Frequently Asked Questions
تجارت و ملازمت
Ref. No. 3002/46-4787
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ سوال واضح نہیں ہے کہ یہ پانچ لاکھ روپئے کس طرح لگائے گئے ہیں، آیا یہ کاروبار میں شرکت ہے یا منافع میں شرکت ہے۔ اگر منافع میں شرکت ہے کہ جو نفع ہوگا اس میں آٹھ فی صد دیں گے تو یہ درست ہے، اور اگر پانچ لاکھ کا آٹھ فیصد طے کیاگیا ہے تو یہ سودی معاملہ ہے جو حرام ہے۔ شرکت کے معاملہ میں نفع و نقصان دونوں میں شرکت ہوتی ہے، اگر کمپنی بند ہوگی تو مال کے شرکت کے اعتبار سے نقصان میں دونوں شریک ہوں گے، نقصان کی خاص مقدار طے کرنا درست نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
تجارت و ملازمت
Ref. No. 2944/45-4616
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ سرکاری قوانین شہریوں کی بھلائی کے لئے ہی ہوتے ہیں، ڈرائیونگ لائسنس کا جو اہل ہو اسی کے لئے اس کو جاری کرنا چاہئے، جو لوگ قانونی طریقہ کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ان سے عوام کو کافی نقصان پہونچ رہاہے اور روڈ اکسیڈنٹ میں روز بروز اضافہ دیکھنے کو مل رہاہے۔ اس لئے کسی کو رشوت دے کر بلاامتحان پاس کرادینا جائز نہیں ہے۔ سرکاری فیس کے علاوہ اپنی فیس کی ایک متعین مقدار لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
تجارت و ملازمت
Ref. No. 2936/45-4615
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جو مکانات ابھی تک وجود میں نہیں آئے، ان کی بیع کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ جن لوگوں کو مکانات بناکر دیدیئے گئے اور وہ ان کے مالک ہوگئے وہ لوگ اپنی ملکیت میں تصرف کرتے ہوئے اگر اپنے مکان فروخت کرتے ہیں تو ان کا ایسا کرنا جائز ہے، لیکن جن کے مکانات نہیں بنے ان کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ فی الحال صبر کریں اور انتظار کریں جب مکانات اپنے قبضہ و تصرف میں آجائیں تب ان کی خریدوفروخت جائز ہوگی۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
تجارت و ملازمت
Ref. No. 2945/45-4613
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ سود کی رقم کا اصل مصرف یہ ہے کہ اصل مالک کو لوٹائی جائے یعنی جس سے وصول کی گئی ہے اسی کو لوٹا دی جائے ، غیر سرکاری بینک سے حاصل شدہ سود کی رقم اگر انکم ٹیکس میں دی جائے تو رد إلی المالک کی شکل متحقق نہیں ہوتی؛ اس لیے غیر سرکاری بینکوں سے حاصل شدہ سود کی رقم انکم ٹیکس میں ادا کرنا جائز نہیں ہے؛ بلکہ اس کا تصدق واجب ہے۔لہذا آپ کا پڑائیویٹ بینک کے سودی رقم کو انکم ٹیکس میں ادا کرنا جائز نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
تجارت و ملازمت
Ref. No. 2962/46-4761
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ آپ کے تمام سوالوں کا حاصل یہ ہے کہ کوئی کمپنی سامان بناتی ہےاور اس کا اکثر استعمال حلال کام کے لئے ہے لیکن سودی یا حرام میں بھی اس کا استعمال ہوتاہے یا وہ ککمپنی بینکوں اور شراب خانوں کو بھی اپنا پروڈکٹ فراہم کرتی ہے یا ان کو بھی اپنی سروس دیتی ہے ، اس طرح کی کمپنیوں کے شیئرز کو خریدنا جائز ہے یا نہیں، اس سلسلہ میں اصولی بات یہ ہے کہ شیئرز کے جواز کے دیگر شرائط کو ملحوظ رکھنے کے ساتھ اگر کوئی کمپنی جس کا اصل سرمایہ حلال ہو لیکن کمپنی جزوی طور پر حرام کاروبار میں ملوث ہو اور حرام کاروبار میں لگنے والا سرمایہ کمپنی کے کل سرمایہ کے ایک تہائی سے کم ہو، تو ایسی کمپنیوں کے شیئرز خریدنے کی گنجائش ہے، بہ شرط کہ کمپنی کی حرام سرمایہ کے خلاف بقدر استطاعت اپنا اختلاف درج کرائے اور اس حرام سرمایہ کاری سے حاصل شدہ نفع کو صدقہ کردے۔
اعانت علی المعصیۃ اور تسبب للمعصیۃ سے متعلق عمدہ گفتگو جواہرالفقہ میں اور مفتی تقی صاحب کی فقہ البیوع میں موجود ہے، وہاں مطالعہ کرلیں وہ کافی و شافی بحث ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند