حدیث و سنت

Ref. No. 3927/47-10124

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔      نماز میں رفع یدین اور عدم رفع کا مسئلہ حضرات ائمہ مجتہدین کے درمیان اختلافی ہے ،آپ نے ایک دو احادیث پڑھ کر یہ تاثر قائم کیا ہے اس لیے اس مسئلے سے متعلق تفصیلی بحث آپ کو پیش کی جارہی ہے اس کو پڑھیں امید ہےکہ آپ کا تاثر تبدیل ہوگا یہ مسئلہ جواز وعدم جواز کا نہیں ہے بلکہ افضیلیت اور غیرافضیلت کا ہے ، اس پر حضرات حضرات علماء نے رسالے بھی لکھیں ہیں اس میں سب سے مشہور رسالہ امام بخاری کا ہے جز رفع یدین ہے ، اسی طرح محمدبن نصر مروزی انہوں نے بھی ایک مستقل رسالہ اس پر لکھا ہے ، امام بیہقی نے اپنی مختلف کتابوں میں رفع یدین پر لمبا کلام کیا ہے ، متاخرین میں علامہ ابن القیم نے اس پر رسالہ لکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بڑا اہم مسئلہ ہے ،جس پر علماء نے اتنی توجہ دی ہے حالاں کہ یہ مسئلہ بھی اتنا اہم نہیں ہے جس کو اتنا طول دیا جائے یہ مسئلہ جواز اور عدم جواز کا نہیں ہے یہ اولویت اور عدم اولویت کا ہے ، جو حضرات کہ رفع یدین کے قائل نہیں ہے ان کا نظریہ یہ ہے کہ رفع یدین جائز ہے البتہ اولی نہیں ہے ۔ اور جو حضرات کے رفع یدین کے قائل نہیں ہیں ان کا مسلک بھی یہی ہے کہ رفع یدین جائز ہے لیکن نہ کرنا بہتر ہے۔اس مسئلے کو لوگوں نے اتنی اہمیت دی کہ کہنا چاہیے کہ لوگوں نے کنکر کو پہاڑ بنا دیا۔جب مخالفین اہمیت دیتے ہیں تو احناف کو بھی دفع میں کلام کرنا پڑتا ہے ،ورنہ ان لمبا کلام کرنے کی ان مسائل میں ضرورت نہیں تھی

رفع یدین کے سلسلے میں ائمہ کے مذاہب

          جمہور اس بات پر متفق ہیں کہ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرنا سنت ہے اس میں کسی کا اختلاف ہے ، اور جنہوں نے اس جگہ اختلاف کیا ہے ان کا اختلاف باطل ہے ، جیسے کہ شیعہ میں زیدیہ ایک فرقہ ہے وہ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کے قائل نہیں ہیں ان کا قول مردود ہے ،بعض حضرات نے اس میں غلو کیا ہے ، بن حزم ظاہری کہتے ہیں کہ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین فرض ہے یہ غلو ہے ،رفع یدین کی فرضیت کا کوئی قائل نہیں ہے سنیت پر اتفاق ہے ۔

          اس پر بھی امت کا اتفاق ہو چکا ہے کہ سجدہ سے سر اٹھاتے ہوئے رفع یدین نہیں ہوگا ، دوسرے سجدے میں جاتے ہوئے رفع یدین نہیں ہوگا ، تیسر ی رکعت کے شروع میں رفع یدین نہیں ہے ، یہ بھی متفق علیہ ہے ، بس صرف اختلاف رکوع میں جانے کے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ان دوموقعوں میں اختلاف ہے ، اب جہاں کہیں رفع یدین کا لفظ بولا جاتا ہے تو رفع یدین انہی دو جگہوں کا عنوان او رعلم بن گیا ہے ،جب کہیں گے کہ رفع یدین سنت ہے یا سنت نہیں ہے تو اس سے یہی دو جگہ مراد ہے ، اسی میں ائمہ کا اختلاف ہے ۔

          امام ابوحنیفہؒ ان دوموقعوں پر رفع یدین کی سنیت کے قائل نہیں ہیں ، نفس جواز سے انکار نہیں ہے ، صرف سنیت کا انکار ہے ، احناف کا صحیح قول یہی ہے ، صاحب منیہ نے لکھ دیا کہ ان دو موقعوں پر رفع یدین ہمارے نزدیک مکروہ ہے یہ بالکل احناف کی تصریح کے خلاف ہے کراہت کا قول احناف کی کسی بھی معتبر میں نہیں ہے ، اس لیے صاحب منیہ کا قول غیر معتبر ہے ،اور اس سے زبردست بات منیہ کی شرح کبیری میں مکحول کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ ؒ   ان دو موقعوں پر رفع یدین کو مفسد صلات مانتے تھے یہ تو اور بھی بے حقیقت قول ہے ،احناف ان تمام قول کی تردید کی ہے نہ تو مکروہ ہے اور نہ ہی مفسد صلوۃ ہے ،سب سے وزنی بات ابو بکر جصاص رازی کی ہے جو احکام القرآن میں انہوں نے لکھا ہے کہ رفع یدین ان دو موقعوں پر ہمارے نزدیک مباح ہے ،خلاف سنت ہے ،ظاہر ہے کہ ابو بکر جصاص کی حیثیت احناف کے یہاں بہت اونچی ہے اور ان کا قول احناف کے یہاں تسلیم کیا جاتا ہے،دیگر احناف کے معتبر فتاوی میں بھی یہی لکھا ہے کہ مباح ہے لیکن سنت نہیں ہے حضرات صاحبین کا بھی یہی نظریہ ہے ۔

          امام مالک کے یہاں دو طرح کا قول ہے ، ایک قول ابن قاسم کا ہے جو کہ امام مالک کے شاگر د ہیں وہ کہتے ہیں کہ امام مالک ان دو جگہ میں رفع یدین کے قائل نہیں ہیں ، لیکن امام مالک کے دوسرے شاگرد محمد بن عبد الحکم یہ کہتے ہیں کہ امام مالک رفع یدین کے قائل تھے اور ہمارا عمل رفع یدین پر ہی ہے ۔ یہ دونوں بات کو تمہید میں ابن عبد البر مالکی نے  تمہید میں ذکر کیا ہے ۔ اس کے بعد ابن عبد البر نے محمد بن عبد الحکم کا مقولہ نقل کیا ہے کہ ہمارا عمل اسی پر عمل ہے ، ہم مالکیہ ابن قاسم کی بات پر ہر گز نہیں کرسکتے ہیں ،لیکن علامہ علاؤالدین ترکمانی صاحب جوہر النقی ابن عبد البر کی طرف سے نقل کرتے ہیں ، ابن قاسم امام مالک سے  ترک رفع یدین کو نقل کرتے ہیں اور ہمارا عمل ترک رفع یدین پر ہی ہے ،صاحب جوہر النقی نے ابن عبد البر کا مقولہ کا نقل کیا ہے ۔حافظ بن حجر نے ابن عبد البر کا مقولہ نقل کیا ہے وہ علامہ ترکمانی کے خلاف لکھ رہے ہیں ، حافظ کہتے ہیں کہ ابن عبد البر کہتے ہیں کہ ہمارا عمل رفع یدین پر ہے ترک پر نہیں ہے ، علامہ کشمیری نے دونوں قول کو نقل کرکے فرمایا ہے کہ صحیح بات علامہ ترکمانی کی ہے ،جہاں ابن عبد البر نے لکھا ہے ہمارا عمل رفع یدین کا ہے یہ ان کا مقولہ نہیں ہے بلکہ انہوں نے ابن عبد الحکم کا مقولہ نقل کیا ہے ، حافظ ابن حجر نے اس کو ابن عبد البر کا مقولہ سمجھ کر ان کی طرف نقل کردیا ہے ۔ورنہ تو صحیح بات یہ ہے کہ ابن عبد البر ترک رفع یدین کو ترجیح دے رہے ہیں ،سب سے بڑی بات جو ابن قاسم کی تردید میں محمد بن عبد الحکم نے ذکر کیا کہ ابن قاسم ترک رفع یدین میں منفرد ہیں ان کا کوئی متابع نہیں ہے امام مالک سے اور کوئی نقل نہیں کرتا ہے ، مگر علامہ بدرالدین نے معانی الاحبار شرح معانی الآثار میں لکھا ہے کہ امام شافعی خود فرماتے ہیں کہ امام مالک ان دو موقعوں پر رفع یدین کے قائل نہیں ہیں اب بتاؤ کہ امام شافعی سے بڑھ کر کن کا قول ہو سکتا ہے ،جب امام شافعی خود بیان کرتے ہیں جس طرح ابن قاسم بیان کرتے ہیں تو ابن عبد الحکم کا یہ کہنا کہ ابن قاسم منفر د ہیں کوئی متابع نہیں ہے یہ غلط ہے امام شافعی خود متابع ہیں ۔ گویا کہ راجح قول امام مالک کا ترک رفع یدین کا ہے ۔ ہمیں تو اپنے مسلک سے مطلب ہے لیکن نقل مذہب سے متعلق یہ تحقیقی بات تھی اس لیے ذکر کردیا ۔

          امام احمد اور اما شافعی ؒ ان دوجگہوں میں رفع یدین کی سنیت کے قائل ہیں ، اور اس شوافع اور حنابلہ کا بڑی شدت سے عمل ہے ، جیسے ترک پر ا حناف کا شدت کا عمل ہے ، صحابہ میں دونوں طرح کی بات پائی جاتی ہے ، بعض صحابہ رفع یدین کے اور بعض ترک رفع یدین کے قائل تھے ، بلکہ ایک ہی صحابی سے رفع اور ترک رفع دونوں کی روایت ثابت ہے ،بس صرف کہا جاتا ہے کہ عبد اللہ بن مسعود ؓ ایسے صحابی ہیں جن سے رفع یدین کی روایت ثابت نہیں ہے بلکہ ان سے صرف ترک رفع یدین کی روایت ثابت ہے ،محمد بن نصر مروزی کہتے ہیں کہ تمام شہروں میں مسلمانوں کے کوئی ایسا شہر نہیں تھا کہ جس میں رفع یدین اور ترک رفع یدین پر مسلمانوں کا عمل نہ رہا ہو،ہر شہر میں دونوں پر عمل رہا ہے ہاں کوفہ کے علماء سب کے سب ترک رفع یدین پر متفق تھے ، مطلب یہ کہ اہل کوفہ جتنے بھی صحابہ اور علماء تھے سب ترک رفع یدین پر متفق تھے ۔

چند بنیادی باتیں

          پہلی بنیادی بات : یہ ہے کہ رفع یدین اور ترک رفع یہ دونوں امت سے متواتر طریقہ پر منقول ہے کوئی زمانہ آج تک ایسا نہیں آیا ہے ، جس میں پوری دنیا کے مسلمانوں نے صرف رفع یدین کیا ہو یا صرف ترک رفع یدین کیا ہو ،عہد نبوت سے لے کر آج تک دونوں عمل امت میں رہا ہے ، اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ہاں اتنی بات ہم کہہ سکتے ہیں ترک رفع یدین کی جو بات آتی ہے وہ عملی تواتر ہے اسنادی تواتر ہے ، ہر زمانہ ترک رفع یدین پر اتنی بڑی جماعت کا عمل رہا ہے جس کو دیکھ کر یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ باطل پر جمع تھے ۔جیسے ہر زمانہ میں ہر زمانہ میں رفع یدین کی اتنی بڑی جماعت کا عمل رہا کہ ان کو دیکھ کر عقل یہ نہیں کہہ سکتی ہے یہ باطل پر جمع ہیں گویا کہ رفع یدین اور ترک رفع یدین دونوں تواتر عملی سے ثابت ہے بلکہ رفع یدین پر تواتر اسنادی بھی ہے ۔

          دوسری بات : احادیث میں کہاں کہاں رفع یدین ثابت ہے پہلے اس کا جائزہ لے لیا جائے تاکہ بحث کوسمجھنے میں مدد ملے ، جب ہم روایت کا جائز لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بعض روایت میں رکوع کرنے کے وقت رفع یدین کا ثبوت ہے اس سے انکار نہیں کرسکتے ہیں یہ روایت نسائی میں ہے ،اسی طرح رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع یدین کرنا یہ بھی صحیح سند سے ثابت ہے ، حافظ بن حجر نے نسائی کی روایت کو صحیح تسلیم کیا ہے ، انحضور سے دورکعت پوری کرنے کے بعدتیسری رکعت کے شروع میں رفع یدین ثابت ہے  یہ بخاری کی روایت ہے، اس روایت کے سلسلے میں ہم نہیں بلکہ شوافع میں سے  علامہ خطابی کہتے ہیں کہ جب تیسری رکعت کے شروع میں رفع یدین ثابت ہے تو امام شافعی کو اس کا قائل ہوجانا چاہیے ،کیوں کہ مثبت زیادت ہے ،اور مثبت زیادت ثقہ کی زیادتی قابل قبول ہوتی ہے ، علامہ خطابی حیرت کا ا ظہار کررہے ہیں کہ امام شافعی ؒ تیسری رکعت کے شروع میں رفع یدین کے قائل کیوں نہیں ہیں ۔اسی طرح ابن خزیمہ بھی حیرت کرتے ہیں کہ جب صحیح روایت سے ثابت ہے تو کیوں نہیں اس پر عمل کرتے ہیں اسی طرح المسلک ابن دقیق العید بھی اس پر حیرت کا اظہار رکرتے ہیں اسی طرح نسائی میں پہلے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد جلسہ میں بھی رفع یدین کرنا ثابت ہے ،حافظ بن حجر اس روایت کی صحت کو بھی تسلیم کررہے ہیں ، نسائی میں ایک روایت اور ہے کہ حضور ﷺ رکوع سے سر ا ٹھاکر بھی رفع یدین کرتے تھے اور جب سجدے میں جانے لگتے تو اس وقت بھی رفع یدین کرتے تھے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ نسائی میں ایک تو قومہ میں رفع یدین کرنا اور پھر سجدے میں جاتے وقت رفع کرنا ثابت ہے ،یعنی جلسہ ، قومہ ،تیسری رکعت میں کھڑے ہوتے وقت اور سجدے میں جاتے وقت بھی رفع یدین کرنا ثابت ہے ،بلکہ امام ترمذی نے لکھا ہے کہ جب آپ دونوں سجدے سے فارغ ہوتے تھے تو رفع یدین کرتے تھے اس پر علامہ خطابی نے اعتراض کیا ہے کہ ترمذی کی یہ روایت صحیح نہیں ہے ،لیکن امام نووی کہتے ہیں کہ علامہ خطابی کی غلطی ہے وہ خواہ مخواہ ترمذی کی غلطی نکال رہے ہیں ترمذی کی روایت میں جو سجدتین کا لفظ ہے اس سے مراد رکعتین ہے ،تسمیۃ الکل بسم الجز کی قبیل سے ہے ، سجدہ بول کر رکعت مراد لیا ہے ، ترمذی کی روایت کا مطلب نووی یہ بیان کرتے ہیں کہ دورکعت سے فارغ ہوکر جب تیسری رکعت شروع کرتے اس وقت رفع یدین کرتے تھے ،گویا کہ وہی بات ہوگئی جو بخاری میں ہے ۔ یہ چند مقامات ہیں جس میں رفع یدین کا صحیح روایت سے ثبوت ہے ۔

          اب دیکھنا  چاہیے کہ روایت دونوں طرح کی ہیں رفع یدین اور ترک رفع یدین ، اور دونوں عملی اعتبار سے متواتر ہیں ،لہذا جب دونوں طرح کی روایت تو علماء میں تین گرو ہ ہوگئے ایک جماعت نے تو رفع یدین کو ترجیح دے دیا اور ترک رفع یدین کو مرجوح قرار دے دیا ،یہ امام شافعی امام احمد کا نظریہ ہے ، ایک جماعت نے ترک رفع یدین کو راجح ا ور رفع یدین کا مرجوح قرار دیا یہ امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا نظریہ ہے ،اورایک جماعت نے جس نے دونوں روایت کو دیکھ کر دونوں کا اختیار دے دیا کسی کو ترجیح نہیں دیا ۔

          کل روایتوں پر جب نظر کیا جاتا ہے تو روایتیں تین طرح کی ملتی ہیں ، (۱)رفع یدین کی صراحت ،(۲) ترک رفع یدین کی صراحت ، (۳) رفع اور ترک رفع دونوں سے خاموش روایت جس میں نہ رفع کا تذکرہ ہے اور نہ ہی ترک رفع کا تذکرہ ہے ۔اگر اس سلسلے میں ہم غور کریں تو تعداد کے اعتبار سے رفع یدین کی روایت زیادہ ہے ،ترک رفع کی روایت تعداد میں کم ہیں لیکن اگر اس لحاظ سے غور کیا جائے کہ تیسری قسم کی روایت جس میں رفع اور ترک کا کوئی ذکر نہیں ہے اگر اس روایت پر نظر کی جائے تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رفع یدین یہاں نہیں ہوا اسی لیے یہ روایت رفع یدین سے خاموش ہیں ، اس لیے کہ جو روایت رفع یدین سے خاموش ہیں اس میں تمام سنتوں کا تذکرہ ہوا ہے اگر یدین یہ وقوعی سنت ہوتا تو اس کا بھی تذکرہ ہونا چاہیے ،اب اس میں رفع یدین کا ذکر نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے رفع یدین سنت نہیں ہے ، قاعدہ ہے السکوت فی معرض البیان بیان ، بیان کے موقع پر سکوت اختیار کرنا یہ بیان کے ہی حکم میں ہے یہاں پر جب رفع یدین سے سکوت ہے تو یہ اس کی دلیل ہے کہ یہاں رفع یدین نہیں ہوا ہے ۔ ورنہ جیسے اور سنتوں کا ذکر ہے رفع یدین کا بھی ذکر ہوتا ہے ، لہذا وہ روایتں جو رفع اور ترک رفع سے خاموش ہیں اس سے ترک رفع ہی متبادر ہے ۔اب مسکوت عنہ روایت کو اگر ملا لیا جائے تو ترک رفع کی روایت رفع یدین سے بڑھ جائیں گی ۔علامہ کشمیری نے اپنے دو رسالہ میں یہ سب نکات کو ذکر کیا ہے جو بڑی مضبوط اور قوی باتیں ہیں ایک رسالہ ان کا نیل الفرقدین ، اور ایک دوسرا رسالہ ہے بسط الیدین یہ دونوں رفع یدین کے سلسلے میں ہے بہت مضبوط اور اصولی باتیں اس رسالے میں آگئیں ہیں ۔ اس رسالے کو دیکھ کر مصر کے بہت بڑے عالم علامہ زاہد کوثری اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ، میں نے رفع یدین اور ترک رفع یدین کے سلسلے میں تمام رسالوں کو دیکھا لیکن جتنا مفصل اور مبسوط ارو مضبوط بات علامہ کشمیری نے اپنے رسالہ میں کیا ہے ایسا رسالہ میری نظر سے نہیں گزرا ہے ۔بڑی ٹھوس اور مضبوط باتیں ذکر کی ہیں ، اس کے بعد روایت کا جائز ہ لیا ہے ۔ یہ چند اصولی باتیں میں نے دلائل کے ذکر کرنے سے پہلے علامہ کشمیری کے حوالے سے ذکر کر دی ہیں ۔

          امام ترمذی نے رفع الیدین عند الرکوع میں اسی مسئلہ کا ذکر کیا ہے ،اب رفع یدین سے مراد یہی دو جگہ رفع یدین ہے رکوع کرنے کے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے وقت ، امام ترمذی نے دونوں طرح کی روایت ذکر کیا ہے ۔رفع یدین کی بنیادی روایت عبد اللہ بن عمر کی ہے جو رفع یدین والوں کی بنیادی دلیل ہے اور ترک رفع یدین کی بنیادی روایت عبد اللہ بن مسعود کی ہے جو ترک رفع والوں کی بنیادی دلیل ہے ۔امام ترمذی نے عبد اللہ بن عمر ارو عبداللہ بن مسعود کی روایت کو الگ الگ طریقہ سے ذکر کردیا ہے ۔

          یہاں بنیادی چیز یہ بھی یاد رکھنے کی ہے کہ حضرات ائمہ نے  اپنے زمانے مین سلف کا جو تعامل دیکھا اسی کے مطابق انہوں نے اپنا مذہب بنالیا ، امام مالک ؒ نے اپنے زمانے میں مدینہ میں سلف کا دونوں طرح کا عمل دیکھا رفع یدین اور ترک رفع یدین ، مگر اکثر سلف کا عمل ان کے زمانے میں مدینہ میں ترک رفع یدین کا تھا امام مالک نے اسی کو ترجیح دے دی ، جیسا کہ پہلے آچکا ہے کہ ابن قاسم امام مالک کا یہی مذہب نقل کرتے ہیں ، او رامام شافعی نے بھی اسی طرح ترک رفع یدین امام مالک کا مذہب نقل کیا ہے ، امام شافعیؒ نے اپنے زمانے میں اہل مکہ کا تعامل رفع یدین کا دیکھا اس لیے کہ انہوں نے رفع یدین کو ترجیح دیا ۔اور اہل مکہ نے رفع یدین کا یہ طریقہ عبداللہ بن زبیر سے لیا تھا،جنہوں نے حضرت امام حسین کی شہادت کے بعد خلافت کا اعلان کردیا تھا اور یزید کے مرنے کے بعد اہل مدینہ نے بھی ان کی خلافت کو تسلیم کرلیا تھا،عبد اللہ بن زبیر پابندی کے ساتھ رفع یدین کیا کرتے تھے اس لیے اہل مکہ نے اسی کو لیا ۔ امام ابوحنیفہ نے کوفہ میں جتنے بھی سلف کو دیکھا وہ سب کے سب ترک رفع یدین پر متفق تھے ۔

رفع یدین کے قائل حضرات کے دلائل

          امام بخاری ؒ جز رفع یدین میں لکھتے ہیں ، کہ رفع یدین کی روایت سترہ صحابی سے منقول ہے ،انہوں نے سترہ صحابی کی تصریح کی ہے ، امام بخاری کے مزاج میں کچھ  تشدد تھا اس لیے جزرفع یدین میں لکھتے ہیں کہ رفع یدین کے خلاف کسی بھی صحابی کا عمل نہیں تھا ، یہ امام بخاری کی انتہاء پسندی ہے ،ان کی اس رائے سے ان کے شاگرد خلیفہ رشید امام ترمذی نے بھی مخالفت کی ہے چنانچہ ترک رفع یدین کے بارے میں خود لکھتے ہیں وبہ یقول غیر واحد من اہل العلم من اصحاب النبی ﷺ گویا انہوں نے امام بخاری کے اس نظریہ کی تردید کردی کہ یہ سمجھنا کہ صحابہ میں کوئی بھی ترک رفع یدین کا قائل نہیں تھا یہ صحیح نہیں ہے ۔اور محمدبن نصر مروزی جنہوں نے رفع یدین پر رسالہ لکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہر شہر میں تارکین اور رافعین دونوں طرح کے لوگ تھے کوئی شہر اس سے خالی نہیں تھا اور وہ کہتے ہیں اکثر وہ صحابہ جن سے رفع یدین کی روایت ثابت ہے ان سے ترک رفع یدین کی روایت بھی منقول ہے ،گویا کہ ا یک ہی صحابی سے دونوں طرح کی روایت منقول ہے ،کیا امام بخاری یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود کا عمل رفع یدین کا تھا،آج تک کوئی یہ ثابت نہیں کر سکا ہے کہ حضور ﷺ کی وفات کے عبد اللہ بن مسعود سے رفع یدین کرنا ثابت ہے ،ترکہ رفع یدین عبد اللہ بن مسعود کا دائمی عمل رہا ہے ،کیا امام بخاری کا یہ کہنا کہ صحابہ میں کوئی ترک رفع یدین کا قائل نہیں تھا کیا عبد اللہ بن مسعود صحابی نہیں تھے،بخاری کا انداز بیان ایسا ہی ہوتا ہے ،جب کسی طرف ڈھلتے ہیں تو دوسری طرف سے بالکل غافل ہوجاتے ہیں ،اس لیے یہ کہنا تو سراسر لغو ہے کہ صحابہ میں کوئی ترک رفع کا قائل نہیں تھابلکہ سارے لوگ اس پر متفق ہیں کہ ہر شہر میں رفع اور ترک رفع دونوں پر عمل رہا ہے سوائے کوفہ کے وہاں صرف ترک رفع پر عمل تھا ۔اب جب کوفہ کا جائزہ لیا جاتا ہے تو اس زمانہ میں کوفہ مرکز علم بن چکا تھا کہا جاتا ہے کہ کوفہ مین ایک ہزار پچاس صحابہ جمع ہوگئے تھے ، حضرت عمر ؓ نے عبد اللہ بن مسعود کو کوفہ بھیجا تھا وہاں کے ماحول کو ساز گار کرنے کے لیے تو عبد اللہ بن مسعود نے ایسی محنت کی وہاں اہل علم کا بڑا مجمع اکھٹتا ہوگیا تھا حضرت علی ؓ جب کوفہ پہونچے ہیں وہاں کی علمی فضاء دیکھ کر حیرت میں پڑ گئے کہ عبد اللہ بن مسعود یہاں ایسی محنت کی ہے کہ ہر جگہ اہل علم دکھائی  دیتے ہیں ،ایک تو ساڑے دس سو صحابہ وہاں منتقل  ہوچکے تھے اورا ن میں سے کسی کا عمل رفع یدین کا نہیں تھا بلکہ لوگوں نے ذکر کیا ہے کہ نبی کریم کی وفات کے بعد حضرت عمر اور حضرت علی کا عمل بھی ترک رفع یدین کا تھا۔

          امام بخاری ؒرفع یدین کے راوی سترہ صحابہ بیان کرتے ہیں ابن عبد البر تئیس صحابہ کو رفع یدین کا راوی بتاتے ہیں ،امام بیہقی تیس صحابہ کا نام ذکر کرتے ہیں کہ تیس صحابہ سے رفع یدین کی روایت ثابت ہے مگر خود امام بیہقی یہ بھی لکھتے ہیں کہ اس میں صحیح سند کے ساتھ پندرہ صحابہ سے رفع یدین ثابت ہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ باقی پندرہ سے صحیح سند سے ثابت نہیں ہے ،ان کے پندرہ کی بھی چھان پھٹک کی ہے تو تحقیق سے پتہ چلا کہ چھ صحابی کی صحیح سند سے رفع یدین کی روایت ثابت ہے ، یہ چھ وہ صحابہ ہیں جن کے بارے میں یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ وہ رفع یدین کے راوی ہیں ۔

          علامہ عراقی جو حافظ ابن حجر کے استاذ ہیں انہوں نے پچاس صحابہ کا تذکرہ ہے جن سے رفع یدین کی روایت ثابت ہے ،اس کے بارے میں علامہ کشمیری ؒفرماتے ہیں کہ علامہ عراقی کی بات یہ مختلف فیہ رفع یدین کے بارے میں نہیں ہے بلکہ جس پچاس کا وہ ذکر کرتے ہیں وہ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کے راوی ہیں ۔یہاں تو سترہ ، تئیس ، تیس پچاس تک کلام ہے ، بڑی حیرت کی بات ہے کہ مجدد الدین فیروز آبادی صاحب قاموس نے صفر السعادۃ میں یہاں تک لکھ دیا ہے کہ چار سو صحابہ رفع یدین کی روایت کے راوی ہیں ، یہ انتہائی درجہ کی غلو کی باتیں ہیں ، یہ ساری باتیں مذہبی تعصب کی باتیں ہیں ۔یہ چند باتیں ہیں ان کی اگر سامنے رکھاجائے تو سمجھ میں آتا ہے رفع یدین اورترک رفع یدین کی حقیقت کیا ہے اب دلائل کا جائزہ لینا ہے ۔

دلائل پر اجمالی نظر

          جو حضرات رفع یدین کے قائل ہیں ان کی بنیادی دلیل عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے جن کو امام ترمذی نے پہلے نمبر پر ذکر کیا ہے ،قال رایت رسول اللہ ﷺ اذا افتتح الصلاۃ الخ میں نے حضور کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تھے تو دونوں ہاتھ کو اٹھاتے تھے اور منکبین کے مقابل کرتے تھے یہ ایک موقع ہوا دوسرا موقع جب رکوع کرنے لگتے تو اس وقت بھی رفع یدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو قومہ میں بھی رفع یدین کرتے تھے ،یہ بنیادی دلیل ہے اس میں عبد اللہ بن عمر نے تین جگہ رفع یدین کو ثابت کیاہے ۔ اور ابن ابی عمرجو قتیبہ کے استاذ ہیں انہوں نے اتنا اضافہ کیا کہ عبد اللہ بن عمر نے فرمایا کہ جلسہ میں آپ رفع یدین نہیں کرتے تھے ،

          اب یہاں اجمالی جائزہ لے لو، نسائی کے حوالے کے بتایا تھا،کہ سجدہ سے سر  اٹھاتے کر جلسہ میں بھی رفع یدین کرتے تھے نسائی میں صحیح سند سے یہ حدیث ثابت ہے ،لہذا اب ابن ابی عمر کا کہنا کہ دونوں سجدوں کے درمیان نہیں کرتے تھے یہ نسائی کی صحیح روایت کے خلاف ہے۔دوسری بات یہ کہ عبد اللہ بن عمر کی روایت میں بڑا اضطراب ہے ، لوگوں نے اس کی تنقیح کی ہے ، عبد اللہ بن عمر سے چھ طرح کی روایت منقول ہے ، (۱) مدونۃ الکبری میں امام مالک ؒ عبد اللہ بن عمر سے نقل کیا ہے ، کہ انہوں نے پوری نماز میں رفع یدین صرف تکبیر تحریمہ کے وقت کیا تھا اس کے علاوہ کہیں پر رفع یدین نہیں کیا (۲) مصنف بن ابی شیبہ میں روایت ہے مجاہد کی جو کہ عبد اللہ بن عمر کے شاگرد ہیں اور اجلہ تابعین میں ہے وہ فرماتے ہیں میں نے عبد للہ بن عمر کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے پوری نماز میں صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کیا اس کے علاوہ کہیں پر بھی انہوں نے رفع یدین نہیں کیا یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح ہے ۔مجاہد صحابی نہیں تابعی ہیں اس لیے انہوں نے عبد اللہ بن عمر کا عمل انہوں نے حضور کی وفات کے بعد ہی دیکھا ہوگا ۔معلوم ہواکہ عبد اللہ بن عمر سے ترک رفع یدین بھی ثابت ہے۔(۲) موطا امام مالک میں عبد اللہ بن عمر سے دو جگہ رفع یدین کرنا ثابت ہے تکبیر افتتاح کے وقت اور  رکوع سے سر اٹھانے کے بعد یعنی قومہ میں ان دوجگہ میں ثابت ہے (۳)، موطا امام محمد میں امام امام محمد نے امام مالک سے نقل کیا ہے کہ عبد اللہ بن عمر نے تین جگہ رفع یدین کیا ہے ، تکبیر تحریمہ کے وقت ، رکوع کرنے کے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعدیہ موطا محمد میں روایت ہے ۔ (۴)بخاری کی روایت میں دو رکعت کے بعد تیسری رکعت کے شروع میں رفع یدین کرنا عبد اللہ بن عمر سے ثابت ہے (۵) نسائی میں عبد اللہ بن عمر نے سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد جلسہ میں بھی رفع یدین کرنا ثابت ہے (۶)امام طحاوی نے مشکل الآثار میں عبد اللہ بن عمر کا عمل نقل کیا ہے کہ وہ عند اللہ کل خفض و رفع ہر جھکنے اور اٹھنے کے وقت رفع یدین کرتے تھے ،عبد اللہ بن عمر سے یہ چھ طریقہ کا عمل منقول ہے گویا کہ ان کی روایت میں زبردست اضطراب ہے ا ور رفع یدین کے قائلین کی بنیادی دلیل ہے ۔

قولہ : لم یثبت حدیث ابن مسعود ۔عبد اللہ بن مبارک حضرت ابن مسعود کی حدیث کو ثابت نہیں مانتے ہیں ، جس طرح ہم عبد اللہ بن عمر کی حدیث میں کلام کرتے ہیں اسی طرح وہ عبد اللہ بن مسعود کی حدیث پر کلام کرتے ہیں اس سلسلے میں فیصلہ کیا ہے ، فیصلہ ہم امام ترمذی پر ہی چھوڑتے ہیں ، امام ترمذی اس سلسلے میں حدیث نقل کرتے ہیں عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمہ قال قال : عبد اللہ بن مسعود الا اصلی بکم صلاۃ رسول  اللہ فصلی فلم یرفع االا فی اول مرۃ عبد اللہ بن مسعود نے کیا میں تمہیں عبد اللہ بن مسعود کی نماز پڑھ کر نہ دکھادوں اس کے بعد عبد اللہ بن مسعود نے نماز پڑھی اور صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کیا ۔ اب دیکھو اس حدیث کے سلسلے میں امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث ابن مسعود حدیث حسن دیکھو عبد اللہ بن مسعود کی حدیث پر امام  ترمذی حسن کا حکم لگاتے ہیں ، پہلے عبد اللہ بن المبارک کی بات نقل کیا کہ عبد اللہ بن مسعود کی حدیث ثابت نہیں ہے پھر دوسرے نمبر پر خود ہی فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود کی حدیث حسن ہے ،گویا عبد اللہ بن مبارک کے اعتراض کا جواب دے دیا ، عبد اللہ بن مبارک کی بات کا ایک جواب تو یہ ہے کہ اگر عبد اللہ بن مسعود کی حدیث عبد المبارک کے نزدیک ثابت نہیں ہے اس سے لازم نہیں آتا ہے کہ نفس الامر میں یہ حدیث ہے ہی نہیں ، ہو سکتا ہے کہ عبد اللہ بن مبارک کو علم نہ ہو ، جب کہ امام ترمذی عبد اللہ بن مسعود کی حدیث پر حسن پر ا طلاق کر رہے ہیں یعنی عبد اللہ بن مبارک کی بات اپنے علم کے مطابق ہے ،لیکن یہ بات دل کو لگتی بات نہیں ہے عبد اللہ بن مبارک لم یثبت کہہ رہے ہیں اور امام ترمذی اس کو حسن کہہ رہے ہیں یہ تو خود امام ترمذی کے بیان میں تناقض نظر آرہا ہے ،اس سے آگے سو نسائی میں عبد اللہ بن المبارک سے عبد اللہ بن مسعود کا ترک رفع ثابت ہے صحیح سند کے ساتھ اب یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو عبد اللہ بن مبارک انکار کررہے ہیں اور دوسری طرف ان سے روایت بھی کررہے ہیں ، بات درحقیقت یہ ہے کہ عبد اللہ بن مسعود سے دو طرح کی روایت ثابت ہے ، ایک مرفوعا اور موقوفا ، مرفوعا تو وہی ہے جس پر ابن مبارک نے کلام کیا ہے ، باقی رہا عبد اللہ بن مبارک جو نسائی میں عبد اللہ بن مسعود سے روایت  کرتے ہیں وہ موقوف روایت ہے ، موقوف روایت یہ ہے کہ عبد اللہ بن مسعود نے حاضر ین سے کہا کیا میں تمہیں حضور نماز پڑھ کر نہ دکھلاؤں ، اس کے بعد عبد اللہ بن مسعود نے لوگوں کے سامنے نماز پڑھ کر دکھایا ، اس میں عبد اللہ بن مسعود نے صرف ایک مرتبہ رفع یدین کیا پوری نماز میں رفع یدین نہیں کیا یہ عمل عبد اللہ بن مسعود کا ہے جو موقوف ہے ، مطلب یہ ہوا کہ عبد اللہ بن مبارک عبد اللہ بن مسعود کی مرفوع روایت کے بارے میں کہتے ہیں لم یثبت ، باقی موقوف روایت تو خود عبد اللہ بن المبارک کی عبد اللہ بن مسعود سے نسائی میں ہے ۔اب غور کرو، کہ یہ تو صرف لفظ کا ہیرا پھیری ہے ، بات تو ایک ہی ہے ،حضرات محدثین معنی کو نہیں الفاظ کو دیکھتے ہیں اگر یہ دیکھا جائے کہ عبد اللہ بن مسعود نے کہا کہ حضور ﷺ نے صرف ایک مرتبہ رفع یدین کیاتو اس کا مضمون یہ ہوا کہ حضور ﷺ سے صرف ایک بار رفع یدین ثابت ہے ، نسائی کی روایت میں ہے کہ عبد اللہ بن مسعود نے کہا کیا میں تمہیں حضور ﷺ کی نماز پڑھ کر نہ دکھادوں اس سے بھی معلوم ہوا کہ جو نماز دکھارہے ہیں وہ حضور کی نماز دکھارہے ہیں اپنی طرف سے کچھ نہیں دکھا رہے ہیں ،تو بات تو دونوں کی ایک ہے ، صرف لفظ کا ہیر پھیر ہوا ،ایک حقیقت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو دونوں ایک ہی چیز ہے لیکن یہ لوگ پیڑ گنتے ہیں الفاظ گنتے ہیں معنی سے قطع نظر کرلیتے ہیں ،چلو الفاظ پر ہی نظر کرو تب بھی یہ تو ثابت ہوگیا کہ روایت موقوفا ثابت ہے مرفوعا ثابت نہیں ہے ، اگر چہ وہ موقوف بھی حکم میں مرفوع کے ہی ہے اس لیے کہ بقول امام ترمذی کے بھی عبد اللہ بن مسعود کی حدیث حسن درجہ کی ہے ،بھلا عبد اللہ بن المبارک ، عبد اللہ بن مسعود کی ترک رفع یدین کی نفی کیسے کرسکت ہیں،جب کہ نصف النہار کی طرح عبد اللہ بن مسعود سے ثابت ہے کہ انہوں حضور ﷺ کی وفات کے بعد کبھی بھی رفع یدین نہیں کیا ہے یہ ایسی بات ہے جس میں دوسری رائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ،اس لیے عبد اللہ بن مسعود سے ترک رفع بلااضطراب کے ثابت ہے ۔ خود امام ترمذی نے بھی اس پر حسن کا حکم لگایا ہے ،یہی روایت امام ابوحنیفہ اورا مام مالک ؒ کی دلیل ہے ۔

          ایک طرف عبد اللہ بن عمر کی حدیث ہے جو مثبتین کی دلیل ہے ا ور ایک طرف عبد اللہ بن مسعود کی دلیل ہے جو ترک رفع کرنے والوں کی دلیل ہے۔اب یہ روایت میں تعارض سا ہوگیا اس لیے اس تعارض کو دور کرنے کے لیے دو ہی طریقہ ہے یا تو تطبیق کا طریقہ اختیار کریں یا ترجیح کا طریقہ اختیار کریں دونوں صورت ممکن ہے ۔ تطبیق کی صورت یہ ہے کہ عبد اللہ بن عمر کی روایت بھی صحیح اور عبد اللہ بن مسعود کی روایت بھی صحیح ہے ، اور تطبیق یہ ہے کہ رفع یدین کرنا ابتداء میں تھا بعد میں آپ نے ترک کردیا تھا،اس کا پتہ اس سے بھی چل رہا ہے کہ جیسا کہ میں نے مدونہ اور مصنف کے حوالے سے بیان کیا ہے ہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد عبد اللہ بن عمر سے صرف ایک مرتبہ رفع یدین کرنا ثابت ہے ،اگر حضور کا دائمی عمل ہوتا تو عبد اللہ بن عمر کبھی بھی حضور کے سنت کو چھوڑنے والے نہیں تھے ،کیا یہ ممکن ہے کہ انہوں نے حضور کی زندگی میں رفع یدین کیا ہو لیکن حضور کے بعد آپ نے رفع یدین ترک کردیا ہو،اس سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ رفع یدین ثابت تو ہے لیکن رفع یدین کا دوام ثابت نہیں ہے ، امام بیہقی جو کٹر شافعی المسلک ہیں انہوں نے تلاش کرکے ایک روایت نقل کی جس سے انہوں نے دوام کو ثابت کیا ہے ا نہوں نے اسی حدیث کو نقل کرکے لکھا ہے فما زالت تلک صلاتہ حتی لقی  اللہ ، یہ بیہقی میں اتنا اضافہ ہے کہ حضور کی یہ نماز موت تک اسی طرح رہی ، مگر امام بیہقی جیسے امام کو یہ زیب نہیں دیتا ہے کہ اپنے مطلب کے لیے ایسی مخدوش روایت کا سہارا لیں اس روایت میں دو وضاع کذاب راوی ہیں ،ایک عبد الرحمن بن قریش اور ایک اسماء بن محمد انصاری ہیں کیا بیہقی کو زیب دیتا ہے کہ اپنے مذہب کے پچ میں وضاع اور کذاب راوی کو ذکر کریں ۔

          حضرات علماء نہیں لکھا ہے کہ خلفاء راشدین کے زمانہ میں رفع یدین کی کوئی بحث نہیں تھی اس زمانے میں دونوں طرح کے عامل تھے ، لیکن کوئی بحث نہیں تھی ،کوئی کسی سے مناظر ہ نہیں کرتا تھا ، جب ائمہ کا زمانہ آیا توا س میں تشدد شروع ہوگیا ،پھر بھی ائمہ کا زمانہ قابل قدر تھا کیوں کہ وہ لوگ تا بعین اور تبع تابعین کے زمانے میں تھے ، لیکن جب مقلدین کازمانہ آیا تو ان حضرات نے تعصب سے کام لیا اور ا پنے مذہب کی تائید میں وضاع اور کذاب تک راوی کا سہار ا لینے میں دریغ نہیں کیا اس لیے دوام کا ثبوت کا کسی صحیح روایت سے نہیں ہے امام صاحب دوام کا انکار کرتے ہیں اور امام شافعی دوام کو ثابت کرتے ہیں لیکن اثبات کے لیے کوئی دلیل ہونی چاہیے اور دوام کے لیے جو حدیث پیش کیا ہے وہ بیہقی نے جس کا حال اوپر سن چکے ہو ۔اس طرح دونوں روایت میں تطبیق ہوجاتی ہے ، کہ نفس رفع یدین کا ثبوت ہے جیسا کہ عبد اللہ بن عمر کی روایت میں ہے اور عبد اللہ بن مسعود کی روایت میں رفع یدین کا انکار ہے یعنی دوام کا انکار  ہے  ۔

          دوسری صورت ترجیح کی ہے ، شوافع نے عبد اللہ بن عمر کی روایت کو مثبت زیادت ہونے کے اعتبار سے ترجیح دی ہے لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مثبت زیادت ہونے کے اعتبار سے ترجیح ہے تو دو جگہ کے علاوہ عند کل رفع و خفض بھی رفع یدین کا رثبوت  ہے اس لیے اس کو بھی ترجیح دینا چاہیے ۔ احناف نے عبد اللہ بن مسعود کی روایت کو ترجیح دی ہے اس کے وجوہ ترجیح درج ذیل ہیں :

          (۱) احناف نے عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن مسعود کی روایت میں دوسرے دلائل کے اعتبار سے عبد اللہ بن مسعود کی روایت کو ترجیح دی ہے ۔ ایک تو وہی ہے جو امام ابوحنیفہ اور امام اوزاعی کے مناظر ے میں امام صاحب نے جو وجہ ترجیح بیان کی ہے ،دارالحناطین میں امام ابوحنیفہ اور امام اوزاعی کا اجتماع ہوا امام اوزاعی نے موقع غنیمت سمجھ کر سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ رفع یدین نہیں کرتے ہیں اور دلیل میں بیان کرتے ہیں ، حدثنی زہری ، عن سالم عن عبد اللہ بن عمر ان رسول اللہ ﷺ رفع عند الرکوع و عند رفع الرأس ، اس کے جواب میں امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ حدثنی حماد عن ابرہیم عن اسود و علقمۃ عن ابن مسعود عن النبی ﷺ انہ لم یرفع الا عندالافتتاح ، امام اوزاعی کہتے ہیں کہ میں قریبی سند بیان کرتا ہوں جس میں میرے اور حضور کے درمیان زہری سالم اور عبد اللہ بن عمر ہیں ،اور آپ کی سند میں آپ کے اور حضور کے درمیان چار واسطے آجاتے ہیں ایک حماد ، ابراہیم ، اسود علقمہ ، اور عبد اللہ بن مسعود کا ہمارے یہاں واسطے تین ہیں اور آپ کے یہاں چار ہیں اس لیے ہماری روایت راجح ہے ،امام صاحب نے جواب دیاکہ زہری سے حماد افقہ ہیں ، اور سالم سے زیادہ افقہ ابرہیم نخفی اور عبد اللہ بن عمر تو صحابی ہیں ظاہر ہے کہ علقمہ اور اسود صحابیت میں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں اس لیے کہ اس رتبہ میں علقمہ اور اسود، عبد اللہ بن عمر سے بہت کم ہیں لیکن تفقہ کے اعتبار سے علقمہ اور اسود عبد اللہ بن عمر سے بڑے ہیں ، کیوں کہ حدیث سے خود ثابت کہ صحابی سے غیر صحابی زیادہ افقہ ہو سکتے ہیں یہ تفقہ خدا داد چیز ہے اللہ تعالی جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے ،خود نبی کریم ﷺ سے فرمایا: بخاری کی روایت ہے : رب مبلغ اوعی من سامع بہت سے ایسے لوگ جو بعد میں آئیں وہ موجودہ لوگوں سے افقہ اور احفظ ہو سکتے ہیں ، اس کے بعد امام صاحب فرماتے ہیں کہ عبد للہ بن مسعود تو عبد اللہ بن مسعود ہیں وہ تو تفقہ میں بڑے بڑے صحابی سے بھی فائق تھے بعض حضرات نے تو ان کو حضرت عمر سے بھی تفقہ میں فا ئق قرار دیا ہے ،بہر حال یہ افقہ صحابہ میں ہیں او رنبی کریم ﷺ کی لمبی صحبت ملی ہے یہ آپ کے سفر اور حضر میں ساتھ تھے ،اور یہ صاحب النعلین و الوسادۃ کے نام سے مشہور تھے ، حضور کے  نعلین اور تکیے کے حفاظت کی ذمہ داری انہی کے  اوپر تھی ، اس لیے عبد اللہ بن مسعود کے کیا کہنے ، ا وزاعی نے علو سند کے اعتبار سے ترجیح دی اور امام صاحب نے تفقہ کے اعتبار سے ترجیح دی ، امام اوزاعی خاموش ہوگئے ، اگر امام اوزاعی کے پاس امام صاحب کی بات کا جواب ہوتا تو یقینا وہ جواب دیتے ، اپنی سند کی اور وجہ ترجیح بیان کرتے ، معلوم ہوا کہ امام صاحب ترک رفع یدین کے جو راوی ہیں وہ زیادہ افقہ ہیں اور از روئے حدیث افقہ کو فقیہ پر ترجیح حاصل ہے ۔

          دوسری وجہ ترجیح : عبد اللہ بن عمر کی روایت میں تعارض ہے ، مدونۃ الکبری اور مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عبد اللہ بن عمر نے صرف ایک مرتبہ رفع یدین کیا ، اور عبد اللہ بن مسعود کی روایت میں کوئی تعارض نہیں ہے ، جہاں بھی ان کی روایت ہے وہ ترک رفع یدین کی ہی روایت ہے ۔ لہذا غیر متعارض کو متعارض پر فوقیت دی جائے گی ۔

          تیسری وجہ ترجیح : ترک رفع یدین کی روایت اصل صلوۃ مطابق ہے اور رفع یدین کی روایت اصل صلوۃ کے خلاف ہے ، نماز میں اصل سکون ہے ، اس لیے کہ جتنا سکون ہوگا وہ اتنا ہی خشوع و خضو ع کا باعث ہوگا او رجس قدر حرکت ہوگی اسی قدر خشوع و خضوع کے خلاف ہوگا۔خود قرآن میں ہے قوموا للہ قانتین ای ساکتین : لہذا  ترک رفع یدین میں سکون ہے اور رفع یدین یہ حرکت ہے اور نماز کے موافق یہ سکون ہے حرکت نہیں ہے ،ہاں جہاں جہاں شریعت نے حرکت کا حکم دیا ہے وہاں تو ہم مجبور ہیں ، شریعت نے رکوع کا حکم دیا ہے ، سجدہ کا حکم دیا ہے ظاہر ہے کہ یہ سب حرکت ہے لیکن یہاں نص موجود ہے اور نص کے مقابلہ کی کسی قیاس کو نہیں دیکھا جاتا ہے لیکن جہاں دونوں طرح کی روایت ہو ایک روایت سے حرکت کا ثبوت اور ایک روایت سے سکون کا ثبوت ہو تو اصل صلاۃ کے موافق سکون کی روایت ہے ،اس لیے کہ یہ بھی ایک وجہ ترجیح ہے ۔

          چوتھی وجہ ترجیح : ترک رفع یدین کے راوی مثبت زیادت ہیں اور رفع یدین کے راوی نافی ہیں اور مثبت اور نافی میں اگر تعارض ہوجائے تو مثبت کو ترجیح ہوتی ہے ۔ترک رفع یدین کی روایت مثبت اس لیے کہ ہے ان تین مواقع کے علاوہ باقی جلسہ کے اندر رفع یدین کے کوئی قائل نہیں ہیں اسی طرح تیسری رکعت کے شروع میں رفع یدین کا کوئی قائل نہیں ہے ، حالاں کہ ان کوموقعوں پر بھی صحیح روایت سے رفع یدین ثابت ہے لیکن یہ حضرات کہتے ہیں کہ ان دوموقعوں کے علاوہ رفع یدین منسوخ ہے ،اس لیے کہ اس پر یہ لوگ عمل نہیں کرتے ہیں تو جب نسخ کے یہ حضرات قائل ہیں تو یہ کہا جائے کہ جتنا زیادہ نسخ ہوگا وہ مثبت زیادت ہوگا جو روایت نسخ کو زیادہ ثابت کرے گی وہ مثبت زیادت ہے ،لہذا جیسے یہ حضرات جلسہ اور تیسری رکعت کے شروع میں رفع یدین کے قائل نہیں ہیں اسی طرح ہم بھی کہتے ہیں کہ رکوع میں جاتے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے بھی رفع یدین نہیں ہے یہ مثبت زیادت ہے ۔

          پانچویںوجہ ترجیح : رفع یدین کی روایت میں رفع کا ثبوت تو ہے لیکن دوام کا ثبوت نہیں ہے ، کسی روایت میں یہ نہیں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے پوری زندگی رفع یدین کیا ہو ۔

          چھٹی وجہ ترجیح : ترک رفع یدین کے راوی افقہ ہیں ا ور رفع یدین کے راوی فقیہ ہیں اور افقہ کی روایت کو فقیہ کی روایت پر ترجیح ہوتی ہے ۔

          ساتویں وجہ ترجیح : امام طحاوی اسی طرح مصنف ابن ابی شیبہ میں اسود کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عبد للہ بن عمر کے پیچھے نماز پڑھی ، تو حضرت عمر نے صرف ایک مرتبہ پوری نماز میں رفع یدین کیا اس کے بعد کہیں رفع ید ین نہیں کیا ۔معلوم ہوا کہ حضرت بن عمر کا آخری عمل بھی ترک رفع کا تھا ۔

          آٹھیں وجہ ترجیح : رفع یدین ایک امر وجوی ہے جس کو ہر شخص دیکھ سکتا ہے ، ترک رفع یدین یہ عدمی ہے ،اگر رفع یدین نبی کریم کا دائمی عمل ہوتا حضرات صحابہ آپ کے پیچھے روزانہ پانچ مرتبہ پڑھتے تھے اگر رفع یدین ہوتا تو کثرت کے ساتھ حضرات صحابہ اس کو نقل کرتے اس لیے کہ امر وجودی یہ امر مشاہد ہے ،ایک مشاہد چیز کا کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے ۔

          نویں وجہ ترجیح: امام مالک فرماتے ہیں کہ ترک رفع یدین پر اکثر اہل مدینہ کا عمل تھا ، اور اہل کوفہ تو سب کے سب ترک رفع پر متفق تھے ۔(تحفۃ العبقری جلد دوم،شرح سنن الترمذی،)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

حدیث و سنت

Ref. No. 3912/47-0000

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ احادیث میں یہ صراحت نہیں ملتی کہ نبی کریم ﷺ خاص طور پر گرم دودھ پیتے تھے یا ٹھنڈا۔  عرب کے ماحول میں دودھ عموماً: تازہ دوہا ہوا (قدرے نیم گرم)  پیاجاتاتھا  یا قدرتی درجۂ حرارت پر جیساکہ آج بھی دیہاتوں میں لوگوں کا معمول ہے،  لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ:نبی ﷺ نے دودھ نہ خاص گرم کرکے پیا اور نہ جدید معنوں میں ٹھنڈا کرکے؛ بلکہ جس حالت میں میسر ہوا اسی میں نوش فرمایا۔

احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اونٹنی اور بکری کا دودھ پیا ہے لیکن گائے کے دودھ کے بارے میں کوئی صراحت نہیں ملتی ہے۔ 

  واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

حدیث و سنت

Ref. No. 3768/47-9880

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  دین کا ضروری علم وہ ہے جس پر اعمال کا مدار موقوف ہے، بحیثیت مسلمان آپ پر  نماز فرض ہے تو نماز کے مسائل ، اسی طرح روزہ، زکوۃ و حج کے مسائل، نماز کے اذکار و اعمال ، اسلامی عقائد کے ابتدائی مسائل کا جاننا پھر اس کے آگے کے مرحلے میں قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ آپ کی آسانی کے لئے چند کتابیں لکھ دی جاتی ہیں۔ بہشتی زیور، معارف الحدیث، آسان ترجمہ قرآن، آسان اسلامی عقائد، حیات المسلمین، معارف القرآن، سیرت رحمت عالم، صحابہ کرام کی زندگی کے درخشاں پہلو، سیرت پاک۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

حدیث و سنت

Ref. No. 3719/47-9792

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر سند میں کوئی راوی ضعیف ہے یا سلسلہ منقطع ہے، تو حدیث ضعیف کہلاتی ہے۔ یعنی کمزوری راوی یا سند میں ہوتی ہے، مگر محدثین نتیجے کے طور پر حدیث کو ضعیف کہتے ہیں۔ حدیث کو بایں معنی ضعیف کہنا یہ محدثین کی اصطلاح ہے، اس لئے اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ ہر فیلڈ کے ماہرین کو اپنے فن کے تعلق سے اصطلاحات بنانے کا اختیار ہوتاہے، اور دیگر لوگوں کو اس کو قبول کرنا چاہئے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

حدیث و سنت

Ref. No. 3702/47-9821

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔     جن مصنوعات کا استعمال ناگزیر ہے، اور ان کا کوئی متبادل بھی نہیں ہے، ان مصنوعات  کے استعمال کی گنجائش ہے۔ لہذا ان ایپس  اور پروڈکٹ کا استعمال بوقت ضرورت اور بقدر ضرورت جائز ہے، اور ایپس پر سامان کی خریدوفروخت بھی جائز اور درست ہے، اور کمپنی اپنی شرطوں کے مطابق جرمانہ کی رقم کاٹ سکتی ہے، اور یہ سود کے زمرے میں نہیں آتاہے۔

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

حدیث و سنت

Ref. No. 3701/47-9822

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔     راستہ کے کنارے خالی جگہ پر اپنا سامان بیچنے کے لئے اس طرح لگانا کہ آنے جانے والوں کو کوئی تکلیف نہ پہونچے درست ہے، لیکن راستہ کو تنگ کرنا یا ٓانے جانے والوں کے لئے تکلیف کا سبب بننا جائز نہیں ہے، نیز ملکی قوانین کا خیال رکھنا لازم اور ضروری ہے۔

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

حدیث و سنت

Ref. No. 3670/47-9731

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:  ۔   جی، نماز کے بعد دعا کرنا مستحب عمل   ہے ۔ اسلام میں نماز کے بعد دعا کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ نماز بندے کو اللہ کے قریب لے آتی ہے اور دعا کے قبول ہونے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔البتہ یہ دعا انفرادی ہونی چاہئے ، اور ہر شخص کو چاہئے کہ فرض نماز کے بعد امام کے تابع نہ رہے بلکہ اپنی ضروریات اللہ تعالی سے خود مانگے۔   نماز کے بعد سب سے پہلے اللہ کی حمد و ثناء کرے ، درود پاک پڑھے اور پھر اپنی دعا کرے۔دعا میں عاجزی اور ادب رکھے، اللہ سے عاجزی کے ساتھ مانگے۔دعا کو طویل یا مختصر، دونوں کی اجازت ہے، لیکن دل سے کی جانے والی دعا زیادہ مفید ہے۔اپنی حاجات اور مشکلات کے لیے مستقل طور پر نمازوں کے بعد   دعا کرتے رہنا چاہئے خواہ مختصر دعاکرے۔

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

حدیث و سنت

Ref. No. 3458/47-9370

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ سید الانبیاء حضرت محمد  مصطفی ﷺ کو خواب میں دیکھنے کی سچی تمنا ایک عظیم سعادت اور نیک خواہش ہے۔ لیکن یہ عظیم نعمت عام طور پر ان لوگوں کو عطا ہوتی ہے جو ظاہری و باطنی طور پر سچے عاشقِ رسول ﷺ ہوتے ہیں۔ نیچے چند اعمال دیے جا رہے ہیں جو اس مقصد میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔؛۔ (۱)  کثرت سے درود شریف پڑھنا (۲)  سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی (۳) سونے سے پہلے نبی کریم ﷺ کا ذکر و سیرت پڑھنا(۴) حلال کمائی اور طہارت کا اہتمام (۵)  نماز کی پابندی(۶)  خلوص نیت اور گریہ و زاری سے دعا۔ (۷) پابندی سے مسواک کرنا وغیرہ۔ اسی طرح  سونے سے پہلے وضو کر کے بستر پر جائیں، درود شریف پڑھتے پڑھتے سوئیں۔ دل کی صفائی، عشقِ رسول ﷺ، اور خلوص کی شرط کے ساتھ بعض اوقات یہ زیارت جلدی نصیب ہوتی ہے، بعض اوقات وقت لگتا ہے۔عمل کرتے ہوئے صبر، استقامت، اور امید رکھیں۔

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

حدیث و سنت

Ref. No. 3414/46-9289

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔      حالتِ جنابت میں قرآن مجید کی تلاوت سننا جائز ہے، خواہ کسی انسان سے سنے، یا کمپیوٹر، یا موبائل وغیرہ سے سنے۔  تاہم قرآنی آیات کے علاوہ  ذکروادعیہ کا زبان سے پڑھنا بھی جائز ہے۔

"(و) يحرم به (تلاوة القرآن) ۔ (قوله: تلاوة القرآن) أي ولو بعد المضمضة كما يأتي". (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 172):

رد المحتار: (293/1، ط: سعید) فلو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئاً من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به، كما قدمناه عن العيون لأبي الليث، وأن مفهومه أن ما ليس فيه معنى الدعاء كسورة أبي لهب لا يؤثر فيه قصد غير القرآنية".

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

حدیث و سنت

Ref. No. 3384/46-9278

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ نیکیوں کو گناہوں کی جگہ تبدیل کرنے کا ایک مطلب یہی ہے كہ جب بندہ مومن  سچی توبہ كركے اپنی اصلاح كرلیتا ہے تو گناہوں كی جگہ نامہٴ اعمال میں نیكیاں لكھ دی جاتی ہیں۔اور دوسرا مطلب یہ ہےكہ اللہ تعالی ایسے شخص کو گناہوں كی جگہ نیكیاں كرنے كی توفیق عطاء فرمادیتا ہے۔قرآن مجید میں ہے :  إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا.

(ترجمہ شیخ الہند، سورۃ الفرقان)۔

ذکر کی مجلس میں بیٹھنے پر جو فضائل حاصل ہوتے ہیں وہ مطلق نہیں ہیں کہ بس ادھر آدمی مجلس میں بیٹھا اور ادھر سارے گناہ دھُل گئے۔ بلکہ مجلس  ِ ذکر میں بیٹھنے پر ایک خاص قسم کے گناہ یعنی گناہ   صغیرہ بخشے جاتے ہیں۔ جن گناہوں کا آپ نے سوال میں ذکر کیا ہے وہ گناہ کبیرہ ہیں اور گناہ کبیرہ  بغیر سچی توبہ کے معاف نہیں ہوتے ہیں اور جوشخص  صغائر پر اصرار کرتاہے  اس کی بھی مغفرت موقوف رہتی ہیں تاآنکہ وہ توبہ کرلے۔ اور توبہ نام ہے تین چیزوں کے مجموعہ کا (۱) گناہ فوراً چھوڑدے (۲) آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے (۳)  اورگذشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ معافی طلب کرے۔

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: محمد اسعد

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند