متفرقات

Ref. No. 3278/46-8088

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  اگر کسی شخص کی مکمل آمدنی حرام و ناجائز ہے،  تو اس کے گھر کا کھانا ،پینا اور اس سے ہدیہ لینا ناجائز ہے، اور اگر وہ سمجھانے کے باوجود ناجائز آمدنی ترک نہ کرے تو اس سے ترک تعلق کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Prayer / Friday & Eidain prayers

Ref. No. 3277/46-8085

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ قبرستان کا وقف الگ ہے اور عیدگاہ کا وقف الگ ہے، اس لئے بلاضرورت قبرستان کی زمین میں عیدگاہ بنانا بھی درست نہیں ہے، تاہم اگر عیدگاہ میں نماز پڑھی جارہی ہے تو قبروں کے سامنے نماز اداکرنا مکروہ ہے، اس لئے اگر عیدگاہ کی چہاردیواری کے اندر جگہ نہ ملے تو کسی دوسری جگہ نماز اداکرنا بہتر ہے، کیونکہ قبر کے سامنے نماز  مکروہ ہے۔

الحنفية قالوا: تكره الصلاة ‌في ‌المقبرة إذا كان القبر بين يدي المصلي؛ بحيث لو صلى ‌صلاة الخاشعين وقع بصره عليه. أما إذا كان خلفه أو فوقه أو تحت ما هو واقف عليه، فلا كراهة على التحقيق. وقد قيدت الكراهة بأن لا يكون ‌في ‌المقبرة موضع أعد للصلاة لا نجاسة فيه ولا قذر، وإلا فلا كراهة، وهذا ‌في غير قبور الأنبياء عليهم السلام، فلا تكره الصلاة عليها مطلقا." (الفقه على المذاهب الأربعة، كتاب الصلاة، ص:161،)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Hadith & Sunnah

Ref. No. 3276/46-8086

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  لاشعوری اور غفلت کی زندگی گزارنا، اپنے فرائض منصبی سے پہلو تہی اختیار کرنا ، تعلیمی اور فنی میدان میں  پیچھے رہ جانا، اسلامی طرز زندگی اور اسلامی اخلاق کا ان کی زندگی سے عنقاء ہوجانا  مسلمانوں کے زوال کے اہم اسباب ہیں۔ جب تک ان امور پر محنت نہیں ہوگی اور قومی مفاد پر اپنے ذاتی مفاد کو ہی ترجیح دی جاتی رہے گی  مسلمانوں کا عروج واپس نہیں آئے گا۔

آپ نے مدارس کے حوالہ سے جو دو باتیں ذکر کی ہیں یقینا وہ قابل توجہ ہیں اور قابل عمل بھی۔ اس سلسلہ میں اہل علم کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں میں موجودہ عوامل پر قابو پایاجاسکے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

متفرقات

Ref. No. 3275/46-8087

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ شریعت کی اصطلاح میں بدعت کہتے ہیں دین میں کسی کام کا زیادہ یا کم کرنا جسکی اصل کتاب و سنت سے نہ ہو، اور جو صحابہ کرام، تابعین، اور تبع تابعین کے دور کے بعد ہواہو اور اس کو دین و ثواب کا کام سمجھ کر کیاجائے۔  ۔لیکن اگر کوئی کام یا عمل ایسا ہو جو شرعا ممنوع نہ ہو اور دین کا لازمی حصہ سمجھ کر نہ کیاجائے بلکہ محض تجربہ کی بنیاد پر کیاجائےتو اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے،  اور بدعت کی مذکورہ بالا تعریف اس پر صادق نہیں  آتی۔ بسم اللہ کے بارے میں مخصوص تاریخ ومخصوص تعدادکے وظیفہ کا بھی یہی حکم ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق

Ref. No. 3274/46-8089

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ آپ کو 'تیاگ' کا معنی معلوم تھا کہ اس کے معنی چھوڑنے کے آتے ہیں، پھر بھی آپ نے اپنی بیوی کے لئے اس کا استعمال کیا، جس طرح اردو میں چھوڑنا طلاق کے لئے صریح ہے، اسی طرح ہندی کا لفظ 'تیاگ' بیوی کی جانب منسوب کرکے بولنا بھی صریح ہی ہے، اس لئے صورت مسئولہ میں ایک طلاق واقع ہوگئی، خیال رہے کہ مذاق میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ ان الفاظ کے بولنے سے پہلے مسئلہ معلوم کرنا چاہئے ۔ ایک طلاق کے بعد دورانِ عدت رجعت کرکے دونوں میاں بیوی ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، اور اگر عدت (تین ماہواری) گزرچکی ہے توآپسی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرکے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪ فَاِمْسَاکٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ۔۔۔۔الخ (القرآن الکریم: (البقرة، الآیۃ: 229) واذا طلق الرجل امراتہ تطلیقة رجعیة او تطلیقتین فلہ ان یراجعھا فی عدتھا۔ (الھدایة: (کتاب الطلاق، 394/2) فان طلقھا ولم یراجعھا بل ترکھا حتی انقضت عدتھا بانت وھذا عندنا۔ (بدائع الصنائع: (180/3) اذا کان الطلاق بائنا دون الثلاث فلہ ان یتزوجھا فی العدۃوبعد انقضاءالعدۃ۔ (الفتاوی الھندیۃ: (473/1)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

متفرقات

Ref. No. 3273/46-8093

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اللہ تعالی نے سب کو پیدا کیا اور وہی سب کی تقدیر لکھنے والا اور بھلائی برائی کی تمیز دینے والا ہے،  دنی میں جو کچھ کسی بندے وہ وہ عطاکرتاہے اس کا فضل ہے، وہ جب چاہے کسی  کو کوئی نعمت دیدے اور جب چاہے کسی سے کوئی نعمت  سلب کرلے، وہ فعال لمایرید ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں اور کسی کے غلط یا صحیح کرنے سے اس کی ذات میں کوئی فرق نہیں آتاہے۔ اس نے بندوں کو نیکی کا حکم کیا ہے اور برائیوں سے ہر حال میں دور رہنے کی تلقین کی ہے، اگر کوئی بندہ پھر بھی گناہ کرتاہے اور اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتاہے تو اللہ تعالی اس کو دنیا میں بھی سزا دے سکتاہے اور یہ بھی ہوسکتاہے کہ دنیا میں چھوڑدے لیکن  آخرت میں اس کو سزا دے۔تاہم یہ حقیقت ہے کہ گناہ سے زیادہ کسی کو سزا نہیں ملتی ہے ،کیونکہ گناہ پر سزا اور مصیبت کے تعلق سے اللہ تعالی کے یہاں ضابطہ عدل کا ہے اور اگر گناہ کرے اور اس پر سزا نہ ملے نہ دنیا میں نہ آخرت میں تو یہ اللہ کا فضل ہے۔  کس کو سزا دینی ہے اور کس کو معاف کرنا ہے  اور کس کو کس گناہ پر کتنی سزا دینی ہے وغیرہ یہ سب اس کے اختیار میں ہے، بندے صرف اس کے پابند ہیں کہ اللہ کے احکام کو بجالائیں اور اس میں کوئی کوتاہی نہ کریں، اور ہر وقت اس کی جستجو میں رہیں کہ اللہ کی مرضی کیسے حاصل کی جائے۔ پھر دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالی بعض بندوں کو آزمائش میں ڈالتے ہیں اور اس میں ان سے گناہوں کو مٹاتے ہیں یا پھر یہ مشکلات زندگی، آخرت میں ان کےلئے رفع درجات کا سبب ہوتی ہیں۔  یہ تمام باتیں احادیث میں بہت تفصیل سے آئی ہیں کہ دنیا کی مشکلات کا اجر جب کل قیامت میں ملے گا تو آدمی یہ خواہش کرے گا کہ کاش دنیا میں اس کو کوئی راحت میسر نہ ہوتی وغیرہ۔ اس لئے آپ اللہ کے فیصلوں پر کوئی سوال قائم نہ کریں  اور اس کے بارے میں بالکل نہ سوچیں، بلکہ اپنی حالت بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کریں اور اللہ سے اچھے کی امید رکھیں کہ اللہ تعالی جو بھی کرتے ہیں وہ ہماری بھلائی کے لئے ہوتاہے گرچہ اس کے پیچھے سبب کا علم ہم کو نہ ہو۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Divorce & Separation

Ref. No. 3267/46-8069

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔

اذا کان السؤال المذکور صحیحا، فقد وقعت على المرأة ثلاث تطلیقات وفقا لاحکام الشریعۃ الاسلامیۃ، مماادى إلى انقطاع عقد النكاح بشكل نهائي. وبذلك أصبح العيش مع الزوج السابق وإقامة العلاقة الجسدية معہ حرامًا قطعیا۔ ومما یجب ان یعلم ان عدة المرأة تبدأ من وقت وقوع الطلاق وذلک فی شھر فبرائر، وتكتمل بانقضاء ثلاث حيضات. وبعد انتهاء العدة کاملا، المرأة تختار في الزواج بمن تشاء.

قال تعالی: فإن طلقها (بالتطلیقۃ الثالثۃ) فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره (سورۃ البقرۃ الآیۃ 230). إذا طلق واحدة أو ثنتين فله الرجعة ما لم تنقض العدة کما قال سبحانہ وتعالی: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ، اما اذا طلقھا الثالثۃ فلا تحل للزوج ان یصاحبھا، قال تعالی: فإن طلقهاای بالثالثة فلا رجعة له عليها حتى تنكح زوجا غير ۔  و عدة المرأة تبدأ من وقت وقوع الطلاق وھی ثلاث حیضات کما قال تعالی: والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء (سورۃ البقرۃ 228)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

ذبیحہ / قربانی و عقیقہ

Ref. No. 3270/46-6068

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنی میں شامل ہونے اور اس سے نفع حاصل ہونے کی جو شکلیں رائج ہیں وہ سب غیرشرعی اور ناجائز ہیں۔ اس لئے کہ نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنی کا ممبر بننے کے لئےایک متعینہ رقم اداکرکے اس کی مصنوعات خریدنے کی شرط ہوتی ہے جوغیر شرعی شرط ہے۔ اسی طرح  ممبرسازی بڑھنے پر بالواسطہ اور بلاواسطہ کمیشن بھی ملتارہتاہے جس میں آپ کو بلاکسی عمل کے بھی   کمیشن ملتاہے جو ناجائز ہے۔ نیزاس کمپنی کی مصنوعات کی ماہانہ خریداری  کی صورت میں ہی آپ کمیشن کے مستحق ہوں گے۔ اس لئے ان تمام مفاسد کی بناء پر کسی بھی نیٹ ورک مارکیٹنگ میں جس کی یہ صورت ہو شامل ہونا ، ممبربننا، کمیشن لینا اور ان کے ساتھ کاروبار کرنا شرعا جائز نہیں ہے۔آپ نے جس کمپنی کا ذکر کیا ہے ہمیں اس کے  طریقہ کار کا کچھ علم نہیں ہے۔ اس لئے اگر  آپ کی کمپنی  کا طریقہ کار کچھ مختلف ہو تو دوبارہ پوری تفصیل کے ساتھ سوال بھیجیں تاکہ اسی کے مطابق جواب لکھاجائے۔

قال اللہ تعالی:﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾(سورۃ المائدۃ:90) 

لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص۔(رد المحتار، كتاب الحظر والإباحة، باب الإستبراء وغيره، فصل في البيع ، ج:9 ص:577)

 فلو جوزناه لكان استحقاقا بغير عمل ولم يرد به الشرع۔(الھدایة،کتاب المساقاۃ،ج:4،ص:430)

الأمور بمقاصدھا:یعني أن الحکم الذی یترتب علی أمر یکون علی ما ھو المقصود من ذالک الأمر۔(شرح المجلة لسلیم رستم باز،المقالة الثانیة فی بیان القواعد الفقہیة،المادۃ:2،ص:(17

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Usury / Insurance

Ref. No. 3271/46-8072

In the name of Allah the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

We are not familiar with the Islamic mutual fund mentioned above. Therefore, we recommend consulting the scholars in your area or providing detailed information about it so that an informed response can be given.

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband

Miscellaneous

Ref. No. 3266/46-6067

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ (1)  والدہ  مرحومہ  کے مال میں جتنے سالوں کی زکوۃ باقی ہے ، اس کی ادائیگی کے لئے یا اگر ان کے ذمہ کچھ نمازیں قضا تھیں ان کے فدیہ کےسلسلہ میں شرعی حکم یہ ہے  کہ اگر انہوں نے اپنے مال سے زکوۃ کی ادائیگی کی یا نمازوں کے فدیہ کی وصیت کی ہے تو ان کے ترکہ سے قرضوں کی ادائیگی کے بعد  باقی  ماندہ  مال  کے ایک تہائی مال سے زکوۃ اور نمازوں کا فدیہ ادا  کیا جائے گا اور اگر ورثاء بالغ ہیں تو  اس سے زیادہ  بھی اپنی مرضی سے بطورِ تبرع  دے  سکتے ہیں، تاہم اگر مرحومہ نے ایسی کوئی  وصیت نہیں کی ہے تو  ورثاء کے ذمہ اس کی زکوۃ ادا  کرنا ضروری تونہیں  ہے،البتہ  اگر ورثہ بطورِ تبرع اپنی خوشی سے دے دیں تو مرحومہ پر احسان ہوگا اور دینے والے بھی اجر عظیم کے مستحق ہوں گے ان شاء اللہ۔(2) خیال رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی یا نمازوں کے فدیہ کی ادائیگی مرحومہ کے ذمہ تھی، والد صاحب پر نہیں تھی، ان کو اپنی حیات میں ہی اداکرنی تھی یا وصیت کرنی ضروری تھی۔ (3) نیز زکوۃ کی ادائیگی سال گزرنے پر واجب ہوتی ہے، اس لئے اگر 2024 میں سال گرنے کا وقت ہوچکاتھا تو ادائیگی ان پر لازم تھی ورنہ نہیں۔ (4)  اب والدہ کی وفات کے بعد ان کا ترکہ ورثہ کی ملکیت ہے۔ ہر ایک اپنے حصہ پر قبضہ پانے کے بعد اس کا مالک ہوگا اور  ہر صاحب نصاب پراپنے مال کے ساتھ اضافہ شدہ مال کی زکوۃ  بھی واجب ہوگی۔ (5) والدہ کو باربارخواب میں دیکھنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ آپ سے ایصال ثواب کے انتظار میں ہیں، اس لئے آپ بقدر استطاعت صدقہ کرتی رہیں اور تلاوت کرکے ثواب پہونچاتی رہیں۔

"وأما دين الله تعالى فإن أوصى به وجب تنفيذه من ثلث الباقي وإلا لا۔ وفی الرد: قوله وأما دين الله تعالى إلخ) محترز قوله من جهة العباد وذلك كالزكاة والكفارات ونحوها قال الزيلعي فإنها تسقط بالموت فلا يلزم الورثة أداؤها إلا إذا أوصى بها؛ أو تبرعوا بها هم من عندهم، لأن الركن في العبادات نية المكلف وفعله، وقد فات بموته فلا يتصور بقاء الواجب اهـ" (شامی، کتاب الفرائض ، 6/ 760)

"أنه لو مات من عليه الزكاة لاتؤخذ من تركته لفقد شرط صحتها، وهو النية إلا إذا أوصى بها فتعتبر من الثلث كسائر التبرعات." (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الزكوة، شروط اداء الزكوة، ج:2، ص:227، ط:دارالكتاب الاسلامى)

"إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرون مثقال ذهب فلم يؤد زكوته سنتين يزكي السنة الأولى و كذا هكذا في مال التجارة و كذا في السوائم·" (بدائع الصنائع، بدائع الصنائع، كتاب الزكوة ۲/ ۷ ط: سعيد)

"(وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين)؛ لأن الكل للتجارة وضعاً وجعلاً (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة)."الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)   ٢ / ٣٠٣، ط: دار الفكر)

'' وعن سعد بن عبادة قال: يا رسول الله إن أم سعد ماتت، فأي الصدقة أفضل؟ قال: «الماء» . فحفر بئراً وقال: هذه لأم سعد. رواه أبو داود والنسائي''۔ (مشكاة المصابيح (1/ 597)

''عن أبي هريرة، أن رجلاً قال للنبي صلى الله عليه وسلم: إن أبي مات وترك مالاً، ولم يوص، فهل يكفر عنه أن أتصدق عنه؟ قال: «نعم»''۔ (صحيح مسلم (3/ 1254)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند