نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3868/47-10005

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔    جائے ملازمت پر جب ۱۵ دن ٹھہرنے کی نیت کرے گا تواتمام  کرے گا اور جب  ۱۵ دن سے کم قیام کی نیت ہوگی تو قصر کرے گا۔ لہذا ہر ہفتہ گھر جانے والا جائے ملازمت میں چار دن قصر کرے گا، اور رمضان میں پورا مہینہ قیام کرنے پر  اتمام کرےگا۔ اور دوران سال جب بھی ۱۵ دن قیام کی نیت ہو اتمام کرے ورنہ قصر کرتا رہے۔ اس کا تین سال سے جو معمول ہے بالکل درست ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3852/47-9956

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:۔  امام کے سامنے والی اذان بھی اذان ہی ہے، اور اذان کو تأنی (ٹھہراؤ) سے کہنا سنت ہے۔اس لئے اقامہ کی طرح حد ر تو درست نہیں ہے، تاہم ٹھہراؤ کی  کوئی مقدار متعین نہیں ہے، اس لئے ٹھہراؤ کم یا زیادہ ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3851/47-9955

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:۔  علاقہ کے مفتیان کرام سے  مسجد کامعائنہ کرالیاجائے تاکہ محراب کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جاسکے۔ صرف پہلے اما م صاحب کے محراب میں نماز نہ پڑھانے سے دلیل پکڑنا درست نہیں ہے، اس کی وجہ پر غور کرنا ضروری ہے۔ تاہم اس کو آپسی مشورہ سے حل کیاجائے اور کسی طرح کے بھی انتشار سے گریز کیاجائے۔ جن مقتدیوں کو اوپر جانے میں دشواری ہو ان کو مسجد میں پہلے آنا چاہئے، ورنہ ان کو بھی اوپر جانا پڑے گا یہ پہلے سے ذہن میں رہنا چاہئے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3850/47-9953

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:۔  نماز باجماعت مسجد میں   پڑھنا سنتِ مؤکدہ اور شعائرِ اسلام میں سے ہے۔گھر میں جماعت جائز ہے لیکن افضل نہیں۔بلا عذر مسجد چھوڑنا مذموم اور کبیرہ کے قریب ہے۔کبھی کبھار گھر میں جماعت ہو جائے تو کوئی گناہ نہیں۔مستقل معمول بنانا وعید کے دائرے میں آتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3818/47-

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:  ۔  اگر کوئی امام  حروف مقطعات  میں تجوید یا تلفظ کی معمولی غلطی کر دے (مثلاً "الم" میں "میم" کو تھوڑا کھینچ دے، یا "صاد" کو کچھ مختلف لہجے میں ادا کر دے)،تو چونکہ اس سے کوئی معنی فاحش طور پر تبدیل نہیں ہوتا ہے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی ہے۔ہاں، اگر کوئی اتنی غلطی کرے کہ لفظ قرآن سے ہی خارج ہو جائے،تو وہ تحریفِ قرآن شمار ہوگی، اور ایسی صورت میں نماز فاسد ہو جائے گی۔اس لئے جو غلطی ہو اس کی نشاندہی کرکے دوبارہ سوال کرلیا جائے۔

"ومنها: ذکر کلمة مکان کلمة علی وجه البدل إن کانت الکلمة التي قرأها مکان کلمة یقرب معناها وهي في القرآن لاتفسد صلاته، نحو إن قرأ مکان العلیم الحکیم …، وإن کان في القرآن، ولکن لاتتقاربان في المعنی نحو إن قرأ: "وعداً علینا إنا کنا غافلین" مکان {فاعلین} ونحوه مما لو اعتقده یکفر تفسد عند عامة مشایخنا،وهو الصحیح من مذهب أبي یوسف رحمه الله تعالی، هکذا في الخلاصة". (الفتاوی الهندیة، ۱: ۸۰،، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)

وإن كان الخطأ بإبدال حرف بحرف، فإن أمكن الفصل بينهما بلا كلفة كالصاد مع الطاء بأن قرأ الطالحات مكان الصالحات فاتفقوا على أنه مفسد، وإن لم يمكن إلا بمشقة كالظاء مع الضاد والصاد مع السين فأكثرهم على عدم الفساد لعموم البلوى. (رد المحتار: (631/1، ط: دار الفکر)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3769/47-9844

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ نمازوں کے بعد دعا حدیث سے ثابت ہے، اس لئے اس کو بدعت نہیں کہاجائے گا، اور یہ اختیاری عمل ہے، اس پر کوئی عمل کرے تو بھی ٹھیک ہے  اور اگر عمل نہ کرے تو بھی کوئی حرج نہیں ۔  پنجگانہ نمازوں، اورجمعہ و عیدین  کی نمازوں کے    بعد دعا کرنا  بہ تسلسل بھی درست ہے اور کبھی کبھار ترک کردینا بھی درست ہے، تاہم ترک کرنے پر تنقید کرنا درست نہیں ہے۔آپ کا سوال کہ  عیدین کی نماز وں کے بعد دعا  کیوں ترک نہیں کرتے ، یہ سوال بھی درست نہیں ہے۔ جو دعا کررہے ہیں ان کو کرنے دیجئے اور جو نہیں کرتے ان پر تنقید نہ کیجئے۔ جمعہ وعیدین میں مجمع کثیر ہوتاہے  توبعض مرتبہ  امام تعلیم کی غرض سے جہری  دعا کرتاہے۔  یا اسی طرح اس کا مقصد کچھ اور بھی ہوسکتاہے، اس کے پیچھے پڑنے کی ضرروت نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3674/47-9734

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ لڑکوں میں عام طور پر 15 سال کی عمر تک زیادہ سے زیادہ بلوغت مان لی جاتی ہے۔لہٰذا آپ کی شریعت کے اعتبار سے نماز کی ذمہ داری تقریباً:19 فروری 2001 سے شروع ہوئی۔آپ کے بیان کے مطابق آپ نے ب 2019 میں باقاعدہ نماز شروع کی۔

2001 (بلوغت) سے 2019 (نماز شروع کرنے تک) = 18 سال ہوتے ہیں جن میں سے آپ نے  11 سال    کی نمازیں قضا کرلیں ہیں۔ اب آپ کے ذمہ صرف پانچ سال  کی نماز یں اور باقی ہیں۔ یعنی مزید پانچ سال روزانہ وقتیہ نماز کے ساتھ اس وقت کی  ایک  قضا  بھی پڑھتے رہیں اور  اگر جلد مکمل کرنا چاہتے ہوں  تو دو یا تین نماز یں بھی قضا میں پڑھ سکتے ہیں ۔ 

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3665/47-9776

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:  ۔  بڑی سورہ کی درمیانی آیات پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم مضمون کے ربط کا خیال رکھنا چاہئے۔ البتہ چھوٹی سورہ کی درمیانی آیات پڑھنا اور چند آیات جان بوجھ کر چھوڑدینا مکروہ ہے۔

پہلی رکعت میں  سورہ کی درمیانی آیات پڑھنا اور دوسری رکعت میں پوری سورہ پڑھنا درست ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3626/47-9669

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔اگر کوئی شخص کھڑا ہونے پر قادر نہیں لیکن بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے اور زمین پر سجدہ بھی کرسکتا ہے، تو اس کے لیے کرسی پر نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔  ایسے شخص پر لازم ہے کہ وہ بیٹھ کر (زمین پر) نماز پڑھے اور زمین پر ہی سجدہ کرے۔اگر وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھے اور زمین پر سجدہ کرنے کے بجائے محض اشارے سے سجدہ کرے، تو ایسی صورت میں نماز ادا نہ ہوگی، کیونکہ اس نے اپنی قدرت کے باوجود اصلی سجدہ ترک کر دیا۔"من قدر على السجود على الأرض لا يجزئه الإيماء." (الفتاوى الهندية 1/135)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3612/47-9658

In the name of Allah, the most Gracious the most merciful

The answer to your question is as follows:

Congregational prayer holds great importance in Shariah and is regarded as a Sunnah Mu’akkadah for men. Habitually neglecting it without a valid reason is sinful. However, the Shariah also provides concessions in cases of genuine difficulty.

The condition you described—where certain sounds trigger unbearable mental distress, anger, and intrusive thoughts, even to the extent of involuntary swearing—makes it extremely difficult for you to maintain focus and humility in prayer. This is not a normal situation, but rather a psychological and mental illness beyond your control.

In Shariah, there is a guiding principle: “Al-Ḍarūrāt tubīḥ al-Maḥẓūrāt” — necessities permit what is otherwise prohibited.

On this basis, your condition is considered a valid excuse. If joining the congregation worsens your state of mind and prevents you from praying properly, you are permitted to pray alone. You may offer your prayers at home or in any quiet place where you can worship with peace and concentration. This concession is similar to the allowance given to those who, due to illness, severe weakness, or another genuine hardship, are unable to attend congregational prayer.

If there is a mosque nearby where you could stand at the edge of the row or at a slight distance to avoid disturbance, you should make the effort to join. But if even that setting disrupts your focus and intensifies your distress, then praying alone is preferable. What matters is that you maintain the intention in your heart that you are not neglecting or belittling congregational prayer, but rather availing yourself of a concession granted by the Shariah out of necessity.

And as soon as this condition subsides, you should promptly return to the mosque and resume performing your prayers with the congregation.

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband