نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3764/47-10084

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ یہ در اصل صلوۃ الحاجۃ ہے۔   اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے صحت اور شفا کی دعا کے لیے دو رکعت نفل نماز پڑھے، تو یہ جائز ہے۔کیونکہ نفل نماز بذاتِ خود عبادت ہے، اور اگر اس عبادت کے ذریعے بندہ کسی جائز مقصد (مثلاً صحت، شفا، رزق، سکون، وغیرہ) کی دعا کرے تو یہ درست ہے۔ دل میں یوں نیت کرے:"میں دو رکعت نفل نماز اللہ تعالیٰ کے لیے پڑھتا ہوں، صحت و شفا کی نیت سے۔"

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3763/47-10083

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  مسجد میں ایک ہی جماعت ہونی چاہئے، اگر بڑے طلبہ ہیں تو ان کو مسجد کی جماعت میں شامل کیاجائے اور اگر چھوٹے ہوں تو ان کو تربیت کی نیت سے  الگ جماعت کرائی جاسکتی ہے، بشرطیکہ اس سے مسجد کی جماعت میں کوئی خلل نہ ہو۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

3891/47-10059

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  نمازِ جنازہ کے لیے وقت مقرر کرنا اور اس کا اعلان کرنا شرعاً جائز ہے بشرطیکہ اس سے جنازہ اور تدفین میں بلا وجہ تاخیر نہ ہو اور اسے دینی لازم یا رسم نہ سمجھا جائے۔ اصل سنت میت کو جلد دفن کرنا ہے۔    نمازِ جنازہ کے لیے وقت مقرر کرنا انتظامی ضرورت کے تحت ہوتاہےمثلاً: لوگوں کو جمع ہونے کا موقع دینا، دور سے آنے والے قریبی رشتہ داروں کا انتظار، قبرستان یا مسجد میں نظم برقرار رکھنا، عصر یا فجر کے بعد کے اوقاتِ مکروہ سے بچنا، یہ سب شرعی مقاصد ہیں، اس لیے:وقت مقرر کرنا بذاتِ خود ناجائز نہیں، فقہاء نے واضح کیا ہے کہ:جو کام نظم و مصلحت کے لیے ہو،  اور سنت کے خلاف نہ ہو، وہ بدعت نہیں ہوتا۔   نمازِ جنازہ فرضِ کفایہ ہے، زیادہ لوگوں کی شرکت میت کے لیے باعثِ رحمت ہے، اعلان سے لوگ بروقت پہنچ سکتے ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3883/47-10037

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔    صورتِ مسئولہ میں حکم یہ ہے: اگر امام اپنی قراءت معمول کے مطابق آہستہ ہی کرتا ہے،مگر مائیک کی وجہ سے آواز خود بخود مقتدیوں تک پہنچ جاتی ہے،توامام کی نمازبھی درست ہے اور مقتدیوں کی نماز بھی درست ہے، اس میں کوئی کراہت یا فساد نہیں ہے، کیونکہ سری ہونے کا تعلق امام کے فعل سے ہے، نہ کہ مقتدی کے سننے سےامام نے قراءت کو جہری نہیں بنایا، بلکہ آلہ (mic) نے آواز پھیلا دی۔  احتیاطاً ظہر و عصر میں مائیک کی آواز بہت کم رکھی جائے ،تاکہ سنت و فقہی منہج کی پوری رعایت رہے تو زیادہ مناسب ہوگا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3868/47-10005

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔    جائے ملازمت پر جب ۱۵ دن ٹھہرنے کی نیت کرے گا تواتمام  کرے گا اور جب  ۱۵ دن سے کم قیام کی نیت ہوگی تو قصر کرے گا۔ لہذا ہر ہفتہ گھر جانے والا جائے ملازمت میں چار دن قصر کرے گا، اور رمضان میں پورا مہینہ قیام کرنے پر  اتمام کرےگا۔ اور دوران سال جب بھی ۱۵ دن قیام کی نیت ہو اتمام کرے ورنہ قصر کرتا رہے۔ اس کا تین سال سے جو معمول ہے بالکل درست ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3853/47-10165

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:۔  ان الفاظ کے ساتھ کوئی صریح اور صحیح حدیث ہمیں  نہیں ملی،  کہ “جس نے جان بوجھ کر نماز قضا کی اس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے”۔ البتہ نماز جان بوجھ کر قضا کرنا بہت بڑا گناہ ہے اور اس بارے میں سخت وعیدات صحیح احادیث میں وارد ہیں۔  نماز ہر بالغ مسلمان پر سب سے اہم ترین  فرض ہے، اور اس میں کوتاہی کرنے والوں کو سخت عذاب کا اندیشہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں نماز پڑھنے والوں کو صرف مسجد نہ آنے پر سخت وعید بیان فرمائی،  تو سوچئے کہ قضا کرنے والوں کے متعلق کیا وعید ہوگی۔ اس لئے مذکورہ مقولہ گوکہ حدیث نہیں ہے  مگرنماز  قضا کرنے کی شناعت کو بیان کرنے کے لئے  اس طرح کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (سورۃ الماعون)

إنَّ العهدَ الذي بيننا وبينهم الصلاةُ . فمن تركها فقد كفر(صحيح النسائي ۴۶۲)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3852/47-9956

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:۔  امام کے سامنے والی اذان بھی اذان ہی ہے، اور اذان کو تأنی (ٹھہراؤ) سے کہنا سنت ہے۔اس لئے اقامہ کی طرح حد ر تو درست نہیں ہے، تاہم ٹھہراؤ کی  کوئی مقدار متعین نہیں ہے، اس لئے ٹھہراؤ کم یا زیادہ ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3851/47-9955

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:۔  علاقہ کے مفتیان کرام سے  مسجد کامعائنہ کرالیاجائے تاکہ محراب کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جاسکے۔ صرف پہلے اما م صاحب کے محراب میں نماز نہ پڑھانے سے دلیل پکڑنا درست نہیں ہے، اس کی وجہ پر غور کرنا ضروری ہے۔ تاہم اس کو آپسی مشورہ سے حل کیاجائے اور کسی طرح کے بھی انتشار سے گریز کیاجائے۔ جن مقتدیوں کو اوپر جانے میں دشواری ہو ان کو مسجد میں پہلے آنا چاہئے، ورنہ ان کو بھی اوپر جانا پڑے گا یہ پہلے سے ذہن میں رہنا چاہئے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3850/47-9953

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:۔  نماز باجماعت مسجد میں   پڑھنا سنتِ مؤکدہ اور شعائرِ اسلام میں سے ہے۔گھر میں جماعت جائز ہے لیکن افضل نہیں۔بلا عذر مسجد چھوڑنا مذموم اور کبیرہ کے قریب ہے۔کبھی کبھار گھر میں جماعت ہو جائے تو کوئی گناہ نہیں۔مستقل معمول بنانا وعید کے دائرے میں آتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 3833/47-10126

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:  ۔  نماز میں مکروہ تحریمی اور تنزیہی دونوں ہیں، اور یہ کافی تعداد ہے بعض کا تعلق کپڑوں سے ہے، جیسے کپڑے لٹکانا، کپڑےے یا چادر کو اس طرح لپیٹ لینا کہ ہاتھ باہر نہ نکل سکے، آستین کہنیوں تک چڑھا کر نماز پڑھنا کرتہ ہوتے ہوئے صرف تہ بند میں نماز پڑھنا، سستی اور لا پرواہی کی وجہ سے ننگے سر نماز پڑھنا، بعض علماء نے اسی (80) سے زائد مکروہات کو بیان کیا ہے۔

مکروہ تحریمی سے نماز واجب الاعادہ نہیں رہتی ہے اس سلسلے میں ضابطہ یہ ہے کہ وہ مکروہ تحریمی جس کا تعلق عین افعال سے ہو اس کراہت تحریمی سے نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے جیسے تعدیل ارکان چھوڑنا، یا تصویر والے کپڑے پر نماز پڑھنا ‘’کل صلوۃ ادیت مع کراہۃ التحریم تجب اعادتہا‘‘ جس کراہت تنزیہی کا تعلق عین ارکان سے نہ ہو بلکہ کراہت دوسری وجہ سے مثلاً سورتوں کا الٹ پلٹ کر کے پڑھنا یا فاسق کا نماز پڑھانا وغیرہ تو اس کا اعادہ واجب نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند