Frequently Asked Questions
متفرقات
Ref. No. 1575/43-1111
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ماں کے دودھ کی طرح بکری اور گائے کا دودھ بھی مفید ہوسکتاہے، اس سلسلہ میں ڈاکٹر سے بات کرلی جائے، تاہم اگر کوئی دوسری صورت نہ ہو تو بدرجہ مجبوری ماں کا دودھ بقدر ضرورت کچھ دنوں تک اس طرح پلایاجاسکتاہے۔
’’وتكره ألبان الأتان للمريض وغيره، وكذلك لحومها، وكذلك التداوي بكل حرام، كذا في فتاوى قاضي خان. ... يجوز للعليل شرب الدم والبول وأكل الميتة؛ للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن شفاءه فيه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه‘‘. (الھندیۃ 5/355)
"مطلب في التداوي بالمحرم: قوله: اختلف في التداوي بالمحرم) ففي النهاية عن الذخيرة يجوز إن علم فيه شفاء ولم يعلم دواء آخر. وفي الخانية في معنى قوله عليه الصلاة والسلام: «إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم» كما رواه البخاري أن ما فيه شفاء لا بأس به كما يحل الخمر للعطشان في الضرورة، وكذا اختاره صاحب الهداية في التجنيس فقال: لو رعف فكتب الفاتحة بالدم على جبهته وأنفه جاز للاستشفاء، وبالبول أيضا إن علم فيه شفاء لا بأس به، لكن لم ينقل وهذا؛ لأن الحرمة ساقطة عند الاستشفاء كحل الخمر والميتة للعطشان والجائع. اهـ من البحر. وأفاد سيدي عبد الغني أنه لا يظهر الاختلاف في كلامهم لاتفاقهم على الجواز للضرورة، واشتراط صاحب النهاية العلم لا ينافيه اشتراط من بعده الشفاء ولذا قال والدي في شرح الدرر: إن قوله: لا للتداوي محمول على المظنون وإلا فجوازه باليقيني اتفاق كما صرح به في المصفى. اهـ.
أقول: وهو ظاهر موافق لما مر في الاستدلال، لقول الإمام: لكن قد علمت أن قول الأطباء لايحصل به العلم. والظاهر أن التجربة يحصل بها غلبة الظن دون اليقين إلا أن يريدوا بالعلم غلبة الظن وهو شائع في كلامهم تأمل (قوله: وظاهر المذهب المنع) محمول على المظنون كما علمته (قوله: لكن نقل المصنف إلخ) مفعول نقل قوله: وقيل: يرخص إلخ والاستدراك على إطلاق المنع، وإذا قيد بالمظنون فلا استدراك. ونص ما في الحاوي القدسي: إذا سال الدم من أنف إنسان ولاينقطع حتى يخشى عليه الموت وقد علم أنه لو كتب فاتحة الكتاب أو الإخلاص بذلك الدم على جبهته ينقطع فلا يرخص له فيه؛ وقيل: يرخص كما رخص في شرب الخمر للعطشان وأكل الميتة في المخمصة وهو الفتوى. اهـ (قوله: ولم يعلم دواء آخر) هذا المصرح به في عبارة النهاية كما مر وليس في عبارة الحاوي، إلا أنه يفاد من قوله كما رخص إلخ؛ لأن حل الخمر والميتة حيث لم يوجد ما يقوم مقامهما أفاده ط. قال: ونقل الحموي أن لحم الخنزير لا يجوز التداوي به وإن تعين، (شامی 1/210)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 2426/45-3673
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ناموں کے آخرمیں اس طرح کاا ضافہ درست ہے۔ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ ہر جگہ کا یک عرف ہے، اور نام رکھنے کا ایک طریقہ ہے جس سے بعض مرتبہ اس علاقہ کی شناخت ہوتی ہے، اس لئے اس طرح نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Re. No. 39 / 837
الجواب وباللہ التوفیق
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بہنوئی غیرمحرم ہے ، سالی اگر بالغہ ہے تو بہنوئی کے سامنے اس کا آنا اور باتیں کرنا جائز نہیں ۔اس سے احتراز لازم ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 1855/43-1687
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ انعام کے معنی ہیں عطیہ اور بخشش، اور حسن کے معنی ہیں عمدہ اور بہتر۔ لہذا انعام الحسن کے معنی ہوئے بہت عمدہ عطیہ اور بخشش۔ (القاموس الوحید ج 1 ص 339 و ج 2 ص1674 مطبوعہ حسینیہ دیوبند)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 41/836
الجواب وباللہ التوفیق
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اسمائے الہی کا ورد کرنا باعث ثواب ہے، اور مسجد میں خاموشی کے ساتھ اسماء وآیات کا زبان سے ورد کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ خاص عدد کا خاص اثر ہوتا ہے، اس لئے متعین تعداد کے مطابق وظیفہ کرنا بھی درست ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 1347/42-733
الجواب وباللہ التوفیق
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ دعوت و تبلیغ کی اہمیت سے کون انکار کرسکتاہے۔ ہر شخص کو اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے یہ فریضہ انجام دینا چاہئے۔ اور اگر کسی شخص کو دین سیکھنے کا دوسرا کوئی موقع میسر نہ ہو بجز جماعت تبلیغ میں نکلنےکے تو اس کو جماعت میں جانا جائز ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اس مدت میں بیوی و بچوں کے خرچہ کا نظم کرے جو کہ شوہر و باپ ہونے کی حیثیت سے اس پر لازم وضروری ہے۔ بیوی وبچوں کو تنگی و فقر وفاقہ میں چھوڑ کر جانا درست نہیں ہے۔ حج جیسی اہم عبادت کے لئے استطاعت شرط ہے، اور استطاعت میں اپنے سفر خرچ کے ساتھ بیوی وبچہ کے نفقہ کا نظم کرنا بھی داخل ہے۔ اس لئے مذکورہ شخص کا طریقہ کار درست نہیں ہے۔
وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا۔ (سورۃ آل عمران 97، فتجب للزوجۃ علی زوجھا انھا جزاء الاحتباس ، وکل محبوس لمنفعۃ غیرہ یلزمہ نفقتہ کمفت وقاض ووصی (رد المحتار، باب النفقۃ 5/282 زکریا دیوبند) تجب علی الرجل نفقۃ امراتہ المسلمۃ والذمیۃ والفقیرۃ والغنیۃ دخل بھا او لم یدخل ، کبیرۃ کانت المراۃ او صغیرۃ یجامع مثلھا ، کذا فی فتاوی قاضی خان، سواء کانت حرۃ او مکاتبۃ کذا فی الجوھرۃ النیرۃ (الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الطلاق ، الباب السابع عشر فی النفقات، الفصل الاول 1/595)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 2187/44-2300
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ (1) ملازمت کے امور میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہوتی ہو تو خارج اوقات میں والد صاحب کی مدد کرنے میں یا ان کو از راہ تعاون پیسے دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اس کو شرط کی خلاف ورزی نہیں کہیں گے۔ (2) اولا تو والدصاحب کے تعلق سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اگر والدصاحب کوئی دوسرا کاروبار بھی کرلیں تو پھر اس طرح کہنا درست ہوگا جو آپ نے لکھا ہے۔ ایسی صورت میں آپ بوس کے سامنے والد صااحب کے کاسمیٹک کے کام کا انکار نہ کریں بلکہ والد صاحب کے دوسرے کاروبار کا اقرار کریں تاکہ جھوٹ سے بچ سکیں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
متفرقات
Ref. No. 1021/41-181
الجواب وباللہ التوفیق
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ چوہے مارنے کے لئے جو زہر دار دواآتی ہے اس سے چوہے مارنے میں حرج نہیں ہے، آسانی سے جلد جس سے موت واقع ہو اس کا ستعمال کرنا چاہئے تاکہ تکلیف کم سے کم ہو۔
وجاز قتل ما یضر منہا ککلب عقور وہرّة تضر الخ (شامی 10/482)، وکل طریق أدی الحیوان إلی التعذیب أکثر من اللازم لإزہاق الروق فہو داخل في النہی ومامور بالاجتناب عنہ (تکملۃ فتح الملہم 3/540)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 1227/42-535
الجواب وباللہ التوفیق
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ لہو ولعب اور گانے باجے کو سننا معصیت ہے، اور اس طرح کی محفل میں بیٹھنا فسق ہے، یعنی سننے سے زیادہ گناہ اس طرح کی محفلوں میں بیٹھنے کا ہے۔ اور اس طرح کی چیزوں سے لطف اندوز ہونا کفران نعمت اور نعمت کی ناقدری ہے۔ اس لئے کہ اعضاء کو ان کاموں کے علاوہ میں لگانا جن کے لئے ان کو بنایاگیاہے یہ کفران نعمت ہے، نعمت کا شکریہ نہیں۔ اس لئے ایسے کاموں سے اعضاء کو بچاناچاہئے۔ آپﷺ کا معمول تھا کہ اس طرح کی چیزوں کو سننے کے وقت آپ اپنے کانوں میں انگلی ڈال لیتے تھے۔ عبارت میں جو کفر ہے اس سے مراد کفروشرک نہیں ہے بلکہ کفر کے لغوی معنی کے اعتبار سے کفران نعمت مراد ہے۔
استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع لما روي «أنه - عليه الصلاة والسلام - أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه» (الدرالمختار مع رد المحتار ، کتاب الحظر والاباحۃ 6/349)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند