خوردونوش

Ref. No. 4132/48-10451

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ اجینو موٹو بذاتِ خود ایک ذائقہ بڑھانے والا مادہ ہے۔ اگر یہ حلال اجزاء سے تیار کیا گیا ہو اور اس میں کوئی ناپاک یا حرام چیز شامل نہ ہو، تو اس کا استعمال شرعاً جائز ہے۔البتہ اگر کسی مخصوص کمپنی کا اجینو موٹو حرام یا نجس اجزاء سے تیار کیا گیا ہو، یا معتبر تحقیق سے اس کا ثبوت مل جائے، تو اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔جہاں تک ریسٹورنٹس میں چائنیز کھانوں کا تعلق ہے، اگر وہاں استعمال ہونے والے اجزاء حلال ہوں اور کھانے میں کوئی حرام چیز (مثلاً حرام گوشت، شراب یا اس کے اجزاء) شامل نہ ہوں، تو صرف اجینو موٹو کی وجہ سے اس کھانے کو حرام نہیں کہا جائے گا۔البتہ اگر اجینو موٹو کا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو، تو طبی ماہرین کی ہدایات کے مطابق اس سے بچنا بہتر ہے، کیونکہ اسلام میں صحت کو نقصان پہنچانے والی چیزوں سے اجتناب کی تعلیم دی گئی ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

خوردونوش

Ref. No. 4102/48-10389

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ مسجد کے اندر دینی تعلیم حاصل کرنا، نصیحت سننا اور قرآن و حدیث کی باتیں کرنا جائز اور باعثِ اجر ہے۔ البتہ مسجد کا ادب ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ اگر چائے اور بسکٹ کا انتظام مسجد کی انتظامیہ کی اجازت سے ہو، صفائی کا مکمل خیال رکھا جائے، کوئی گندگی یا بدبو پیدا نہ ہو، نمازیوں کو تکلیف نہ ہو اور مسجد کی بے ادبی نہ ہو تو  مسجد میں چائے پینے کی گنجائش ہے۔

لیکن چونکہ محراب اور اقامت کی جگہ نماز کے اہم مقامات ہیں، اس لیے ان جگہوں کو روزانہ کھانے پینے کی مجلس کے لیے مخصوص کرنا مناسب نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ مسجد کے کسی دوسرے مناسب حصے (مثلاً صحن یا مخصوص کمرے) میں یہ اہتمام کیا جائے، تاکہ مسجد کا وقار اور عبادت کا ماحول برقرار رہے۔لہٰذا فجر کے بعد تعلیم کا عمل بہت اچھا ہے، مگر چائے بسکٹ کے لیے محراب کے قریب والی جگہ کے بجائے کوئی دوسری جگہ اختیار کرنا زیادہ بہتر اور مسجد کے ادب کے زیادہ موافق ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

خوردونوش

Ref. No. 4064/47-10213

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ قرآنِ کریم کے مطابق حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کو جنت میں ایک خاص درخت کے قریب جانے سے منع کیا گیا تھا، مگر شیطان کے بہکانے پر انہوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا، جس کے بعد انہیں جنت سے زمین پر بھیج دیا گیا۔

قرآن و حدیث میں اس درخت کی قطعی تعیین نہیں کی گئی کہ وہ کون سا درخت تھا۔مفسرین نے مختلف آراء ذکر کی ہیں (جیسے گندم، انگور یا انجیر وغیرہ)، مگر یہ سب قطعی نہیں بلکہ احتمالی اقوال ہیں۔

آپ کی بیان کردہ رائے شرعی طور پر ثابت نہیں کہ:"وہ درخت یقیناً انجیر تھا"اور "انجیر میں کیڑا (فگ واسپ) ہونے کی وجہ سے حضرت آدمؑ کو جنت سے نکلنا پڑا"یہ بات نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ صحیح حدیث سے۔ اس لیے اسے یقینی طور پر بیان کرنا درست نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ کہا جائے کہ درخت کی حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

خوردونوش

Ref. No. 3283/46-9015

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ انڈے کے اوپر نجاست  کو  زائل کرنا ضروری ہے، نجاست کا اثر زائل کرنا ضروری نہیں ہے، پانی سے دھونے سے  پاکی حاصل ہوجاتی ہے، کسی پاؤڈر وغیرہ سے داغ کو زائل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انڈا پاک ہے ، نجاست کے داغ کے ساتھ اس کو ابال سکتے ہیں اور کھاسکتے ہیں، انڈا ناپاک نہیں ہوگا۔  باقی طبعی طور پر اچھا نہ لگے تو پاؤڈر وغیرہ سے دھونے میں  بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ نیز اگر انڈے پر ظاہری نجاست دھونے سے زائل ہوگئی،  صرف نشان باقی  ہے  تو ایسے انڈے کو بوائل کرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوگا۔

"(قوله: رطوبة الفرج طاهرة) ولذا نقل في التتارخانية أن ‌رطوبة ‌الولد عند الولادة طاهرة، وكذا السخلة إذا خرجت من أمها، وكذا البيضة فلا يتنجس بها الثوب ولا الماء إذا وقعت فيه، لكن يكره التوضؤ به للاختلاف، وكذا الإنفحة هو المختار. وعندهما يتنجس، وهو الاحتياط. اهـ. قلت: وهذا إذا لم يكن معه دم ولم يخالط رطوبة الفرج مذي أو مني من الرجل أو المرأة." (شامی، كتاب الطهارة،باب الأنجاس، ج:1،ص:349،ط:سعيد)

"ورطوبة الفرج طاهرة عند الإمام خلافاً لصاحبيه: وهي ‌رطوبة ‌الولد عند الولادة، ورطوبة الخلة (الخل) إذا خرجت من أمها، وكذا البيضة، فلا يتنجس بها الثوب ولا الماء، لكن يكره التوضؤ به." (الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي، الباب الأول الطهارات، الأعيان الطاهرة،ج:1،ص:294،ط:دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

خوردونوش

Ref. No. 3161/46-6054

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   صرف شک کی بناء پر کوئی حکم نہیں لگایا جاسکتاہے اور نہ ہی کسی حلال کو حرام کہاجاسکتاہے۔ البتہ اگر آپ کو مذکورہ شک واقع ہوا تو ایسی جگہوں پر جانے سے پرہیز کریں اور استغفار بھی کریں۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

خوردونوش
Ref. No. 2860/45- الجواب بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ غیرمسلم کی چائے پینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ غیرمسلم کے گھر کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا سب جائز ہے۔ آپ کو کس چیز میں شبہہ ہے ، آپ نے واضح نہیں کیا ۔ واللہ اعلم بالصواب دارالافتاء دارالعلوم وقف دیوبند

خوردونوش

Ref. No. 1590/43-1123

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ حلال جانور کا دودھ و گوشت حلال ہے۔ اس لئے دودھ کے ساتھ گوشت یا انڈے کھانا خلاف سنت نہیں کہا جائے گا۔  گوشت کے مختلف پکوان میں  آج کل دہی ڈالتے ہیں، اس لئےدہی کے ساتھ  گوشت یاانڈے کھانے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔  تاہم اگر طبی طور پر مضرصحت ہونا معلوم ہوجائے تو گریز کرنا چاہئے۔  و في الخانیة وغیرھا: لبن المأکول حلال (شامی(456/6)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

خوردونوش

Ref. No. 1600/43-1149

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  مذکورہ بالا صورت جوا وقمار اور دیگر بہت سے مفاسد  پر مشتمل ہونے کی وجہ سے حرام و ناجائز ہے۔  اس میں گرچہ اولا رضامندی ہے مگر قرعہ اندازی کرتے وقت ہرایک کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ میرا نام نہ آئے اور جب نام نکلتاہے تو اس کو اپنے عہد کی بناء پر بادل ناخواستہ کھانا کھلانا پڑتاہے، نیز بعض کی دعوت میں کم خرچ ہوگا اور بعض میں زیادہ تو اس سے آپسی نفرت جنم لے گی  اور اس طرح  اختلافات بڑھیں گےاور نتیجہ اس وقتی اور جزوی فائدہ سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہوگا اس لئے اس صورت کو فوری طور پر بند کردینا ضروری ہے۔ 

 ﴿ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ﴾ (سورۃ المائدۃ،پارہ07، آیت 90)

القمارمشتق من القمر الذی یزداد وینقص سمی القمار قماراً لا ن کل واحد من المقامرین ممن یجوز ان یذهب مالہ الی صاحبہ ویستفیدمال صاحبہ فیزداد مال کل واحد منهما مرۃ وینتقص اخری فاذا کان المال مشروطاً من الجانبین کان قماراً والقمار حرام ولان فیہ تعلیق تملیک المال بالخطر وانہ لا یجوز(المحیط البرهانی فی الفقہ النعمانی ،جلد5،صفحہ323،دارالکتب العلمیۃ، بیروت) و لاخلاف بین اھل العلم فی تحریم القمار (احکام القرآن للجصاص،جلد2،صفحہ11،داراحیاء التراث العربی ،بیروت) الَا لا تَظْلِموا, أَلَا لا يَحِلُّ مالُ امرِىءٍ إلا بِطِيبِ نفسٍ منه (مشکوۃ المصابیح)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

خوردونوش

Ref. No. 862 Alif

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                           

بسم اللہ الرحمن الرحیم: اگرمذکورہ شخص کا کاروبار صرف سود ہی کا ہے، تو اس کے یہاں دعوت میں شرکت جائز نہیں ہے، خواہ اسے تکلیف ہو یا نہ ہو، اللہ تعالی کو ناراض کرکے کسی کوراضی رکھنا عقلمندی نہیں ہے۔ اور اگر مال مخلوط ہو تو اس کی دعوت  میں شرکت کی گنجائش ہے۔ مذکورہ کاپی میں چندہ جمع کرکے نیت کرنے سے کوئی حاصل نہیں ہوگا۔ ردالمحتار لابن عابدین الشامی ، الاشباہ والنظائر لابن نجیم المصری  اور فتاوی محمودیہ للشیخ محمود گنگوہی میں یہ وضاحت موجود ہے حوالہ کے لئے دیکھ سکتے ہیں۔ واللہ تعالی اعلم

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

خوردونوش

Ref. No. 1110 Alif

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ گٹکہ نشہ آور ہوتا ہے،  نیز گٹکہ پر صاف  لکھاہوتا ہے کہ یہ  جان لیوا اورخطرناک ہے،اس سے بہت سی لاعلاج بیماریاں پیدا ہوسکتی  ہیں، اور آدمی کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہیں،جبکہ قرآن کریم نے  واضح  طور پر فرمایا ولاتلقوا بایدیکم الی التھلکة کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ لہذا گٹکہ کھانا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ اس کا استعمال مکرو ہ ہے۔جتنی کثرت ہوگی اسی قدر کراہت میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔ لہذا اس سے بچنا لازم ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

                     

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند