Divorce & Separation

Ref. No. 3959/47-10183

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر میں جماع کی قدرت بالکل معدوم نہیں ہے، بلکہ وقتی اور عارضی نوعیت کی نفسیاتی کیفیت (Situational Performance Anxiety) کی وجہ سے ابتداً ہمبستری نہ ہو سکی، اور ماہر مسلم ڈاکٹر کے مطابق کوئی دائمی جسمانی نقص یا مستقل جنسی معذوری ثابت نہیں، اس لیے شرعاً اس شخص کو عنّین (نامرد) قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ عنّین وہ ہے جو عورت سے جماع پر مستقل طور پر قادر نہ ہو؛ لہٰذا نکاح نامہ میں نامردی کی شرط کے ساتھ تفویضِ طلاق کا جو حق دیا گیا تھا وہ شرط شرعاً متحقق نہیں ہوئی، اس بنا پر بیوی کو فی الحال اس شرط کے تحت طلاق لینے کا اختیار حاصل نہیں، اور نہ ہی ایسی صورت میں فوراً علیحدگی یا فسخِ نکاح درست ہے، بلکہ اگر بالفرض عنّین ہونے کا دعویٰ قاضی کے سامنے پیش کیا جائے تو شرعاً ایک سال کی مہلت دینا ضروری ہوتاہے، نیز اگر بیوی اس غیر متحقق شرط کی بنیاد پر ابھی طلاق کو استعمال کرے تو وہ طلاق شرعاً معتبر نہیں ہوگی، البتہ اگر شوہر اس کو طلاق دیتا ہے تو چونکہ عورت نے خودسپردگی کردی تھی اس لئے و ہ مکمل مہر کی حقدار ہوگی۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Divorce & Separation

Ref. No. 3909/47-10105

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   صورت مذکورہ میں بہتر یہی ہے کہ نکاح کا اعلان کرکے صبر سے کام لیتے ہوئے والدین کو راضی کرنے کی کوشش کرے چاہے اس میں جتنا بھی وقت لگے، ہاں اگر نکاح غیرکفو میں ہے تو والدین کو قاضی کے یہاں جاکر اعتراض کا حق ہوگا، ایسا غیرکفو جس سے والدین کی عزت نفس مجروح ہوتی ہو ، لیکن بظاہر آپ کا نکاح اس زمرہ میں نہیں آتا، لہذا والدین کو راضی کرتے رہیں، شرعا آپ کا نکاح جائز ہے۔ شامی میں ہے: قولہ ولایۃ تدب ای یستحب للمراۃ تفویض امرھا الی ولیھا کی لا تنسب الی الوقاحۃ (3/55 کتاب النکاح،فانکحوا ماطاب لکم۔ النسا4)

عن ابی امامۃ ان رجلا قال یا رسول اللہ ﷺ ماحق الوالدین علی ولدھا قال ھما جنتک و نارک، (مشکوۃ شریف 421 باب البر والصلۃ)

  واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Divorce & Separation

Ref. No. 3880/47-10103

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔    اسلام میں نکاح ایک پاکیزہ رشتے کا نام ہے،اسلام نے اس کی پائداری پر زور دیا ہے، اور اس کے لیے باہمی الفت ومحبت اور دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی ہے لیکن اگر کسی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان نااتفاقی ہونے لگے تو پہلے دونوں خاندان کے بزرگ کو صلح کرانے کی کوشش کرنی چاہیے؛ کیوںکہ اسلام میں طلاق ناپسندیدہ فعل ہے اور بلا ضرورت اسکا استعمال درست نہیں ہے۔ پھر بھی اگر نباہ کی کوئی صورت نہ بن سکے اور فتنہ وفساد کا اندیشہ ہو تو ایک طلاق صریح دے کر دونوں کو الگ ہو جانے کا حکم ہے۔  ایک طلاق کے بعد اگر دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو عدت میں رجوع کے ذریعہ اور عدت کے بعد نکاح کے ذریعہ دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں۔  ایک ساتھ تین طلاق دینا شرعاً گناہ ہے اور ملکی قانون کے مطابق قابل مواخذہ جرم ہے۔

 صورتِ حال کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے آپ نے پانچ ماہ پہلے دو طلاقیں دی تھیں جو دونوں واقع ہوگئیں، اس کے بعد آپ دونوں رجوع کرکے ساتھ رہنے لگے، اس میں کوئی خرابی نہیں کیونکہ دو طلاق  دینے کے بعدبھی رجعت  کرکے ساتھ رہنے کی گنجائش رہتی ہے۔ پھر ابھی حالیہ لڑائی میں آپ نے بیوی کے بار بار اصرار پر کہا:"ہاں جا، تجھے چھوڑ دیے" جبکہ بیوی حیض میں تھی، اور آپ نے یہ الفاظ طلاق کی نیت کے بغیر کہے۔ایسی صورت میں شرعی حکم یہ ہے کہ حیض کی حالت میں دی گئی طلاق  واقع ہوجاتی ہے، گوکہ اس میں طلاق دینا حرام اور گناہ کا باعث ہے، اور صریح طلاق میں نیت کی بھی ضرورت نہیں رہتی ہے، اس لئے طلاق کے واقع میں کوئی شبہ نہیں  ہونا چاہئے۔آپ کی بیوی پرتین طلاقیں مغلظہ واقع ہوگئیں،  اب رجوع ممکن نہیں،  اور نیا نکاح بھی آپ دونوں کے درمیان جائز نہیں کیونکہ تین طلاق کے بعد بیوی ہمیشہ کے لیے حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے۔اب عورت پر لازم ہے کہ عدت گزارے پھر بعد عدت اگر چاہے تو کسی دوسرے مرد سے شادی کرسکتی ہے۔

الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان۔۔۔ فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ (سورۃ البقرۃ)

وإن كان الطلاق ثلاثاً في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره (الھندیۃ، کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به:۱/ ۴۷۳، ط: ماجدیة)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Divorce & Separation

Ref. No. 3872/47-10036

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔    سیاق و سباق سے تو یہی معلوم ہوتاہے کہ شوہر کا مقصد بیوی سے طلاق کی جھوٹی خبردلانا ہے، اس لئے ایسی صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، تاہم اگر شوہر نے اس سے طلاق کی سچی خبر کی نیت کی ہو تو اس سے طلاق واقع ہوجائےگی۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Divorce & Separation

Ref. No. 3815/47-10010

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:  ۔  تین طلاق دینے کے بعد زید کا انکار کرنا درست نہیں ہے، تین طلاق سے بیوی حرام ہوجاتی ہے، اور شوہر کے قسم کا اعتبار نہیں ہوتاہے۔ اس لئے اگر بیوی کو یقین ہے کہ شوہر نے تین طلاقیں دی ہیں تو اب اس سے الگ رہے اور طلاق  یا خلع کا مطالبہ کرے ؛  بیوی کانکاح ختم ہونے اور حرام ہونے کا علم ہوتے ہوئے شوہر کا فراش بننا جائز نہیں ہے ،اور اگر شوہر طلاق دینے یا خلع دینے پر ر راضی نہ ہو تو  عورت کو چاہئے کہ صحیح اور شرعی فیصلہ کے لئے کسی قریبی دارالقضا کی جانب رجوع کرے ۔

وإن كان الطلاق ثلاثاً في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره (الھندیۃ، کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به:۱/ ۴۷۳، ط: ماجدیة)

عن  ابن مسعود: قلت: يا رسول الله، هل للساعة من علم تعرف به الساعة؟ فقال لي: «يا ابن مسعود، إن للساعة أعلامًا، وإن للساعة أشراطًا، ألا وإن من أعلام الساعة وأشراطها أن يكون الولد غيظًا، وأن يكون المطر قيظًا، وأن تفيض الأشرار فيضًا، ..... يا ابن مسعود، إن من أعلام الساعة وأشراطها أن يكثر أولاد الزنى». قلت: أبا عبد الرحمن، وهم مسلمون؟ قال: نعم، قلت: أبا عبد الرحمن، والقرآن بين ظهرانيهم؟ قال: «نعم» ، قلت: أبا عبد الرحمن، وأنى ذاك؟ قال: «يأتي على الناس زمان يطلق الرجل المرأة، ثم يجحد طلاقها فيقيم على فرجها، فهما زانيان ما أقاما»(المعجم الكبير للطبراني،  (5/ 161، 162،  دارالکتب العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Divorce & Separation

Ref. No. 3727/47-9770

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں شوہر کا کہنا کہ  طلاق دے دوں گا   یہ وعدہ طلا ق ہے، لہذا اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اور بعد میں شوہر نے  والدہ سے لڑائی کے دوران طلاق طلاق طلاق تین بار بولا اگر بیوی سامنے نہیں تھی تو  بیوی کی طرف حقیقتا اور حکما کسی طرح بھی طلاق کی نسبت نہیں پائی گئی، اس لئے اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اور اگر بیوی کی جانب اشارہ وغیرہ سے نسبت کی ہو تو طلاق واقع ہوجائے گی۔  آئندہ خیال رکھیں، اور لفظ طلاق کو کھیل تماشہ کے طور پر نہیں بلکہ سنجیدگی سے غور کرکے   استعمال کریں۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Divorce & Separation

Red. No. 3711/47-9773

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔     بشرط صحت  سوال صورت مسئولہ میں چار بار طلاق کو ہونے والی بیوی پر معلق کیا ہے، لہذا  نکاح کرتے ہی ایک طلاق بائن واقع ہوگی، پھر نکاح کرے گا تو پھر دوسری ۔ اورپھر نکاح کے بعد تیسری طلاق واقع ہوجائے گی، اب حرمت مغلظہ کے بعد کسی دوسرے مرد  سے نکاح کرے گی، اور پھرچوتھی بار نکاح کرنے سے  پھرایک  طلاق  بائن واقع ہوگی۔ اب تمام قسمیں پوری ہوچکی ہیں۔ اب نکاح کرکے اپنی بیوی کے ساتھ رہ سکتاہے۔ یہ چار الگ الگ عورتوں سے نکاح کرے تو بھی قسم پوری ہوجائے گی اور ایک ہی سے چار بار نکاح کرے گا تو بھی قسم مذکورہ طریقہ سے پوری ہوجائے گی۔ اور اس میں خود نکاح کرے یا کوئی فضولی کرے دونوں صورتوں میں طلاق واقع ہوگی کیونکہ اس نے قسم کے وقت ہونے والی بیوی کو طلاق دی ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Divorce & Separation

Ref. No. 3657/47-9782

In the name of Allah, the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

(In Islam, Nikah (marriage) is considered a sacred bond, and Islam emphasizes its stability by encouraging mutual love, affection, and fulfillment of each other's rights. However, if for some reasons, there is discord between the husband and wife, the elders of both families should first attempt to reconcile, as divorce is regarded as a disliked act in Islam, and its unnecessary use is not appropriate.

If there is no way for reconciliation and there is a fear of discord and conflict, then Islam permits separating with one explicit divorce (Talaq). After one divorce, if they wish to reunite, they can do so during the Iddah (waiting period) through reconciliation or after the Iddah by remarrying.

Issuing three divorces at once is considered a sin in Islamic law and is also a punishable offense under the country's legal system.)

Subject to the accuracy of the information provided, in the case under discussion, the husband has pronounced three divorces. Following three divorces, the right of revocation (rujū‘) no longer remains. Accordingly, the marital bond is completely dissolved, and both parties are now considered strangers (non-mahram) to each other. Hence, it is prohibited (haram) for them to meet or appear before one another without observing proper purdah (veil).

Upon the completion of three menstrual cycles (‘iddah), the woman becomes independent, and if she so wishes, she may enter into a new marriage with another man.

(Note: The Darul Ifta issues its rulings solely on the basis of the written question submitted. Individuals are not summoned for verification of facts. For a thorough investigation and formal adjudication, the matter should be referred to a Darul Qaza (Islamic court).)

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband

Divorce & Separation

Ref. No. 3649/47-9749

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

The answer to your question is as follows:

If there is no valid Shar‘i (Islamic) reason, the sin of severing family ties will fall upon the husband, not the wife. However, if there is a valid Shar‘i reason, the details may be written and submitted for further consideration.

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband

Divorce & Separation

Ref. No. 3629/47-9653

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔  اگر آپ کو دوا کے بغیر بالکل حیض نہیں آتا، یعنی آپ حیض سے محروم سمجھی جائیں، تو آپ کی عدت تین قمری مہینے ہوگی، چاہے دوا کھا کر حیض آ جائے۔اگر طبی طور پر اور شرعاً آپ حیض والی عورت ہیں (یعنی آپ کا رحم حیض کی صلاحیت رکھتا ہے اور دوائی سے حیض آ جاتا ہے)، تو پھر وہ حیض معتبر ہوگا، اور عدت تین حیض سے پوری ہوگی۔در اصل عدت کا ایک  مقصد استبرائے رحم  بھی ہے، تاکہ معلوم  ہوجائے کہ عورت حمل سے نہیں ہے اور رحم خالی ہے اورتاکہ  دوسرے مرد سے نکاح کرنے میں اختلاط نسب  نہ ہو۔

"وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ ... فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ" (الطلاق: 4)

"وَإِنْ كَانَتْ مِمَّنْ تَحِيضُ فَعِدَّتُهَا بِالْقُرُوءِ، وَإِنْ كَانَتْ مِمَّنْ لَا تَحِيضُ فَعِدَّتُهَا بِالشُّهُورِ."(الهداية مع فتح القدير 3/283)

"مَنْ لَا تَحِيضُ لِكِبَرٍ أَوْ صِغَرٍ أَوْ مَرَضٍ فَعِدَّتُهَا ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ."(الدر المختار 3/524)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند