Fiqh

Ref. No. 4128/48-10483

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔(۱) کیا حدیث کے مطلق ہونے کی وجہ سے فقہاء کی تشریحات کی کوئی حیثیت نہیں؟اس مسئلہ کی اصل حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:«وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَنَتْفِ الْإِبْطِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ أَلَّا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً»(صحیح مسلم، رقم: 258)

اس حدیث میں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑنے کی حد بیان کی گئی ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ چالیس دن تک ہر کیفیت اور ہر نیت کے ساتھ چھوڑنا یکساں مطلوب یا پسندیدہ ہے۔فقہاء نے اسی حدیث اور دیگر شرعی اصولوں کی روشنی میں یہ تفصیل بیان کی ہے کہ ہر جمعہ یا ہفتہ میں ناخن کاٹنا بہتر ہے۔ضرورت کے مطابق پندرہ دن تک تاخیر کی گنجائش ہے۔چالیس دن سے زیادہ چھوڑنا ناجائز اور گناہ ہے۔

یہ تقسیم حدیث کے خلاف نہیں بلکہ حدیث کی فقہی تشریح اور نصوص کے مجموعی فہم پر مبنی ہے۔ یہی کام ائمۂ مجتہدین اور فقہاء کا منصب ہے۔ اگر ہر مسئلہ میں صرف حدیث کے ظاہری الفاظ ہی کو معتبر مانا جائے اور فقہی استنباط کو رد کر دیا جائے تو فقہ کا پورا نظام ہی معطل ہو جائے گا، حالانکہ امت چودہ صدیوں سے قرآن و حدیث کو فقہاء ہی کے فہم کے مطابق سمجھتی آئی ہے۔لہٰذا یہ کہنا کہ "جب تک حدیث میں لفظِ افضل نہ ہو، افضل کہنا درست نہیں"، ایک صحیح اصول نہیں ہے، کیونکہ بہت سے احکامِ استحباب، کراہت اور افضلیت فقہاء نے نصوص کے مجموعی استقراء سے بیان کیے ہیں۔(۲) کیا چالیس دن کی رخصت کو فیشن اور نفسانی خواہش کے لیے استعمال کرنا درست ہے؟

حدیث میں مذکور چالیس دن آخری حد ہے، نہ کہ مطلوب مدت۔سننِ فطرت کا مقصد صفائی، طہارت اور فطری ہیئت کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ ناخن بڑھا کر ان کی آرائش و زیبائش کرنا۔اگر کوئی عورت محض وقتی طور پر کسی ضرورت کی وجہ سے چند دن ناخن بڑھنے دے تو اس میں حرج نہیں، لیکن اگر وہ باقاعدہ فیشن، مخصوص ڈیزائن یا لمبے ناخن رکھنے کی رغبت کی بنا پر مسلسل ناخن بڑھاتی رہے، پھر انہیں نیل پالش وغیرہ سے سجاتی رہے، اور اسی مقصد سے شریعت کی دی ہوئی رخصت کو اختیار کرے، تو اگرچہ چالیس دن سے پہلے کاٹ دینے کی وجہ سے وہ اس حدیث کی ظاہری ممانعت میں داخل نہیں ہوگی، لیکن یہ عمل روحِ سنت اور سننِ فطرت کے مقصد کے خلاف ہے، کیونکہ رخصت کا مقصد خواہشات کی تکمیل نہیں بلکہ آسانی ہے۔فقہاء نے تصریح کی ہے کہ:"الرخص لا تناط بالهوى"یعنی رخصتوں کو نفسانی خواہشات کا ذریعہ نہیں بنایا جاتا۔(۳) مشابہت کا تعلق مدت سے ہے یا ہیئت سے؟مشابہت (تشبہ) کا مدار صرف مدت پر نہیں بلکہ ہیئت، انداز، شعار اور مقصد پر بھی ہوتا ہے۔لہٰذا اگر ناخن اس انداز سے رکھے جائیں جو غیر مسلم یا فاسق معاشروں میں فیشن اور شعار بن چکا ہو، اور اسی طرز کو اپنانا مقصود ہو، تو یہ تشبہ کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

البتہ صرف اس وجہ سے کہ غیر مسلم بھی ناخن رکھتے ہیں، ہر صورت میں تشبہ کا حکم نہیں لگایا جائے گا، بلکہ نیت، عرف اور اختیار کی گئی ہیئت کو بھی دیکھا جائے گا۔ (۴) کیا ایسی معلمہ سے علم حاصل کرنا درست ہے؟

اگر مذکورہ معلمہ اہلِ سنت والجماعت کے صحیح العقیدہ ہوں اور ان کی غلطی کسی ایک فقہی یا اجتہادی مسئلہ تک محدود ہو، تو محض اس بنا پر ان سے تمام دینی علوم حاصل کرنا ناجائز نہیں کہا جائے گا۔البتہ اگر کسی شخص کا مستقل مزاج یہ ہو کہ وہ فقہائے امت کے مسلمہ اصولوں کو حقیر سمجھے، ہر مسئلہ میں صرف اپنی فہم کو ترجیح دے، یا رخصتوں کو خواہشات کے تابع بنا کر پیش کرے، تو ایسی فکر سے احتیاط ضروری ہے، کیونکہ طالبِ علم کا علمی منہج بھی اپنے استاذ سے متاثر ہوتا ہے۔اس لیے طالبات کو چاہیے کہ وہ ایسے مسائل میں مستند فقہائے اہلِ سنت، خصوصاً اکابرِ دیوبند کی تحقیقات کو اختیار کریں اور اختلافی گفتگو میں ادب، حسنِ ظن اور حکمت کو ملحوظ رکھیں۔

پہلے سوال کے منہج بحث سے محسوس ہوتاہے کہ معلمہ صاحبہ اہل حدیث مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہیں، یا ان سے متاثر ہیں، اگر ایسا ہے تو ان سے حنفی طالبات کو علم حاصل کرنے سے احتراز کرنا چاہئے ۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 4108/48-10395

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔  صورتِ مسئولہ میں آپ کے والدین کے انتقال کے بعد جو 28 بیگھہ زمین چھوڑی گئی، اس میں تمام شرعی ورثاء کا حصہ ہوگا۔ صرف بھائیوں کا آپس میں تقسیم کرلینا اور بہنوں کو حصہ نہ دینا شرعاً درست نہیں ہے۔آپ نے بتایا کہ وارثین میں چار بھائی اور چھ بہنیں ہیں، اور والدین دونوں کا انتقال ہوچکا ہے، نیز دادا دادی وغیرہ بھی پہلے انتقال کرچکے تھے۔ تو اگر اس کے علاوہ کوئی اور وارث (مثلاً بیوہ/شوہر وغیرہ) موجود نہ ہو تو اصول یہ ہوگا کہ:ایک بھائی کا حصہ = دو بہنوں کے برابر ہوگا۔ 28 بیگھہ کو 14 حصوں میں تقسیم کریں گے، ہر بھائی کو  چار بیگھے،اور ہر بہن  کو دو بیگھے ملیں گے۔  لہٰذا آپ کے حصے میں شرعاً  چار بیگھے زمین آتی ہے، سات بیگھے نہیں۔آپ کے پاس جو 7 بیگھے آیا ہے، ان میں سے چار بیگھے ہی شرعا آپ کے ہیں۔ باقی 3 بیگھے میں آپ کی بہنوں کا حق ہے (، گر آپ نے باقی بھائیوں کے حصوں کے ساتھ برابر تقسیم کرلی ہے، ان 3 بیگھہ کو تمام زندہ بہنوں میں برابر برابر تقسیم کریں، کسی ایک بہن کو دینا اور دوسری کو محروم کرنا درست نہیں۔

جو بہن آپ نے ذکر کی کہ کنواری حالت میں فوت ہوگئی تھی، اگر والدین کے انتقال کے وقت وہ زندہ نہیں تھی تو وہ وارث نہیں ہوگی۔ اگر والدین کی وفات کے وقت زندہ تھی تو اس کا حصہ پہلے اس کو ملتا، پھر اس کے انتقال کے بعد اس کے شرعی وارثوں کو منتقل ہوتا۔

لہٰذا مکمل تقسیم کے لیے والدین کی وفات کی تاریخ، اس وقت زندہ ورثاء کی مکمل تفصیل اور فوت شدہ بہن کی وفات کا وقت معلوم کرنا ضروری ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 4081/48-10247

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔جی ایسی صورت میں وضو درست ہوجائے گا، ۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 4078/47-10243

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔آپ کی بیان کردہ صورت جائز ہےبشرطیکہ نفع فیصد کے مطابق ہو، کوئی مقررہ رقم نہ ہو، نفع کی ضمانت نہ ہو اور ہر فریق اپنا کام واضح طور پر کرے ۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 4073/47-10222

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ فقہِ اسلامی میں زراعت کی اس قسم کی شراکت کو عموماً مزارعت یا شرکتِ زراعت کہا جاتا ہے۔ شریعت میں اصولاً ایسی شراکت جائز ہے بشرطیکہ اس کی شرائط واضح اور متعین ہوں۔اگردونوں فریق باہمی رضامندی سے کام کریں، نفع فیصد یا حصہ (مثلاً آدھا، تہائی وغیرہ) کی صورت میں پہلے سے طے ہو، اخراجات واضح ہوں،نقصان بھی دونوں اپنے اپنے حصے کے مطابق برداشت کریں، تو ایسی شراکت شرعاً جائز ہے۔منافع کو مقرر رقم کی صورت میں نہیں بلکہ فیصد یا حصہ کی صورت میں طے کرنا ضروری ہے۔مثلاً:آدھا آدھا،یا 60٪ اور 40٪ وغیرہ۔پنیری اور فصل کے تمام اخراجات کو پہلے کل آمدنی سے منہا کرنا اور پھر باقی رقم کو حصوں کے مطابق تقسیم کرنا بھی درست ہے، بشرطیکہ یہ بات پہلے سے طے ہو۔اگر نقصان ہو جائے تونقصان بھی طے شدہ اصول کے مطابق  دونوں کوبرداشت  کرنا ہوگا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 4016/47-10226

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ زکاۃ کی مستحق طالبات  جو بالغ ہیں اگر انہوں نے  ذمہ دا رانِ مدرسہ کوباقاعدہ طور پر زکوۃ وصول کرنے کے لئے اپنا وکیل بنایا ہے، تو اس وکالت کی بنیاد پر ذمہ داران کا ان کی طرف سے زکاۃ وصول کرنا جائزہے؛ اس وصول شدہ زکوۃ کی رقم کو مستحق طالبات کی تعلیم، خوراک، رہائش، دیگر آلات علم و اساتذہ کی تنخواہوں میں خرچ کیا جاسکتاہے، کیونکہ ان طالبات کی طرف سے تملیک حکما پائی گئی ہے۔

 زکاۃ کی رقم کو بلا تملیک  حقیقی یا حکمی براہِ راست مدرسہ کی تعمیر، اساتذہ کی تنخواہوں، لائٹ بل اور دیگر عمومی اخراجات میں خرچ کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ زکاۃ میں تملیکِ فقیر شرط ہے۔غیرمستحق طالبات کے لیے صدقاتِ نافلہ، عطیات اور دیگر رقوم استعمال کی جائیں۔

ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) (قوله: تمليكا) فلا يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك ولو أطعمه عنده ناويا الزكاة لا تكفي ط وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ كما في المحيط.(الدر مع الرد، كتاب الزكاة،باب المصرف، 3/341،ط: رشيدية)

وأما ولد الغنى فان كان صغيرا لم يجز الدفع إليه وان كان فقيرا لامال له لان الولد الصغير يعد غنيا بغنا أبيه وان كان كبيرا فقيرا يجوز لانه لا يعد غنيا بمال أبيه فكان كالأجنبي.( بدائع الصنائع: كتاب الزكاة،2/474،ط:رشيدية)

و فیہ ایضا۔۔وكذا لو دفع زكاة ماله إلى صبى فقير أومجنون فقير وقبض له وليه أبوه أو جده أو وصيهما جاز لان الولى يملك قبض الصدقة عنه ....... ولا يجوز قبض الأجنبي للفقير البالغالعاقل الا بتوكيله لانه لا ولاية له عليه فلا بد من أمره كما في قبض الهبة.(كتاب الزكاة،فصل: في ركن الزكاة،2/455،ط: رشيدية)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 3965/47-10172

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بلا تقسیم میراث والد کے کاروبار کو آگے بڑھانے پر سارا کاروبار والد کی ہی ملکیت شمار ہوگام اور أولاد کی طرف سے جو بھی بڑھوتری و ترقی ہوئی وہ سب تبرع میں شمار ہوگی،  لہذا تمام جائداد کو اس طرح تقسیم کریں کہ مرحوم کی بیوی کو آٹھواں حصہ دیدیاجائے، اور باقی سات حصوں کو أولاد میں تقسیم کریں گے ، أولاد میں ہر بیٹی کو اکہرا اور  بیٹوں کو دوہرا حصہ دیاجائے گا۔یعنی کل جائداد کے 72 حصے کرکے 9 حصے مرحوم کی بیوی کو ، اور 14 حصے ہر ایک بیٹے کو، اور 7 حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔ تخریج حسب ذیل ہے:

مسئلہ۔۔۔۔۔۔8/72

بیوی          ابن       ابن      ابن      بنت    بنت   .بنت

9         14      14      14      7        7        7

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 3926/47-10132

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  کرایہ کی جومخصوص مدت طے ہوئی تھی کرایہ دار کو چاہئے تھا کہ اس مدت کی پاسداری کرے لیکن اگر کسی عذر کی وجہ سے اس نے وقت مقررہ سے پہلے مکان خالی کر دیا ہے تو مکان مالک کو چاہئے کہ عذر قبول کرے اور معاملہ ختم کر کے ضمانت کی رقم واپس کردے۔ ضمانت کی رقم مکمل لوٹائی جائے اس لیے کہ وہ امانت ہے۔

أما صفة الاجارة: فالاجارة عقد لازم اذا وقعت صحيحة عرية عن خيار الشرط والعيب والروية عن ماعة العلماء فلا تفسح من غير عذر وقال شريح انها غير لازمة وتفسح بلا عذر لأنها اباحة المنفعة فاشبهت الاعارية. (بدائع الصنائع: ج 4، ص: 201)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 3926/47-10132

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  کرایہ کی جومخصوص مدت طے ہوئی تھی کرایہ دار کو چاہئے تھا کہ اس مدت کی پاسداری کرے لیکن اگر کسی عذر کی وجہ سے اس نے وقت مقررہ سے پہلے مکان خالی کر دیا ہے تو مکان مالک کو چاہئے کہ عذر قبول کرے اور معاملہ ختم کر کے ضمانت کی رقم واپس کردے۔ ضمانت کی رقم مکمل لوٹائی جائے اس لیے کہ وہ امانت ہے۔

أما صفة الاجارة: فالاجارة عقد لازم اذا وقعت صحيحة عرية عن خيار الشرط والعيب والروية عن ماعة العلماء فلا تفسح من غير عذر وقال شريح انها غير لازمة وتفسح بلا عذر لأنها اباحة المنفعة فاشبهت الاعارية. (بدائع الصنائع: ج 4، ص: 201)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 3901/47-10098

In the name of Allah, the Most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

A person who is not formally educated in allopathic medicine, is not registered or licensed under this system of medicine, and is not properly acquainted with the correct use of medicines, their side effects, dosages, and possible complications, is not Islamically permitted to prescribe allopathic medicines, especially when there is no legal authorization to do so. Such practice may cause harm to human life.

If actual harm occurs, or there exists a strong likelihood of harm—which is commonly associated with allopathic medicines— this act is regarded in Shariah as haram and falls under the category of major sins. A strong possibility of harm to a patient is sufficient to establish its prohibition. Allopathic medicines involve serious risks when used without proper knowledge and expertise.

However, the income obtained in exchange for the medicines themselves is halal, and there is no objection to keeping or selling those medicines which are legally permitted.

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband