بدعات و منکرات

Ref. No. 3957/47-10181

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ واضح رہے کہ اولاد کا ہونا یا نہ ہونا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی حکمت کے تابع ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے: ﴿يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾ (الشورى: 49).

شرعاً محض بدگمانی کی بنیاد پر یہ یقین کر لینا کہ کسی نے جادو کر دیا ہے، درست نہیں۔ اکثر اوقات طبی یا طبعی اسباب کی بنا پر اولاد میں تاخیر ہوتی ہے، اس لیے سب سے پہلے جائز طبی علاج اور ماہر ڈاکٹروں سے رجوع کرنا لازم ہے۔

رہا “روحانی بابا” کے پاس جانے کا مسئلہ  تواگروہ ایسا شخص ہو جو غیب دانی کا دعویٰ کرے، جادو کے ذریعے جادو توڑنے کی بات کرے، جنات سے مدد لینے، غیر مفہوم منتر، تعویذ یا شرکیہ کلمات استعمال کرے، یا یقینی طور پر یہ کہے کہ فلاں نے جادو کیا ہے، تو ایسے شخص کے پاس جانا حرام اور ناجائز ہے، بلکہ بعض صورتوں میں ایمان کے لیے خطرہ ہے۔

البتہ اگر کوئی متقی، باشرع عالم یا دیندار شخص ہو جو صرف قرآنِ کریم، مسنون دعاؤں اور ثابت شدہ شرعی رُقیہ کے ذریعے علاج کرے، کسی قسم کے شرکیہ یا غیر شرعی اعمال نہ کرے، اور غیب دانی یا جادوگر ہونے کا دعویٰ نہ کرے، تو ایسے شخص سے دم کرانا یا دعا کروانا جائز ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

مساجد و مدارس

Ref. No. 3956/47-10180

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مرحوم نے اپنی زندگی میں جو مکان وقف کردیا اور رجسٹری کرادی وہ مکان وقف ہوگیا، اب  مسجد کی انتظامیہ کو لازم ہے کہ وہ اس کی حفاظت کے لئے حتی المقدور کوشش کرے۔ تھک ہار کر وقف شدہ مکان کو آٹھلاکھ کے عوض قابضین کے نام رجسٹری کرادینا جائز نہیں۔ مقدمہ جاری رکھا جائے، نقصان کا خوف اللہ کے سپرد کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ حق کی حفاظت فرمائے،اور آپ سب کو اجرِ عظیم عطا فرمائے۔

ثُمَّ إنَّ أَبَا یُوسُفَ یَقُولُ یَصِیرُ وَقْفًا بِمُجَرَّدِ الْقَوْلِ لِأَنَّہُ بِمَنْزِلَةِ الْإِعْتَاقِ عِنْدَہُ، وَعَلَیْہِ الْفَتْوَی۔ ( رد المحتار: ۳۳۸/۴)فالحاصل أن الترجیح قد اختلف والأخذ بقول أبی یوسف أحوط وأسہل ولذا قال فی المحیط ومشایخنا أخذوا بقول أبی یوسف ترغیبا للناس فی الوقف۔ ( البحر الرائق: ۲۱۲/۵)

"وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما". الفتاوى العالمگيرية: 2/ 350، ط دار الفكر))

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طہارت / وضو و غسل

Ref. No. 3954/47-10178

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ فقہ کا قاعدہ ہے کہ محض شک کی بنا ء سابقہ حالت نہیں بدلتی ، اور یقین کو شک کی وجہ سے نہیں چھوڑاجائے گا۔لہذا اگر وضو پہلے سے ہے تومحض شک یا احساس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔وضو کے بعد اعضاء کے خشک ہونے کا شک بھی غیر معتبر ہے۔پیشاب کے بعد معمولی انتظار اور پانی کی چھینٹیں کافی ہیں۔عارضی احساس یا وہم سے غسل لازم نہیں ہوتاہے۔وسوسہ کی بنا پر بار بار وضو یا غسل کرنا درست نہیں، بلکہ اسے چھوڑنا شرعاً لازم ہے۔آپ پر لازم ہے کہ وسوسہ کو نظر انداز کریں اور یقین کی بنیاد پر عبادت انجام دیں۔ جب تک وضوکے ٹوٹنے کا یقین نہ ہو محض شک کی بنیاد پروضو ہرگز نہ کریں۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق

Ref. No. 3952/47-10176

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  مذکورہ واقعات کی روشنی میں شوہر کا مسلسل بیوی کو والدین کے گھر بٹھائے رکھنا، نان و نفقہ ادا نہ کرنا، طویل عرصہ بلاعذر ترکِ سکونت، صلح اور بسانے سے عمداً گریز، طلاق یا خلع کے مطالبے پر ٹال مٹول اور دھمکی آمیز جملے کہنا شرعاً واضح تعنت، ایذا رسانی اور حقوقِ زوجیت کی صریح پامالی ہے؛ تاہم شوہر کے الفاظ آزاد ہے کہنے سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی، اگر شوہر نے اس کے بعد رجوع نہیں کیا اور عدت گزرگئی تو عورت بائنہ ہوگئی اور نکاح ختم ہوگیا۔ اور بعد میں واٹس ایپ پر او کے لکھنے سے  کوئ طلاق  واقع نہیں ہوئی۔  اگر شوہر نے عدت کے دوران رجعت کرلی ہو تو بھی چونکہ شوہر نہ ساتھ رکھتا ہے، نہ خرچ دیتا ہے، نہ طلاق دیتا ہے اور بیوی کو معلق رکھے ہوئے ہے، اس لیے بیوی کو شرعاً دارالقضاء کے ذریعے خلع یا فسخِ نکاح کا پورا حق حاصل ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق

Ref. No. 3951/47-10175

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ واضح ہو کہ فقہِ حنفی کے اصول کے مطابق نکاح کے قائم رہنے کی حالت میں اگر بیوی شوہر کی اجازت سے بیرونِ ملک تعلیم یا کسی جائز مقصد کے لیے گئی ہوتو شوہر پر بیوی کا نان و نفقہ واجب رہتا ہے، خواہ شوہر خود بے روزگار ہو یا قرض لے کر یہ خرچ پورا کرے۔ لہٰذا خلع سے پہلے نکاح کے قائم رہنے کے زمانے میں شوہر شرعاً نان و نفقہ کا ذمہ دار تھا۔نان و نفقہ میں شرعاً کھانا، لباس، رہائش (کرایہ)، ضروری علاج اور اس ملک کے لازمی قانونی اخراجات (مثلاً واجب انشورنس) شامل ہیں۔ البتہ تعلیمی فیس شوہر پر اصلًا واجب نہیں، تاہم اگر شوہر نے اپنی خوشی سے یا ذمہ لے کر ادا کی ہو تو وہ اس کی طرف سے تبرع شمار ہوگی، نان و نفقہ نہیں۔خلع واقع ہونے کے بعد شوہر پر آئندہ کے لیے نان و نفقہ واجب نہیں رہتا، اور عورت اپنے اخراجات کی خود ذمہ دار ہوتی ہے۔ خلع کے وقت اگر مہر یا سابقہ نان و نفقہ سے دستبرداری صلح یا عدالتی فیصلے کے تحت ہوئی ہو تو اسی کے مطابق حکم ہوگا۔

رہا یہ مسئلہ کہ شوہر کے بھائیوں نے جو رقم شوہر کو قرض دی، تو شرعاً اس قرض کی ادائیگی شوہر ہی کے ذمہ ہے، کیونکہ لڑکی نے نہ ان سے قرض لیا اور نہ اس کی ضامن بنی۔ لہٰذا شوہر کے بھائیوں کا لڑکی سے اخراجات کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Zakat / Charity / Aid

Ref. No. 3949/47-10153

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔    ایسا قرض جو فی الحال واجب الادا نہ ہو بلکہ مدت کے ساتھ قسطوں میں ادا ہونا ہو، وہ پورا قرض زکوٰۃ کے حساب میں منہا نہیں کیا جاتا، بلکہ صرف وہ قسط منہا ہوگی جو سالِ زکوٰۃ میں واجب الادا ہے۔یعنی سال گزرنے پر زکوۃ کے حساب سے صرف اس رقم کو منہا کریں گے جو اس سال آپ نے قسط میں جمع کردی ہے۔ آئندہ سالوں کی جو قسط ابھی باقی ہے ، ان پر سال رواں زکوۃ واجب ہے۔

ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة (الی قولہ) (ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا رحمهم الله تعالى كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض الخ (الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، ج 1، ص 172، ط: ماجدیہ)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

متفرقات

Ref. No. 3948/47-10152

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔    صابرین کے معنی ہیں صبر کرنے والے، معنی کے اعتبار سے بالکل درست ہے، البتہ عربی قاعدہ کے اعتبار سے واحد مونث کا صیغہ ہونا چاہئے، جیسے صابرۃ، تو زیادہ بہتر ہے۔ مندرجہ ذیل ناموں میں سے بھی کوئی نام رکھ سکتے ہیں۔  حلیمۃ — بردبار،  راضیہ — اللہ کی رضا پر راضی، شاکرہ — شکر گزار،  طیبہ — پاکیزہ، آمنہ — امن والی۔

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

متفرقات

Ref. No. 3947/47-10151

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  پنشن کی رقم چونکہ ادارہ کی طرف سے عطیہ ہوتی ہے اور عطیہ اسی کا ہوتاہے جس کے نام سے وہ جاری کیاجاتاہے ۔ اس لئے پنشن کی رقم پر صرف بیوی کا حق ہے، اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی، اور کسی دوسرے کو اس میں مطالبہ کا حق نہیں ہے۔

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (7/ 57):

لأن ‌الإرث ‌إنما ‌يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «- عليه الصلاة والسلام - من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نکاح و شادی

Ref. No. 3946/47-10157

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   صحیح نکاح کے ذریعہ جو أولاد پیدا ہوتی ہے، اسی کا نسب باپ سے ثابت ہوتاہے۔ غیر کے نکاح میں جو عورت ہو اس سے نکاح حرام ہے، اور یہ نکاح نہیں ہے بلکہ صریح زنا ہے۔ جو نکاح حرام ہے، یا جو زنا سے أولاد پیدا ہوتی ہے اس کا نسب باپ سے ثابت نہیں ہوتاہے، بلکہ وہ أولاد صرف ماں کی طرف منسوب ہوتی ہے۔  زید کی نسبی أولاد سے ان کا کوئی رشتہ ثابت نہیں ہوگا۔ زنا سے پیدا ہوئی أولاد نسبی أولاد کے لئے غیرمحرم ہی ہوگی،اور پردہ کے احکام ان پر لازم ہوں گے۔

الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ (صحیح بخاری، حدیث: 2053 ؛ صحیح مسلم)

"إذا زنى رجل بامرأة فجاءت بولد فادعاه الزاني لم يثبت نسبه منه، وأما المرأة فيثبت نسبه منها."(الھندیۃ، 4 / 127، كتاب الدعوى، الباب الرابع عشر في دعوى النسب، ط: رشيدية)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Marriage (Nikah)

Ref. No. 3944/47-10155

In the name of Allah the most Gracious the most merciful

The answer to your question is as follows:

For an adult woman, it is not legally required in Islamic law to obtain her parents’ permission in order to conduct her own marriage. Such a marriage is considered valid and legally binding under Shariah, and it is not permissible to annul it without a valid reason. However, it is not considered appropriate for a woman to go against her parents and arrange her marriage on her own. She should have taken their feelings and rights into consideration.

"(فنفذ نكاح حرة مكلفة  بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه ومالا فلا (شامی کتاب النکاح، باب الولی ۳/۵۵)

"الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض (بدائع الصنائع، کتاب النکاح، فصل ولایۃ الندب الاستحباب فی النکاح ۲/۲۴۷)

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband