Frequently Asked Questions
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: تنہائی میں اور محرم کے سامنے بھی ستر چھپانا لازم ہے اس لیے صورت مسئولہ میں جب کہ ستر کا حصہ کھلا ہوا ہے تو نماز نہیں ہوئی جلد از جلد ان نمازوں کی قضا کرلیں جتنی نمازیں اس حالت میں پڑھی ہیں کہنی چھپانی بھی لازم ہے خواہ دوپٹے ہی سے چھپائیں۔(۱)
(۱) وبدن الحرۃ عورۃ إلا وجہہا وکفیہا وقدمیہا۔ (ابن نجیم ، البحرالرائق شرح کنز الدقائق، ج۱، ص: ۴۶۸، زکریا دیوبند)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج6 ص106
نماز / جمعہ و عیدین
Ref. No. 802
الجواب وباللہ التوفیق
بسم اللہ الرحمن الرحیم-: احناف کے نزدیک مغرب سے قبل نفل پڑھنا متروک اس وجہ سے ہے کہ مغرب میں تعجیل کا حکم ہے۔ لیکن جبکہ آپ کے یہاں تاخیر ہوتی ہی ہے تو آپ بھی دو رکعت ادا کرسکتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Miscellaneous
Ref. No. 38/861
In the name of Allah the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
Through this dream you have been sought to be attentive towards prayers and maintaining good ties with the relatives. Ensure to offer prayers with sincerity and humbleness. If you have been unable to maintain good ties with any of your relatives pay attention to it. May Allah help you! And Allah knows the best.
Darul Ifta
Darul Uloom Waqf Deoband
ذبیحہ / قربانی و عقیقہ
Ref. No. 40/919
الجواب وباللہ التوفیق
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ہمارے عرف میں گوشت کا اطلاق مچھلی پر نہیں ہوتا ہے، اس لئے مچھلی کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی اور کفارہ بھی نہیں ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
نماز / جمعہ و عیدین
Ref. No. 1020/41-180
الجواب وباللہ التوفیق
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ قصدا اقامت ترک کرنا مکروہ ہے، تاہم نماز ہوجائے گی۔ ایک ہی شخص کا اقامت اور امامت کرنا بھی درست ہے۔
والأفضل أن يصلي بالأذان والإقامة كذا في التمرتاشي وإذا لم يؤذن في تلك المحلة يكره له تركهما ولو ترك الأذان وحده لا يكره كذا في المحيط ولو ترك الإقامة يكره. كذا في التمرتاشي". (عالمگیری 1/54)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Islamic Creed (Aqaaid)
Ref. No. 1350/42-755
In the name of Allah the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
The aforementioned saying was not found in authentic books. Such sayings are propagated to inculcate the teacher’s respect into the mind of children. But it has no reality at all.
And Allah knows best
Darul Ifta
Darul Uloom Waqf Deoband
طلاق و تفریق
Ref. No. 1478/42-923
الجواب وباللہ التوفیق
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ تحریر پڑھنے کے بعد صحیح نشان پر کلک کرنا اس تحریر سے اتفاق کی دلیل ہے اور اس نشان پر کلک کرنا زبان سے لفظ ہاں کہنے کے مترادف ہے۔ اس لئے صحیح کے نشان والا بٹن دبانے سے تحریر شدہ تینوں طلاقیں شرعا واقع ہوگئیں۔ لہذا میاں بیوی دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے، اب نہ دورانِ عدت رجعت جائز ہے، اور نہ ہی تجدیدِ نکاح کی ،اور عورت عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، ولو على نحو الماء فلا مطلقا. ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة. (شامی، مطلب فی الطلاق بالکتابۃ 3/246) وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه (شامی باب صریح الطلاق 3/247) قال للكاتب اكتب إني إذا خرجت من المصر بلا إذنها فهي طالق واحدة فلم تتفق الكتابة وتحقق الشرط وقع وأصله أن الأمر بكتابة الإقرار إقرار كتب أم لا اهـ. (البحر، باب الفاظ الطلاق 3/272)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
Business & employment
Ref. No. 1956/44-1872
In the name of Allah the most Gracious the most Merciful
The answer to your question is as follows:
A person whose income includes both halal and haram, if he repays the debt, this payment will be considered from his halal income. And taking this money will be permissible for the creditor too, there will be no suspicion of Haram in it, and there will be no dislike of any kind. Since the wealth you received is not haram, the negative effects of the haram wealth will not be transferred.
And Allah knows best
Darul Ifta
Darul Uloom Waqf Deoband
نکاح و شادی
Ref. No. 2258/44-2414
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ صورت مسئولہ میں طلاق کا کوئی لفظ ہی استعمال نہیں ہوا ، ڈائیو یا ڈے کو طلاق کے لئے نہیں بنایاگیا ہے اس لئے محض اس لفظ کے بولنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ توہم پرستی سے بچنے کی کوشش کرے، اوربلاوجہ ہر لفظ سے طلاق کا خیال دل میں نہ لائے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
حج و عمرہ
Ref. No. 2314/44-3524
واللہ الموفق:ملتزم پر جانا مناسک عمرہ میں سے نہیں ہے اس لیے کہ عمرہ کے دو ارکان ہیں احرام اور طواف اور سعی بین الصفا و المروہ واجب ہے ۔ملتزم کے بارے میں حضرات فقہاء کی رائے ہے کہ طواف کے بعد دو رکعت طواف کا دوگا نہ پڑھے اس کے بعد زمزم نوش کرے ملتزم کا التزام کرے اور پھر واپس حجر اسو د کی طرف آکر استلام کرے یہ تفصیلات حضرات فقہاء نے طواف صدر کے موقع پر ذکر کی ہیں یہی وجہ ہے کہ طواف قدوم کے موقع پر طواف کے بعد دوگانہ طواف اور حجراسود کے استلام کے بعدصفاو مروہ کی سعی کرے گایہاں پر حضرات فقہاء نے ملتزم پر جانے کا تذکرہ نہیںکیا ہے ۔معلوم ہے کہ جس طواف کے بعد سعی ہے اس میں ملتزم پر جانا مستحب نہیں ہے اورجس طواف کے بعد سعی نہیں ہے اس طواف کے بعد ملتزم پر جانا مستحب ہے صاحب غنیہ نے بھی اس اصول کی طرف رہنمائی کی ہے اس لیے عمرہ کی ادائیگی میں چوں کہ طواف کے بعد سعی ہے اس لیے عمرہ کے طواف میں ملتزم پر جانا مستحب نہیں ہوگا ہاں عمرہ کی ادائیگی کے بعد جب وطن واپس لوٹے اس وقت طواف وداع کے بعد ملتزم پر جانا مستحب ہوگا ۔
والمختار بعد طواف القدوم و صلاتہ العود الی الحجر ثم الی الصفاء و لم یذکروا الاتیان الی زمزم ولا الی الملتزم بعد ہذا الطواف و انما ذکروا ذلک بعد طواف الوداع -و من ثم سن لہ أن یاتی الملتزم عقب طواف لا سعی لہ (غنیۃ الناسک 175)(ثم) إذا أراد السفر (طاف بالبيت سبعة أشواط لا يرمل فيها، وهذا) يقال له (طواف الصدر) وطواف الوداع، وطواف آخر عهد بالبيت، لأنه يودع البيت ويصدر به (وهو واجب إلا على أهل مكة) ومن في حكمهم ممن كان داخل الميقات، لأنهم لا يصدرون ولا يودعون (2) ، ويصلي بعده ركعتي الطواف، ويأتي زمزم فيشرب من مائها، ثم يأتي الملتزم (3) فيضع صدره ووجهه عليه. ويتشبث بالأستار، (اللباب فی شرح الکتاب 1/194)
(٢) کعبۃ اللہ اور ملتزم سے چمٹنے کی صورت میں اگر خوشبو کے اثرات لگ جائیں تو اس پر کفارہ لازم ہوگا اگر مکمل ایک عضو میں لگ جائے تو دم دینا پڑےگااور اگر ایک عضو سے کم ہو تو صدقہ کرنا ہوگا ۔
وإذا تطيب المحرم فعليه الكفارةفإن طيب عضوا كاملا فما زاد فعليه دم) ( وذلك مثل الرأس والساق والفخذ وما أشبه ذلك؛ لأن الجناية تتكامل بتكامل الارتفاق، وذلك في العضو الكامل فيترتب عليه كمال الموجب (وإن طيب أقل من عضو فعليه الصدقة) ؛(فتح القدیر ،3/24)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند