متفرقات

Ref. No. 2424/45-3672

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ گاہک نے اگر کوئی سامان ردی ہوجانے کےبعد دوکان پر چھوڑدیا، اور دوکاندار نے اس کو صاف کرکےیا مرمت کرکے بیچ دیا تو اس کی گنجائش ہے بشرطیکہ وہ کوئی ایسی معمولی چیز ہو جس کی طرف التفات نہ کیاجاتاہو۔ گاہک کا اس بیٹری کے ڈاون ہونے یا کسی  سامان  کی حیثیت  کم ہوجانے پر دوکان پر چھوڑدینا دلالۃ دوکاندار کو اس  میں تصرف کا مالک بنانا سمجھاجائے گا چاہے وہ اس کو پھینک دے یا اس کو کسی استعمال میں لائے۔تاہم اگر کوئی ایسی  چیز ہے جس کی بازار میں ایک مناسب قیمت ہے اور اندازہ ہو کہ اگر گاہک کو اس کی قیمت معلوم ہوجائے تو اس کا مطالبہ کرے گا تو اس کو بیچ کر پیسے اپنے پاس رکھ لینا درست نہیں ہے۔ اسی طرح اگر دوکاندار گراہک کو وہ سامان' بیکار 'بتاکر رکھ لیتاہے اور بعد میں بیچ دیتاہے تو اس کا یہ عمل درست نہیں ہے۔

وفی شرح السیر الکبیر: لو وجد مثل السوط والحبل فہو بمنزلة اللقطة، وما جاء فی الترخیص فی السوط فذاک فی المنکسر ونحوہ مما لا قیمة لہ ولا یطلبہ صاحبہ بعدما سقط منہ وربما ألقاہ مثل النوی وقشور الرمان وبعر الإبل وجلد الشاة المیتة. أما ما یعلم أن صاحبہ یطلبہ فہو بمنزلة اللقطة إلخ (حاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 6/436/438،ط: زکریا)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

متفرقات

Ref. No. 39 / 845

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                                                                                        

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر معتبر علماء نے منع کیا ہےتو اس کی جگہ کسی اور کتاب کا انتخاب کرلیا جائے۔ اور اگر اسی کتاب کو پڑھائیں تو جہاں شبہ ہو اس کو لکھ کر صحیح  بات معلوم کرلیں  کہ صحیح  کیا ہے اور بچوں کو پھر صحیح بات بھی بتادی جائے۔ اس سلسلہ میں بہتر ہوگا کہ کسی قریبی مدرسہ یا عالم سے رجوع کریں، ان کو کتاب دکھاکر اس جیسی دوسری کتاب کی طرف رہنمائی حاصل کرلیں۔  واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

متفرقات

Ref. No. 804

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                         

بسم اللہ الرحمن الرحیم-:  چاندی کی انگوٹھی میں نگینہ کی جگہ ہیرے کایا کسی دوسرے  قیمتی پتھرکا لگانا بھی درست ہے۔   واللہ اعلم  بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

متفرقات

Ref. No. 2427/45-3691

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  سرکاری مراعات لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، سرکار  کی طرف سے ملنے والی چیزیں مالدار کے لئے بھی جائز ہوتی ہیں اور غریب کے لئے بھی۔ سرکار جس کو چاہے اس کے لئے پینشن جاری کرسکتی ہے۔ اور جس کودے وہی اس کا مستحق ہوتاہے۔  

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

متفرقات

Ref. No. 830 Alif

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                         

بسم اللہ الرحمن الرحیم-:  نماز ایک اہم عبادت ہے، اور نماز کی ادائیگی میں عبادت ہی کا پہلو پیش نظر رہنا چاہئے۔ تاہم یہ بھی مسلم ہے نما ز میں ورزش بھی بہت عمدہ ہے، یہ طبی طور پر تسلیم شدہ ہے،  اس میں ماہرین طب کی بات معتبر ہے۔

واللہ اعلم

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

متفرقات

Ref. No. 1955/44-1878

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  فلک کے معنی آسمان۔ ضحیٰ کے معنی دن کی روشنی ۔ اور آئینور کے معنی  چاند کی روشنی کے ہیں، آئے لفظ ترکی زبان میں چاند کے معنی  میں آتاہے، اور نور کے معنی عربی میں لائٹ  اور روشنی کے آتے ہیں، اس طرح" آئے نور" کے معنی ہوئے چاند کی روشنی۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

متفرقات

Ref. No. 807

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                         

بسم اللہ الرحمن الرحیم-:  بھابھی اور ممانی غیر محرم ہیں ان سے اختلاط اور ہنسی مذاق حرام ہے۔   واللہ اعلم  بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

متفرقات

Ref. No. 2600/45-4099

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔    کسی کے انتظار کرنے کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہوتاہے کہ آدمی تمام فرائض و طبعی تقاضوں کو چھوڑ کر آنے والے کی راہ تکتا رہے، اس لئے  فکری طور پر کسی کا انتظارکرنے کے ساتھ عبادت میں مشغول ہونا یا اپنی طبعی ضرورت کو پورا کرنا وغیرہ سارے امور ممکن ہیں۔ 

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

متفرقات

Ref. No. 819

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                         

بسم اللہ الرحمن الرحیم-:  کسی بھی جاندار کی تصویر  لگا نے سے احتراز کیا جائے، اور شناخت کے لیے کوئی دوسرا طریقہ  بھی اختیار کیا جاسکتاہے۔  واللہ اعلم  بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

متفرقات

Ref. No. 1354/42-767

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ کتاب لکھ کر اس کو کسی کتب خانہ والے کے ہاتھ  بیچ دینا اور حق طباعت کا بھی پیسہ لےلینا درست ہے۔نیز  اگرصرف حق طباعت کو فروخت کیا جائے تو   بھی  درست ہے۔ حق طباعت آج کل عرف کی بنا پر  ایک  ایسا قانونی حق  بن چکا ہے جس کا رجسٹریشن ہوتاہے اور اب یہ اعیان و اموال کے درجہ میں ہے، اور ایک مال متقوم ہے۔ بیع  کے اندر مبیع کا مال متقوم ہونا ضروری ہے۔   البتہ اگر سافٹ کاپی فروخت کریں اور اس کے ساتھ حق طباعت بھی دیدیں اور دونوں کا پیسہ ایک ہی عقد میں طے کرلیں تو یہ صورت زیادہ بہتر ہے۔ دراصل یہ مسئلہ علماء کے درمیان مختلف فیہ ہے مگر دارالعلوم دیوبند نے حق طباعت کو مال متقوم  مان کر اس کی خریدوفروخت کی اجازت دی ہے۔ اور اسی کو راجح قراردیاہے۔

والحاصل أن القياس في جنس هذه المسائل أن يفعل صاحب الملك ما بدا له مطلقا لأنه يتصرف في خالص ملكه وإن كان يلحق الضرر بغيره، لكن يترك القياس في موضع يتعدى ضرره إلى غيره ضررا فاحشا كما تقدم وهو المراد بالبين فيما ذكر الصدر الشهيد وهو ما يكون سببا للهدم وما يوهن البناء سبب له أو يخرج عن الانتفاع بالكلية وهو ما يمنع من الحوائج الأصلية كسد الضوء بالكلية على ما ذكر في الفرق المتقدم واختاروا الفتوى عليه. (فتح القدیر، مسائل شتی من کتاب القضاء 7/326)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند