فقہ

Ref. No. 4127/48-10444

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔  شریعت نے دینی علم حاصل کرنے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے، بلکہ امت کی ضرورت کے بقدر دینی علوم حاصل کرنا فرضِ کفایہ ہے۔البتہ والدین کے حقوق بھی شریعت میں نہایت عظیم ہیں۔ اس لیے اولاد پر لازم ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، ادب اور نرمی کا معاملہ کرے اور حتی المقدور انہیں راضی کرنے کی کوشش کرے۔

سوال میں مذکور ہے کہ تعلیم کا خرچ والد ہی برداشت کر رہے ہیں، اس لیے والد کو شرعاً یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے مال کو جہاں مناسب سمجھیں خرچ کریں۔ ان پر بالغ اولاد کی تعلیم کا خرچ لازم نہیں۔ لہٰذا اگر وہ اپنے مال سے دینی تعلیم کے اخراجات برداشت نہ کرنا چاہیں تو انہیں اس پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔اس صورت میں اگر بالغ لڑکا کسی جائز ذریعے سے اپنی تعلیم کے اخراجات خود برداشت کر سکتا ہو، یا کسی مدرسہ میں بلا معاوضہ یا وظیفہ کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی صورت ہو، تو وہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور حتی المقدور رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دینی تعلیم حاصل کر سکتا ہے

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

فقہ

Ref. No. 4116/48-10465

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ اگر کسی شخص نے یہ منت مانی کہ "میرا فلاں کام ہو جائے تو میں ایک اونٹ قربانی کروں گا"، پھر وہ کام ہو گیا، تو اس پر اپنی منت پوری کرنا واجب ہے۔اگر اس کے علاقے میں اونٹ دستیاب نہ ہو تو جہاں سے اونٹ مل سکتا ہو وہاں سے خرید کر قربانی کرے۔ اور اگر واقعی کہیں بھی اونٹ کا حصول ممکن نہ ہو یا ایسی شدید دشواری ہو کہ عرفاً ناقابلِ برداشت ہو، تو اہلِ علم کے نزدیک ایسی صورت میں اونٹ کی قیمت صدقہ کرنا کافی ہوگا۔

 من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى (شامی، ج۳ص۷۳۵)

 وأن لا يكون ما التزمه أكثر مما يملكه أو ملكا لغيره ، فلو نذر التصدق بألف ولا يملك إلا مائة  لزمه المائة فقط خلاصة انتهى (شامی، ج۳ص۷۳۷)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

فقہ

Ref. No. 4094/47-10353

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔(۱) شریعتِ مطہرہ میں وفات کے بعد ترکہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ ہے، اس میں کسی وارث کے حصہ میں کمی بیشی کرنا یا کسی کو محروم کرنا جائز نہیں۔ لہٰذا بیوی کو بطورِ وراثت اس کے مقررہ حصہ (یعنی اولاد نہ ہونے کی صورت میں چوتھائی 1/4 اور اولاد ہونے کی صورت میں آٹھواں حصہ 1/8) سے زیادہ دینا جائز نہیں۔ (۲) البتہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنی بیوی کو بطورِ ہبہ (گفٹ) دے دے اور اس کو مکمل طور پر مالک بنا کر اس کا قبضہ بھی دے دے، تو یہ ہبہ شرعاً صحیح اور نافذ ہوگا، بشرطیکہ یہ محض کاغذی نہ ہو بلکہ حقیقی انتقالِ ملکیت ہو اور اس میں کسی وارث کو ضرر پہنچانے کی نیت نہ ہو۔ (۳) اگر بیوی شوہر سے پہلے وفات پا جائے تو جو جائیداد اس کے نام منتقل ہو چکی ہوگی، وہ اس کی ملکیت شمار ہوگی اور اس کے انتقال کے بعد اس کے ورثاء میں شرعی اصول کے مطابق تقسیم ہوگی، جس میں شوہر بھی بطورِ وارث شامل ہوگا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

فقہ

Ref. No. 3961/47-10185

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔    واضح رہے کہ مسجد کا مال شرعاً وقف ہوتا ہے، اور وقف کے مال میں اصل قاعدہ یہ ہے کہ جس مقصد کے لیے وقف کیا گیا ہو، اسی میں خرچ کرنا لازم ہے۔ واقف کی شرط شرعاً واجب الاتباع ہوتی ہے، جیسا کہ فقہ کا مسلم اصول ہے:شرطُ الواقف كنصِّ الشارع۔ فقہِ حنفی کے مطابق مسجد کی آمدنی اور چندہ  کو مسجد کی تعمیر، مرمت اور توسیع، بجلی، پانی، صفائی اور دیگر ضروری اخراجات جیسےامام، مؤذن اور خادم کی تنخواہ، اسی طرح مسجد سے متعلقہ ضروری اشیاء (فرش، پنکھے، ساؤنڈ سسٹم وغیرہ)   اور جو چیزیں مصالح میں شمار ہوتی ہیں ان سب میں خرچ کرنا درست ہے۔ آج کل مکاتب کو مسجد کے مصالح میں  داخل  مانا جاتاہے اور دینی ضرورت بھی ہے، اس لئے ذمہ داران مسجد مکاتب قائم کرسکتے ہیں، اور اس کا اعلان بھی کردیا جائے تاکہ چندہ دینے والے مکاتب کے لئے بھی چندہ دیں،  تاہم مسجد کے تقدس کا خیال رکھنا ضروری ہے  اور اس بات کا پورا اہتمام ہو کہ نمازیوں کو کوئی تکلیف یا دشواری کا سامنا نہ ہو۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

فقہ

Ref. No. 3939/47-10134

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  ہلیو کا لفظ کسی کو متوجہ کرنے کے لئے بولاجاتاہے، اس لئے ہیلو کہنا جائز ہے۔ تاہم بہتر یہی ہے کہ ہم سلام سے اپنی بات کا آغاز کریں اور سلام پر اپنی بات ختم کریں۔

"عن ابن عمر مرفوعا: من ‌بدأ ‌بالكلام ‌قبل ‌السلام ‌فلا ‌تجيبوه." (مرقاۃ المفاتیح: كتاب الآداب، باب السلام، ج:7، ص:2948، ط:دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

فقہ

Ref. No. 3918/47-10110

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   اگر بینک کی اس گراہک سیوا کیندر میں بھی وہی کام انجام دئے جائیں  جو بینک میں انجام دیئے جاتے ہیں تو سودی  لین دین اور سودی معاملات کی کتابت اور دستاویز بنانے جیسے امور کی بنائ پر  اس  کیندر کا قائم کرنا اور آمدنی کا ذریعہ بنانا بھی بینک ہی کی طرح نا جائز ہوگا۔ البتہ اگر اس کیندر میں  مباح نوعیت کے کام بھی انجام دیے جاتے ہوں تو گنجائش ہوگی۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

فقہ

Ref. No. 3835/47-9940

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:  ۔  سرکاری اسکیمیں چونکہ قانونی امانت ہیں، اس لیے جو شرائط ان کے ساتھ وابستہ ہیں، ان کی خلاف ورزی   درست نہیں  ہے۔جب حکومت نے یہ شرط لگائی کہ ۱۵ ہزار سے کم آمدنی والے  ہی اس رعایت کے مستحق ہیں، تو آمدنی اس حد سے اوپر جانے کے بعد راشن کارڈ برقرار رکھنا مناسب  نہیں۔البتہ آپ نے جو ذکر کیا کہ راشن کارڈ کٹوانے سے گرین کارڈ اور علاج کی سہولت بھی ختم ہو جاتی ہے، اور بعض سرکاری کاغذی کارروائیوں (مردم شماری وغیرہ) میں بھی دقت اور پریشانی  آتی ہے —تو ایسی صورت میں راشن کارڈ کے صرف بطور شناختی دستاویز رکھنے میں حرج نہیں،مگر اس کے ذریعہ غذائی یا مالی فائدہ حاصل کرنے (جیسے سستا راشن، امدادی رقم، وغیرہ) سے احتراز کرنا چاہئے۔ اور اگر مجبوری میں راشن لینا پڑجائے تو لے کر کسی غریب کو دیدینا بہتر ہوگا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

فقہ

Ref. No. 3804/47-9899

الجواب

الجواب وباللہ التوفیق:  ۔     (۱) اگر وہ عورت فی الواقع اسلام قبول کرلیتی ہے  اور مسلمان ہوجاتی ہے تو اس کے بعد اس سے نکاح شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ نکاح اسلامی طریقے سے شرعی گواہوں کے ساتھ کیا جائے۔ (۲)  شرعاً پہلی بیوی کی اجازت دوسری شادی کے لیے لازمی نہیں، لیکن اخلاقی، معاشرتی، اور عدالتی لحاظ سے بہتر ہے کہ اجازت یا کم از کم اطلاع دی جائے تاکہ نزاع نہ ہو۔ اگر پہلی بیوی اجازت نہ دے تو بھی نکاح ثانی شرعا درست ہے ، لیکن ظلم و جھگڑے کا اندیشہ ہوتا ہے، اور حقوقِ زوجین کی ادائیگی مشکل ہو جاتی ہے۔اس سلسلہ میں غالبا آپ کے ملک کے خاندانی قوانین کے مطابق، دوسری شادی کے لیے تحصیل کمیٹی یا یونین کونسل سے اجازت لینا قانونی طور پر ضروری ہے۔اگر اجازت کے بغیر نکاح کر لیا جائے تو نکاح شرعاً درست ہوگا مگر قانونی کارروائی ہوسکتی ہے، اس لئے اس کا ضرور خیال رکھاجائے۔(۳) بیویوں کے درمیان رہائش، نفقہ (خرچ)، وقت، لباس، اور ظاہری برتاؤ میں عدل لازم ہے۔دل کے میلان (محبت) میں برابری ممکن نہیں، لیکن عملی برابری یعنی:ایک رات ایک بیوی کے پاس، دوسری رات دوسری کے پاس؛خرچ و نان و نفقہ میں مساوات یہ سب  امور شرعا لازم ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

فقہ

Ref. No. 3798/47-9897

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔     اگر آپ کپڑے کے تاجر سے قیمت کے تعین کے ساتھ بات طے کریتے ہیں اورادائیگی کی مدت بھی بیان کردیتے ہیں پھر اپنی مرضی سے اپنی قیمت متعین کرکے لوگوں کو بیچتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ کاروبار بظاہر حلال ہے اور اس میں کوئی وجہ ممانعت نہیں ہے۔ اگر کوئی شبہ کا پہلو ہو تو اس کو واضح کرکے دوبارہ سوال کیاجائے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

فقہ

Ref. No. 3791/47-9891

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں  سخت مجبوری میں دوسری جماعت کا انتظام شروع کیاگیا ہے ، اور تمام نمازیوں کی جماعت میں شرکت کے لئے دوسری جماعت قائم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، اس لئے مذکورہ حالات میں جمعہ کی دوسری جماعت قائم کرنے کی گنجائش ہے۔  دراصل جماعت ثانیہ کی ممانعت  جماعت اولی کی اہمیت  مجروح ہونے کی وجہ سے ہے، لیکن اگر جماعت ثانیہ سے جماعت اولی کی اہمیت پر فرق نہ پڑتا ہو تو جماعت ثانیہ میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ 

’’عن الحسن قال: کان أصحاب رسول الله ﷺ  إذا دخلوا المسجد، وقد صلي فیه، صلوافرادی‘‘. (المصنف لابن أبي شیبة، کتاب الصلاة، باب من قال: یصلون فرادی، ولایجمعون. مؤسسة علوم القرآن جدید ۵/۵۵، رقم:۷۱۸۸)

"ولنا أنه علیه الصلاة والسلام کان خرج لیصلح بین قوم، فعاد إلی المسجد وقد صلی أهل المسجد، فرجع إلی منزله فجمع أهله وصلی". ( ردالمحتار، کتاب الصلاة، باب الإمامة، ج۱ ص۸ ۵۱ ۔ط:س ۔ج۱ص۵۵۳۔۱۲)

"قال: (وإذا دخل القوم مسجداً قد صلی فیه أهله کرهت لهم أن یصلوا جماعةً بأذان وإقامة، ولکنهم یصلون وحداناً بغیر أذان وإقامة)؛ لحدیث الحسن: قال: کانت الصحابة إذا فاتتهم الجماعة فمنهم من اتبع الجماعات، ومنهم من صلی في مسجده بغیر أذان ولا إقامة". (مبسوط سرخسی ج۱ ص ۱۳۵)(شامی ج۱ ص۳۶۷ باب الاذان)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند