔ لیکن وقف زمین کا کرایہ وقف کی حفاظت میں ہی استعمال ہوسکتاہے، اس کا خیال رکھاجائے۔ اور وقف کی پروپرٹی کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3930/47-10139
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ شرعاً کسی کی ذاتی ملکیت کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر میت دفن کرنا ناجائز اور غصب کے حکم میں ہے۔ اس طرح کے دفن سے وہ زمین قبرستانِ شرعی نہیں بنتی اور ملکیت بدستور اصل مالک ہی کی باقی رہتی ہے۔فقہِ حنفی کے مطابق اگر قبریں اتنی پرانی ہو جائیں کہ میت کے جسمانی آثار مٹی میں بالکل ختم ہو چکے ہوں، تو اس زمین کو دوبارہ جائز استعمال میں لایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ بے حرمتی مقصود نہ ہو اور آدابِ شریعت کا لحاظ رکھا جائے۔صورتِ مسئولہ میں چونکہ:زمین زید کی ملکیت ہے اور مردوں کی تدفین بلا اجازت ہوئی تھی،قبریں ۲۰–۲۵ سال پرانی ہو کر بوسیدہ ہو چکی ہیں،لہٰذا اصولی طور پر زید کے لیے اس زمین میں مکان تعمیر کرنا شرعاً جائز ہے اور عمر و اس کے خاندان کو شرعاً اس تعمیر کو روکنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔البتہ جس قبر پر اینٹ یا واضح پختہ نشان باقی ہوں، اس پر براہِ راست تعمیر کرنا درست نہیں؛ پہلے اس قبر کو شرعی طریقے سے ہٹا کر زمین برابر کر لی جائے اور اطمینان کر لیا جائے کہ میت کے آثار باقی نہیں رہے، پھر تعمیر کی جائے۔ احتیاطاً تعمیر سے قبل زمین کو ہموار کر کے قبروں کے واضح نشانات مٹا دینا اور احترام کا لحاظ رکھنا لازم ہے۔اگر کھودائی میں میت کی ہڈیاں وغیرہ ملیں تو ان کو احترام کے ساتھ کسی قریبی عمومی قبرستان میں دفن کردیاجائے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3838/47-9976
الجواب
الجواب وباللہ التوفیق: ۔ ۔ اگر بہن کا انتقال والدین کی حیات میں ہی ہوگیا تھا تو بہن کا کوئی حصہ نہیں ہوگا لیکن اگر والدین کی وفات کے بعد آپ کی بہن کی وفات ہوئی ہے تو آپ کے حصہ کے بقدر اس بہن کا بھی حصہ نکالاجائے گا جواس بہن کے وارثین کو ملے گا اور ان میں شرعی اعتبار سے تقسیم ہوگا ۔ جو حصہ آپ کی بہن کا ہے اگر اس کی صرف ایک بیٹی ہے اور دوسرا کوئی نہیں ہے تو اس کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے، چھ حصے اس کی بیٹی کو، دودو حصے ہر بھائی کو اور ایک ایک حصہ ہر ایک بہن کو ملے گا۔ اب کل جائداد جو والدین نے چھوڑی ہے اس کو چوراسی (۸۴) حصوں میں تقسیم کریں گے، جن میں سے دونوں بیٹوں کو ۲۶-۲۶ حصے، اور دونوں بیٹیوں کو ۱۳-۱۳ حصے ، اور مرحومہ کی بیٹی کو چھ حصے ملیں گے۔ اور اگر دیگر ورثہ ہوں تو ان کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کریں اور بتائیں کہ مرحومہ بیٹی کا شوہرہے یانہیں ۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3814/47-1008
الجواب
الجواب وباللہ التوفیق: ۔ باپ جوکچھ اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں بلاعوض دیتاہے وہ ہبہ کہلاتاہے۔جس کا حکم یہ ہے کہ مالک بنادینا اور قبضہ دینے سے ہبہ مکمل ہوجائے گا اور اس میں کوئی وراثت جاری نہیں ہوگی اور یہ ہر ایک کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی۔ نیز باپ اس میں کمی زیادتی بھی کرسکتاہے لیکن بہتر ہے کہ تمام اولاد کو برابر حصہ دے کمی زیادتی نہ کرے الا یہ کہ کوئی معقول وجہ ہو۔ بہرحال بیٹی کو شادی کے وقت اس کے حقیقی وارثتی حصہ کے برابر زندگی میں دینا جائز ہے۔ خیال رہے کہ آپ موت کے بعد وارثوں کے حقوق کو بلاشرط ختم نہیں کر سکتے؛ وصیت ایک تہائی تک محدود ہے (بقیہ کے لیے وارثین کی رضا درکار ہے۔باپ کے انتقال کے وقت باپ کی ملکیت میں جو کچھ ہوگا وہ تمام اولاد میں تقسیم ہوگا اور زندگی میں ہبہ کرنے کا کوئی اثر اس تقسیم پر نہیں پڑے گا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3800/47-9900
الجواب
الجواب وباللہ التوفیق: بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں کہ دادا ابو نے یہ رقم (22 لاکھ روپے) آپ کے والد صاحب کو ادھار کے طور پر دی تھی، اور والد صاحب نے بعد میں یہ رقم واپس نہیں کی، بلکہ کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں،تو شرعاً وہ رقم دادا ابو کا قرض شمار ہوگی۔کیونکہ ضابطہ یہی ہے کہ جس نے کسی کو مال دیا بطورِ قرض، وہ مال دینے والے کی ملکیت میں باقی رہتا ہے، جب تک واپس نہ کیا جائے یا صاف طور پر معاف نہ کیا جائے۔ اس لئے دادا ابو جب تک اس قرض کو صاف لفظوں میں معاف نہ کریں، وہ رقم واجب الادا قرض رہے گی۔اگر دادا ابو نے صرف مجبوری یا ناراضگی میں کہا ہو کہ "میرے حصے سے کٹ جائیں"، تو یہ قرض کی معافی نہیں مانی جائے گی۔شریعت میں قرض، وراثت تقسیم ہونے سے پہلے ادا کیا جاتا ہے۔پھر یہ بھی یاد رکھئے کہ اگر دادا ابو کے انتقال سے قبل یہ رقم واپس نہ کی گئی اور انہوں نے معاف بھی نہ کی،تو یہ 22 لاکھ روپے ان کے ترکہ (وراثت) میں شمار ہوں گے۔اور والد صاحب پر لازم ہوگا کہ 22 لاکھ واپس کریں۔اس کے بعد وہ ان کے تمام وارثوں (5 بیٹے اور 2 بیٹیاں) میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔یعنی:ہر بیٹے کو دو حصے،ہر بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔ اگر والد صاحب نے دادا ابو سے جھوٹ بولا کہ "میرے پاس پیسے نہیں ہیں" حالانکہ پیسے تھے تو یہ عمل باعث گناہ ہے ، ایسے شخص پر لازم ہے کہ وہ سچی توبہ کرے اور قرض ادا کرے۔نبی ﷺ نے فرمایا:مطل الغنی ظلم “مالدار کا قرض ادا کرنے میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔” (صحیح بخاری: 2400)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3803/47-9898
الجواب
الجواب وباللہ التوفیق: ۔ اگر بہو کو پلاٹ پر قبضہ نہیں ملا تھا ، تو وہ پلاٹ دادا ہی کی ملکیت رہا، اور وراثت میں شامل ہوگا۔اگر بیٹے نے قسطیں بلا شرط دی تھیں تو وہ واپسی کا حق نہیں رکھتا۔اگر قسطیں شرط کے ساتھ قرض کے طور پر دی تھیں تو دادا پر واجب ہے کہ وہ رقم واپس کریں (اگر باحیات ہوں)، یا ان کے ترکے سے ادا کی جائے۔پلاٹ کی شرعی تقسیم کے لیے قبضہ، نیتِ ہبہ، اور وراثت کی تفصیلات طے کر کے حساب لگانا ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 3787/47-9894
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر پہلی میت کی ہڈیاں بوسیدہ ہو کر مٹی میں مل چکی ہوں (یعنی جسم کا کوئی حصہ باقی نہ ہو)، تو اسی قبر میں دوبارہ میت دفنانا جائز ہے۔لیکن جب تک پہلی میت کا جسم یا ہڈیاں باقی ہوں، دوسری میت کو اس میں دفن کرنا ممنوع ہے۔ عام طور پر ۳ سے ۵ سال میں جسم مٹی میں مل جاتا ہے۔لیکن کچھ علاقوں میں نمی یا سخت زمین کی وجہ سے ۷ یا ۸ سال بھی لگ سکتے ہیں۔اس سلسلہ میں ماہرین سے اندازہ لے لیا جائے، اور اگر قبر کھولنے پر معلوم ہوا کہ پہلی میت ابھی باقی ہے تو مٹی کی آڑ بناکر اس میں دوسری میت دفن کی جا سکتی ہے۔
"وسئل أبو بكر الأسكافي عن المرأة تقبر في قبر الرجل؟ فقال: إن كان الرجل قد بلي ولم يبق له لحم ولا عظم جاز، وكذا العكس، وإلا فإن كانوا لايجدون بداً يجعلون عظام الأول في موضع، وليجعلوا بينهما حاجزا بالصعید." (حاشية طحطاوی، ص: 613، ط: دار الکتب العلمیة)
"ولا يدفن اثنان أو ثلاثة في قبر واحد إلا عند الحاجة." (الھندیۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، کتاب الصلوٰۃ، ص/166، ج/1، ط/رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند