Prayer / Friday & Eidain prayers

Ref. No. 4070/47-10219

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔(۱) فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ اگر امام مسلمان ہو اور اس کی نماز صحیح ہو تو اس کے پیچھے نماز ادا ہو جاتی ہے، چاہے وہ فاسق ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے اگر مذکورہ شخص مسلمان ہے اور نماز صحیح طریقے سے پڑھاتا ہے تو اس کے پیچھے نماز ادا ہو جائے گی۔(۲) البتہ شریعت کا اصول یہ ہے کہ امامت کے لیے نیک، متقی اور اچھے کردار والا شخص مقدم کیا جائے۔ اگر کوئی شخص کھلے گناہ کا مرتکب ہو یا اس کے کردار پر سنگین اعتراض ہو تو ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ اور نامناسب ہے، خصوصاً جب اس سے بہتر اور صالح لوگ موجود ہوں۔(۳) تاہم اگر اس نے توبہ کرلی اور اپنے کئے پر شرمندہ ہے تو اس کو امامت پر مقرر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (۴) لیکن اس کے باوجود  لوگوں کے اطمینان کے لئے دوسرے حافظ کو امام مقرر کرنا بھی درست ہے۔(۵) خیال رہے کہ اگر کسی پر صرف الزام ہو اور شرعی یا قانونی طور پر جرم ثابت نہ ہوا ہو تو اس کے بارے میں بدگمانی اور غیبت سے بچنا بھی ضروری ہے۔   

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Prayer / Friday & Eidain prayers

Ref. No. 4066/47-10215

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ پہلا امام جس نے 20 رکعت تراویح پڑھ لی ہوں، وہ دوسری جماعت کے ساتھ نفل  کی نیت سے نماز پڑھ سکتا ہے، یہ جائز ہے۔البتہ جس نے تراویح کی نماز ایک بار ادا کرلی اس کا دوبارہ امام بن کر تراویح پڑھانا درست نہیں، ہاں مقتدی بن کر تراویح پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے جتنی بار چاہے نفل کی نیت سے شریک ہوسکتاہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Prayer / Friday & Eidain prayers

Ref. No. 3919/47-10111

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   حنفیہ کے نزدیک صحیح اور معتمد مذہب یہ ہے کہ نمازِ جمعہ میں تعجیل مستحب ہے۔ ابراد (یعنی سخت گرمی میں نماز کو ٹھنڈک تک مؤخر کرنا) جو کہ نمازِ ظہر میں مستحب ہے، جمعہ میں مشروع نہیں؛ بلکہ جمعہ کو اوّل وقت میں ادا کرنا افضل ہے۔احادیثِ صحیحہ سے بھی یہی ثابت ہے ، اور صحابۂ کرامؓ کا بھی اسی پر عمل رہاہے۔لہٰذا زوالِ آفتاب کے فوراً بعد متصل نمازِ جمعہ پڑھنا افضل اور اولیٰ ہے، اور بلا عذر تاخیر کرنا خلافِ اولیٰ ہے۔

قال فی رد المحتار: لکن جزم فی الأشباہ أنہ لا یسن لہا الابراد ․․․․․ثم قال وقال الجمہور لیس بمشروع لأنہا تقام بجمع عظیم فتأخیرہ مفض إلی الحرج (شامی : ۲/۲۵ ط زکریا دیوبند)

  واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Prayer / Friday & Eidain prayers

Ref. No. 3817/47-10017

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:  ۔  فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھنا سنت ہے، اور اس کے بعد کوئی دوسری سورت یا آیت ملانا خلافِ سنت ہے،  تاہم گناہ نہیں ہے۔ لہٰذا اگر غلطی سے دوسری سورت شروع کر لی جائے، تو اس کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوتی ہے اور نہ کوئی گناہ لازم آتا ہے۔ اگر کوئی شخص (منفرد، امام)  سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ شروع کردے تو اس سورہ کو یا شروع کردہ  آیت کو  مکمل کرلینا چاہئے بیچ میں چھوڑدینا مناسب نہیں ہے ۔  اس صورت میں سجدہ سہو بھی لازم نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Prayer / Friday & Eidain prayers

Ref. No. 3706/47-9874

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  اگرجیل شہر یا مضافات شہر میں ہے اور جمعہ کی نماز قائم کی جاسکتی ہے تو نماز جمعہ قائم کریں، اور اگر اقامت جمعہ کی شرائط موجود نہ ہوں   اور نہ حکومت کی طرف سے باقاعدہ نمازِ جمعہ کا نظام  ہو،تو ایسی صورت میں جمعہ فرض نہیں ہے۔ "اگر کسی جگہ جمعہ کے قیام کی اجازت نہ ہو یا وہاں امام و خطبہ کا نظم نہ ہو تو جمعہ ساقط ہوجاتا ہے اور اس کی جگہ ظہر کی نماز ادا کی جاتی ہے۔اگر ممکن ہو تواذان دے کر جماعت سے ظہر پڑھ لیں۔اگر اذان ممکن نہ ہو تو بغیر اذان کے جماعت کے ساتھ  ظہر پڑھنا بھی درست ہے۔اگر جماعت کا بھی نظم نہ ہو سکے توہر شخص انفرادی طور پر ظہر ادا کر سکتا ہے۔

وَالْجُمُعَةُ إِذَا أُقِيمَتْ فِي مَوْضِعٍ مَمْنُوعٍ مِنْهَا لَا تَصِحُّ. (رد المحتار، ج 2، ص 154)

"لَا جُمُعَةَ إِلَّا فِي مِصْرٍ تُقَامُ فِيهِ الْجَمَاعَاتُ." (الدر المختار، ج 2، ص 152)

"فَإِذَا سَقَطَتِ الْجُمُعَةُ وَجَبَتِ الظُّهْرُ." (الدر المختار، ج 2، ص 155)

قَدْ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ ﷺ عَنِ الْأَعْمَى لَا يَجِدُ مَنْ يَقُودُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: "صَلِّ فِي بَيْتِكَ." (أبو داود، 552)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Prayer / Friday & Eidain prayers

Ref. No. 3679/47-9711

In the name of Allah, the most gracious the most merciful

The answer to your question is as follows:

“Sana” is an Arabic term meaning praise of the Almighty. When beginning the Sana (supplication), it is neither required nor appropriate to utter the word “Sana” itself, as it merely serves as a heading. However, if someone happens to say the word “Sana” at the start—whether deliberately or by mistake—the prayer remains valid, since the term does not constitute ordinary human speech (kalām al-nās).

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband

Prayer / Friday & Eidain prayers

Ref. No. 3416/46-9291

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔      ایک پارے کے نصف  آخر  کو پہلی دس رکعتوں میں پڑھنا اور نصف اول کو بعد کی دس رکعتوں میں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم اس کی عادت بنالینا مناسب   نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Prayer / Friday & Eidain prayers

Ref. No. 3354/46-00000الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  توجه الدعوة في الصورة المذكورة إلى مفتى ما هر وفقيه باهر لمعاينة القربة المذكورة ، وبعد ذلك يعمل بمايفتی بعد المشاهدة۔ يمكن أن يرى المفتى هذه القريبة صغيرة كمالہ أن یعدها كبيرة۔ وتقع الجمعة فرضا فى القصبات والقرى الكبيرة كما في الشامية كتاب الجمعة ج ۲ ص ۱۳۸ سعید)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Prayer / Friday & Eidain prayers

Ref. No. 3282/46-9007

ANSWER

In the name of Allah the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

If a person is unable to prostrate on the ground due to knee pain, the obligation of standing (qiyam) in prayer is waived, as standing and bowing (ruku), are the means of prostration (sajdah). Such an individual has the option either to perform the entire prayer while sitting and using gestures or to stand and use gestures for both bowing and prostration. Both options are permissible.

However, the jurists (fuqaha) have recommended performing the entire prayer while sitting in such cases, as it is considered better. Moreover, praying on the ground (while sitting) is deemed superior to praying on a chair.

وفی الذخيرة: رجل بلحقه خراج ان سجد سال وهو قادر علي الركوع والقيام والقرأة يصلي قاعدا يولي" ولو صلي قائما بركوع وقعد وأما بالسجود أجزأه والأول أفضل" لأن القيام والركوع لم يشرعا قربة بنفسها بل ليكونا وسيلتين الي السجود. (رد المحتار، ’’كتاب الصلاة: باب صلاة المريض‘‘: ج 2، ص: 97، سعيد)

(وان تعذر) ليس تعذرهما شرطا بلا تعذر السجود كاف (لا القيام أومأ قاعدا) وهو أفضل من الايماء قائما لقربة من الأرض. (الدر المختار مع رد المحتار: ج 2، 97، سعيد)

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband 

Prayer / Friday & Eidain prayers

Ref. No. 3277/46-8085

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ قبرستان کا وقف الگ ہے اور عیدگاہ کا وقف الگ ہے، اس لئے بلاضرورت قبرستان کی زمین میں عیدگاہ بنانا بھی درست نہیں ہے، تاہم اگر عیدگاہ میں نماز پڑھی جارہی ہے تو قبروں کے سامنے نماز اداکرنا مکروہ ہے، اس لئے اگر عیدگاہ کی چہاردیواری کے اندر جگہ نہ ملے تو کسی دوسری جگہ نماز اداکرنا بہتر ہے، کیونکہ قبر کے سامنے نماز  مکروہ ہے۔

الحنفية قالوا: تكره الصلاة ‌في ‌المقبرة إذا كان القبر بين يدي المصلي؛ بحيث لو صلى ‌صلاة الخاشعين وقع بصره عليه. أما إذا كان خلفه أو فوقه أو تحت ما هو واقف عليه، فلا كراهة على التحقيق. وقد قيدت الكراهة بأن لا يكون ‌في ‌المقبرة موضع أعد للصلاة لا نجاسة فيه ولا قذر، وإلا فلا كراهة، وهذا ‌في غير قبور الأنبياء عليهم السلام، فلا تكره الصلاة عليها مطلقا." (الفقه على المذاهب الأربعة، كتاب الصلاة، ص:161،)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند