Frequently Asked Questions
طلاق و تفریق
Ref. No. 4015/47-10232
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ بہتر ہوگا کہ کسی معتبر شرعی دارالقضا سے رجوع کیا جائے، اور بالمشافہ مل کر معاملہ کے حدود کو سمجھ لیاجائے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طلاق و تفریق
Ref. No. 4017/47-10225
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ اگر اس کا کہنا کہ تو میری بیوی نہیں، طلاق کی نیت سے تھا تو شرط پائے جانےپر ایک طلاق واقع ہوجائےگی، اور اگر طلاق کی نیت نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ طلاق کی بات کسی طرح بھی بیوی سے کرنا مناسب نہیں ہے، اس سے احتراز کرنا چاہئے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Fiqh
Ref. No. 4073/47-10222
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ فقہِ اسلامی میں زراعت کی اس قسم کی شراکت کو عموماً مزارعت یا شرکتِ زراعت کہا جاتا ہے۔ شریعت میں اصولاً ایسی شراکت جائز ہے بشرطیکہ اس کی شرائط واضح اور متعین ہوں۔اگردونوں فریق باہمی رضامندی سے کام کریں، نفع فیصد یا حصہ (مثلاً آدھا، تہائی وغیرہ) کی صورت میں پہلے سے طے ہو، اخراجات واضح ہوں،نقصان بھی دونوں اپنے اپنے حصے کے مطابق برداشت کریں، تو ایسی شراکت شرعاً جائز ہے۔منافع کو مقرر رقم کی صورت میں نہیں بلکہ فیصد یا حصہ کی صورت میں طے کرنا ضروری ہے۔مثلاً:آدھا آدھا،یا 60٪ اور 40٪ وغیرہ۔پنیری اور فصل کے تمام اخراجات کو پہلے کل آمدنی سے منہا کرنا اور پھر باقی رقم کو حصوں کے مطابق تقسیم کرنا بھی درست ہے، بشرطیکہ یہ بات پہلے سے طے ہو۔اگر نقصان ہو جائے تونقصان بھی طے شدہ اصول کے مطابق دونوں کوبرداشت کرنا ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Taharah (Purity) Ablution &Bath
Ref. No. 4072/47-10221
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ (۱) فقہ کا بنیادی قاعدہ ہے: الأصل في الأشياء الطهارةیعنی اصل یہ ہے کہ ہر چیز پاک ہے جب تک یقینی طور پر نجاست ثابت نہ ہو۔اس لیے:فرش،برتن،کپڑے،گھر کا پانی سب کو پاک ہی سمجھا جائے گا جب تک واضح نجاست نظر نہ آئے۔(۲) نجاست کا حکم صرف اس وقت لگے گاجب نجاست واضح طور پر نظر آئے (مثلاً پیشاب، پاخانہ، خون وغیرہ)یا اس کا رنگ، بو یا اثر منتقل ہو جائے۔صرف یہ سوچنا کہ نجاست پھیل گئی ہے شرعاً معتبر نہیں۔(۳) اگر کسی جگہ نجاست ہو بھی تو وہ اس طرح پورے گھر میں نہیں پھیلتی جیسے اکثر لوگ سمجھتے ہیں۔
مثلاً:اگر فرش خشک ہے تو اس پر چلنے سے نجاست منتقل نہیں ہوتی۔اگر پیر صاف نظر آ رہے ہوں تو باقی چیزیں ناپاک نہیں ہوتیں۔(۴) پانی میں نجاست اس وقت اثر کرتی ہے جب اس کا اثر ظاہر ہو۔اگر آپ:ظاہری طور پر صاف جگہ پر نماز پڑھتے ہیں،کپڑے صاف ہیں، تو آپ کی نماز بالکل درست ہے۔ اس بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔(۵) بہت سے لوگوں کو پاکی کے مسئلے میں شدید شک اور وسوسہ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ ہر چیز کو ناپاک سمجھنے لگتے ہیں۔نبی ﷺ نے فرمایا:إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ(بخاری)، یعنی دین آسان ہے۔اس لیے شریعت ہمیں اتنی سختی کرنے کا حکم نہیں دیتی۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
تجارت و ملازمت
Ref. No. 4071/47-10220
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔عام تجارتی انشورنس میں سود اور دیگر شرعی قباحتوں کی وجہ سے فقہائے کرام نے اسے ناجائز قرار دیا ہے۔ تاہم صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ کا اصل تعلق ڈاکٹر کے ساتھ ہے۔آپ صرف دفتری اور تکنیکی کام(میڈیکل بلنگ اور ریکارڈ رکھنا) انجام دیتی ہیں،آپ نہ انشورنس کا معاہدہ کرتی ہیں اور نہ سودی لین دین میں شریک ہوتی ہیں، اورآپ کو تنخواہ ڈاکٹر کی طرف سے ملتی ہے۔اس لیے اس نوعیت کا کام اصولاً جائز ہے اور اس کی آمدنی حلال شمار ہوگی۔البتہ چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:بلنگ یا کلیم میں کسی قسم کی جھوٹ یا دھوکہ دہی شامل نہ ہو،مریض یا انشورنس کمپنی کے ساتھ غلط معلومات یا جعلی کلیم نہ بنایا جائے اورکام صرف دفتری معاونت تک محدود ہو اور کسی ناجائز معاملہ میں براہِ راست تعاون نہ ہو۔اگر ان امور کی پابندی کی جائے تو اس کام کی شرعاً گنجائش ہے،تاہم احیتاط کا تقاضہ ہے کہ اس سے بھی بچاجائے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Prayer / Friday & Eidain prayers
Ref. No. 4070/47-10219
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔(۱) فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ اگر امام مسلمان ہو اور اس کی نماز صحیح ہو تو اس کے پیچھے نماز ادا ہو جاتی ہے، چاہے وہ فاسق ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے اگر مذکورہ شخص مسلمان ہے اور نماز صحیح طریقے سے پڑھاتا ہے تو اس کے پیچھے نماز ادا ہو جائے گی۔(۲) البتہ شریعت کا اصول یہ ہے کہ امامت کے لیے نیک، متقی اور اچھے کردار والا شخص مقدم کیا جائے۔ اگر کوئی شخص کھلے گناہ کا مرتکب ہو یا اس کے کردار پر سنگین اعتراض ہو تو ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ اور نامناسب ہے، خصوصاً جب اس سے بہتر اور صالح لوگ موجود ہوں۔(۳) تاہم اگر اس نے توبہ کرلی اور اپنے کئے پر شرمندہ ہے تو اس کو امامت پر مقرر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (۴) لیکن اس کے باوجود لوگوں کے اطمینان کے لئے دوسرے حافظ کو امام مقرر کرنا بھی درست ہے۔(۵) خیال رہے کہ اگر کسی پر صرف الزام ہو اور شرعی یا قانونی طور پر جرم ثابت نہ ہوا ہو تو اس کے بارے میں بدگمانی اور غیبت سے بچنا بھی ضروری ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Itikaf (Seclusion in Masjid)
Ref. No. 4069/47-10218
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے، یعنی اگر محلہ کی مسجد میں ایک شخص بھی اعتکاف کر لے تو سب کی طرف سے سنت ادا ہو جاتی ہے۔اعتکاف کے صحیح ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ غروب آفتاب سے پہلے اعتکاف کی نیت کے ساتھ مسجد میں موجود ہو، کیونکہ آخری عشرہ کا اعتکاف ۲۰ رمضان کو غروبِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ مغرب کے بعد مسجد میں اعتکاف کی نیت سے ٹھہرے، اس لیے شرعاً آخری عشرہ کا اعتکاف اس سے ادا نہیں ہوگا؛ کیونکہ اعتکاف کے آغاز کا وقت گزر چکا تھا۔
البتہ مغرب کے بعد مسجد میں ٹھہرنے سے آپ کو نفل اعتکاف کا ثواب ضرور ملے گا، لیکن سنتِ مؤکدہ اعتکاف ادا نہیں ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
تجارت و ملازمت
Ref. No. 4068/47-10217
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔قسطوں پر خرید و فروخت (بیع بالتقسیط) شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ خرید و فروخت کے وقت کل قیمت متعین اور طے شدہ ہو اور بعد میں اس میں کوئی اضافہ نہ کیا جائے۔رہا یہ سوال کہ معاہدے میں یہ شرط رکھی جائے کہ اگر خریدار کسی ایک قسط کی ادائیگی نہ کرے تو باقی تمام رقم فوراً واجب الادا ہو جائے گی، تو فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اس طرح کی شرط لگانا جائز ہے؛ کیونکہ اس سے اصل قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا، بلکہ صرف ادائیگی کے طریقہ اور وقت کی پابندی کی تاکید ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر خریدار مقررہ قسط ادا نہ کرے تو فروخت کرنے والے کو یہ حق ہوگا کہ وہ بقیہ تمام رقم کا مطالبہ کر لے۔البتہ اس صورت میں یہ جائز نہیں کہ تاخیر کی وجہ سے مزید جرمانہ یا سودی اضافہ کیا جائے، کیونکہ تاخیر کے بدلے اضافی رقم لینا شرعاً جائز نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
روزہ و رمضان
Ref. No. 4067/47-10216
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔فجر کی سنت اور فرض کے درمیان لوگوں کو نصیحت کرنے میں اور بیان کرنے میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ تاہم اس کا خیال رکھاجائے کہ سنت پڑھنے والوں یا ذکر کرنے والوں کو خلل نہ پہنچے۔ اور اگر بیان کے بعد سنت پڑھنے کے لئے وقفہ دیدیاجائے تو یہ بھی اچھا ہے۔ اور اگر ممکن ہو تو فجر کے بعد بیان رکھاجائے یہ اور بہتر ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Prayer / Friday & Eidain prayers
Ref. No. 4066/47-10215
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ پہلا امام جس نے 20 رکعت تراویح پڑھ لی ہوں، وہ دوسری جماعت کے ساتھ نفل کی نیت سے نماز پڑھ سکتا ہے، یہ جائز ہے۔البتہ جس نے تراویح کی نماز ایک بار ادا کرلی اس کا دوبارہ امام بن کر تراویح پڑھانا درست نہیں، ہاں مقتدی بن کر تراویح پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے جتنی بار چاہے نفل کی نیت سے شریک ہوسکتاہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند