Frequently Asked Questions
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: صورت مسئولہ میں بہتر یہی ہے کہ ایک ہی شخص خطبہ پڑھے اور وہی نماز پڑھائے، لیکن اگر ایک نے خطبہ پڑھا اوردوسرے نے نماز پڑھائی تو بھی نماز درست ہوجائے گی۔(۱)(۱) تنبیہ: … وقد صرح في الخلاصۃ بأنہ لوخطب صبي بإذن السلطان وصلی الجمعۃ رجل بالغ یجوز۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: في نیۃ آخر ظہر بعد صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۱۹)وقد صرح في الخلاصۃ: بأنہ لو خطب صبي بإذن السلطان وصلی الجمعۃ رجل بالغ یجوز۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۲، ص: ۲۵۸)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 263
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: خطبہ حمد وصلوٰۃ اور وعظ ونصیحت نیز ادعیہ پر مشتمل ہوتا ہے، اس میں الوداع وغیرہ کے جملے بغیر التزام کے کہہ دینے میں تو حرج نہیں؛ لیکن اس کو سنت سمجھنا اور اس کا التزام درست نہیں ہے، خطبہ کے بعد دعاء نہ مسنون ہے اور نہ ہی بزرگوں کا طریقہ ہے(۱) جب کہ نماز کے بعد دعاء مسنون ہے اور اسی پر بزرگوں کا عمل بھی ہے اس لیے دعا نماز کے بعد ہی کرنی چاہئے۔(۲) (۱) من أحدث في أمرنا ہذا مالیس منہ فہو رد۔ (مشکوٰۃ المصابیح، ’’باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الأول‘‘: ج ۱، ص: ۲۷، رقم: ۱۴۰)(۲) إن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لم یرفع یدیہ حتی یفرغ من صلاتہ۔ (الطبراني، المعجم الکبیر، ’’کتاب الصلاۃ‘‘: ج ۱۳، ص: ۱۲۹، رقم: ۷۳۵، دار الکتب العلمیہ، بیروت)قولہ: (وسن خطبتان بجلستہ الخ) کما رویٰ عن أبي حنیفۃ أنہ قال: ینبغي أن یخطب خطبۃ خفیفۃ یفتتح بحمد اللہ تعالیٰ ویثني علیہ ویتشہد ویصلي علی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم ویعظ ویذکر ویقرأ سورۃ ثم یجلس جلستہ خفیفۃ، ثم یقوم فیخطب خطبۃ أخری۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۲، ص: ۲۵۸)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 262
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: عید کے خطبہ کا وقت نماز عید کے بعد ہے، اگر پہلے پڑھ لیا تو غلط ہوا، مگر نماز کے بعد اعادہ کی ضرورت نہیں۔ الجوہرۃ النیرۃ میںہے ’’وإن خطب قبل الصلاۃ اجزأہ مع الاساء ۃ ولا تعاد الصلاۃ‘‘ اس لیے دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں تاہم اگر لوگوں کے کہنے پر احتیاطاً اعادہ کرلیا گیا تو تب بھی جائز ہوگیا۔(۱)(۱) (فلو خطب قبلہا صح وأساء) لترک السنۃ۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین، مطلب: أمر الخلیفۃ لا یبقی بعد موتہ‘‘: ج ۳، ص: ۵۷)قولہ: (ویخطب بعدہا خطبتین) اقتداء بفعلہ علیہ الصلاۃ والسلام بخلاف الجمعۃ؛ فإنہ یخطب قبلہا لأن الخطبۃ فیہا شرط والشرط متقدم أو مقارن، وفي العبد لیست بشرط، ولہذا إذا خطب قبلہا صح وکرہ؛ لأنہ خالف السنۃ کما لو ترکہا أصلا۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ العیدین‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۳)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 261
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ضروری احکام صدقہ فطر وقربانی وغیرہ خطبہ میں بیان کرنے چاہئیں، عربی میں پڑھے ہوئے خطبہ کا اردو میں ترجمہ اسی وقت سنانا ثابت نہیں، ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ سننے والے اکتا جائیں گے، پریشان ہوں گے۔ البتہ نماز سے پہلے جو تقریر ہوتی ہے اسی میں تفصیلات بیان کردینی چاہئیں۔(۲)(۲) (و) أن (یعلم الناس فیہا أحکام) صدقۃ (الفطر) لیؤدیہا من لم یؤدہا وینبغي تعلیمہم في الجمعۃ التي قبلہا لیخرجوہا في محلہا ولم أرہ، وہکذا کل حکم احتیج إلیہ؛ لأن الخطبۃ شرعت للتعلیم۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین، مطلب: أمر الخلیفۃ لا یبقی بعد موتہ‘‘: ج ۳، ص: ۵۸)قولہ: (ویعلم الناس فیہا أحکام صدقۃ الفطر) لأنہا شرعت لأجلہ، وقال في السراج الوہاج: وأحکامہا خمسۃ۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ العیدین‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۳)ویعلم الناس صدقۃ الفطر وأحکامہا، وہي خمسۃ … وفي عید النحر یکبر الخطیب ویسبح، ویعظ الناس، ویعلمہم أحکام الذبح والنحر والقربان، کذا في التتار خانیۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السابع عشر في صلاۃ العیدین‘‘: ج ۱، ص: ۲۱۲)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 260
نماز / جمعہ و عیدین
الجـواب وباللّٰہ التوفیــق: عیدین کی نماز کے بعد ممبر پر کھڑے ہوکر خطبہ دینا سنت ہے۔(۱) (۱) (و) أن (یکبر قبل نزولہ من المنبر أربع عشرۃ) وإذا صعد علیہ لایجلس عندنا۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین، مطلب: أمر الخلیفۃ لا یبقی بعد موتہ‘‘: ج ۳، ص: ۵۸)قولہ: (ویخطب بعدہا خطبتین) اقتداء بفعلہ علیہ الصلاۃ والسلام بخلاف الجمعۃ فإنہ یخطب قبلہا … وفي المجتبیٰ … ویبدأ بالتکبیرات في خطبۃ العیدین، ویستحب أن یستفتح الأولیٰ بتسع تکبیرات تتریٰ، والثانیۃ بسبع، قال عبد اللّٰہ بن عتبۃ بن مسعود: ہو من السنۃ ویکبر قبل أن ینزل من المنبر أربع عشرۃ۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ العیدین‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۳)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 260
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: خطبہ کے لیے نماز کی طرح ہی صفوں میں بیٹھنا بہتر ہے، حضرات صحابہؓ کا یہ عمل رہا ہے، لیکن اگر آواز سننے کے لیے سب لوگ اکھٹے ہوکر بیٹھیں اور مقصد خطبہ کا صحیح سننا ہو، تو یہ بھی جائز ہے۔(۱)(۱) ولہذا قال في التجنیس: والرسم في زماننا أن القوم یستقبلون القبلۃ، قال: لأنہم لو استقبلو الإمام لخرجوا في تسویۃ الصفوف بعد فراغہ لکثرۃ الزحام، وجزم في الخلاصۃ بأنہ یستحب استقبالہ إن کان أمام الإمام۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۲، ص: ۲۵۹)ویستحب للرجل أن یستقبل الخطیب بوجہہ، ہذا إذا کان أمام الإمام … والدنو من الإمام أفضل من التباعد عنہ … ویستحب أن یقعد فیہا کما یقعد في الصلاۃ، کذا فی معراج الدرایۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۰۸، ۲۰۹)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 259
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسنون طریقہ خطبہ کا یہ ہے کہ دونوں خطبے عربی زبان میں ہوں اور دونوں کے درمیان کسی دوسری زبان میں تقریر وغیرہ سے فصل نہ کیا جائے۔ اگر لوگوں کو سمجھانے کے لیے کسی دوسری زبان کی ضرورت ہے، تو نماز عید سے اور خطبۂ جمعہ سے قبل احکام ومسائل وغیرہ دوسری زبان میں سمجھادئے جائیں، تاکہ مقصد بھی پورا ہو جائے اور سنت بھی پوری ہو جائے۔(۱) (۱) تتمہ: لم یقید الخطبۃ بکونہا بالعربیۃ اکتفاء بما قدمہ في باب ’’صفۃ الصلاۃ‘‘ من أنہا غیر شرط ولو مع القدرۃ علی العربیۃ عندہ، خلافا لہما حیث شرطاہا إلا عند العجز کالخلاف في الشروع في الصلاۃ۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: في نیۃ آخر ظہر بعد صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۱۹)وقد صرح في السراج الوہاح بلزوم الاستئناف وبطلان الخطبۃ وہذا ہو الظاہر؛ لأنہ إذا طال الفصل لم یبق خطبۃ للجمعۃ۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۲، ص: ۲۵۸)وفي البدائع: ویکرہ للخطیب أن یتکلم في حال خطبتہ إلا إذا کان أمرا بمعروف فلا یکرہ لکونہ منہا۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’أیضاً‘‘: ص: ۲۶۱)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 258
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: واضح رہے کہ کہ ایّامِ تشریق میں فرض نماز کے بعد تکبیراتِ تشریق ہر عاقل، بالغ، مسلمان پر ایک دفعہ پڑھنا شرعاً واجب ہے اور ایک قول کے مطابق اس کا بآواز بلند ہونا بھی ضروری ہے، چاہے مرد ہو یا عورت، شہر کا رہنے والا ہو یا دیہات کا اور اس کو نہ پڑھنے والا ترکِ واجب کی وجہ سے گناہ گار ہوگا اور اب تک اس کے ترک کی صورت میں جو گناہ ہوا ہے، اس پر بصدقِ دل توبہ واستغفار بھی کریں۔جیساکہ کتب فقہ میں اسکی تفصیلات موجود ہیں۔’’ففي الدر المختار: (و یجب تکبیر التشریق) في الأصح للأمر بہ (مرۃ) و إن زاد علیہا یکون فضلا قالہ العیني‘‘(۱)’’و في المبسوط للسرخسي: و قال أبو یوسف و محمد رحمہما اللہ تعالٰی کل من یصلي مکتوبۃ في ہذہ الأیام فعلیہ التکبیر مسافرا کان أو مقیما في المصر أو القریۃ رجلا أو امرأۃ في الجماعۃ أو وحدہ و ہو قول إبراہیم رحمہ اللّٰہ تعالی‘‘(۲)’’و في البحرالرائق: و أما عندہما فھو واجب علی کل من یصلي المکتوبۃ لأنہ تبع لہا فیجب علی المسافر و المرأۃ و القروي، قال في السراج الوہاج والجوہرۃ: و الفتویٰ علی قولہما في ہٰذا أیضاً، فالحاصل أن الفتویٰ علی قولہما في آخر وقتہ و فیمن یجب علیہ‘‘(۱)’’و في حاشیۃ ابن عابدین: (قولہ صفتہ إلخ) فہو تہلیلۃ بین أربع تکبیرات ثم تحمیدۃ و الجہر بہ واجب و قیل سنۃ قہستاني‘‘(۲)(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین، مطلب: في تکبیر التشریق‘‘: ج ۳، ص: ۶۱، ۶۲۔(۲) السرخسي، المبسوط، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین‘‘، دار الکتب العلمیۃ، بیروت: ج ۲، ص: ۴۴۔(۱) ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین‘‘: ج ۲، ص: ۱۶۶۔(۲) ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین، مطلب: یطلق اسم السنۃ علی الواجب‘‘: ج ۳، ص: ۶۲۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 256
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: تکبیر تشریق ایک مرتبہ واجب ہے، ایک دفعہ سے زیادہ خلاف سنت ہے؛ اس لئے ایک مرتبہ کہنے پر ہی اکتفا کرنا چاہئے۔ ’’(ویجب تکبیر التشریق) في الأصح للأمر بہ (مرۃ) وإن زاد علیہا یکون فضلاً، قولہ: (وإن زاد الخ)، أفاد أن قولہ: ’’مرۃ‘‘ بیان للواجب؛ لکن ذکر أبو السعود أن الحموي نقل عن القرا حصاري أن الإتیان بہ مرتین خلاف السنۃ‘‘(۱)’’ومما یتصل بذلک تکبیرات أیام التشریق: الکلام في تکبیرات التشریق في مواضع: الأول: في صفتہ والثاني: في عددہ وما ہیتہ … أما صفتہ فإنہ واجب، وأما عددہ وما ہیتہ فہو أن یقول مرۃ واحدۃ: اللّٰہ أکبر، لا إلٰہ اللّٰہ، واللّٰہ أکبر، وللّٰہ الحمد‘‘(۱)(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین‘‘: ج ۳، ص: ۶۱، ۶۲۔(۲) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السابع عشر في صلاۃ العیدین‘‘: ج ۱، ص: ۲۱۳۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 255
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اللہ تعالیٰ کی اس نعمت عظمیٰ اور اپنے فرض کی بسہولت ادائیگی کی توفیق پر شکرانہ کے طور پر ایک روز بعد تک تکبیرات تشریق پڑھی جاتی ہیں۔(۲)(۲) (ویبدأ بتکبیر التشریق بعد صلاۃ الفجر من یوم عرفۃ، ویختم عقیب صلاۃ العصر من یوم النحر) عند أبی حنیفۃ وقالا: یختم عقیب صلاۃ العصر من آخر أیام التشریق۔ (ابن الہمام، فتح القدیر، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین‘‘: ج ۲، ص: ۷۹، ۸۰)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 255