تجارت و ملازمت

Ref. No. 4152/48-10481

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔مضاربت میں شرعی اصول یہ ہے کہ منافع دونوں فریقوں کے درمیان پہلے سے طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے، جبکہ اصل سرمایہ میں ہونے والے مالی نقصان کا بوجھ صرف رب المال پر ہوتا ہے، اور مضارب کا نقصان اس کی محنت اور وقت کے ضائع ہونے کی صورت میں ہوتا ہے، الا یہ کہ اس کی تعدی، کوتاہی یا شرط کی خلاف ورزی ثابت ہو۔

لہٰذا سوال میں مذکور یہ شرط کہ "اگر نقصان ہوگا تو نقصان صرف زید برداشت کرے گا"، اگر اس سے مراد اصل سرمایہ کا نقصان ہے تو یہ شرط درست اور مقتضائے عقدِ مضاربت کے مطابق ہے۔البتہ سائن بورڈ اور لیٹر ہیڈ پر کسی مشہور ڈاکٹر کا نام محض کاروبار کی شہرت اور گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے استعمال کرنا، اور اس نام کے استعمال کے عوض ماہانہ دس ہزار روپے وصول کرنا، شرعاً جائز نہیں ہے۔ لہٰذا اس مد میں وصول کی گئی رقم کا استحقاق ثابت نہیں ہوگا، اور جس شخص سے یہ رقم وصول کی گئی ہے اسے واپس کرنا، یا اس سے معاف کرانا ضروری ہوگا۔

لہٰذا سوالات کے جوابات یہ ہیں: (۱) مذکورہ تفصیل کے مطابق مضاربت کا عقد صحیح تھا۔(۲) چونکہ عقد صحیح تھا، اس لیے اس کے تحت حاصل ہونے والا نفع بھی حلال اور صحیح ہے، اور باہمی رضامندی سے حساب وکتاب مکمل ہوجانے کے بعد اس منافع یا سابقہ لین دین کو واپس کرنا لازم نہیں۔(۳) محض ڈاکٹر کا نام استعمال کرنے کے عوض رقم لینا جائز نہیں۔ لہٰذا اس مد میں وصول کی گئی رقم بلااستحقاق وصول کی گئی ہے، اس لیے اسے ادا کرنے والے کو واپس کرنا، یا اس سے معاف کرانا ضروری ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

تجارت و ملازمت

Ref. No. 4134/48-10453

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ صورتِ مسئولہ میں مریض کو کسی مخصوص لیبارٹری، ڈائیگناسٹک سینٹر یا الٹرا ساؤنڈ سینٹر کی طرف بھیجنے کے عوض وہاں سے ڈاکٹر یا طبی عملہ کو ملنے والی رقم کا حکم اس کی حقیقت پر موقوف ہے۔اگر یہ رقم محض اس لیے دی جاتی ہے کہ ڈاکٹر مریض کو اسی مخصوص لیبارٹری کی طرف بھیجے، اور مریض کو اس کمیشن کی اطلاع نہ ہو، نیز ڈاکٹر کی سفارش میں اس ذاتی مالی منفعت کا بھی دخل ہو، تو ایسی رقم شرعاً جائز نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر مریض کا امین اور خیر خواہ ہوتا ہے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ مریض کو صرف اس جگہ بھیجے جہاں مریض کا زیادہ فائدہ اور بہتر علاج یا تشخیص ہو۔ اگر مریض کی لاعلمی میں ریفرل کے بدلے کمیشن وصول کیا جائے تو یہ امانت اور خیر خواہی کے تقاضے کے خلاف ہے، اور فقہاء نے اسے ناجائز منفعت اور رشوت کے مشابہ قرار دیا ہے، خواہ مریض سے لی جانے والی فیس عام نرخ کے مطابق ہی کیوں نہ ہو۔

لہٰذا سوال میں مذکور صورت، جہاں مریض سے پوری فیس وصول کی جاتی ہے اور بعد میں اسی فیس کا ایک حصہ ڈاکٹر کو صرف ریفر کرنے کی وجہ سے دیا جاتا ہے، شرعاً جائز نہیں، اگرچہ مریض سے کوئی اضافی رقم وصول نہ کی جائے، کیونکہ یہ رقم درحقیقت مریض کے ریفرل کا عوض ہے، نہ کہ کسی مستقل جائز خدمت کی اجرت۔لہٰذا ڈاکٹر کا منصب امانت اور خیر خواہی کا متقاضی ہے، اس لیے اس منصب کو ذاتی کمیشن حاصل کرنے کا ذریعہ بنانا درست نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

تجارت و ملازمت

Ref. No. 4130/48-10449

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کی کمیٹی (بیسی) پہلے ہی نکل چکی ہے، تو اس کے بعد جو اقساط آپ کے ذمہ باقی ہیں، وہ درحقیقت ایک قرض کی حیثیت رکھتی ہیں، جس کی ادائیگی آپ پر لازم ہے۔  اور کمیٹی کے ہر فرد پر پوری رقم کی ادائیگی لازم ہے، کسی سے کم لینا اور کسی سے زیادہ لینا جائز نہیں ہے۔ اور جس کے پاس پیسے جمع ہورہے ہیں ان کو رقم میں تخفیف کا اختیار نہیں ہے۔ آپ کو پوری رقم ادا کرنا لازم ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

تجارت و ملازمت

Ref. No. 4096/47-10355

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ شریعتِ مطہرہ میں کسی بھی تجارت کے جائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ: معاملہ حقیقی مال یا منفعت پر مبنی ہو ، اس میں ابہام (غرر) نہ ہو،دھوکہ، فریب یا مصنوعی نفع شامل نہ ہو ، اور کمائی کا ذریعہ حقیقی اور واضح ہو ، مذکورہ صورت میں: ٹوکن کی حقیقی حیثیت اور بیرونی قدر غیر واضح ہے ، خرید و فروخت ایک  بند نظام میں محدود ہے ، نفع کا بڑا حصہ بونس اور نئے صارفین کی رقم پر موقوف معلوم ہوتا ہے ، حقیقی تجارت یا پیداوار کا کوئی واضح ثبوت نہیں ، ایسی صورت میں یہ معاملہ شدید غرر (، شبہ اور احتمالِ دھوکہ پر مشتمل ہے۔اگر کسی نظام میں کمائی کا انحصار: نئے لوگوں کی رقم آنے پر ہو ، اور پرانے لوگوں کو اسی سے نفع دیا جائے ، تو یہ طریقہ مشابہ بہ سودی نظام کے قریب ہو جاتا ہے، جو شرعاً ناجائز ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

تجارت و ملازمت

Ref. No. 4095/47-10354

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ (۱) شریعتِ مطہرہ میں رزق کے حصول کے لیے جائز اسباب اختیار کرنا اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا دونوں لازم ہیں۔ محض وظیفہ پر اکتفا کرنا اور اسباب کو ترک کر دینا درست نہیں، بلکہ دونوں کو جمع کرنا ضروری ہے۔ (۲) اگر کسی کام میں طویل عرصہ کے باوجود مہارت حاصل نہ ہو رہی ہو اور اس سے ذہنی و معاشی تنگی بڑھ رہی ہو، تو ایسے کام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا جائز ذریعۂ معاش اختیار کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ دوسرا ذریعہ اختیار کرنے کی مناسب تدبیر کی جائے اور اچانک بے روزگاری میں مبتلا نہ ہو۔ (۳) اہل و عیال کی کفالت مرد پر واجب ہے، اس لیے اسبابِ رزق تلاش کرنا اور اپنی صلاحیت کے مطابق نیا ہنر سیکھنا یا دوسرا کام اختیار کرنا ضروری ہے، اور اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ مطلوب ہے۔ (۴) تنگیٔ معاش اور پریشانی کے ازالہ کے لیے درج ذیل اعمال اختیار کرنا مفید ہے: کثرت سے استغفار کرنا۔ پانچ وقت کی نماز کی پابندی اور خشوع کے ساتھ ادا کرنا۔ حلال رزق کی کوشش کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا۔ بطورِ وظیفہ درج ذیل پڑھنا مفید ہے: ہر نماز کے بعد:"اللّٰهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ" روزانہ کثرت سے:"أستغفرُ الله" اور سورۃ الواقعہ کا معمول بنانا بھی اہلِ علم کے نزدیک مجرب ہے۔ (۵) ذہنی دباؤ اور شدید پریشانی کی صورت میں مناسب طبی یا مشاورتی علاج اختیار کرنا بھی جائز ہے، بلکہ بعض اوقات ضروری ہو جاتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

تجارت و ملازمت

Ref. No. 4080/48-10246

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔آپ نے پیسے دیے،لیکن آپ نے خود گاڑی خریدی ہی نہیں ،گاڑی کسی اور نے (دبئی والے شخص نے) خریدی ۔ شریعت میں اصول ہے:جو چیز آپ بیچ رہے ہیں، وہ پہلے آپ کی ملکیت میں آنی چاہیے،یہاں آپ غیر مملوک چیز بیچ رہے ہیں، جو ناجائز ہے۔ لاتبع مالیس عندک (الحدیث)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

تجارت و ملازمت

Ref. No. 4071/47-10220

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔عام تجارتی انشورنس میں سود اور دیگر شرعی قباحتوں کی وجہ سے فقہائے کرام نے اسے ناجائز قرار دیا ہے۔ تاہم صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ کا اصل تعلق ڈاکٹر کے ساتھ ہے۔آپ صرف دفتری اور تکنیکی کام(میڈیکل بلنگ اور ریکارڈ رکھنا) انجام دیتی ہیں،آپ نہ انشورنس کا معاہدہ کرتی ہیں اور نہ سودی لین دین میں شریک ہوتی ہیں، اورآپ کو تنخواہ ڈاکٹر کی طرف سے ملتی ہے۔اس لیے اس نوعیت کا کام اصولاً جائز ہے اور اس کی آمدنی حلال شمار ہوگی۔البتہ چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:بلنگ یا کلیم میں کسی قسم کی جھوٹ یا دھوکہ دہی شامل نہ ہو،مریض یا انشورنس کمپنی کے ساتھ غلط معلومات یا جعلی کلیم نہ بنایا جائے اورکام صرف دفتری معاونت تک محدود ہو اور کسی ناجائز معاملہ میں براہِ راست تعاون نہ ہو۔اگر ان امور کی پابندی کی جائے تو اس کام کی شرعاً  گنجائش ہے،تاہم احیتاط کا تقاضہ ہے کہ  اس سے بھی بچاجائے۔ 

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

تجارت و ملازمت

Ref. No. 4068/47-10217

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔قسطوں پر خرید و فروخت (بیع بالتقسیط) شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ خرید و فروخت کے وقت کل قیمت متعین اور طے شدہ ہو اور بعد میں اس میں کوئی اضافہ نہ کیا جائے۔رہا یہ سوال کہ معاہدے میں یہ شرط رکھی جائے کہ اگر خریدار کسی ایک قسط کی ادائیگی نہ کرے تو باقی تمام رقم فوراً واجب الادا ہو جائے گی، تو فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اس طرح کی شرط لگانا جائز ہے؛ کیونکہ اس سے اصل قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا، بلکہ صرف ادائیگی کے طریقہ اور وقت کی پابندی کی تاکید ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر خریدار مقررہ قسط ادا نہ کرے تو فروخت کرنے والے کو یہ حق ہوگا کہ وہ بقیہ تمام رقم کا مطالبہ کر لے۔البتہ اس صورت میں یہ جائز نہیں کہ تاخیر کی وجہ سے مزید جرمانہ یا سودی اضافہ کیا جائے، کیونکہ تاخیر کے بدلے اضافی رقم لینا شرعاً جائز نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

تجارت و ملازمت

Ref. No. 3943/47-10154

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔  شرکاء کے لیے یہ طے شدہ نہیں ہوتا کہ کس کو پہلے فائدہ حاصل ہوگا، اور کس کو آخر میں، یہ شدید غرر (غیر یقینی) ہے، جو مالی معاملات میں ناجائز ہے۔قرعہ کے ذریعہ کسی کو فوری بڑا فائدہ مل جانا اور کسی کو طویل انتظار کرنا،اگرچہ بظاہر سب کو آخر میں سونا مل جاتا ہے، لیکن فائدے کی تقسیم اتفاقی قرعہ پر ہونے کی وجہ سے یہ صورت قمار سے مشابہ ہو جاتی ہے، جو شرعاً ممنوع ہے۔مذکورہ اسکیم میں شرکت ناجائزہے،اور اس کے ذریعہ حاصل کیا گیا فائدہ  حرام ہے۔

اگر اسکیم اس طرح ہو کہ:جس شریک کو سونا پہلے ملے وہ بھی پوری مدت تک تمام اقساط ادا کرتا رہے، کسی کو اقساط سے معاف نہ کیا جائے، کسی کو زائد نفع نہ دیا جائے، تو یہ صورت باہمی تعاون (کمیٹی) کے طور پر جائز ہو سکتی ہے۔بہرحال سوال میں مذکوراسکیم شرع کے خلاف ہے، اس لئے اس میں  آئندہ شامل نہ ہوں،  اورپہلے جو کیا اس پر سچی توبہ کریں، اور جو  زائدفائدہ حاصل کیا وہ  اصل حق داروں کو واپس کریں،  واپسی ممکن نہ ہو تو بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دیں۔ "(قوله: کل قرض جر نفعاً فهو  حرام) أی اذا کان مشروطاً." (شامی، ج:۵،ص:۱۶۶،ط:سعید)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

تجارت و ملازمت

Ref. No. 3934/47-10143

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مذکورہ معاملہ حقیقتاً بیع نہیں بلکہ نقد رقم کے تبادلے کا حیلہ ہے۔عمرو کے لیے اس میں حاصل ہونے والا منافع شرعاً ناجائز ہے، اس طرح کے معاملات سے اجتناب  کرناواجب ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند