تجارت و ملازمت

Ref. No. 3943/47-10154

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔  شرکاء کے لیے یہ طے شدہ نہیں ہوتا کہ کس کو پہلے فائدہ حاصل ہوگا، اور کس کو آخر میں، یہ شدید غرر (غیر یقینی) ہے، جو مالی معاملات میں ناجائز ہے۔قرعہ کے ذریعہ کسی کو فوری بڑا فائدہ مل جانا اور کسی کو طویل انتظار کرنا،اگرچہ بظاہر سب کو آخر میں سونا مل جاتا ہے، لیکن فائدے کی تقسیم اتفاقی قرعہ پر ہونے کی وجہ سے یہ صورت قمار سے مشابہ ہو جاتی ہے، جو شرعاً ممنوع ہے۔مذکورہ اسکیم میں شرکت ناجائزہے،اور اس کے ذریعہ حاصل کیا گیا فائدہ  حرام ہے۔

اگر اسکیم اس طرح ہو کہ:جس شریک کو سونا پہلے ملے وہ بھی پوری مدت تک تمام اقساط ادا کرتا رہے، کسی کو اقساط سے معاف نہ کیا جائے، کسی کو زائد نفع نہ دیا جائے، تو یہ صورت باہمی تعاون (کمیٹی) کے طور پر جائز ہو سکتی ہے۔بہرحال سوال میں مذکوراسکیم شرع کے خلاف ہے، اس لئے اس میں  آئندہ شامل نہ ہوں،  اورپہلے جو کیا اس پر سچی توبہ کریں، اور جو  زائدفائدہ حاصل کیا وہ  اصل حق داروں کو واپس کریں،  واپسی ممکن نہ ہو تو بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دیں۔ "(قوله: کل قرض جر نفعاً فهو  حرام) أی اذا کان مشروطاً." (شامی، ج:۵،ص:۱۶۶،ط:سعید)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

مساجد و مدارس

Ref. No. 3942/47-10137

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ دادا کا  مسجد کی زمین پر قبضہ ناجائز اور گناہ  تھا، اب یہ معلوم نہیں کہ انھوں نے کیوں ایسا کیاتھا، وہ مسجد شرعی تھی یا نہیں، بہرحال اس گناہ کا اثر اولاد کی امامت پر نہیں پڑے گا۔لڑکے کی أولاد میں جوعالم یا حافظ امامت کا اہل ہو وہ امامت کرسکتاہے، اور اس کے پیچھے نماز درست ہوگی۔ لیکن أولاد کو چاہئے کہ تحقیق کریں اگر واقعی وہ زمین وقف  شدہ مسجد کی تھی  تو اس کو مسجد کمیٹی کے حوالہ کردیاجائے۔ اس کو اپنے استعمال میں لانا درست نہیں ہوگا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

کھیل کود اور تفریح

Ref. No. 3941/47-10136

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  78 کلومیٹر یا اس سے زائد سفر کی نیت کرکے اپنے علاقہ سے نکل جانے والا شخص  شرعامسافر ہے۔ اب وہ  دورانِ سفر،بار بار رکے، مختلف کاموں کے لیے ٹھہرے، یا  بشری یا غیر بشری ضرورت کے لیے توقف کرے تو ان چیزوں میں سے کسی سے مسافر کی حیثیت ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ وہ مسافر ہی باقی رہے گا  اور قصر ہی کرتارہےگا، جب تک کہ کسی ایک جگہ ۱۵ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کرلے۔

وَإِذَا نَوَى الْإِقَامَةَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا تَمَّتْ صَلَاتُهُ» (رد المحتار)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Hadith & Sunnah

Ref. No. 3940/47-10135

In the name of Allah, the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

If you deposit money in a bank and the bank gives you a fixed and predetermined amount every month as profit, then according to Islamic law this is considered interest (riba), whether the bank uses that money for investment or lends it out.

The reason is that:

The principal amount is safe and guaranteed.

The profit is fixed in advance.

There is no sharing in profit and loss.

Legally (in Shariah), this arrangement becomes a case of taking an additional amount in return for a loan, and every conditional increase on a loan is interest.

In Islam, lawful investment is that in which:

Profit is not fixed in advance,

Both parties share in profit and loss, and

The capital is invested in genuine trade or business.

Therefore, in the situation described, the amount received is interest and is not permissible.

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom waqf Deoband 

Hadith & Sunnah

Ref. No. 3940/47-10135

In the name of Allah, the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

If you deposit money in a bank and the bank gives you a fixed and predetermined amount every month as profit, then according to Islamic law this is considered interest (riba), whether the bank uses that money for investment or lends it out.

The reason is that:

The principal amount is safe and guaranteed.

The profit is fixed in advance.

There is no sharing in profit and loss.

Legally (in Shariah), this arrangement becomes a case of taking an additional amount in return for a loan, and every conditional increase on a loan is interest.

In Islam, lawful investment is that in which:

Profit is not fixed in advance,

Both parties share in profit and loss, and

The capital is invested in genuine trade or business.

Therefore, in the situation described, the amount received is interest and is not permissible.

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom waqf Deoband 

فقہ

Ref. No. 3939/47-10134

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  ہلیو کا لفظ کسی کو متوجہ کرنے کے لئے بولاجاتاہے، اس لئے ہیلو کہنا جائز ہے۔ تاہم بہتر یہی ہے کہ ہم سلام سے اپنی بات کا آغاز کریں اور سلام پر اپنی بات ختم کریں۔

"عن ابن عمر مرفوعا: من ‌بدأ ‌بالكلام ‌قبل ‌السلام ‌فلا ‌تجيبوه." (مرقاۃ المفاتیح: كتاب الآداب، باب السلام، ج:7، ص:2948، ط:دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Usury / Insurance

Ref. No. 3938/47-10147

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں بکر کے ساتھ معاملہ طے ہوچکاہے، اور اس نے پوری رقم جمع کردی ہے، اس لئے گاڑی کی انشورنس کی رقم بھی بکر ہی کا حق ہے۔ اور اس سلسلہ میں زید پر لازم ہے کہ بکر کا تعاون کرکے انشورنس کی رقم بکر کو دِلوائے۔ زید کا کاغذات نہ دینا اور قسط جمع نہ کرنا ظلم ہے۔ جرگہ کا فیصلہ بکر پر لازم نہیں ہے، اگر بکر بغیر کسی جبرواکراہ کے قبول کرلے تو ٹھیک ہے ورنہ حق باقی رہے گا اور زید برئ الذمہ نہ ہوگا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق

Ref. No. 3937/47-10146

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  اسلام میں نکاح ایک پاکیزہ رشتے کا نام ہے،اسلام نے اس کی پائداری پر زور دیا ہے، اور اس کے لیے باہمی الفت ومحبت اور دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی ہے لیکن اگر کسی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان نااتفاقی ہونے لگے تو پہلے دونوں خاندان کے بزرگ کو صلح کرانے کی کوشش کرنی چاہیے؛ کیوںکہ اسلام میں طلاق ناپسندیدہ فعل ہے اور بلا ضرورت اسکا استعمال درست نہیں ہے۔ پھر بھی اگر نباہ کی کوئی صورت نہ بن سکے اور فتنہ وفساد کا اندیشہ ہو تو ایک طلاق صریح دے کر دونوں کو الگ ہو جانے کا حکم ہے۔  ایک طلاق کے بعد اگر دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو عدت میں رجوع کے ذریعہ اور عدت کے بعد نکاح کے ذریعہ دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں۔  ایک ساتھ تین طلاق دینا شرعاً گناہ ہے اور ملکی قانون کے مطابق قابل مواخذہ جرم ہے۔

صورت مسئولہ میں  عورت اپنے شوہر پر تین طلاق کے ساتھ شرعا حرام ہوچکی ہے، نکاح بالکلیہ ختم ہوچکاہے اور عورت پر عدت لازم ہے۔ عدت گزارنے کے بعد عورت کسی دوسرے مرد سے جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔ عدت کے بعد اس کو کسی  دوسرے مرد سے نکاح کرنے سے روکنا شرعاجائز نہیں ہے۔

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ /فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-(البقرۃ ۲۳۰)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

بدعات و منکرات

Ref. No. 3936/47-10145

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ (۱)  دستاربندی بذاتِ خود نہ فرض ہے، نہ واجب اور نہ سنتِ مؤکدہ، بلکہ یہ ایک عرفی اور انتظامی عمل ہے، جس کا مقصد حفاظِ کرام اور اہلِ علم کی حوصلہ افزائی اور قرآن کریم و علمِ دین کی تعظیم ہے۔ اس اعتبار سے اگر دستاربندی کو محض تکریم اور تشویق کے طور پر، بلا کسی شرعی قباحت کے انجام دیا جائے تو وہ جائز ہے۔ تاہم اسے لازمِ دین، ضروری شعار یا دینی فریضہ سمجھ لینا شرعاً درست نہیں، کیونکہ شریعت میں اس کی کوئی پابند شکل متعین نہیں کی گئی۔ (۲) چار یا پانچ لاکھ روپے خرچ کرکے عظیم الشان جلسہ منعقد کرنا شرعاً ہرگز ضروری نہیں۔ چونکہ دستاربندی خود واجب نہیں، اس لیے اس کے لیے کثیر اخراجات، مہنگے اسٹیج، بے تحاشا لائٹس، بلند آواز اور دور تک پھیلنے والی مائکنگ، وسیع تشہیر اور دیگر لوازمات کو ضروری قرار دینا درست نہیں۔ اگر سادہ، باوقار اور محدود انتظامات کے ساتھ، ایک یا دو متقی، صاحبِ نسبت اور باعمل بزرگوں کے ذریعے جامع مسجد میں دستاربندی کرادی جائے اور مقصدِ اصلاح و دعوت حاصل ہو جائے تو شرعاً یہی صورت کافی بلکہ افضل ہے ۔ (۳) مروجہ عظیم الشان جلسوں میں درج ذیل امور پائے جانے کی صورت میں وہ شرعاً قابلِ اعتراض اور اصلاح طلب ہیں:اسراف و فضول خرچی:غیر ضروری آرائش، اسٹیج، لائٹس، مائکنگ اور دیگر ظاہری تزئینات پر کثیر رقم خرچ کرنا؛ خصوصاً ایسے پسماندہ علاقے میں جہاں مدرسہ خود محتاج ہو، اسراف کے زمرے میں آتا ہے، جو قرآن و سنت کی رو سے ناپسندیدہ ہے۔(۴) طلبہ کو چندہ، تشہیر اور دیگر انتظامی امور میں اس حد تک مشغول کرنا کہ ان کی تعلیم و تربیت متاثر ہو، امانت کے خلاف اور شرعاً قابلِ گرفت عمل ہے۔(۵) جلسۂ وعظ میں خوش الحان شاعری، نغمگی، وجد کی کیفیت، تالیاں بجانا اور شاعروں پر پیسہ نچھاور کرنا جلسے کے وقار کے منافی ہے اور دینی اجتماع کو تفریحی مشاعرے کی شکل دے دیتا ہے، جو اکابرِ اہلِ علم کے طریقے کے خلاف ہے۔ (۶) پردے کے نام پر ویڈیو گرافی، اسکرینوں کی کثرت اور غیر ضروری بصری اہتمام اگر فتنہ کا سبب بنیں تو شرعاً ان سے اجتناب لازم ہے۔(۷) مقررین کو محض مجمع کشی کے لیے آخر وقت میں بلاکر بھاری رقوم دینا، جبکہ یہ عمل ایک باقاعدہ تجارت کی صورت اختیار کر لے، اخلاص کے منافی اور دینی ذوق کو نقصان پہنچانے والا ہے۔ ہدیہ اگر ہو تو عرف، استطاعت اور سادگی کے مطابق ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(۸) دستاربندی سادہ اور باوقار طریقے سے کی جائے؛غیر ضروری اخراجات، تشہیر اور نمائش سے اجتناب کیا جائے؛اصلاحِ عوام اور اخلاصِ نیت کو اصل مقصد بنایا جائے؛طلبہ کو ان کے اصل مقصد، یعنی تعلیم و تربیت، تک محدود رکھا جائے؛جلسہ دین کے وقار، سنجیدگی اور اثر پذیری کا مظہر ہوناچاہئے، اس کو تفریح اور مقابلہ بازی کامیدان  بنانا جائز نہیں ہے۔ (۹) دستاربندی اور اصلاحِ عامہ کے لیے سب سے آسان، محفوظ اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ جمعہ کے دن، جامع مسجد میں چند نیک، باوقار، صاحبِ علم اور صاحبِ نسبت مقررین کی مختصر اور مؤثر تقریریں کرادی جائیں۔ چونکہ جمعہ کی نماز کے موقع پر مسلمانوں کی بڑی تعداد  جمع ہوتی ہے اور اس وقت ذہنی و قلبی طور پر سنجیدگی اور توجہ کا غلبہ ہوتا ہے، لہٰذا نصیحت اور اصلاح کا اثر زیادہ اور دیرپا ہوتا ہے۔اوراس طریقے سے غیر ضروری اسٹیج، پنڈال، لائٹس، مہنگی مائکنگ، وسیع تشہیر اور دیگر زائد انتظامات کی حاجت نہیں رہتی، جس کے نتیجے میں اخراجات نہایت محدود رہتے ہیں، اور اسراف و فضول خرچی سے حفاظت ہو جاتی ہے۔اورچونکہ اجتماع مسجد کے دائرے میں باوقار ماحول میں منعقد ہوتا ہے، اس لیے غیر سنجیدہ حرکات اور دیگر مروجہ رسوم و رواج کے در آنے کا قوی اندیشہ نہیں رہتا۔نیز مرد و زن کے اختلاط، غیر ضروری ویڈیو گرافی، اسکرینوں اور دیگر بصری فتنوں سے بھی بڑی حد تک حفاظت ہو جاتی ہے، اور اجتماع اپنی اصل دینی روح اور وقار کے ساتھ قائم رہتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق

Ref. No. 3935/47-10144

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  اسلام میں نکاح ایک پاکیزہ رشتے کا نام ہے،اسلام نے اس کی پائداری پر زور دیا ہے، اور اس کے لیے باہمی الفت ومحبت اور دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی ہے لیکن اگر کسی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان نااتفاقی ہونے لگے تو پہلے دونوں خاندان کے بزرگ کو صلح کرانے کی کوشش کرنی چاہیے؛ کیوںکہ اسلام میں طلاق ناپسندیدہ فعل ہے اور بلا ضرورت اسکا استعمال درست نہیں ہے۔ پھر بھی اگر نباہ کی کوئی صورت نہ بن سکے اور فتنہ وفساد کا اندیشہ ہو تو ایک طلاق صریح دے کر دونوں کو الگ ہو جانے کا حکم ہے۔  ایک طلاق کے بعد اگر دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو عدت میں رجوع کے ذریعہ اور عدت کے بعد نکاح کے ذریعہ دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں۔  ایک ساتھ تین طلاق دینا شرعاً گناہ ہے اور ملکی قانون کے مطابق قابل مواخذہ جرم ہے۔

صورت مسئولہ میں جب آپ نے تین طلاقیں دیدیں تو عورت آپ کے لئے فوری طور پر حرام ہوگئی، نہ رجعت کا اختیار تھا اور نہ ہی ابھی اس سے نکاح کرنے کا اختیار ہے۔ نکاح بالکل ختم ہوچکاہے اور اس سے نکاح کرنے کی اب کوئی صورت باقی نہیں رہی۔ عورت عدت گزرچکی ہے ت، اگر وہ چاہے تو کسی دوسرے  مرد سے نکاح کرسکتی ہے۔ آپ بھی کسی دوسری عورت سے نکاح کرسکتے ہیں۔لییکن جس عورت کو تین طلاقیں دیدیں ہیں اس سے نکاح کرنا آپ کے لئے حرام ہے۔  مرد کے لئے ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری عورت سے نکاح کرنا شرعا جائز ہے، اس لئے عدت کی شرط مرد کے لئے نہیں ہے۔ پہلی بیوی کی عدت کے دوران بھی شوہر کسی دوسری عورت سے نکاح کرسکتاہے۔

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ /فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-(البقرۃ ۲۳۰)

وَ  اِنْ  خِفْتُمْ  اَلَّا  تُقْسِطُوْا  فِی  الْیَتٰمٰى  فَانْكِحُوْا  مَا  طَابَ  لَكُمْ  مِّنَ  النِّسَآءِ  مَثْنٰى  وَ  ثُلٰثَ  وَ  رُبٰعَۚ- فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا  تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً  اَوْ  مَا  مَلَكَتْ  اَیْمَانُكُمْؕ-ذٰلِكَ  اَدْنٰۤى  اَلَّا  تَعُوْلُوْاﭤ(سورۃ النساء ۳)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند