Frequently Asked Questions
طلاق و تفریق
Ref. No. 1112/42-339
الجواب وباللہ التوفیق
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ یہ اغلاط العوام کے قبیل سے ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 1234/42-635
الجواب وباللہ التوفیق
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بڑے بھائی کی شادی کے موقع پر جو کچھ خرچ ہوا وہ بلا کسی شرط کے خرچ ہوا ہے، اس لئے وہ تمام بھائیوں کی طرف سے تبرع سمجھا جائے گا۔ اور اس کا حساب میں شمار نہیں ہوگا۔ اور چھوٹےدونوں بھائیوں کی شادی میں بڑا بھائی اپنی سہولت کے مطابق از راہ تبرع جو دینا چاہے دے گا یا نہیں دے گا، یہ اس کی مرضی پر منحصرہے؛ اس سے خرچ میں شرکت کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ اس لئے اب جو دوکان موجود ہے اس کو تین حصوں میں تقسیم کرکے سب کو برابربرابر حصہ دیا جائے گا۔
وکذلک لو اجتمع اخوۃ یعملون فی ترکۃ ابیھم ونما المال فھو بینھم سویۃ ولو اختلفوا فی العمل والرای (شامی ، کتاب الشرکۃ ، 6/392)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
فقہ
Ref. No. 1588/43-1125
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ صورت بالا میں تین دن نفاس کا خون آکر بند ہوگیا اور عورت نےپاکی سمجھ کر غسل کرلیا اور نماز و روزہ بھی اس سے شروع کردیا یہاں تک کہ شوہر نے اس سے صحبت بھی کی لیکن پھر سولہ دن بعد نفاس کا خون جاری ہوگیا جبکہ نفاس کی مدت ابھی باقی تھی یعنی چالیس دن۔ اس لئے دوبارہ جو خون جاری ہوا یہ نفاس کا ہی مانا جائے گا۔ عورت نے جو نماز وغیرہ عبادات کیں یا شوہر سے صحبت ہوئی اس پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ یہ سب کچھ لاعلمی میں ہوا، البتہ چونکہ خلاف شرع امور انجانے میں ہوئے ہیں اسلئے افضل ہے کہ کچھ صدقہ وغیرہ کردے۔
[تتمة] الطهر المتخلل بين الأربعين في النفاس لا يفصل عند أبي حنيفة سواء كان خمسة عشر أو أقل أو أكثر، ويجعل إحاطة الدمين بطرفيه كالدم المتوالي وعليه الفتوى. وعندهما الخمسة عشر تفصل، فلو رأت بعد الولادة يوما دما وثمانية وثلاثين طهرا ويوما دما؛ فعنده الأربعون نفاس وعندهما الدم الأول؛ ولو رأت من بلغت بالحبل بعد الولادة خمسة دما ثم خمسة عشر طهرا ثم خمسة دما ثم خمسة عشر طهرا ثم استمر الدم؛ فعنده نفاسها خمسة وعشرون؛ وعندهما نفاسها الخمسة الأولى وحيضها الخمسة الثانية، وتمامه في التتارخانية.(شامی باب الحیض 1/290)
ثم أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - مر على أصله فقال: الأربعون للنفاس كالعشرة للحيض ثم الطهر المتخلل في العشرة عنده لا يكون فاصلا، وإذا كان الدم محيطا بطرفي العشرة يجعل الكل كالدم المتوالي فكذلك في النفاس إذا أحاط الدم بطرفي الأربعين وأبو يوسف - رحمه الله تعالى - مر على أصله أن الطهر المتخلل إذا كان أقل من خمسة عشر لا يصير فاصلا، ويجعل كالدم المتوالي فإذا بلغ خمسة عشر يوما صار فاصلا بين الدمين، فهذا مثله. (المبسوط للسرخسی، باب النفاس 3/211)
ثم الطهر المتخلل بين دمي النفاس لا يفصل، وإن كثر عند أبي حنيفة نحو ما إذا ولدت فرأت ساعة دما ثم طهرت تسعة وثلاثين ثم رأت على الأربعين دما فالأربعون كلها نفاس عند أبي حنيفة وعندهما إن كان الطهر المتخلل أقل من خمسة عشر يوما ما لم يفصل وإن كان خمسة عشر فصاعدا فصل فيكون الأول نفاسا والآخر حيضا إن كان ثلاثة أيام فصاعدا، وإن كان أقل فهو استحاضة،(الجوھرۃ النیرۃ علی القدوری، دم النفاس 1/35)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
اسلامی عقائد
Ref. No. 1758/43-1478
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ہمیں ان صاحب کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے، لہذا ان کے عقیدہ کے بارے میں کچھ نہیں کہاجاسکتا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
ربوٰ وسود/انشورنس
Ref. No. 1862/43-1732
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اس طرح کے ایپ پر کمپنیوں کی جانب سے ملنے والی رعایت اور کیش بیک یا انعام گراہکوں کو اپنے سے قریب کرنے کے لئے ہوتے ہیں، اس لئے یہ رقم جائز اور حلال ہے ۔مذکورہ تفصیل کے مطابق اس میں آپ نے کوئی جوا اور قمار والی شکل اختیار نہیں کی۔البتہ ان سب چیزوں میں انہماک مناسب نہیں ہے۔
هي) لغةً: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعاً: (تمليك العين مجاناً) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه، وسببها إرادة الخير للواهب) دنيوي كعوض ومحبة وحسن ثناء، وأخروي (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 687)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
اسلامی عقائد
اسلامی عقائد
الجواب وباللّٰہ التوفیق:بارات وغیرہ کی موجودہ رسمیں غیر شرعی ہیں۔ تاہم کچھ لوگوں کونکاح کے موقع پر بھیجنا ثابت ہے، جن کی تعداد لڑکی والوں کی اجازت پر موقوف ہے، موجودہ طریقے پر ہجوم ثابت نہیں ہے۔(۱)
(۱) في حدیث أنس رضي اللّٰہ عنہ خطبہا علی بعد أن خطبہا أبو بکر رضي اللّٰہ عنہ ثم عمر رضي اللّٰہ عنہ … قال أنس رضي اللّٰہ عنہ ثم دعاني علیہ الصلوٰۃ والسلام بعد أیام فقال أدع لي أبا بکر وعمر وعثمان وعبد الرحمن بن عوف وعدۃ من الأنصار جماعۃ بینہم لہ فلما اجتمعوا وأخذوا مجالسہم الخ۔ (شرح الزقاني مع المواہب اللدنیۃ، ’’ذکر تزویج علی بفاطمۃ رضي اللّٰہ عنہما‘‘: ج ۲، ص: ۳-۲)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص443
اسلامی عقائد
Ref. No. 2552/45-3891
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ غلط اور جھوٹ بول کر یا دھوکہ دے کر فتوی لینا، دوسروں کو ذلیل کرنے کے لئے فتوی حاصل کرنا درست نہیں ہے؛ فتوی توانسان خود عمل کرنے کے لئے لیتاہے۔ دوسروں کو تکلیف پہونچانے اور سماج میں رسوا کرنے کے لئے غلط طریقہ سے فتوی حاصل کرنے والا گنہگار اور فاسق ہے، اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے، تاہم سوال کے صحیح یا غلط ہونے کی ہمارے پاس کوئی بنیاد اور دلیل نہیں ہے، اس لئے بہتر ہوگا کہ اپنے علاقہ کے دارالالافتاء میں صورت حال بناکر فتوی حاصل کرلیں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طہارت / وضو و غسل
Ref. No. 2748/45-4283
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ استنجا میں اگر نجاست اپنے مخرج سے تجاوز نہ کرے تو استنجا کرنا سنت ہے، اس صورت میں ناپاکی قابل عفو ہے، لیکن اگر نجاست مخرج سے تجاوز کر جائے اور پانی یا ڈھیلا استعمال نہ کرے تو وہ جگہ ناپاک ہے اس کو پاک کرنا ضروری ہے۔
’’وہو سنة مؤکدة مطلقا ویجب أي بفرض غسله أن جاوز المخرج نجس مائع فیما وراء موضع الاستنجاء‘‘ (در مختار مع رد: ج ١، ص: ٩٣٣)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 2772/45-4324
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر بچہ زندہ پیداہوا یعنی پیدا ہوتے وقت اس میں زندگی کی کوئی علامت پائی گئی پھر فوت ہوگیا تو اس کا نام رکھاجائے گا، غسل دیاجائے گا ، مسنون کفن دیاجائے گااور نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ اور اگر ماں کے پیٹ میں ہی مرچکاتھا اورپیدائش کے وقت زندگی کی کوئی علامت اس میں موجود نہیں تھی ، تو اس کا نام رکھاجائے گا، غسل دیاجائے گا اور ایک کپڑے میں لپیٹ کردفن کردیاجائے گا، مسنون کفن نہیں دیاجائے گا اور نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔
"(وإلا) يستهل (غسل وسمي) عند الثاني، وهو الأصح، فيفتى به على خلاف ظاهر الرواية إكراماً لبني آدم، كما في ملتقى البحار. وفي النهر عن الظهيرية: وإذا استبان بعض خلقه غسل وحشر هو المختار (وأدرج في خرقة ودفن ولم يصل عليه).
(قوله: وإلا يستهل غسل وسمي) شمل ما تم خلقه، ولا خلاف في غسله وما لم يتم، وفيه خلاف. والمختار أنه يغسل ويلف في خرقة، ولا يصلى عليه كما في المعراج والفتح والخانية والبزازية والظهيرية شرنبلالية. وذكر في شرح المجمع لمصنفه أن الخلاف في الأول، وأن الثاني لا يغسل إجماعاً. اهـ.
واغتر في البحر بنقل الإجماع على أنه لايغسل فحكم على ما في الفتح والخلاصة من أن المختار تغسيله بأنه سبق نظرهما إلى الذي تم خلقه أو سهو من الكاتب. واعترضه في النهر بأن ما في الفتح والخلاصة عزاه في المعراج إلى المبسوط والمحيط اهـ وعلمت نقله أيضاً عن الكتب المذكورة. وذكر في الأحكام أنه جزم به في عمدة المفتي والفيض والمجموع والمبتغى اهـ فحيث كان هو المذكور في عامة الكتب فالمناسب الحكم بالسهو على ما في شرح المجمع لكن قال في الشرنبلالية: يمكن التوفيق بأن من نفى غسله أراد غسل المراعى فيه وجه السنة، ومن أثبته أراد الغسل في الجملة كصب الماء عليه من غير وضوء وترتيب لفعله كغسله ابتداء بسدر وحرض. اهـ. قلت: ويؤيده قولهم: ويلف في خرقة حيث لم يراعوا في تكفينه السنة فكذا غسله (قوله: عند الثاني) المناسب ذكره بعد قوله الآتي وإذا استبان بعض خلقه غسل لأنك علمت أن الخلاف فيه خلافاً لما في شرح المجمع والبحر (قوله: إكراماً لبني آدم) علة للمتن كما يعلم من البحر، ويصح جعله علة لقوله فيفتى به (قوله: وحشر) المناسب تأخيره عن قوله هو المختار لأن الذي في الظهيرية والمختار أنه يغسل. وهل يحشر؟ عن أبي جعفر الكبير أنه إن نفخ فيه الروح حشر، وإلا لا. والذي يقتضيه مذهب أصحابنا أنه إن استبان بعض خلقه فإنه يحشر، وهو قول الشعبي وابن سيرين. اهـ. ووجهه أن تسميته تقتضي حشره؛ إذ لا فائدة لها إلا في ندائه في المحشر باسمه. وذكر العلقمي في حديث: «سموا أسقاطكم فإنهم فرطكم» الحديث.
فقال: فائدة سأل بعضهم هل يكون السقط شافعا، ومتى يكون شافعاً، هل هو من مصيره علقة أم من ظهور الحمل، أم بعد مضي أربعة أشهر، أم من نفخ الروح؟ والجواب أن العبرة إنما هو بظهور خلقه وعدم ظهوره كما حرره شيخنا زكريا (قوله: ولم يصل عليه) أي سواء كان تام الخلق أم لا (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 228)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند