زیب و زینت و حجاب

Ref. No. 4113/48-10462

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ شوہر کے سامنے عورت کا سر نہ ڈھانپنا یا بال کھلے رکھنا شرعاً جائز ہے۔ بیوی پر اپنے شوہر کے سامنے سر، بال یا دیگر زینت کو چھپانا واجب نہیں، بلکہ میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے مکمل طور پر حلال ہیں اور ایک دوسرے کے سامنے اپنی زینت ظاہر کر سکتے ہیں۔

البتہ اگر گھر میں کوئی غیر محرم موجود ہو یا اچانک آنے کا امکان ہو تو احتیاطاً پردے کا خیال رکھنا چاہیے۔ میاں بیوی کے تعلقات میں باہمی محبت، صفائی اور حسنِ معاشرت کو ملحوظ رکھنا مسنون اور پسندیدہ عمل ہے۔ لہٰذا صرف شوہر کے سامنے سر نہ ڈھانپنا یا بال کھلے رکھنا نہ گناہ ہے اور نہ ہی مکروہ، بلکہ اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

طلاق و تفریق

Ref. No. 4015/47-10232

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ بہتر ہوگا کہ کسی معتبر شرعی دارالقضا سے رجوع کیا جائے، اور بالمشافہ مل کر معاملہ کے حدود کو سمجھ لیاجائے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق

Ref. No. 4017/47-10225

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ اگر اس کا کہنا کہ تو میری بیوی نہیں، طلاق کی نیت سے تھا تو شرط پائے جانےپر ایک طلاق واقع ہوجائےگی، اور اگر طلاق کی نیت نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ طلاق کی بات کسی طرح بھی بیوی سے کرنا مناسب نہیں ہے، اس سے احتراز کرنا چاہئے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

حج و عمرہ

Ref. No. 4111/48-10461

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔ (۱) اگر آپ عمرہ کے بعد پورا حلق (سر منڈوا) لیتے ہیں تو یہ افضل ہے، اگرچہ حج تک بال بہت کم ہی کیوں نہ اگیں۔پھر 10 ذوالحجہ کو رمی کے بعد دوبارہ حلق یا قصر کرنا واجب ہوگا۔ اگر بال بہت کم ہوں تب بھی استرا یا مشین پورے سر پر پھیر دی جائے، یہی کافی ہے۔ اس کے لیے اتنے بالوں کا ہونا ضروری نہیں کہ باقاعدہ کاٹے جائیں۔ فقہائے احناف نے تصریح کی ہے کہ اگر پہلے حلق کی وجہ سے بال بہت کم ہوں تب بھی دوبارہ حلق کیا جائے۔ (۲) جی ہاں، احناف کے نزدیک طوافِ زیارت کی سعی، طوافِ قدوم کے بعد پہلے بھی کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ:

حج کا احرام باندھ چکے ہوں، اس کے بعد طواف کریں،  پھر سعی کر لیں۔ حج کااحرام باندھنے کے لئے مسجد عائشہ جانے کی ضرورت نہیں، مسجدِ عائشہ صرف عمرہ کے احرام کے لیے حل کی حد ہے۔ حج کا احرام مکہ میں اپنی رہائش گاہ (ہوٹل) ہی سے باندھا جا سکتا ہے، بلکہ یہی سنت ہے۔  احرام باندھنے کے بعد طواف کریں، اس طواف میں رمل اور اضطباع بھی کریں، پھر سعی ادا کر لیں، اور اس کے بعد احرام ہی میں منیٰ روانہ ہو جائیں۔ اس صورت میں طوافِ زیارت کے بعد دوبارہ سعی نہیں ہوگی۔(۳) اگر 12 ذوالحجہ کو غروبِ آفتاب سے پہلے طوافِ زیارت مکمل ہو گیا، لیکن سعی مغرب کے بعد (یعنی 13 ذوالحجہ شروع ہونے کے بعد) کی، تو کوئی دم یا صدقہ لازم نہیں ہوگا۔کیونکہ واجب یہ ہے کہ طوافِ زیارت ایامِ نحر میں ہو، جبکہ سعی کا ایامِ نحر میں ہونا واجب نہیں ہے۔(۴) اگر کسی غلطی کی وجہ سے صدقہ واجب ہو (دم نہیں)، تو احناف کے نزدیک اس کی مقدار صدقۂ فطر کے برابر ہے۔یعنی تقریباً: 1.75 کلو گندم یا اس کی قیمت، یا 3.5 کلو جو یا کھجور یا کشمش یا ان کی قیمت۔  دم کے لئے حدود حرم کی شرط ہے لیکن صدقہ کے لئے حدود حرم کی شرط نہیں ہے البتہ  یہ صدقہ حرم کے فقراء کو دینا  بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حج آسان فرمائے، اسے حجِ مبرور بنائے، اور تمام مناسک صحیح طریقے سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وان اراد تقدیم السعی لزمہ ان یتنفل بطواف بعد احرامہ للحج، یضطبع فیہ و یرمل ثم یسعی بعدہ ، و لو طاف طواف القدوم مع انہ لیس بسنۃ فی حقہ و سعی بعدہ و کان قد احرم قبلھما للحج وقع سعیہ معتبرا فلایاتی بہ بعد طواف الزیارۃ۔ ((غنیۃ الناسک ۲۱۶، ومثلہ فی الشامی زکریا ۳؍۵۶۴، الجوہرۃ النیرۃ ۱؍۲۴۰، اللباب ۱؍۱۷۸)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Divorce & Separation

Ref. No. 4110/48-10397

In the name of Allah the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

Provided that the facts stated in the question are accurate, the words "Go, go, leave" are not explicit (ṣarīḥ) words of divorce; rather, they are indirect (kināyah) expressions. In Islamic law, a divorce through indirect expressions takes effect only if they are uttered with a clear and deliberate intention of divorce.

According to your statement, only a passing thought or obsessive doubt (waswasah) occurred, and you also believed that these words would not result in divorce. Moreover, you had no actual intention to divorce your wife when you uttered them. Therefore, no divorce took place, and your marriage remains valid.

In the future, avoid using such expressions in moments of anger, as they may lead to unnecessary confusion, anxiety, or disputes regarding the status of your marriage.

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband

 

مساجد و مدارس

Ref. No. 4109/48-10396

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔  اگر کسی شخص کو شادی بیاہ وغیرہ کے موقع پر مسجد یا مدرسہ کے نام پر رقم دی گئی اور دینے والے کی نیت یہی تھی کہ یہ رقم مسجد یا مدرسہ میں پہنچائی جائے، تو وہ رقم اس شخص کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ امانت ہے۔ اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ رقم اپنے ذاتی استعمال میں لائے۔ایسی رقم کو مسجد یا مدرسہ کے مصارف میں پہنچانا ضروری ہے۔ اگر اس نے بغیر اجازت اپنے استعمال میں لے لی تو وہ گناہگار ہوگا اور اس پر لازم ہے کہ اتنی ہی رقم مسجد یا مدرسہ میں واپس جمع کرے۔البتہ اگر دینے والے نے صاف طور پر اس شخص کو اپنی خوشی سے ہدیہ دیا ہو اور مسجد یا مدرسہ کے لیے دینا مقصود نہ ہو، تو پھر حکم مختلف ہوگا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Fiqh

Ref. No. 4108/48-10395

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔  صورتِ مسئولہ میں آپ کے والدین کے انتقال کے بعد جو 28 بیگھہ زمین چھوڑی گئی، اس میں تمام شرعی ورثاء کا حصہ ہوگا۔ صرف بھائیوں کا آپس میں تقسیم کرلینا اور بہنوں کو حصہ نہ دینا شرعاً درست نہیں ہے۔آپ نے بتایا کہ وارثین میں چار بھائی اور چھ بہنیں ہیں، اور والدین دونوں کا انتقال ہوچکا ہے، نیز دادا دادی وغیرہ بھی پہلے انتقال کرچکے تھے۔ تو اگر اس کے علاوہ کوئی اور وارث (مثلاً بیوہ/شوہر وغیرہ) موجود نہ ہو تو اصول یہ ہوگا کہ:ایک بھائی کا حصہ = دو بہنوں کے برابر ہوگا۔ 28 بیگھہ کو 14 حصوں میں تقسیم کریں گے، ہر بھائی کو  چار بیگھے،اور ہر بہن  کو دو بیگھے ملیں گے۔  لہٰذا آپ کے حصے میں شرعاً  چار بیگھے زمین آتی ہے، سات بیگھے نہیں۔آپ کے پاس جو 7 بیگھے آیا ہے، ان میں سے چار بیگھے ہی شرعا آپ کے ہیں۔ باقی 3 بیگھے میں آپ کی بہنوں کا حق ہے (، گر آپ نے باقی بھائیوں کے حصوں کے ساتھ برابر تقسیم کرلی ہے، ان 3 بیگھہ کو تمام زندہ بہنوں میں برابر برابر تقسیم کریں، کسی ایک بہن کو دینا اور دوسری کو محروم کرنا درست نہیں۔

جو بہن آپ نے ذکر کی کہ کنواری حالت میں فوت ہوگئی تھی، اگر والدین کے انتقال کے وقت وہ زندہ نہیں تھی تو وہ وارث نہیں ہوگی۔ اگر والدین کی وفات کے وقت زندہ تھی تو اس کا حصہ پہلے اس کو ملتا، پھر اس کے انتقال کے بعد اس کے شرعی وارثوں کو منتقل ہوتا۔

لہٰذا مکمل تقسیم کے لیے والدین کی وفات کی تاریخ، اس وقت زندہ ورثاء کی مکمل تفصیل اور فوت شدہ بہن کی وفات کا وقت معلوم کرنا ضروری ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

احکام میت / وراثت و وصیت

Ref. No. 4107/48-10394

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔  صورتِ مسئولہ میں اصل اعتبار اس بات کا ہوگا کہ وہ زمین حقیقتاً کس کی ملکیت میں تھی۔اگر والد نے زمین بیٹے کے نام خریدی تھی اور خریدتے وقت نیت یہ تھی کہ یہ زمین بیٹے ہی کی ملکیت رہے، یا کاغذات وغیرہ میں بیٹے کا نام مالک کی حیثیت سے تھا، تو وہ زمین بیٹے کی ملکیت شمار ہوگی۔  البتہ اگر حقیقت یہ ہو کہ والد نے اپنے پیسوں سے زمین خریدی تھی، صرف نام بیٹے کا لکھوا دیا تھا اور مقصد بیٹے کو مالک بنانا نہیں تھا بلکہ محض نام کی حد تک تھا، تو حکم مختلف ہوگا، اور ایسی صورت میں والد کی ملکیت کا اعتبار کیا جاسکتا ہے۔لہٰذا مکمل صورتِ حال (خریداری کے وقت نیت، پیسے کس کے تھے، کاغذات کس نام پر تھے، قبضہ وغیرہ) دیکھ کر حتمی حکم کیا جائے گا۔سوال مذکور سے بظاہر یہی معلوم ہوتاہے کہ والد نے مذکورہ بیٹے کو مکمل مالک و متصرف نہیں بنایا تھا لہذا ایسی صورت میں وہ زمین بھی والدہی کی ملکیت شمار ہوگی۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طہارت / وضو و غسل

Ref. No. 4106/48-10393

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔  صورتِ مسئولہ میں محض شک اور اندازے کی بنیاد پر ٹینکی کے پانی کو ناپاک قرار نہیں دیا جائے گا۔اگر آپ کو یقین ہو کہ ناپاکی والا اثر (نجاست) گیلی حالت میں ڈھکن کے اندر منتقل ہوا تھا، تو صرف اتنے حصے کو ناپاک کہا جائے گا جہاں نجاست لگی ہونے کا یقین ہو۔ لیکن کئی مہینے گزرنے کے بعد یہ احتمال کہ نمی کے قطرے ٹپک کر ٹینکی کے پانی میں شامل ہوگئے ہوں گے، محض وہم اور شک ہے، اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔فقہی اصول ہے: "یقین شک سے زائل نہیں ہوتا"۔ اصل یہ ہے کہ ٹینکی کا پانی پاک ہے، لہٰذا اسے پاک ہی سمجھا جائے گا، جب تک نجاست کا یقینی علم نہ ہو۔لہٰذا موجودہ صورت میں ٹینکی کا پانی ناپاک شمار نہیں ہوگا اور اس سے وضو وغیرہ کرنا جائز ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

زکوۃ / صدقہ و فطرہ

Ref. No. 4105/48-10392

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم: ۔  مالِ تجارت کی زکوٰۃ میں زکوٰۃ کی تاریخ پر موجود مال کی بازاری قیمت کا اعتبار کیا جاتا ہے، یعنی اس دن وہ مال عام طور پر جس قیمت پر فروخت ہوسکتا ہے اسی کے مطابق زکوٰۃ نکالی جائے گی۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں نمک کے مالِ تجارت کی قیمت لگاتے وقت خریداری ریٹ کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ زکوٰۃ کے دن اس مال کی موجودہ فروخت کی قیمت کا اعتبار ہوگا۔اور اسی قیمت کے مطابق پورے مال کی قیمت لگا کر اس کا چالیسواں حصہ (2.5%) زکوٰۃ ادا کیا جائے گا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند