نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: آپ کے دوست کا دعویٰ کہ مرد اور عورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں ہے! بے اصل اور بے بنیاد ہے۔ حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے، حدیث کی کتابوں میں کئی ایسی روایتیں ہیں جو مرد اور عورت کی نماز میں فرق کو بیان کرتی ہیں کنزل العمال میں یزید بن ابو حبیب سے مرسلاً ایک روایت ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد اور عورت کی نماز میں فرق کو بیان فرمایا ہے: ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز پڑھنے والی دو عورتوں کے پاس سے گزر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کے بعض حصے کو زمین سے ملاؤ؛ کیوں کہ عورت سجدہ کرنے میں مرد کی طرح نہیں ہے۔
’’أن النبي مر علی امرأتین تصلیان فقال إذا سجدتما فضما بعض اللحم إلی الأرض فإن المرأۃ في ذلک لیست کالرجل‘‘(۱)
ایک اور روایت ہے:
’’عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فإذا سجدت الصقت بطنہا في فخذیہا کأستر ما یکون لہا وأن اللّٰہ ینظر إلیہا ویقول یا ملائکتي أشہدکم أني قد غفرت لہا‘‘(۲)
حضرت ابن عمر ؓنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں … جب عورت سجدہ کرے گی تو
اپنا پیٹ رانوں سے ملائے جتنا چھپانا ممکن ہو اپنے اعضاء کو چھپائے گی اور اللہ تعالیٰ ایسی عورت کی طرف دیکھ کر فرماتے ہیں اے میرے فرشتو! تم کو میں اس کی مغفرت پر گواہ بناتا ہوں۔
مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ہے کہ:
’’عن إبراہیم قال: إذا سجدت المرأۃ فلتلزق بطنہا بفخذیہا و لا ترفع عجیزتہا ولا تجافی کما یجافی الرجل‘‘(۱)
حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ (مشہور تابعی) کہتے ہیں کہ عورت پیٹ کو دونوں رانوں سے ملائے اور سرین کو نہ اٹھائے اور مرد کی طرح کھل کر سجدہ نہ کرے۔
مذکورہ اثر سے معلوم ہوا کہ مرد اور عورت کی نماز میں فرق کا مسئلہ صحابہ کرامؓ اور تابعین ؒکے زمانہ میں مشہور تھا اور صحابہؓ وتابعین ؒنماز میں مردوں کے لیے اعضاء کشادہ کرنے کے قائل تھے نہ کہ عورتوں کے لیے، ایسے ہی مذاہب اربعہ حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، فقہاء اور حدیث کے شارحین کے اقوال تو اس سلسلے میں لا تعداد ہیں۔ مزید تفصیلات کتب احادیث میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
خلاصہ: مرد اورعورت کی نماز میں فروق نصوص سے ثابت ہیں۔ جیسا کہ معجم الکبیر اور مجمع الزوائد میں منقول ہے:
حضرت وائل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اے وائل! جب تم نماز پڑھو تو اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاؤ اور عورت اپنے دونوں ہاتھ اپنی چھاتی کے برابر اٹھائے۔
’’عن وائل بن حجر، قال: جئت النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم … فقال لي رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: یا وائل بن حجر، إذا صلیت فاجعل یدیک حذاء أذنیک، والمرأۃ تجعل یدیہا حذاء ثدییہا‘‘(۲)

(۱) کنز العمال، ’’کتاب الصلاۃ: الفصل الثاني في أرکان الصلاۃ‘‘: ج ۷، ص: ۴۶۲، رقم: ۱۹۷۸، وجمع الجوامع: ج ۱، ص: ج ۱، ص: ۲۴۶۔
(۲) کنز العمال، ’’کتاب الصلاۃ: الفصل الثاني، في أرکان الصلاۃ‘‘: ج ۷، ص: ۵۴۹، و جامع الأحادیث: ج ۳، ص: ۴۳۔
(۱)أخرجہ ابن أبي شیبہ، في مصنفہ، باب: المرأۃ کیف تکون في سجودھا: ج ۱، ص: ۲۴۲، رقم:۲۷۸۲۔
(۲) المعجم الکبیر للطبراني: ج ۹، ص: ۱۴۴، رقم: ۱۷۴۹۷؛ ومجمع الزوائد: ج ۹، ص: ۶۲۴، رقم: ۱۶۰۵۔

 

فتاویٰ دارالعلوم وقف دیوبند ج4 ص357

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز پڑھتے ہوئے کہنیوں تک کھلا رکھنا مرد کے لیے بھی مکروہ تنزیہی ہے (غیراولیٰ ہے) اگر بنیان ایسی ہے کہ اس میں کہنیاں کھلی رہتی ہیں، تو اس میں نماز تو ادا ہوجائے گی مگر مکروہ تنزیہی اور خلاف اولیٰ ہوگی۔(۱)
’’قال ابن الہمام وقد أخرج الستۃ عنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أمرت أن أسجد علیٰ سبعۃ وأن لا أکف شعرا ولا ثوباً ویتضمن کراہۃ کون المصلی مشمرا کمیہ‘‘(۲)
’’ولو صلی رافعاً کمیہ إلی المرفقین کرہ‘‘(۳)

(۱) وکرہ الإقعاء وافتراش ذراعیہ وتشمیر کمیہ عنہما للنہي عنہ لما فیہ من الجفاء المنافي للخشوع۔ (حسن بن عمار، مراقي الفلاح علی حاشیۃ الطحطاوي، ’’کتاب الصلاۃ، فصل في المکروہات‘‘: ص: ۴۹، ۳۴۸، شیخ الہند دیوبند)
ٰیبَنِیْ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّکُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَاتُسْرِفُوْاج اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَہع ۳۱  (الأعراف: ۳۱)
(۲) ابن الہمام، فتح القدیر: ج ۱، ص: ۴۲۴۔
(۳) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب السابع، الفصل الثاني فیما یکرہ في الصلاۃ و ما یکرہ: ج ۱، ص: ۱۶۵، مکتبہ فیصل دیوبند۔)

 

 فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج6 ص165

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 1170/42-418

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جہری نمازوں کی قضاء  اگر جہری نماز  کے اوقات میں کرے تو جہری اور سری دونوں کا اختیار ہے، اور اگر سری نماز کے اوقات میں قضاء کرے تو سری ہی قراء ت کرے گا۔ جہر جائز نہیں ہے۔ فجر کی نماز کی قضاء اگر طلوع فجر کے بعد کرے تو سری قراءت کرے گا، البتہ اگر جماعت کے ساتھ نماز ہو تو امام جہری قراءت کرے گا۔

ویخافت المنفرد حتما ای وجوبا ان قضی الجھر یۃ فی وقت المخافتۃ کان صلی العشاء بعد طلوع الشمس۔ (ردالمحتار، فصل فی القراءۃ 1/533)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: اچھا پڑھنے والے حافظ کو امام مقرر کیا جائے اور اختلاف کی صورت میں امامت کے لیے قرعہ اندازی درست ہے؛ لیکن قرعہ میں انہی کے نام شامل کئے جائیں کہ جو قرآن صحیح پڑھتے ہیں۔(۱)

(۱) ثم الأحسن تلاوۃ وتجوید أفاد بذلک أن معنی قولہم أقرأ أي أجود لا أکثرہم حفظاً ومعنی الحسن فيالتلاوۃ أن یکون عالماً بکیفیۃ الحروف والوقف وما یتعلق بہا۔ (ابن عابدین، رد المحتار، ’’کتاب الصلوۃ، باب الإمامۃ، مطلب في تکرار الجماعۃ في المسجد‘‘: ج۲، ص:۲۹۵)
 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبندج5 ص109

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق:آفتاب نکل جانے کے بعد مطلع سے ایک نیزہ کی مقدار اوپر آجائے تو اشراق کا وقت شروع ہوجاتا ہے یعنی سورج طلوع ہونے کے تقریباً ۲۰؍ منٹ بعد  شروع ہو جاتا ہے، موسم کے اعتبار سے بدلتے سورج کے طلوع اور غروب کا وقت بدلتا رہتا ہے اس لیے اشراق کے اوقات بھی اسی اعتبار سے رہیں گے۔ وقت اشراق کے ایک گھنٹہ بعد تک اشراق پڑھی جاسکتی ہے ۔بعد میں چاشت کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔(۱)

(۱) {یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ} أي وقت الإشراق، قال ثعلب: یقال شرقت الشمس إذا طلعت وأشرقت إذا أضائت وصفت فوقت الإشراق وقت ارتفاعہا عن الأفق الشرعي وصفاء شعاعہا۔ (علامہ آلوسي، روح المعاني، ’’سورۃ ص‘‘: ج ۱۳، ص: ۱۶۷)
وعن أنس رضي اللّٰہ عنہ، قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من صلی الفجر في جماعۃ ثم قعد یذکر اللّٰہ حتی تطلع الشمس ثم صلی رکعتین کانت لہ کأجر حجۃ وعمرۃ۔ (أخرجہ الترمذي، في سننہ، ’’أبواب السفر: باب ما ذکر مما یستحب من الجلوس في المسجد بعد صلاۃ الصبح حتی تطلع الشمس‘‘ : ج ۱، ص: ۱۳۰، رقم: ۵۸۶، مکتبہ، دارالکتاب، دیوبند)
وقال الطیبی: أي ثم صلی بعد أن ترتفع الشمس قدر رمح حتی یخرج وقت الکراہۃ، وہذہ الصلاۃ تسمی صلاۃ الإشراق۔ (ملا علي قاري، مرقاۃ المفاتیح: ’’کتاب الصلاۃ، باب الذکر بعد الصلاۃ، الفصل الثانی، ج۳، ص: ۴۵، رقم: ۹۷۱، مکتبہ فیصل، دیوبند)
ما دامت العین لا تحار فیہا فہي في حکم الشروق۔ (ابن عابدین،  رد المحتارعلی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ، مطلب: یشترط العلم بدخول الوقت ‘‘: ج۲، ص: ۳۰)

 

 فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج4 ص82

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وبا اللّٰہ التوفیق: پہلے بیٹھے گی اور اپنے دونوں پیر دائیں جانب نکال کر سجدہ میں جائے گی۔(۱)

(۱) عن یزید بن أبي حبیب أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مر علی إمرأتین تصلیان فقال: إذا سجدتما فضما بعض اللحم إلی الأرض فإن المرأۃ لیست في ذلک کالرجل۔ (مراسیل أبي داؤد: ص: ۱۰۳؛ ’’باب من الصلاۃ‘‘ السنن الکبریٰ للبیہقي: ج ۲، ص: ۲۲۳)(شاملہ)
عن عبد اللّٰہ بن عمر رضي اللّٰہ عنہ، قال: قال رسول اللّٰہ علیہ وسلم:  إذا جلست المرأۃ في الصلاۃ وضعت فخذہا علیٰ فخذہا الأخریٰ فإذا سجدت الصقت بطنہا في فخذہا کأستر ما یکون لہا فإن اللّٰہ ینظر إلیہا ویقول: یا ملائکتي أشہد کم أني قد غفرت لہا۔ (الکامل لإبن عدي: ج ۲، ص: ۵۰۱، رقم الترجمۃ: ۳۹۹، السنن الکبریٰ للبیہقي: ج ۲، ص: ۲۲۳، ’’باب ما یستحب للمرأۃ الخ، جامع الأحادیث للسیوطي: ج ۳، ص: ۴۳، رقم: ۱۷۵۹)

 

فتاویٰ دارالعلوم وقف دیوبند ج4 ص359

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: دونوں طریقے درست ہیں بشرطے کہ ستر نہ کھلے بغیر سلی لنگی پہن کر نماز پڑھاتے وقت اگر ستر کھل گیا تو نماز نہیں ہوگی۔(۱)

(۱) والمستحب أن یصلي الرجل في ثلاثۃ أثواب: قمیص وإزار وعمامۃ۔ أما لوصلی في ثوب واحد متوشحاً بہ، تجوز صلاتہ من غیر کراہۃ، وإن صلی في إزار واحد، یجوز ویکرہ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثالث في شروط الصلاۃ‘‘: ج۱، ص: ۱۱۶، زکریا دیوبند)
والمستحب أن یصلي في ثلاثۃ ثیاب من أحسن ثیابہ قمیص وإزار وعمامۃ ویکرہ في إزار مع القدرۃ علیہا، قولہ من أحسن ثیابہ۔ مراعاۃ للفظ الزینۃ ویستحب أن تکون سالمۃ من الخروق۔
(حسن بن عمار ،  مراقي الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوي: ص: ۲۱۱، مکتبہ شیخ الہند دیوبند)

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج6 ص166

 

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 831/41-000

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ نماز میں قیام، رکوع، سجدہ فرض ہے۔ بلاکسی شدید عذر کے ان کا ترک ناجائز ہے اور نماز ادا نہیں ہوتی ہے۔ لیکن اگر قیام متعذر ہو اور بیٹھ کر رکوع ، سجدہ سے نماز پڑھ سکتا ہو تو زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھے، کرسی پر نماز ادا نہیں ہوگی۔ لیکن اگر رکوع ، سجدہ پر بھی قدرت نہ ہو تو کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے ۔ پوری نماز میں کرسی کے پچھلے پائے دیگر نمازیوں کی ایڑی کے برابر رکھے جائیں گے۔

  المشقۃ تجلب  التیسیر (الاشباہ والنظائر 1/75) ۔

علامہ شامی لکھتے ہیں : اراد بالتعذر التعذر الحقیقی بحیث لوقام سقط او الحکمی بان خاف زیادتہ او بطء برئہ بقیامہ او دوران راسہ او وجد لقیامہ الما شدیدا صلی قاعدا۔ (درمختار وردالمحتار 2/9)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: بشرطِ صحت سوال صورت مسئولہ میںامامت کے زیادہ حقدار وہ امام صاحب ہیں جو مسجد کے مستقل امام ہیں اور پنج وقتہ نمازیں پڑ ھاتے ہیں عیدین کی نماز میں وارث بن کر امامت کرنے کے لیے زور دینا درست نہیں ہے۔ امام صاحب اگر اپنی مرضی سے کسی کو دیدیں تو اس کی گنجائش ہے؛ لیکن اس کے لیے ان کو مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے۔(۱)

(۱) (والأحق بالإمامۃ) تقدیماً بل نصبا مجمع الأنہر، (الأعلم بأحکام الصلاۃ) فقط صحۃ وفسادًا بشرط اجتنابہ للفواحش الظاہرۃ، (حسن تلاوۃ) وتجویداً (للقراء ۃ ثم الأورع)    …أی الأکثر اتقاء للشبہات والتقوی: اتقاء المحرمات۔ الأولی بالإمامۃ أعلمہم بأحکام الصلوۃ ہکذا في المضمرات، ہذا إذا علم من القراء ۃ قدر ما تقوم بہ سنۃ القراء ۃ ہکذا في التبیین۔ (ابن عابدین،  رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب في تکرار الجماعۃ في المسجد‘‘: ج۲، ص: ۲۹۴)
ویجتنب الفواحش الظاہرۃ وإن کان غیرہ أورع منہ کذا في المحیط وإن کان متبحرا في علم الصلوۃ لکن لم یکن لہ حظ في غیرہ من العلوم فہو أولی۔  (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، الفصل الثاني في بیان من ہو أحق بالإمامۃ‘‘: ج۱، ص:۱۴۱)

 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبندج5 ص110

 

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق:عید کی نماز کا وقت آفتاب کے اونچا ہو جانے کے بعد سے زوال سے پہلے تک ہے اور مذکورہ صورت میں عید کا وقت چوںکہ نکل چکا ہے اس لیے یہ نماز اگلے دن اسی نماز کے وقت میں ادا کی جائے گی دوپہر بعد ادا کرنا جائز نہیں ہوگا۔(۱)

(۱)خرج عبد اللّٰہ بن بسر صاحب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مع الناس في یوم عید فطر أو أضحی، فأنکر إبطاء الامام، فقال: إنا کنا قد فرغنا ساعتَنا ہذہ، وذلک حین التسبیح۔ (أخرجہ أبو داؤد، في سننہ: ’’کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العیدین، باب وقت الخروج إلی العید‘‘، ج۱، ص: ۱۶۱، رقم: ۱۱۳۵)
یستحب تعجیل الإمام الصلاۃ في أول وقتہا في الأضحی وتأخیرہا قلیلا عن أول وقتہا في الفطر بذلک کتب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إلی عمرو بن حزم وہو بنجران عجل الأضحی وأخر الفطر قیل لیؤدی الفطر ویعجل إلی التضحیۃ۔ (أحمد بن محمد، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ:  باب الجمعۃ‘‘: ص: ۱۲۵)

 

 فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج4 ص84