آداب و اخلاق

Ref. No. 4117/48-10466

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔آپ کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین کی فکر، حلال روزی کی طلب اور گناہوں سے بچنے کا جذبہ عطا فرمایا ہے، جو بہت بڑی نعمت ہے۔ اس پر ثابت قدم رہیں اور کبھی یہ احساس دل میں نہ آنے دیں کہ دین پر چلنا آپ کی ناکامی کا سبب ہے۔البتہ یہ بھی یاد رکھیں کہ اسلام صرف عبادت کا نام نہیں، بلکہ حلال ذریعۂ معاش اختیار کرنا، کسی فن میں مہارت حاصل کرنا، والدین کی جائز توقعات پوری کرنے کی کوشش کرنا اور اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا بھی دینی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔لہٰذا آپ اپنی دینی استقامت برقرار رکھیں، لیکن اپنے شعبے سے متعلق نئی مہارتیں ضرور حاصل کریں۔حلال روزگار کی ہر جائز کوشش کریں اور کسی ایک ناکامی سے مایوس نہ ہوں۔والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور نرمی اختیار کریں اور انہیں اپنے منصوبوں سے آگاہ رکھیں۔اگر کسی جگہ آپ کی دینداری کی وجہ سے مشکلات آئیں تو صبر کریں، مگر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت اور حسنِ اخلاق سے لوگوں کا اعتماد بھی حاصل کریں۔کثرت سے دعا، استغفار اور تہجد کا اہتمام کریں، کیونکہ رزق اور کامیابی اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

آداب و اخلاق

Ref. No. 3913/47-10062

In the name of Allah, the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

Kite flying involves many harmful aspects. Even if a person observes prayer and other religious duties, there remains a strong likelihood of causing harm to others and exposing oneself to danger. It also results in the wastage of time, whereas time is a valuable blessing. For these reasons, flying kites is not permissible.

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband

آداب و اخلاق

Ref. No. 3887/47-10042

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ کسی بھی اجتماعی مسئلہ کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان محض جذباتی زاویے سے نہیں، بلکہ اسے حقیقی اور عملی زندگی کے تناظر میں رکھ کر دیکھے۔ دنیا کا کوئی بھی اجتماعی نظام ایسا نہیں ہے جو تمام افراد کی مکمل مرضی اور سو فیصد خوشی کے ساتھ قائم رہ سکے، بلکہ ہر اجتماع بعض افراد کی خوشی اور بعض کی ناخوشی کے باوجود باہمی تعاون اور نظم و ضبط کے ذریعے ہی باقی رہتا ہے۔ اگر ہر فرد صرف اپنی خواہش، پسند اور ذاتی خوشی ہی کو معیار بنا لے اور دوسروں کے مفاد، احساسات اور اجتماعی مصلحت کی بالکل پروا ہ نہ کرے تو نہ اتحاد قائم رہ سکتا ہے اور نہ اجتماع اپنی بقا برقرار رکھ سکتا ہے۔

اسی لیے دنیا کے ہر ملک، ہر ادارے اور حتیٰ کہ ادنیٰ سے ادنیٰ جماعت میں بھی اتحاد کو قائم رکھنے کے لیے یہ بنیادی اصول تسلیم کیا گیا ہے کہ کسی ایک کو نظم و انتظام کی ذمہ داری سونپی جائے، تاکہ وہ اپنے علم، تجربہ، عفو و حلم اور قوت کے ذریعے اس جماعت کو اس کی منزلِ مقصود کی طرف منظم انداز میں لے کر چلتا رہے۔ بغیر قیادت اور نظم کے کوئی بھی اجتماع انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔

اسی اصول کے تحت شریعتِ اسلامیہ نے بھی نکاح جیسے نہایت اہم اجتماعی اور خاندانی نظام کو محض جذبات، وقتی خواہشات یا فردِ واحد کی مطلق آزادی پر قائم نہیں رکھا، بلکہ اسے نظم، ذمہ داری اور توازن کے مضبوط اصولوں پر استوار کیا ہے۔ چنانچہ میاں بیوی دونوں کو یکساں طور پر انسانی شرف، عزت اور بنیادی حقوق عطا کیے گئے ہیں، لیکن ساتھ ہی بعض ذمہ داریاں اور حدود بھی مقرر کی گئی ہیں، تاکہ خانگی نظام انتشار سے محفوظ رہے اور گھر امن، سکون اور راحت کا گہوارہ بنا رہے۔

اسی مقصد کے پیشِ نظر شریعت نے ازدواجی زندگی میں شوہر کو قوّام قرار دیا ہے، یعنی گھر کے نظم و نسق، مالی کفالت اور انتظامی فیصلوں کی ذمہ داری شوہر کے سپرد کی گئی ہے۔ یہ قوّامیت اس لیے نہیں کہ شوہر حاکمانہ یا جابرانہ طرزِ عمل اختیار کرے یا بیوی کو محکوم و مجبور بنا دے، بلکہ اس لیے کہ وہ ذمہ داری، عدل اور تحمل کے ساتھ گھر کی قیادت کرے۔ قوّامیت کا مفہوم حاکمیت نہیں بلکہ ذمہ داری ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا:

﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ﴾ (النساء: 34)

اس آیتِ کریمہ کی رو سے مرد کو جو برتری دی گئی ہے وہ فضیلتِ ذاتی یا تحکم کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ذمہ داری، کفالت اور بردباری کی بنیاد پر ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ شوہر اپنے علم، تجربہ اور قوت کو استعمال کرتے ہوئے خاندان کی اصلاح کرے، اس کے مسائل حل کرے اور اسے انتشار و فساد سے بچائے، نہ یہ کہ ہر معاملے میں اپنی بات منوانے کو ہی حق سمجھے۔

اسی طرح بیوی کو بھی شریعتِ اسلامیہ نے ایک باعزت، صاحبِ رائے اور صاحبِ حق فرد تسلیم کیا ہے۔ اسے محض ایک تابع دار اور بے اختیار مخلوق نہیں بنایا گیا، بلکہ اسے مشورہ دینے، اپنی بات کہنے اور جائز حدود کے اندر اپنے فیصلے کرنے کا حق عطا کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ آپ ﷺ گھریلو معاملات میں اپنی ازواجِ مطہراتؓ سے مشورہ فرمایا کرتے تھے اور ان کی آراء کو نہایت وقعت دیتے تھے۔

البتہ چونکہ ہر اجتماعی نظام میں اختلافِ رائے اور مزاج کا فرق ایک فطری امر ہے، اس لیے شریعت نے یہ اصول بھی مقرر فرمایا کہ ازدواجی نظم کو برقرار رکھنے کے لیے معروف امور میں بیوی شوہر کی اطاعت کرے، یعنی ان کاموں میں جن میں نہ ظلم ہو، نہ گناہ، نہ قطعِ رحمی اور نہ بے جا سختی۔ اگر شوہر کسی ایسے امر کا حکم دے جو شریعت کے خلاف ہو یا جس میں واضح ظلم اور اذیت پائی جاتی ہو تو اس میں اطاعت لازم نہیں، کیونکہ شریعت کا مسلمہ قاعدہ ہے: لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق

اسی طرح شوہر پر بھی یہ شرعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بیوی کے ساتھ حسنِ معاشرت اختیار کرے، اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کرے، اس کے ماضی کو اچھالنے یا معمولی لغزشوں پر مستقل اعتراض کرنے سے اجتناب کرے، کیونکہ ایسا رویہ شریعت کی نظر میں ظلم اور ایذا رسانی کے زمرے میں آتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:خیرکم خیرکم لأهله

پس اسلامی نکاح کا مزاج یہ ہے کہ نہ مرد مطلق العنان ہو اور نہ عورت بے قید، بلکہ دونوں ایک منظم، متوازن اور باہمی احترام و ذمہ داری پر قائم نظام کا حصہ ہوں۔ اگر ہر فریق صرف اپنی خواہش اور خوشی کو ہی معیار بنالے اور دوسرے کے حقوق، جذبات اور مصلحت کو نظر انداز کرے تو نہ گھر باقی رہ سکتا ہے اور نہ خاندان۔ اسی لیے شریعتِ اسلامیہ نے ازدواجی زندگی کی بنیاد توازن، اعتدال اور باہمی تعاون پر رکھی ہے۔

اگر عورت شوہر کے تابع ہو کر زندگی گزارتی ہے تو اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ وہ ذلیل، مجبور یا بے وقعت ہے، بلکہ وہ اپنے گھر کے نظم و نسق کو برقرار رکھنے اور خاندانی استحکام کے لیے شوہر کی اطاعت کو ضروری سمجھتی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جن گھروں میں عورتیں شریعت کی حدود کے اندر شوہر کی اطاعت کے ساتھ زندگی گزارتی ہیں، وہاں عموماً سکون، اطمینان اور باہمی ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور شدید اختلاف و انتشار کی نوبت کم ہی آتی ہے۔اس کے برعکس جن گھروں میں شوہر کی توہین، بدزبانی، بلا اجازت باہر آوارہ گردی، اور مرد و عورت کے درمیان غیر شرعی مساوات کے نعرے عام ہوں، وہاں نہ صرف گھر کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے بلکہ عفت و عصمت بھی شدید خطرات سے دوچار ہو جاتی ہے۔ یہ ایک عملی حقیقت ہے جو روزِ روشن کی طرح اہلِ نظر کے سامنے واضح ہے۔

شریعتِ اسلامیہ نے اسی خاندانی نظام کو مستحکم بنانے کے لیے عورت کے تمام ضروری اخراجات کی ذمہ داری شوہر پر عائد کی ہے اور طلاق کا اختیار اصولاً شوہر کو دیا ہے، تاکہ وہ ذمہ داری کے ساتھ فیصلہ کرے۔ اگرچہ عورت کو براہِ راست طلاق کا اختیار نہیں دیا گیا، لیکن اسے ظلم و جبر سے محفوظ رکھنے کے لیے خلع، فسخِ نکاح اور دیگر شرعی اقدامات کی اجازت دی گئی ہے، تاکہ کسی بھی فریق پر ناانصافی نہ ہو اور نکاح قید نہیں بلکہ عدل و رحمت کا رشتہ بن کر باقی رہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

آداب و اخلاق

Ref. No. 3760/47-9879

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  یہ قول درست ہے اور بہت سی کتابوں میں مذکور ہے، اور یہاں سنت سے مراد دین ہے، یعنی امام اعظم ابوحنیفہ سے محبت کرنا دین کا ایک حصہ ہے، اور ایک دینی عمل ہے، جس کے ذریعہ ہم رب العالمین کاقرب حاصل کرسکتے ہیں۔ اس طرح کے اقوال امام صاحب کے علاوہ بہت سے صحابہ کرام کے متعلق بھی منقول ہیں، اور وہاں بھی سنت کے  یہی  معنی ہیں جیساکہ حضرت ابوبکر ؓ کے فضائل میں ہے، حب ابی بکر وعمر ومعرفۃ فضلھما من السنۃ۔ اور دیگر صحابہ کے متعلق منقول ہے کہ حب اصحاب النبی کلھم سنۃ یعنی صحابہ کرام سے محبت کرنا سنت ہے، عینی دین کا ایک جز اور اس کا ایک حصہ ہے۔

حب ابی حنیفۃ من السنۃ ویقصد بالسنۃ ھنا الدین اللازم الثابت ، فمن لم یحب اباحنیفۃ و من بعدہ من ائمتنا فلیس من عبادالرحمن الموحدین المسلمین (خطیب دروس عبدالرحیم الطحان 10/37)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

آداب و اخلاق

Ref. No. 3801/47-9901

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:  ۔  جب کوئی بندہ خیر (نیکی) کی بات پھیلاتا ہے، تو شیطان اسے روکنے اور اس کے دل میں وسوسے ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ آپ نیکی سے دل برداشتہ ہو جائیں۔ اسی لیے جب آپ کسی کو اچھی بات بتاتے ہیں، تو فوراً آپ کو کسی گناہ میں الجھانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ آپ کو شرمندگی اور مایوسی ہو۔نیزکبھی کبھی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو آزما کر دیکھتے ہیں کہ جو بات وہ دوسروں کو کہہ رہا ہے، کیا خود اس پر قائم رہتا ہے؟ یہ تربیت کا ایک عمل ہوتا ہے تاکہ بندہ اپنی اصلاح کرے۔خیال رہے کہ انسان کامل نہیں ہے۔ اچھی بات کہنا اور اس پر عمل کرنا دو الگ مرحلے ہیں۔ پہلا آسان ہے، دوسرا مشکل۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کہنا ہی چھوڑ دیا جائے۔اس لئے آپ اچھی بات کہنا بند نہ کریں، بلکہ نرمی سے اور نیتِ اصلاح کے ساتھ امر بالمعروف جاری رکھیں۔  اگر خود سے کوئی غلطی ہو جائے تو مایوس نہ ہوں، فوراً توبہ کریں اور دوبارہ کوشش کریں۔ہر بار جب شیطان الٹا اثر ڈالے، تو سمجھ لیں کہ آپ نیکی کے راستے پر ہیں — اسی لیے وہ آپ کو گرانا چاہتا ہے۔آپ کو اس سے گھبرانا نہیں چاہیے، بلکہ ثابت قدم رہنا چاہیے۔ اچھی بات کہنا بھی نیکی ہے اور اس پر عمل کی کوشش کرنا بھی۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

آداب و اخلاق

Ref. No. 3602/47-9632

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ "غفران" کے معنی معافی اور بخشش کے ہیں،  جب  اس کی نسبت اللہ کی طرف ہوگی تو اس کامعنی ہوگا اللہ کا بخشا ہوا، اور اگر بندہ کی طرف نسبت ہوگی تو معنی ہوگا بندہ کا بخشنے والا۔غفران مصدر ہے اس میں فاعلیت ومفعولیت یہاں تک کہ دعا کی بھی گنجائش ہوتی ہے۔  لہذا بچوں کا یہ  نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ 

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

آداب و اخلاق

Ref. No. 3559/47-9565

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔           اگر کسی نے کسی غیر مسلم پر ظلم کیا ہو تو اس کا حق براہِ راست معافی یا نقصان کی تلافی سے ادا کرنا واجب ہے۔ اگر معافی مانگنے سے فتنہ یا خطرہ ہو تو کسی اور جائز طریقے سے اس کا نقصان پورا کرے، اور نیز صدقہ کرکے  اس کے لیے ہدایت کی  دعا کرے  اوربرابر اپنے لئے استغفار بھی کرتارہے۔  تاہم صرف دعا اور صدقہ حق العبد کی ادائیگی  کے لئے کافی نہیں ہے۔صدقہ سے اس کو دنیا میں فائدہ پہونچ سکتاہے۔ اور اس کے علاوہ معافی کے لئے آپ کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔

"من كانت عنده مظلمة لأخيه من عرضه أو من شيء فليتحلله منه اليوم قبل أن لا يكون دينار ولا درهم" (صحیح بخاری، حدیث: 2449)

"إن لم يقدر على الاستحلال منه لخوف ضرر أو فتنة، فليدع له ويستغفر له، وليتصدق عنه بما أمكن" (رد المحتار، ج 6، ص 144)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

آداب و اخلاق

Ref. No. 3552/47-9554

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔        مشت زنی  یقینا حرام و ناجائز عمل ہے،  اور اس پر سچی توبہ و استغفار اس کا کفارہ ہے۔ اس عمل کو  اب فوری طور پر روک دیں ، اور آئندہ اس سے بچنے کا عزم کریں اور گزشتہ عمل پر جو اب تک ہوتا رہا  اپنی ندامت اور شرمندگی کا ظہار کریں، یہی توبہ اور ماضی پر افسوس اس گناہ کا کفارہ ہے۔ اگر کچھ حسب حیثیت صدقہ کردیں تو بہت اچھا ہوگا ا اس لئے کہ صدقہ بھی گناہوں کو مٹانے میں اہم کردار ادا کرتاہے ۔

’عن أنس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "سبعة لاينظر الله عز وجل إليهم يوم القيامة، ولايزكيهم، ولايجمعهم مع العالمين، يدخلهم النار أول الداخلين إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، فمن تاب تاب الله عليه: الناكح يده، والفاعل والمفعول به، والمدمن بالخمر، والضارب أبويه حتى يستغيثا، والمؤذي جيرانه حتى يلعنوه، والناكح حليلة جاره". " تفرد به هكذا مسلمة بن جعفر هذا ". قال البخاري في التاريخ".(شعب الإيمان 7/ 329) 

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

آداب و اخلاق

Ref. No. 3540/47-9537

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔         (۱)   اگر آپ کو لگتاہے کہ آپ نے غلط کیاتھا اور آپ نے اس پر ظلم کیا ہے تو صرف اللہ سے توبہ کافی نہیں ہے، آپ کو اس شخص سے معافی مانگنی پڑے گی، کیونکہ حقوق العباد میں بندوں سے معافی ہوسکتی ہے۔ (۲) اللہ سے اپنے اس عمل پر توبہ بھی کریں اور اس شخص سے معافی بھی مانگیں۔ (۳) اگر معافی مانگنے میں خطرہ ہے تو ساتھ میں کسی کو لے کر جائیں ، اور اگر آپ اس معاملہ کا ذکر ہی نہیں کرناچاہتے تو کوئی گفٹ دیدیں جس سے وہ خوش ہوجائے تو اس سے بھی معافی ہوسکتی  ہے۔  

قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلِمَةٌ لِأَخِيْهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ مِنْ شَيْءٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ، قَبْلَ أَنْ لَا يَكُوْنَ دِيْنَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلِمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ. (بخاری، حدیث: 2449)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

آداب و اخلاق

Ref. No. 3523/47-9488

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔         جو اصل باپ ہے وہی باپ رہے گا  اس سے باپ کی نسبت  کبھی ختم نہیں ہوگی۔اس لئے بیٹا اپنے باپ  کو بلاشبہہ ابو کہہ سکتاہے، اور بچہ کو اس کے باپ کی طرف ہی منسوب کیاجائے گا۔ خیال ہے کہ کاغذی کارروائیوں میں بھی باپ کی جگہ  باپ کا نام ہی لکھاجائے گا۔ بہنوئی کا بچہ کی باپ کی جگہ اپنا  نام لکھنا بھی جائز نہیں ہوگا۔

    واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند