Frequently Asked Questions
Family Matters
Ref. No. 3882/47-10055
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ (۱) اگر مکان یا جائیداد کا حصہ مہر کے کالم میں درج نہیں بلکہ صرف “شرائط نکاح” کے کالم میں درج کیا گیا ہو تو وہ مہر نہیں بنتا ہے بلکہ وہاں جو کچھ لکھا ہو گا، اس کا حکم ہبہ (گفٹ) کا وعدہ یا شرطِ فاسد ہوتا ہے، مہر نہیں ۔ جو چیز صراحتاً مہر کے طور پر ذکر کی جائے وہی مہر بنتی ہے۔لہٰذا مہر کے علاوہ شرط کے طور پر جائیداد دینے کا وعدہ ہبہ کا وعدہ شمار ہوگا۔
(۲) نکاح کے بعد اس جائیدادکے لڑکی کی ملک بننے کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں:(الف) ملکیت کا ثابت ہونا،ہبہ اورگفٹ تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک ہبہ کا ایجاب (یہ حصہ ہم تمہیں دیتے ہیں) اور قبول (لڑکی یا وکیل کا قبول کرنا) نیز قبضہ / تصرف کا اختیار دینا۔ (ب) قبضہ کا ہونا، اگر قبضہ نہ ہو تو ہبہ مکمل نہیں ہوتا، آپ نے لکھا ہے کہ:، پیمائش نہیں کی گئی، حدود مقرر نہیں ہوئیں، مکمل قبضہ نہیں دیا گیا، تفصیلی تصرف کا حق نہیں دیا گیا،ایسی صورت میں ہبہ شرعاً مکمل نہیں ہوتا، اور ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔فقہی قاعدہ:لا یتمّ الهبة إلا بالقبض، لہٰذا صرف نکاح نامہ میں شرط لکھ دینے سے لڑکی اس جائیداد کی مالک نہیں بنتی جب تک قبضہ اور تصرف نہ دیدیا جائے۔
المسمّى مهراً ما ذُكر في صلب العقد على أنه مهر (الھندیہ 1/307)
کل شرطٍ في النکاح لیس من مقتضاه ولا من موجبه فھو شرط فاسد (ھدایہ 2/337)
“لا تجوزُ شَهادةٌ على وصیّةٍ إلا بعد الموت، ولا على هِبةٍ إلا بعد القبض.” (سنن دارقطنی 3/35)
لا تتمّ الهبة إلا بالقبض (فتاویٰ ہندیہ 4/372)
لا یتملّک الموهوب له حتى یتصرف فیه تصرّف الملاك (الحاوی القدسی )
القبض فی العقار یکون بالتخلية والتمکین (بدائع الصنائع 6/129)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Family Matters
Ref. No. 3882/47-10055
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ (۱) اگر مکان یا جائیداد کا حصہ مہر کے کالم میں درج نہیں بلکہ صرف “شرائط نکاح” کے کالم میں درج کیا گیا ہو تو وہ مہر نہیں بنتا ہے بلکہ وہاں جو کچھ لکھا ہو گا، اس کا حکم ہبہ (گفٹ) کا وعدہ یا شرطِ فاسد ہوتا ہے، مہر نہیں ۔ جو چیز صراحتاً مہر کے طور پر ذکر کی جائے وہی مہر بنتی ہے۔لہٰذا مہر کے علاوہ شرط کے طور پر جائیداد دینے کا وعدہ ہبہ کا وعدہ شمار ہوگا۔
(۲) نکاح کے بعد اس جائیدادکے لڑکی کی ملک بننے کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں:(الف) ملکیت کا ثابت ہونا،ہبہ اورگفٹ تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک ہبہ کا ایجاب (یہ حصہ ہم تمہیں دیتے ہیں) اور قبول (لڑکی یا وکیل کا قبول کرنا) نیز قبضہ / تصرف کا اختیار دینا۔ (ب) قبضہ کا ہونا، اگر قبضہ نہ ہو تو ہبہ مکمل نہیں ہوتا، آپ نے لکھا ہے کہ:، پیمائش نہیں کی گئی، حدود مقرر نہیں ہوئیں، مکمل قبضہ نہیں دیا گیا، تفصیلی تصرف کا حق نہیں دیا گیا،ایسی صورت میں ہبہ شرعاً مکمل نہیں ہوتا، اور ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔فقہی قاعدہ:لا یتمّ الهبة إلا بالقبض، لہٰذا صرف نکاح نامہ میں شرط لکھ دینے سے لڑکی اس جائیداد کی مالک نہیں بنتی جب تک قبضہ اور تصرف نہ دیدیا جائے۔
المسمّى مهراً ما ذُكر في صلب العقد على أنه مهر (الھندیہ 1/307)
کل شرطٍ في النکاح لیس من مقتضاه ولا من موجبه فھو شرط فاسد (ھدایہ 2/337)
“لا تجوزُ شَهادةٌ على وصیّةٍ إلا بعد الموت، ولا على هِبةٍ إلا بعد القبض.” (سنن دارقطنی 3/35)
لا تتمّ الهبة إلا بالقبض (فتاویٰ ہندیہ 4/372)
لا یتملّک الموهوب له حتى یتصرف فیه تصرّف الملاك (الحاوی القدسی )
القبض فی العقار یکون بالتخلية والتمکین (بدائع الصنائع 6/129)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Family Matters
Ref. No. 3780/47-10190
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر وراثتی جائیداد مشترک ہے اور ابھی شرعی طور پر تقسیم نہیں ہوئی ہے،تو وہ تمام ورثاء کی ملکیت مشترکہ طور پر شمار ہوگی۔لہٰذا کسی ایک یا دو فرد کا باقی ورثہ کی اجازت کے بغیر آمدنی یا فائدہ اٹھانا ناجائز اور گناہ ہے۔ شریکوں کی اجازت کے بغیر مشترکہ مال میں تصرف کرنا حرام ہے۔اگر دو بھائیوں نے جائیداد کی آمدنی (کرایہ یا کھیت کی پیداوار وغیرہ) باقی ورثاء کی اجازت کے بغیر استعمال کی ہے، توان دو بھائیوں پر لازم ہے کہ تمام ورثاء کو گزشتہ آمدنی میں سے ان کے شرعی حصے ادا کریں۔ اور جب تک ان کا حصہ واپس نہ کیا جائے یا معاف نہ کیا جائے،وہ مال ناجائز اور امانت میں خیانت کے زمرے میں آئے گا۔ اگر کوئی وارث اپنی رقم صاف طور پر معاف نہیں کرتاتو اس کا حصہ ان پر واجب الادا رہے گا۔ وراثت میں بیٹیوں کو اکہرا اور بیٹوں کو دوہرا حصہ شریعت نے دیا ہے، اس لئے کل مال کے 11 حصے کئے جائیں گے اور ہر بہن کو ایک ایک اور ہر بھائی کو دو دو حصے ملیں گے۔ آمدنی اور جائداد سب اسی حساب سے تقسیم کئے جانے ضروری ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Family Matters
Ref. No. 3715/47-9788
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اسلام نے پردہ کو صرف عورت کے لیے نہیں بلکہ مرد کی نگاہ کے تحفظ کے لیے بھی فرض قرار دیا ہے۔یعنی اگر کسی مجلس یا گھر میں پردے کا لحاظ نہیں رکھا جاتا، یا غیر محرم عورتیں بے پردہ ہوتی ہیں،تو وہاں جانا تبھی درست ہے جب آپ نظر کی حفاظت کر سکیں۔ورنہ وہاں جانے سے اجتناب کرنا بہتر ہے، تاکہ نگاہ یا دل کی آلودگی سے بچا جا سکے۔
اللہ تعالیٰ نے رشتہ داروں کے حقوق کو بہت اہمیت دی ہے۔ لیکن اگر رشتہ دار گناہ پر مجبور کرتے ہوں یا بے حیائی کے ماحول میں بلاتے ہوں۔ تو وہاں جسمانی حاضری لازم نہیں ، بلکہ سلام، دعا، خبر گیری، تحفہ، یا پیغام کے ذریعے تعلق رکھنا بھی صلہ رحمی کے حکم میں شامل ہے۔
اگرایسے ماحول میں جانا ناگزیر ہو تو آپ مختصر وقت کے لیے جائیں — مثلاً صرف مردوں کی مجلس میں بیٹھیں، عورتوں کے حصے میں نہ جائیں۔ آنکھوں کی حفاظت کریں، گفتگو میں سنجیدگی اور دینی وقار رکھیں ۔اگر ماحول بالکل بے پردگی والا ہو تو گھر بیٹھے سلام دعا وغیرہ کے ذریعہ تعلق قائم رکھیں ۔
خلاصہ یہ کہ اگر کسی رشتہ دار کے گھر بے پردگی یا غیر شرعی اختلاط ہو تو وہاں جانے سے احتراز کرے۔ قطع رحمی (رشتہ توڑنا) حرام ہے، مگر رابطہ محدود رکھنا جائز ہے۔ صلہ رحمی فون، سلام، پیغام، یا دعائیہ کلمات سے بھی ہو جاتی ہے۔آپ گناہ سے بچتے ہوئے بھی دین کے تقاضے پورے کر نے کی کوشش کرتے ر ہیں۔ خیال رہے کہ کسی شخص کی خوشی کے لئے اللہ کو ناراض کرنا جائز نہیں ہے، اس لئے اگر ماحول سازگار نہیں اور خلاف شرع امور وہااں انجام دئے جارہے ہوں تو وہاں جانا درست نہیں ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Family Matters
Ref. No. 3650/47-9750
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ (۱) مرحوم کی دوسری بیوی جس مکان میں رہتی ہے، وہ مکان وراثت میں تقسیم ہوگا، اور اس مکان کے متعلق مرحوم کی وصیت کا اعتبار نہیں کیاجائےگا۔ جس مکان میں وہ رہتی ہے اس میں سے صرف ان بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا اور اگر اس عورت کے بھائی بہن یا والدین وغیرہ ہوں گے تو ان کو اسی آٹھویں حصہ سے وراثت ملے گی۔ اور جس بلڈنگ میں پانچ فلیٹ بنائے گئے ، تو اگر والد نے اپنی اولاد کو ان فلیٹوں پر قبضہ دیدیاتھا تو یہ اولاد کی ملکیت ہے جس میں وراثت جاری نہیں ہوگی۔ اور اگر قبضہ نہیں دیا تھا تو یہ بھی ترکہ ہے، دوسری بیوی کا آٹھواں حصہ ہوگا، اور مابقیہ کے ساتھ حصے کرکے دو حصے ہر بھائی کو اور ایک حصہ ہر بہن کو ملے گا۔ (۲) والد صاحب نے جتنی رقم چھوڑی ہے اس میں سے بھی دوسری بیوی کو آٹھواں حصہ دیں گے، اور مابقیہ کو بھائی بہنوں میں للذکر مثل حظ الانثیین کے ھساب سے تقسیم کریں گے۔ (۳) دوسری بیوی نے جس سونے پر دعوی کیا ہے اگر گواہ نہ ہوں تو قسم کے ساتھ ان کی بات معتبر ہوگی، اور اولاد کا اس پر کوئی حق نہیں ہوگا۔ (۴) گاڑیوں کی بازاری قیمت معلوم کرلی جائے، اور جو لینا چاہے وہ اس کی قیمت دے کر لے لے یا پھر اس کو بازار میں بیچ دیاجائے اور جو رقم ملے اس کو بھی اسی طرح تقسیم کریں کہ دوسری بیوی کو آٹھواں حصہ دینے کے بعد مابقیہ رقم کو بھائی بہنوں میں للذکر مثل حظ الانثیین کے حساب سے تقسیم کریں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Family Matters
Ref. No. 3604/47-9630
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ آپ کی ماں کا مزاج سخت ہے، آپ کو صبر، برداشت اور دعا کے ساتھ ان کے ساتھ رہنا ہوگا۔ غصے میں آپ کی طرف سے کوئی سخت کلمہ یا گالی نکل جانا سخت گناہ ہے، اس پر توبہ اور استغفار لازمی ہے، اور کوشش کریں کہ آئندہ صبر و خاموشی اختیار کریں۔ قرآن و حدیث میں والدین کے ساتھ احسان، نرمی اور ادب کا حکم دیا گیا ہے، خواہ وہ کتنی بھی سخت طبیعت کیوں نہ رکھتے ہوں۔ بعض اوقات طبیعت، بڑھاپے، بیماری، یا کسی نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے انسان زیادہ چڑچڑا اور جھگڑالو ہو جاتا ہے۔یہ ان کی کمزوری ہے، اس لیے برداشت اور صبر کے ساتھ ان کے ساتھ رہنا چاہیے۔
"فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا" (بنی اسرائیل: 23)
عن معاویة بن جاھمة أن جاھمةجاء إلی النبي صلی اللہ علیہ وسلم فقال: یا رسول اللہ! أردت أن أغزو وقد جئت أستشیرک، فقال: ھل لک من أم؟ قال: نعم، قال: فالزمھا فإن الجنة عند رجلھا، رواہ أحمد والنسائي والبیھقي في شعب الإیمان (مشکاة المصابیح، کتاب الآداب، باب البر والصلة، الفصل الثالث، ص: ۴۲۱، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، ”فالزمھا“: أي: التزم خدمتھا ومراعاة أمرھا، ”فإن الجنة عند رجلھا“ لکونھا سببا لحصولھا علی ما ورد من روایة الخطیب فی الجامع عن أنسأیضاً: الجنة تحت أقدام الأمھات، قال الطیبي: قولہ:”عند رجلھا“:کنایة عن غایة الخضوع ونھایة التذلل کما في قولہ تعالی:﴿واخفض لھما جناح الذل من الرحمة﴾، ”رواہ أحمد والنسائي والبیھقي في شعب الإیمان“، قال المنذري: رواہ ابن ماجة والنسائي واللفظ لہ، والحاکم وقال الحاکم: صحیح الإسناد، ورواہ الطبراني بإسناد جید الخ (مرقاة المفاتیح، ۹: ۱۵۸، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Family Matters
Ref. No. 3570/47-9577
In the name of Allah, the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
In Islam, the responsibility of providing maintenance for the wife and children always lies with the husband, regardless of whether the wife is rich or poor, or whether she has money of her own or not. The wife’s wealth belongs exclusively to her, and under Shari‘ah the husband has no right over it.
If the government provides financial assistance directly to a man’s wife, that money is regarded as her personal property, and the husband cannot demand it from her. However, if she willingly chooses to support her husband with it, this is permissible and she will be rewarded for her generosity.
Conversely, if the government grants financial aid due to the husband’s poverty, this is considered assistance meant for the husband, though given through the wife. In such a case, the husband is deemed the rightful owner of that money, and the wife may spend from it only with his consent.
And Allah knows best
Darul Ifta
Darul Uloom Waqf Deoband
Family Matters
Ref. No. 3491/47-9442
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ والدہ کے جو زیورات آپ کے پاس ہیں اگر آپ ان کی قیمت سے والدہ کا علاج کرانا چاہتی ہیں تو دیگر ورثاء کے سامنے اس بات کی صراحت کرکے ان کے علاج میں خرچ کرسکتی ہیں۔ اور ان کے علاج کے بعد جو بچے گا وہ محفوظ رکھاجائے گا ، والدہ کے انتقال کے بعد اس کو تمام ورثا ءمیں شرعی حصص کے اعتبار سے تقسیم کیاجائے گا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Family Matters
Ref. No. 3457/47-9369
In the name of Allah, the most Gracious the most merciful
The answer to your question is as follows:
You should not have done this; however, since you used the ₹5000 to purchase clothes and later gave them to him as a gift, this may be regarded as a valid form of fulfilling the trust. Therefore, you are not required to repay the amount again. Nonetheless, it is essential that you sincerely repent and seek Allah’s forgiveness for the wrongdoing.
And Allah knows best
Darul Ifta
Darul Uloom Waqf Deoband
Family Matters
Ref. No. 3251/46-8039
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بھائی کو جس بنیاد پر شبہہ ہو آپ ایسا کام ہی نہ کریں کہ الزام لگانے کی نوبت آئے، تاہم اگر آپ الگ مکان میں اپنے کرایہ پر رہنا چاہتے ہیں تو اس کی گنجائش ہے۔ زنا کا الزام لگانا بڑا گناہ ہے، اور بڑے بھائی کا رویہ شرعا بہت غلط ہے، بڑے بھائی کو بے بنیاد الزام لگانے سے گریز کرنا لازم ہے، اور آپ سے معافی مانگنا بھی اس پر لازم ہے۔ اگر کوئی شخص کسی پر زنا کا الزام لگائے اور اس کو ثابت نہ کرسکے تو اسلامی حکومت میں اس کے لئے حد جاری کی جاتی ہے یعنی زنا کرنا بھی بڑا گناہ ہے اور کسی پر زنا کاالزام لگانا بھی اسی طرح بہت بڑا گناہ ہے۔
وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًاۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(4)اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْاۚ-فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(سورۃ النور، 5)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند