Frequently Asked Questions
Fiqh
Ref. No. 4073/47-10222
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ فقہِ اسلامی میں زراعت کی اس قسم کی شراکت کو عموماً مزارعت یا شرکتِ زراعت کہا جاتا ہے۔ شریعت میں اصولاً ایسی شراکت جائز ہے بشرطیکہ اس کی شرائط واضح اور متعین ہوں۔اگردونوں فریق باہمی رضامندی سے کام کریں، نفع فیصد یا حصہ (مثلاً آدھا، تہائی وغیرہ) کی صورت میں پہلے سے طے ہو، اخراجات واضح ہوں،نقصان بھی دونوں اپنے اپنے حصے کے مطابق برداشت کریں، تو ایسی شراکت شرعاً جائز ہے۔منافع کو مقرر رقم کی صورت میں نہیں بلکہ فیصد یا حصہ کی صورت میں طے کرنا ضروری ہے۔مثلاً:آدھا آدھا،یا 60٪ اور 40٪ وغیرہ۔پنیری اور فصل کے تمام اخراجات کو پہلے کل آمدنی سے منہا کرنا اور پھر باقی رقم کو حصوں کے مطابق تقسیم کرنا بھی درست ہے، بشرطیکہ یہ بات پہلے سے طے ہو۔اگر نقصان ہو جائے تونقصان بھی طے شدہ اصول کے مطابق دونوں کوبرداشت کرنا ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Fiqh
Ref. No. 4016/47-10226
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ زکاۃ کی مستحق طالبات جو بالغ ہیں اگر انہوں نے ذمہ دا رانِ مدرسہ کوباقاعدہ طور پر زکوۃ وصول کرنے کے لئے اپنا وکیل بنایا ہے، تو اس وکالت کی بنیاد پر ذمہ داران کا ان کی طرف سے زکاۃ وصول کرنا جائزہے؛ اس وصول شدہ زکوۃ کی رقم کو مستحق طالبات کی تعلیم، خوراک، رہائش، دیگر آلات علم و اساتذہ کی تنخواہوں میں خرچ کیا جاسکتاہے، کیونکہ ان طالبات کی طرف سے تملیک حکما پائی گئی ہے۔
زکاۃ کی رقم کو بلا تملیک حقیقی یا حکمی براہِ راست مدرسہ کی تعمیر، اساتذہ کی تنخواہوں، لائٹ بل اور دیگر عمومی اخراجات میں خرچ کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ زکاۃ میں تملیکِ فقیر شرط ہے۔غیرمستحق طالبات کے لیے صدقاتِ نافلہ، عطیات اور دیگر رقوم استعمال کی جائیں۔
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) (قوله: تمليكا) فلا يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك ولو أطعمه عنده ناويا الزكاة لا تكفي ط وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ كما في المحيط.(الدر مع الرد، كتاب الزكاة،باب المصرف، 3/341،ط: رشيدية)
وأما ولد الغنى فان كان صغيرا لم يجز الدفع إليه وان كان فقيرا لامال له لان الولد الصغير يعد غنيا بغنا أبيه وان كان كبيرا فقيرا يجوز لانه لا يعد غنيا بمال أبيه فكان كالأجنبي.( بدائع الصنائع: كتاب الزكاة،2/474،ط:رشيدية)
و فیہ ایضا۔۔وكذا لو دفع زكاة ماله إلى صبى فقير أومجنون فقير وقبض له وليه أبوه أو جده أو وصيهما جاز لان الولى يملك قبض الصدقة عنه ....... ولا يجوز قبض الأجنبي للفقير البالغالعاقل الا بتوكيله لانه لا ولاية له عليه فلا بد من أمره كما في قبض الهبة.(كتاب الزكاة،فصل: في ركن الزكاة،2/455،ط: رشيدية)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Fiqh
Ref. No. 3965/47-10172
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بلا تقسیم میراث والد کے کاروبار کو آگے بڑھانے پر سارا کاروبار والد کی ہی ملکیت شمار ہوگام اور أولاد کی طرف سے جو بھی بڑھوتری و ترقی ہوئی وہ سب تبرع میں شمار ہوگی، لہذا تمام جائداد کو اس طرح تقسیم کریں کہ مرحوم کی بیوی کو آٹھواں حصہ دیدیاجائے، اور باقی سات حصوں کو أولاد میں تقسیم کریں گے ، أولاد میں ہر بیٹی کو اکہرا اور بیٹوں کو دوہرا حصہ دیاجائے گا۔یعنی کل جائداد کے 72 حصے کرکے 9 حصے مرحوم کی بیوی کو ، اور 14 حصے ہر ایک بیٹے کو، اور 7 حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔ تخریج حسب ذیل ہے:
مسئلہ۔۔۔۔۔۔8/72
بیوی ابن ابن ابن بنت بنت .بنت
9 14 14 14 7 7 7
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Fiqh
Ref. No. 3926/47-10132
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ کرایہ کی جومخصوص مدت طے ہوئی تھی کرایہ دار کو چاہئے تھا کہ اس مدت کی پاسداری کرے لیکن اگر کسی عذر کی وجہ سے اس نے وقت مقررہ سے پہلے مکان خالی کر دیا ہے تو مکان مالک کو چاہئے کہ عذر قبول کرے اور معاملہ ختم کر کے ضمانت کی رقم واپس کردے۔ ضمانت کی رقم مکمل لوٹائی جائے اس لیے کہ وہ امانت ہے۔
أما صفة الاجارة: فالاجارة عقد لازم اذا وقعت صحيحة عرية عن خيار الشرط والعيب والروية عن ماعة العلماء فلا تفسح من غير عذر وقال شريح انها غير لازمة وتفسح بلا عذر لأنها اباحة المنفعة فاشبهت الاعارية. (بدائع الصنائع: ج 4، ص: 201)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Fiqh
Ref. No. 3926/47-10132
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ کرایہ کی جومخصوص مدت طے ہوئی تھی کرایہ دار کو چاہئے تھا کہ اس مدت کی پاسداری کرے لیکن اگر کسی عذر کی وجہ سے اس نے وقت مقررہ سے پہلے مکان خالی کر دیا ہے تو مکان مالک کو چاہئے کہ عذر قبول کرے اور معاملہ ختم کر کے ضمانت کی رقم واپس کردے۔ ضمانت کی رقم مکمل لوٹائی جائے اس لیے کہ وہ امانت ہے۔
أما صفة الاجارة: فالاجارة عقد لازم اذا وقعت صحيحة عرية عن خيار الشرط والعيب والروية عن ماعة العلماء فلا تفسح من غير عذر وقال شريح انها غير لازمة وتفسح بلا عذر لأنها اباحة المنفعة فاشبهت الاعارية. (بدائع الصنائع: ج 4، ص: 201)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Fiqh
Ref. No. 3901/47-10098
In the name of Allah, the Most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
A person who is not formally educated in allopathic medicine, is not registered or licensed under this system of medicine, and is not properly acquainted with the correct use of medicines, their side effects, dosages, and possible complications, is not Islamically permitted to prescribe allopathic medicines, especially when there is no legal authorization to do so. Such practice may cause harm to human life.
If actual harm occurs, or there exists a strong likelihood of harm—which is commonly associated with allopathic medicines— this act is regarded in Shariah as haram and falls under the category of major sins. A strong possibility of harm to a patient is sufficient to establish its prohibition. Allopathic medicines involve serious risks when used without proper knowledge and expertise.
However, the income obtained in exchange for the medicines themselves is halal, and there is no objection to keeping or selling those medicines which are legally permitted.
And Allah knows best
Darul Ifta
Darul Uloom Waqf Deoband
Fiqh
Ref. No. 3899/47-10096
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔اگر نطفہ شوہر کا، بیضہ بیوی کا، رحم بھی بیوی کا ہو اور عمل نکاح کے قیام کے دوران ہوتو IVF کے ذریعے علاج شرعاً جائز ہے۔ اس میں نسب کے کسی اختلاط کا مفسدہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ عمل علاج کے درجے میں ہے، جبکہ شریعت میں علاج کرانا جائز بلکہ بعض اوقات مستحب ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Fiqh
Ref. No. 3870/47-10038
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں جبکہ سب کو معلوم ہے کہ کرایہ کے پیسوں سے مسجد کے اخراجات اور مدرسہ کے اخراجات پورے ہوتے ہیں، اور دونوں کی انتظامیہ کمیٹی بھی ایک ہی ہے تو ایسی صورت میں حسب معمول مدرسہ کا لائٹ بل ، کمروں کے کرایہ سے اداکرنا درست ہے۔ مسجد پر قرض ہونے سے اس میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ ارکان ٹرسٹ کے مشورہ کے بغیر کوئی کام کرنا فتنہ کا باعث ہے، تاہم اگر مدرسہ کا میٹر الگ کردیا جائے اور اس کے لئے الگ چندہ کیاجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Fiqh
Ref. No. 3866/47-10004
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ قرض کا مطالبہ کرنا درست ہے اور اگر مقروض کو یاد نہ ہوتو اس کو یاد دلانا چاہئے لیکن یاد دلانے کے لئے زیادہ رقم کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Fiqh
Ref. No. 3863/47-10007
الجواب
الجواب وباللہ التوفیق:۔ ایسی مسجد جہاں پنجوقتہ نماز باجماعت ہوتی ہو، اور امام و مؤذن مقرر ہوں، وہاں دوسری جماعت مکروہ ہے۔ مسافر کے لئے بھی جماعت ثانیہ کی اجازت نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ ایک موقع پر مسجد تشریف لائے تو جماعت ہوچکی تھی، تو آپ نے اپنےگھر پر گھروالوں کو جمع کرکے جماعت سے نماز پڑھی، جبکہ مسجد میں بھی جماعت کرنا ممکن تھا۔ اس لئے دوسری جماعت قائم کرنے سے احترزا کرنا چاہئے۔ تاہم اگر کوئی درست سمجھ کر جماعت ثانیہ کرتاہے، تو اس سے الجھنے کی ضرورت نہیں، جماعت ثانیہ سے لوگوں کو منع کیاجائے لیکن اگر زبردستی کریں تو اس کو چھوڑدیاجائے کیونکہ اس سے فتنہ و فساد کا اندیشہ ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند