احکام میت / وراثت و وصیت

Ref. No. 4131/48-10450

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق دو الگ ترکے ہیں، اس لیے دونوں کا حکم الگ الگ ہے۔(۱)  اگر متین الرحمٰن کا انتقال 2017ء میں ہوا اور ان کے ورثاء میں:صرف ایک بیوی تھی،کوئی اولاد نہ تھی،والد کا انتقال پہلے (2005ء) ہو چکا تھا،والدہ (نجم النساء) اس وقت زندہ تھیں،نیز چار بھائی اور دو بہنیں بھی موجود تھیں،تو فقہِ حنفی کے مطابق متین الرحمٰن کے ترکہ کوبارہ حصوں میں تقسیم کریں گے، جن میں سے بیوی کو چار حصے، والدہ کو دو حصے، ہر بھائی کوادو دو حصے، اور ہر ایک بہن کو ایک ایک حصہ دیاجائے گا۔

(۲) اگر نجم النساء کا انتقال اس حال میں ہوا کہ:ان کے شوہر پہلے ہی وفات پا چکے تھے،ان کی اولاد میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں زندہ تھیں، جبکہ دو بیٹے (متین الرحمٰن اور امین الرحمٰن) ان کی زندگی ہی میں وفات پا گئے تھے،تو جو اولاد مورث سے پہلے فوت ہو جائے، وہ وارث نہیں بنتی، اور نہ ہی اس کی اولاد اس کی جگہ وارث بنتی ہے۔لہٰذا نجم النساء کی وفات کے وقت صرف:تین زندہ بیٹے،اور دو زندہ بیٹیاں،ہی وارث ہوں گے۔لہٰذا تین ایکڑ زمین اور جوکچھ ان کی ملکیت میں تھا ، انہی پانچ زندہ اولاد میں اس اصول کے مطابق تقسیم ہوگی کہ:لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ یعنی ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

احکام میت / وراثت و وصیت

Ref. No. 4126/48-10443

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ صورتِ مسئولہ میں چونکہ ترکہ کی تقسیم ہمیشہ مورث کی وفات کے وقت موجود زندہ ورثاء کی بنیاد پر ہوتی ہے، اس لیے دادی مرحومہ کے انتقال (1996ء) کے وقت جو افراد زندہ تھے، صرف وہی ان کے وارث ہوں گے۔آپ کی تحریر کے مطابق دادی کے انتقال کے وقت صرف ان کی ایک بیٹی اور ایک پوتا اور تین پوتیاں باحیات تھیں، تو ایسی صورت میں کل ترکہ کو دس  حصوں میں تقسیم کرکے پانچ حصے بیٹی کو ، دو حصے پوتے کو اور ایک ایک حصہ پوتیوں کو دیاجائے گا۔ اور چونکہ بیٹی کا بھی بعد میں انتقال ہوگیا اور اس وقت صرف ایک بھتیجا اور تین بھتیجیاں زندہ تھیں، تو  ان کا کل ترکہ(یعنی پانچ حصے) ان کے بھتیجے کو دیدیا جائے گا۔ اور اس حصہ میں بھتیجیوں کا کوئی حق نہیں ہوگا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

احکام میت / وراثت و وصیت

Ref. No. 4107/48-10394

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔  صورتِ مسئولہ میں اصل اعتبار اس بات کا ہوگا کہ وہ زمین حقیقتاً کس کی ملکیت میں تھی۔اگر والد نے زمین بیٹے کے نام خریدی تھی اور خریدتے وقت نیت یہ تھی کہ یہ زمین بیٹے ہی کی ملکیت رہے، یا کاغذات وغیرہ میں بیٹے کا نام مالک کی حیثیت سے تھا، تو وہ زمین بیٹے کی ملکیت شمار ہوگی۔  البتہ اگر حقیقت یہ ہو کہ والد نے اپنے پیسوں سے زمین خریدی تھی، صرف نام بیٹے کا لکھوا دیا تھا اور مقصد بیٹے کو مالک بنانا نہیں تھا بلکہ محض نام کی حد تک تھا، تو حکم مختلف ہوگا، اور ایسی صورت میں والد کی ملکیت کا اعتبار کیا جاسکتا ہے۔لہٰذا مکمل صورتِ حال (خریداری کے وقت نیت، پیسے کس کے تھے، کاغذات کس نام پر تھے، قبضہ وغیرہ) دیکھ کر حتمی حکم کیا جائے گا۔سوال مذکور سے بظاہر یہی معلوم ہوتاہے کہ والد نے مذکورہ بیٹے کو مکمل مالک و متصرف نہیں بنایا تھا لہذا ایسی صورت میں وہ زمین بھی والدہی کی ملکیت شمار ہوگی۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

احکام میت / وراثت و وصیت

Ref. No. 4092/47-10351

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔شریعتِ مطہرہ میں باہمی رضامندی سے طے پانے والے معاہدات کی بڑی اہمیت ہے، اگر کوئی معاہدہ (زبانی یا تحریری)

باہمی رضامندی سے ہوا ہو، کسی حرام یا ناجائز امر پر مشتمل نہ ہو، اور اس میں کسی کا حق دبایا نہ گیا ہو، تو ایسا معاہدہ شرعاً لازم اور واجب العمل ہوتا ہے۔جب فریقین نے معاہدہ کو قبول کر کے اس پر دستخط کر دیے، تو اب اس سے پھر جانا یا اس پر عمل نہ کرناشرعاً ناجائزہے، اور اگر کسی کا حق روکا جا رہا ہو تو یہ ظلم اور حق تلفی کے زمرے میں آئے گا، سب سے پہلے نرمی، حکمت اور خاندان کے بزرگوں کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی جائے۔اگر اس کے باوجود بھی فریق حق ادا نہ کرے توآپ اپنے حق کے حصول کے لیے عدالت (شرعی یا ملکی) سے رجوع کر سکتے ہیں، یہ بھی شرعاً جائز ہے، کیونکہ یہ بھی اپنا حق حاصل کرنے کا ایک  ذریعہ ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

احکام میت / وراثت و وصیت

Ref. No. 4091/47-10348

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے انتقال کے بعد ان کا ترکہ تمام شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا۔ چونکہ ان کی کوئی اولاد نہیں، شوہر کا پہلے انتقال ہوچکا ہے، اور والدین بھی موجود نہیں، اس لئے وراثت بھائیوں اور بہنوں (یا ان کی اولاد( کی طرف منتقل ہوگی۔

مرحومہ کی زبانی یہ خواہش کہ ساری جائیداد صدقہ کر دی جائےکا کوئی اعتبار نہیں۔ مرحومہ کی ساری جائداد تمام ورثاءمیں شرعی حصوں کے اعتبار سے تقسیم ہوگی۔ جو ۶بہنیں اور ایک بھائی مرحومہ سے پہلے انتقال کر چکے ہیں،ان کا اور ان کی  أولاد کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔یعنی مذکورہ صورت میں  بھانجے، بھانجیاں اور بھتیجے، بھتیجیاں وارث نہیں ہوں گے۔لہٰذا موجودہ صورت میں صرف زندہ حقیقی بھائی ہی وارث ہوں گے، اور وہ برابر برابر ترکہ کے مستحق ہوں گے۔اور مذکورہ فتویٰ کہ جائیداد صرف زندہ دو بھائیوں میں برابر تقسیم ہوگی، درست ہے۔ بشرطیکہ کوئی اور قریبی وارث (مثلاً والدین وغیرہ) موجود نہ ہو۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

احکام میت / وراثت و وصیت

Ref. No. 4086/47-10254

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔صورتِ مسئولہ میں بیوی چونکہ شرعاً وارث ہے، اس لئے اس کے حق میں رہائش کی وصیت (یعنی تاحیات مکان میں رہنے کا حق دینا) بھی وصیت فی حق الوارث کے حکم میں داخل ہے۔لہٰذا قاعدہ "لا وصیۃ لوارث إلا أن یجیزھا الورثۃ" کے مطابق ایسی وصیت دیگر ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگی۔ اگر تمام بالغ ورثاء وفات کے بعد اس کی اجازت دے دیں تو یہ وصیت نافذ ہو جائے گی، اور بیوی کو تاحیات رہائش کا حق حاصل ہوگا، ورنہ بلا اجازت یہ وصیت لازم نہیں ہوگی۔البتہ اگر ورثاء از خود خوش دلی سے بیوی کو رہنے دیں تو یہ احسان اور حسنِ سلوک میں داخل ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

احکام میت / وراثت و وصیت

Ref. No. 3765/47-10085

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  وقف کی زمین کو رفاہ عامہ میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے، اس لئے جو زمین وقف ہوگئی اس کو متولیان کے مشورہ سے بھی اجارہ پر دینے کی اجازت نہیں ہے۔ جو زمین وقف ہے اس کا حساب الگ رکھاجائے اور جو زمین لوگوں نے اجارہ پر دینے اور اجرت کو رفاہی کاموں میں استعمال کرنے کے لئے دی ہے تو ان کی زمین کی اجرت کو رفاہی کاموں میں صرف کیاجائے گا۔ لیکن وقف زمین کا کرایہ وقف کی حفاظت میں ہی استعمال ہوسکتاہے، اس کا خیال رکھاجائے۔ اور وقف کی پروپرٹی کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

احکام میت / وراثت و وصیت

Ref. No. 3930/47-10139

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔     شرعاً کسی کی ذاتی ملکیت کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر میت دفن کرنا ناجائز اور غصب کے حکم میں ہے۔ اس طرح کے دفن سے وہ زمین قبرستانِ شرعی نہیں بنتی اور ملکیت بدستور اصل مالک ہی کی باقی رہتی ہے۔فقہِ حنفی کے مطابق اگر قبریں اتنی پرانی ہو جائیں کہ میت کے جسمانی آثار مٹی میں بالکل ختم ہو چکے ہوں، تو اس زمین کو دوبارہ جائز استعمال میں لایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ بے حرمتی مقصود نہ ہو اور آدابِ شریعت کا لحاظ رکھا جائے۔صورتِ مسئولہ میں چونکہ:زمین زید کی ملکیت ہے اور مردوں کی تدفین بلا اجازت ہوئی تھی،قبریں ۲۰–۲۵ سال پرانی ہو کر بوسیدہ ہو چکی ہیں،لہٰذا اصولی طور پر زید کے لیے اس زمین میں مکان تعمیر کرنا شرعاً جائز ہے اور عمر و اس کے خاندان کو شرعاً اس تعمیر کو روکنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔البتہ جس قبر پر اینٹ یا واضح پختہ نشان باقی ہوں، اس پر براہِ راست تعمیر کرنا درست نہیں؛ پہلے اس قبر کو شرعی طریقے سے ہٹا کر زمین برابر کر لی جائے اور اطمینان کر لیا جائے کہ میت کے آثار باقی نہیں رہے، پھر تعمیر کی جائے۔ احتیاطاً تعمیر سے قبل زمین کو ہموار کر کے قبروں کے واضح نشانات مٹا دینا اور احترام کا لحاظ رکھنا لازم ہے۔اگر کھودائی میں میت کی ہڈیاں وغیرہ ملیں تو ان کو احترام کے ساتھ  کسی قریبی عمومی قبرستان میں دفن کردیاجائے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

احکام میت / وراثت و وصیت

Ref. No. 3838/47-9976

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:  ۔   ۔  اگر بہن کا انتقال والدین کی حیات میں ہی ہوگیا تھا تو بہن کا کوئی حصہ نہیں ہوگا لیکن اگر والدین کی وفات کے بعد آپ کی بہن کی وفات ہوئی ہے تو آپ کے حصہ کے بقدر اس  بہن کا بھی حصہ نکالاجائے گا جواس بہن کے وارثین کو ملے گا اور ان میں شرعی اعتبار سے تقسیم  ہوگا ۔ جو حصہ آپ کی بہن کا ہے اگر اس کی صرف ایک بیٹی ہے اور دوسرا کوئی نہیں ہے تو اس کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے، چھ حصے اس کی بیٹی کو، دودو حصے ہر بھائی کو  اور ایک ایک حصہ ہر ایک بہن کو ملے گا۔ اب کل جائداد جو والدین نے چھوڑی ہے اس کو چوراسی (۸۴) حصوں میں تقسیم کریں گے، جن میں سے دونوں بیٹوں کو ۲۶-۲۶ حصے، اور دونوں بیٹیوں کو ۱۳-۱۳ حصے ، اور مرحومہ کی بیٹی کو چھ حصے ملیں گے۔  اور اگر دیگر ورثہ ہوں تو ان کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کریں اور بتائیں کہ مرحومہ  بیٹی کا شوہرہے یانہیں ۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

احکام میت / وراثت و وصیت

Ref. No. 3814/47-1008

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:  ۔ باپ  جوکچھ اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں بلاعوض دیتاہے وہ ہبہ کہلاتاہے۔جس کا حکم یہ ہے کہ مالک بنادینا اور قبضہ دینے سے ہبہ مکمل ہوجائے گا اور اس میں کوئی وراثت جاری نہیں ہوگی اور یہ ہر ایک کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی۔ نیز باپ اس میں کمی زیادتی بھی کرسکتاہے لیکن بہتر ہے کہ تمام اولاد کو برابر حصہ دے کمی زیادتی نہ کرے الا یہ کہ کوئی معقول وجہ ہو۔ بہرحال   بیٹی کو شادی کے وقت اس کے حقیقی وارثتی حصہ کے برابر زندگی میں دینا جائز ہے۔ خیال رہے کہ آپ موت کے بعد وارثوں کے حقوق کو بلاشرط ختم نہیں کر سکتے؛ وصیت ایک تہائی تک محدود ہے (بقیہ کے لیے وارثین کی رضا درکار ہے۔باپ کے انتقال کے وقت باپ کی ملکیت میں جو کچھ ہوگا وہ تمام اولاد میں تقسیم ہوگا اور زندگی میں ہبہ کرنے کا کوئی اثر اس تقسیم پر نہیں پڑے گا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند