Frequently Asked Questions
متفرقات
Ref. No. 3705/47-10347
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ قسم کے الفاظ ہیں: اللہ تعالی کی قسم، کلام اللہ یا اللہ تعالی کی کسی صفت کی قسم وغیرہ۔ مذکورہ صورت میں قسم کے متعینہ الفاظ کا تلفظ نہیں ہے، اس لئے قسم منعقد نہیں ہوئی، اور کوئی کفارہ بھی لازم نہیں ہے، ورکنھا اللفظ المستعمل فیھا (ردالمحتار ج۳ ص ۷۰۴) ۔ مال فروخت کرتے وقت اپنے نفع میں کچھ کم کردینا پڑے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ ، اسی طرح کسی اور موقع پر مصلحت اختیار کرنا درست ہے، کوئی وجہ ممانعت نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 4133/48-10452
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ صورتِ مسئولہ میں سوال کے متعدد اجزاء ہیں، اس لیے ہر ایک کا الگ حکم درج کیا جاتا ہے:
(۱) اگر حقیقت یہی ہے کہ والد مرحوم اور ان کے تینوں بیٹے مل کر انڈوں کا کاروبار کرتے تھے، لیکن ابتداء میں نہ کوئی تحریری معاہدہ ہوا، نہ زبانی طور پر حصص متعین کیے گئے، نہ یہ طے ہوا کہ کس کا سرمایہ کتنا ہے اور نفع کس نسبت سے تقسیم ہوگا، تو محض مل کر کام کرنے سے شرعی شراکت (شرکتِ عقد) ثابت نہیں ہوتی۔لہٰذا اصل تحقیق درج ذیل امور پر موقوف ہے:کاروبار کا ابتدائی سرمایہ کس کا تھا؟دکان، مال اور سرمایہ کس کی ملکیت تھا؟خرید و فروخت کس کے نام سے ہوتی تھی؟نفع کس کی ملکیت سمجھا جاتا تھا؟اگر ابتدائی سرمایہ اور کاروبار والد مرحوم کا تھا اور بیٹے صرف ان کے ساتھ بطور معاون کام کرتے تھے، جبکہ شراکت کا کوئی معاہدہ نہ تھا، تو اصل کاروبار والد ہی کی ملکیت شمار ہوگا۔ محض مل کر کام کرنے سے شرعی شراکت ثابت نہیں ہوتی، جب تک شراکت کا معاہدہ یا سرمایہ کی شرکت ثابت نہ ہو۔اور جب کاروبار والد کی ملکیت تھا تو ان کے انتقال کے وقت موجود تمام کاروبار اور اموال وراثت میں تقسیم ہوں گے۔ہاں والد کے انتقال کے بعد اگر بھائیوں نے اپنی ذاتی محنت اور ذاتی سرمایہ سے جائیداد بنائی ہے تو اس میں بہنوں کا حصہ نہیں، لیکن اگر غیر تقسیم شدہ ترکہ سے کاروبار بڑھایا گیا تو بہنیں بھی اس میں اپنے شرعی حصے کی حق دار ہوں گی۔والدہ مرحومہ کے ترکہ میں تینوں بیٹے اور تینوں بیٹیاں وارث ہوں گے، ہر بیٹے کو دو دواور ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ ملے گا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 4114/48-10463
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ اگر حقیقت یہی ہے کہ ایک زمین مشترکہ رقم سے خریدی گئی تھی اور اس کے ساتھ فروخت کرنے والے نے قیمت لیے بغیر اضافی زمین بطور ہبہ بھی دے دی، تو اس اضافی زمین کا حکم اس بات پر موقوف ہے کہ ہبہ کس کو کیا گیا تھا۔ اگر ہبہ تمام خریداروں (تمام بھائیوں) کو کیا گیا تھا، یا عرف و قرائن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ اضافی زمین اسی مشترکہ خریداری کے ساتھ سب کے لیے دی گئی تھی، تو وہ بھی مشترکہ ملکیت ہوگی اور تقسیم کے وقت تمام بھائیوں میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔ اگر ہبہ صرف ایک مخصوص بھائی کو ذاتی طور پر کیا گیا تھا، مثلاً فروخت کرنے والے نے واضح طور پر کہا کہ "یہ اضافی زمین میں صرف فلاں بھائی کو ہبہ کرتا ہوں"، اور اس نے قبضہ بھی کر لیا، تو وہ زمین اسی بھائی کی ذاتی ملکیت ہوگی، دوسرے بھائی اس میں شریک نہیں ہوں گے۔ لہٰذا آپ کے سوال کا جواب صرف "ہبہ" کے لفظ سے متعین نہیں ہوگا، بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ہبہ کا مخاطب کون تھا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 4103/48-10390
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ (۱) اگر یہ نوٹ محض یادگاری، تاریخی یا نایاب چیز (collectible item) کی حیثیت رکھتے ہیں ، بازار میں ان کا رواج نہیں ہے، اور کوئی شخص انہیں شوق یا جمع کرنے کے مقصد سے خریدتا ہے، تو یہ خرید و فروخت اصولاً جائز ہے۔ کیونکہ یہاں معاملہ کرنسی کے تبادلے کا نہیں بلکہ ایک قدیم چیز کی خرید و فروخت کا ہے۔مثلاً کسی نوٹ کی اصل قیمت ایک روپیہ ہے لیکن وہ پرانا، نایاب یا خاص حالت میں ہونے کی وجہ سے کوئی شخص اسے پانچ ہزار یا زیادہ میں خریدتا ہے، تو یہ اس چیز کی اضافی قدر کے اعتبار سے ہے، اس لیے جائز ہے۔البتہ اگر حقیقت یہ ہو کہ نوٹ ابھی بھی عام چلنے والی کرنسی ہے اور صرف روپیہ کے بدلے زیادہ روپیہ لین دین ہو رہا ہے تو پھر یہ بیعِ صرف (کرنسی کا تبادلہ) کے احکام میں آئے گا، جس میں زیادتی کی گنجائش نہیں۔ مگر پرانے نوٹ عموماً اس حیثیت سے نہیں بلکہ نایاب چیز کی حیثیت سے فروخت ہوتے ہیں۔
(۲)اس کی سرمایہ کاری کا حکم میوچل فنڈ کی نوعیت پر موقوف ہے: (الف) اگر میوچل فنڈ سودی اداروں، حرام کاروبار یا سودی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے تو اس میں سرمایہ کاری جائز نہیں ہوگی، اور اس کی آمدنی بھی حلال نہیں ہوگی۔ (ب) اگر کوئی فنڈ شرعی اصولوں کے مطابق ہو، اس میں حرام کاروبار اور سودی معاملات شامل نہ ہوں، تو اس میں سرمایہ کاری کی گنجائش ہو سکتی ہے۔
صرف یہ بات کہ رقم بڑھتی اور گھٹتی ہے، اس سے وہ حلال یا حرام نہیں ہوجاتی؛ اصل دیکھا جائے گا کہ سرمایہ کاری کس کاروبار میں ہو رہی ہے اور منافع کس طریقے سے حاصل ہو رہے ہیں۔ (نوٹ: مفتیانِ کرام سے کسی مخصوص میوچل فنڈ کا نام اور اس کی تفصیل دکھا کر حتمی تصدیق کرلی جائے)۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 4077/47-10242
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ شریعت اسلامیہ میں رشوت کا لین دین حرام ہے ، تاہم مجبوری اور ظلم سے بچنے کی صورت میں دینے والے کے لیے گنجائش ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص اپنا جائز حق حاصل کرنے کے لیے یا ظلم سے بچنے کے لیے، مجبور ہو کر رشوت دے تو دینے والا گناہ گار نہیں ہوگا لیکن لینے والا بہرحال گناہگار ہوگا۔ آپ دل سے اس کو جائز نہ سمجھیں ، جہاں ممکن ہو، اس برائی کو روکنے کی کوشش کریں ، خود اس میں اضافہ یا خوشی سے حصہ نہ لیں، پوری دیانت کے ساتھ باقی رقم (55٪) صحیح مصرف میں لگائیں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 4012/47-10229
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ ادارہ صاحب نصاب نہیں ہوتاہے، ادارہ تو زکوۃ کی رقم جمع کرکے اس کے مستحقین پر خرچ کرتاہے، اس لئے اس کے پاس جو رقم ہے وہ نصاب سے زیادہ ہو تو بھی زکوۃ کی رقم اس ادارہ کو دے سکتے ہیں بشرطیکہ وہ صحیح مصارف میں خرچ کرتے ہوں۔ (۲) مرحوم کا کل ترکہ ۷۲ حصوں میں تقسیم ہوگا جن میں سے بیوی کو ۹ حصے، ہر ایک بیٹے کو ۱۴ حصے اور ہر ایک بیٹی کو ۷ حصے ملیں گے۔ یہ شرعی حق ہے، کسی کو بھی اس سے کم دینا جائز نہیں ہے۔ تقسیم کے بعد جو وارث اپنی مرضی سے کسی کو کچھ دیدے وہ اس کی طرف سے بغیر کسی دباو کے درست ہے۔ ڈیڑھ کروڑ میں سے مرحوم کی بیوی کو 1875000 روپئے، ہر ایک بیٹے کو 2916666 روپئے، اورہر ایک بیٹی کو 1458333 روپئے ملیں گے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 4011/47-10228
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔(۱) کسی سامان کو فروخت کرنے کے ساتھ کوئی شرط لگانا شرعا ناجائز ہے، حدیث میں ہے نہی عن بیع وشرط۔ اسی طرح کسی کو قرض دینے میں کسی خاص سامان کے خریدنے کی شرط لگانا بھی درست نہیں ہے، اس لئے کہ قرض لینے والا قرض کی رقم کا ذمہ دار ہے، اس سے دائن کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ (۲) زمین میں بھائیوں کا حق کیسے ہے اس کوبھی واضح کرکے سوال کرنا چاہئے تاہم اس کا خیال رکھیں کہ ہبہ کرنے والے نے جس کو ہبہ کیا ہے وہی اس کا مالک ہوتاہے۔ اگر کسی ایک بھائی کو ہی زمین ہبہ کی گئی ہے تو وہی اس کا مالک ہوگا، اس میں دوسرے بھائیوں کا حصہ نہیں ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 3964/47-10173
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ منگنی کے بعد آپ کوشش کریں کہ جلد از جلد نکاح منعقد ہوجائے، اس کے علاوہ اس مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، جب تک نکاح نہیں ہوتا ، روزہ رکھنے کا اہتمام کریں۔ اگر آپ منگیتر سے بات کرتے ہیں تو بات چیت کرنا بند کردیں۔ صبح و شام ۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ العظیم ۔ سو مرتبہ پڑھا کریں، اپنے آپ کو دوسرے کاموں میں زیادہ سے زیادہ مشغول رکھیں، تاکہ غیرضروری خیالات دل میں نہ آئیں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 3962/47-10174
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔سوال میں مذکور تمام امور میاں بیوی کے لئے جائز ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 3948/47-10152
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ صابرین کے معنی ہیں صبر کرنے والے، معنی کے اعتبار سے بالکل درست ہے، البتہ عربی قاعدہ کے اعتبار سے واحد مونث کا صیغہ ہونا چاہئے، جیسے صابرۃ، تو زیادہ بہتر ہے۔ مندرجہ ذیل ناموں میں سے بھی کوئی نام رکھ سکتے ہیں۔ حلیمۃ — بردبار، راضیہ — اللہ کی رضا پر راضی، شاکرہ — شکر گزار، طیبہ — پاکیزہ، آمنہ — امن والی۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند