Fiqh

Ref. No. 3965/47-10172

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بلا تقسیم میراث والد کے کاروبار کو آگے بڑھانے پر سارا کاروبار والد کی ہی ملکیت شمار ہوگام اور أولاد کی طرف سے جو بھی بڑھوتری و ترقی ہوئی وہ سب تبرع میں شمار ہوگی،  لہذا تمام جائداد کو اس طرح تقسیم کریں کہ مرحوم کی بیوی کو آٹھواں حصہ دیدیاجائے، اور باقی سات حصوں کو أولاد میں تقسیم کریں گے ، أولاد میں ہر بیٹی کو اکہرا اور  بیٹوں کو دوہرا حصہ دیاجائے گا۔یعنی کل جائداد کے 72 حصے کرکے 9 حصے مرحوم کی بیوی کو ، اور 14 حصے ہر ایک بیٹے کو، اور 7 حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔ تخریج حسب ذیل ہے:

مسئلہ۔۔۔۔۔۔8/72

بیوی          ابن       ابن      ابن      بنت    بنت   .بنت

9         14      14      14      7        7        7

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 3926/47-10132

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  کرایہ کی جومخصوص مدت طے ہوئی تھی کرایہ دار کو چاہئے تھا کہ اس مدت کی پاسداری کرے لیکن اگر کسی عذر کی وجہ سے اس نے وقت مقررہ سے پہلے مکان خالی کر دیا ہے تو مکان مالک کو چاہئے کہ عذر قبول کرے اور معاملہ ختم کر کے ضمانت کی رقم واپس کردے۔ ضمانت کی رقم مکمل لوٹائی جائے اس لیے کہ وہ امانت ہے۔

أما صفة الاجارة: فالاجارة عقد لازم اذا وقعت صحيحة عرية عن خيار الشرط والعيب والروية عن ماعة العلماء فلا تفسح من غير عذر وقال شريح انها غير لازمة وتفسح بلا عذر لأنها اباحة المنفعة فاشبهت الاعارية. (بدائع الصنائع: ج 4، ص: 201)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 3926/47-10132

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  کرایہ کی جومخصوص مدت طے ہوئی تھی کرایہ دار کو چاہئے تھا کہ اس مدت کی پاسداری کرے لیکن اگر کسی عذر کی وجہ سے اس نے وقت مقررہ سے پہلے مکان خالی کر دیا ہے تو مکان مالک کو چاہئے کہ عذر قبول کرے اور معاملہ ختم کر کے ضمانت کی رقم واپس کردے۔ ضمانت کی رقم مکمل لوٹائی جائے اس لیے کہ وہ امانت ہے۔

أما صفة الاجارة: فالاجارة عقد لازم اذا وقعت صحيحة عرية عن خيار الشرط والعيب والروية عن ماعة العلماء فلا تفسح من غير عذر وقال شريح انها غير لازمة وتفسح بلا عذر لأنها اباحة المنفعة فاشبهت الاعارية. (بدائع الصنائع: ج 4، ص: 201)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 3901/47-10098

In the name of Allah, the Most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

A person who is not formally educated in allopathic medicine, is not registered or licensed under this system of medicine, and is not properly acquainted with the correct use of medicines, their side effects, dosages, and possible complications, is not Islamically permitted to prescribe allopathic medicines, especially when there is no legal authorization to do so. Such practice may cause harm to human life.

If actual harm occurs, or there exists a strong likelihood of harm—which is commonly associated with allopathic medicines— this act is regarded in Shariah as haram and falls under the category of major sins. A strong possibility of harm to a patient is sufficient to establish its prohibition. Allopathic medicines involve serious risks when used without proper knowledge and expertise.

However, the income obtained in exchange for the medicines themselves is halal, and there is no objection to keeping or selling those medicines which are legally permitted.

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband 

Fiqh

Ref. No. 3899/47-10096

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔اگر نطفہ شوہر کا، بیضہ بیوی کا، رحم بھی بیوی کا ہو اور عمل نکاح کے قیام کے دوران ہوتو IVF کے ذریعے علاج شرعاً جائز ہے۔ اس میں نسب کے کسی اختلاط کا مفسدہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ عمل علاج کے درجے میں ہے، جبکہ شریعت میں علاج کرانا جائز بلکہ بعض اوقات مستحب ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 3870/47-10038

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔     بشرط صحت سوال  صورت مسئولہ میں جبکہ سب کو معلوم ہے کہ کرایہ کے پیسوں سے مسجد کے اخراجات اور مدرسہ کے اخراجات پورے ہوتے ہیں، اور دونوں کی انتظامیہ کمیٹی بھی ایک ہی ہے تو ایسی صورت میں حسب معمول مدرسہ کا لائٹ بل ، کمروں کے کرایہ سے اداکرنا درست ہے۔ مسجد پر قرض ہونے سے اس میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ ارکان ٹرسٹ کے مشورہ کے بغیر کوئی کام کرنا فتنہ کا باعث ہے، تاہم اگر مدرسہ کا میٹر الگ کردیا جائے اور اس کے لئے الگ چندہ کیاجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 3866/47-10004

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  قرض کا مطالبہ کرنا درست ہے اور اگر مقروض کو یاد نہ ہوتو اس کو یاد دلانا چاہئے  لیکن یاد دلانے کے لئے زیادہ رقم کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 3863/47-10007

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:۔  ایسی مسجد جہاں پنجوقتہ نماز باجماعت ہوتی ہو، اور امام و مؤذن مقرر ہوں، وہاں دوسری جماعت مکروہ ہے۔ مسافر کے لئے بھی جماعت ثانیہ کی اجازت نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ ایک موقع پر مسجد تشریف لائے تو جماعت ہوچکی تھی، تو آپ نے اپنےگھر پر گھروالوں کو جمع کرکے جماعت سے نماز پڑھی، جبکہ مسجد میں بھی جماعت کرنا ممکن تھا۔ اس لئے دوسری جماعت قائم کرنے سے احترزا کرنا چاہئے۔ تاہم اگر کوئی درست سمجھ کر جماعت ثانیہ کرتاہے، تو اس سے الجھنے کی ضرورت نہیں، جماعت ثانیہ سے لوگوں کو منع کیاجائے لیکن اگر زبردستی کریں تو اس کو چھوڑدیاجائے کیونکہ اس سے فتنہ و فساد کا   اندیشہ ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 3860/47-9992

In the name of Allah, the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

This matter originally began as a muzārabah (investment partnership). However, due to the dishonesty of the muzārib (working partner), it has now taken the ruling of a debt. Therefore, according to Sharī‘ah, it is obligatory for him to return your entire amount immediately. You are also entitled to pursue legal action.

If he continues to delay or avoid repayment, he will be considered guilty of misappropriating wealth (māl-e-ghaṣb), and there is a grave risk of severe accountability in the Hereafter.

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband

Fiqh

Ref. No. 3860/47-9992

In the name of Allah, the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

This matter originally began as a muzārabah (investment partnership). However, due to the dishonesty of the muzārib (working partner), it has now taken the ruling of a debt. Therefore, according to Sharī‘ah, it is obligatory for him to return your entire amount immediately. You are also entitled to pursue legal action.

If he continues to delay or avoid repayment, he will be considered guilty of misappropriating wealth (māl-e-ghaṣb), and there is a grave risk of severe accountability in the Hereafter.

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband