نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعاء کرنا مسنون اور احادیث سے ثابت ہے۔
’’حدثنا محمد بن أبي یحییٰ: قال رأیت عبد اللّٰہ بن الزبیر ورأی رجلا رافعاً یدیہ بدعوات قبل أن یفرغ من صلاتہ فلما فرغ منہا قال: إن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ لم یکن یرفع یدیہ حتی یفرغ من صلاتہ‘‘(۱)
’’ما من عبد مؤمن یبسط کفیہ في دبر کل صلوۃ ثم یقول: اللّٰہم إلہي وإلٰہ إبراہیم … إلا کان حقا علی اللّٰہ أن لا یرد یدیہ خائبتین‘‘(۲)
(۱) المعجم الکبیر للطبراني، محمد بن أبي یحییٰ الأسلمي، عن ابن الزبیر‘‘: ج ۱۳، ص: ۱۲۹، رقم: ۳۲۴۔(شاملہ)
(۲) علاء الدین الہندي،کنز العمال، ’’کتاب الأذکار: قسم الأقوال، الفرع الثاني أدعیۃ بعد الصلاۃ ‘‘: ج ۲، ص: ۶۰، رقم: ۳۴۷۳، دار الکتب العلمیہ، بیروت۔ عن المطلب عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال الصلوٰۃ مثنی مثنیٰ أن تشہد في کل رکعتین وأن تباء س وتمسکن وتقنع بیدیک وتقول اللّٰہم اللّٰہم فمن لم یفعل ذلک فہي خداج۔ (أخرجہ أبوداود في صحیحہ، ’’کتاب الصلاۃ: باب في صلاۃ النہار‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۳، رقم: ۱۲۹۸، مکتبہ اتحاد، دیوبند۔

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج4 ص445

 

طہارت / وضو و غسل

Ref. No. 861 Alif

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                           

بسم اللہ الرحمن الرحیم:موبائل کی اسکرین پر اگر قرآنی آیات کھلی ہوں تو ان کو چھونا درست نہیں ہے۔ جب تک قرآنی آیات میموری کے اندر ہیں اسکرین پر ہاتھ لگانا یا موبائل چھونا منع نہیں ہے؛  لیکن جب الفاظ اسکرین پر نظر آئیں تو ان کا قرآنی آیات کا سا احترام لازم ہوگا۔ واللہ  اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 39/1096

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ان دونوں نمازوں  کے پڑھنے میں کوئی فرق نہیں ہے، جس نیت سے پڑھیں گے اس کے ثمرات مرتب ہون گے ان شاء اللہ۔بغیر نیت کے نماز نہیں ہوتی ہے۔   

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

مساجد و مدارس

Ref. No. 41/874

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ حلال ہے، تاہم اگر کسی مفسدہ کا اندیشہ ہو تو لینے سے گریز کرنا چاہئے۔

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 1671/43-1341

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ صفوں کی درستگی کا مسئلہ بہت اہم ہے، ، حدیث شریف میں صفوں کی درستگی پر بہت زور دیاگیا ہے اور اس میں کوتاہی پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ مسجد میں مقتدی حضرات صف میں کب کھڑے ہوں، اس سلسلہ میں مختلف طریقے ثابت ہیں:

 (1) امام جب اپنے کمرے سے باہر آئے تو امام کو دیکھتے ہی مقتدی حضرات کھڑے ہوجائیں، اور صفیں درست کرلیں،۔  (2) امام  جس صف سے گزرے اس صف کے مقتدی حضرات کھڑے ہوتے ہیں اور صفیں درست کرتے رہیں۔ (3) مؤذن اقامت شروع کرے اور مقتدی حضرات اپنی صفیں درست کرلیں اور پھر نماز شروع کریں۔ اول الذکر دونوں طریقے اسی وقت قابل عمل ہیں جبکہ امام اپنے کمرے سے نکلے اور مسجد میں پہلے سے موجود نہ ہو۔  لیکن اگر امام پہلے سے مسجد میں موجود ہو جیسا کہ آج کل عموما ہوتاہے تو پھر تیسرا طریقہ اختیار کریں کہ اقامت کے شروع سے ہی لوگ کھڑے ہوکر صفیں درست کرنا شروع کردیں تاکہ اقامت ختم ہوتے ہی جب امام نماز شروع کرے تو تکبیر اولی کے ساتھ مقتدی نماز شروع کرسکیں ۔ اگر لوگ حی علی الصلوۃ تک اپنی جگہ بیٹھے رہیں گے  تو اما م کے نماز شروع کرنے سے پہلے صفیں درست نہیں کرسکیں گے۔ جن کتابوں میں " حی علی الصلوۃ "پر کھڑے ہونے کی بات لکھی ہے اس کا مطلب بھی یہی ہے  کہ حی علی الصلوۃ کے بعد بیٹھے رہنا درست نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حی علی الصلوہ سے پہلے کھڑاا ہونا درست نہیں ہے۔ (کفایۃ المفتی ، باب مایتعلق بالاقامۃ ، 3/526 زکریا دیوبند) وقال الطحاوی تحت قولہ : والقیام لامام و مؤتم والظاہر انہ احتراز عن التاخیر لاالتقدیم حتی لو قام اول الاقامۃ  لاباس بہ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر ، باب صفۃ الصلوۃ 1/215، بیروت) (شامی، آداب الصلوۃ 2/177 زکریا دیوبند)   

حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّاسَ، " كَانُوا سَاعَةَ يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ: اللَّهُ أَكْبَرُ يُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ، وَلَا يَأْتِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:120] مَقَامَهُ حَتَّى تَعْتَدِلَ الصُّفُوفُ " (المراسیل لابی داؤد، جامع الصلاۃ 1/119) (مصنف  عبدالرزاق ، باب قیام الناس عندالاقامۃ  1/507)  (فتح الباری، باب لایقوم الی الصلوۃ مستعجلا 2/120)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

تجارت و ملازمت

Ref. No. 219/44-2339

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  مریض نے جو دوا آرڈر پر بنوائی ہے اور وہ دوا بن کر تیار ہوگئی تو اب مریض کو اختیار نہیں کہ وہ دوا لینے سے انکار کردے، اس لئے جب دوا بن کر تیار ہوگئی تو وہ دوا مریض کی ملک ہوگئی۔ کمپنی نے دوا بھیجی تو کمپنی نے اپنی ذمہ داری پوری کردی، اب اگر دوا پہنچنے سے پہل؛ے میرض فوت ہوگیا تو چونکہ کمپنی نے اپنا کام پورا کردیاتھا اس لئے وہ پوری رقم کی مستحق ہے۔ ہیلتھ کیئر کمیشن کے قانون پر دستخط کرنے کی بناء پر اس کی پاسداری آپ پر لازم ہوگی، فقہ کا قاعدہ ہے: :"الناس عند شروطہم"۔ لہذا مریض کے اہل خانہ اس دوا کو وصول کرکے کسی سے بیچ سکتے ہیں۔

وعن ابی یوسف انہ لاخیار لہما ، اما الصانع فلما ذکرنا، واما المستصنع فلان فی اثبات الخیار لہ اضرارا بالصانع لانہ لایشتریہ غیرہ بمثلہ  (ہدایہ ج3ص107 ، اشرفی بکڈپو دیوبند)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

طلاق و تفریق

Ref. No. 2288/44-3442

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ شرکیہ کام کرنے یا شرکیہ کلمہ کہنے سے یقینا نکاح ٹوٹ جاتاہے۔ اور آدمی جتنی بار اور جب جب بھی شرک کرے گا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا، اور اس پر تجدید ایمان اور تجدید نکاح لازم ہوگا۔ البتہ یہ نکاح ٹوٹنا طلاق کے حکم میں نہیں ہوگا بلکہ فسخ نکاح کے حکم میں ہوگا، اس لئے تین بار یا پانچ بار تجدید نکاح کرنے سے اس کی بیوی پر تین طلاق واقع نہیں ہوگی ۔

وارتداد أحدہما أي الزوجین فسخ فلا ینقص عدداً عاجل بلا قضاء الخ (درمختار مع الشامی: ۴/۳۶۶، ط:زکریا، والحیة الناجزة: ۲۰۸ تا ۲۱۲ جدید)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

اسلامی عقائد
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مذکورہ شخص کو اسلام کی اہمیت بتلائی جائے اور اس کو اگر شک و شبہ ہے تو اس کو دور کرنے کی کوشش کی جائے اور اس نیت سے اس کو کھانا وغیرہ دیا جائے عجیب نہیں کہ وہ پھر سے مسلمان ہو جائے۔ اگر وہ کفر کی حالت میں مر جائے تو پھر اس کا مال ورثہ کے درمیان تقسیم کیا جائے گا اور اگروہ اسی حالت میں مرے تو کافروں کے ہی حوالہ کیا جائے؛ لیکن پہلے اس کی پوری صورت حال لکھ کر معلوم کرلیا جائے کہ وہ واقعۃً خارج از اسلام ہے یا نہیں؟(۱) (۱) عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہ، قال: قال رسول اللّٰہ -صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من بدل دینہ فاقتلوہ۔ (أخرجہ ابن ماجہ، في سننہ، ’’باب المرتد عن دینہ‘‘: ج ۲، ص: ۱۸۲، رقم: ۲۵۳۵) ومنہا أنہ یستحب أن یستتاب ویعرض علیہ الإسلام لاحتمال أن یسلم، لکن لا یجب؛ لأن الدعوۃ قد بلغتہ فإن أسلم فمرحبا وأہلا بالإسلام، وإن أبی نظر الإمام في ذلک فإن طمع في توبتہ، أو سأل ہو التأجیل أجلہ ثلاثۃ أیام وإن لم یطمع في توبتہ، ولم یسأل ہو التأجیل قتلہ من ساعتہ۔ (الکاساني، بدائع الصنائع، ’’کتاب السیر: فصل في، بیان أحکام المرتدین‘‘: ج ۶، ص: ۱۱۸) فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص242

مساجد و مدارس

Ref. No. 2348/44-3528

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔     متولی صاحب کی ذمہ داری ہے کہ نمازیوں کی تکلیف دور کریں، اور مسجد کے سامان کی حفاظت کریں، جو چیز کام کی نہ ہو اس کو بیچ کر دوسری ضرورت  کی چیزیں خرید لیں۔ چند لوگ بیٹھ کر اگر ان کو سمجھائیں تو شاید ان کے پاس اگر کوئی وجہ ہو تو اس کی روشنی میں مسئلہ کا حل نکالا جاسکے۔   متولی صاحب کے پاس  اے سی نہ چلانے کی کوئی وجہ تو  ہوگی۔ اتنی سی بات کی وجہ سے متولی کو تولیت سے ہٹانے کی بات کرنا مناسب نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

Slaughtering / Qurbani & Aqeeqah

 Ref. No. 2382/44-3601

In the name of Allah the most Gracious the most merciful

The answer to your question is as follows:

As per the Islamic Sharia, the sacrifice of a nursing animal is permissible, but if the child’s life is at risk, it is better to avoid slaughtering its mother.

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَاعَةٍ لَايَخْرُجُ فِيهَا، وَلايَلْقَاهُ فِيهَا أَحَدٌ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟ فَقَالَ: خَرَجْتُ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ، وَالتَّسْلِيمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ عُمَرُ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ يَا عُمَرُ؟ قَالَ: الْجُوعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَنَا قَدْ وَجَدْتُ بَعْضَ ذَلِكَ، فَانْطَلَقُوا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيْهَانِ الأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ رَجُلا كَثِيرَ النَّخْلِ وَالشَّاءِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ خَدَمٌ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَقَالُوا لامْرَأَتِهِ: أَيْنَ صَاحِبُكِ؟ فَقَالَتِ: انْطَلَقَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا الْمَاءَ، فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ جَاءَ أَبُو الْهَيْثَمِ بِقِرْبَةٍ يَزْعَبُهَا، فَوَضَعَهَا، ثُمَّ جَاءَ يَلْتَزِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُفَدِّيهِ بِأَبِيهِ وَأُمِّهِ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِمْ إِلَى حَدِيقَتِهِ، فَبَسَطَ لَهُمْ بِسَاطًا، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى نَخْلَةٍ، فَجَاءَ بِقِنْوٍ، فَوَضَعَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَلا تَنَقَّيْتَ لَنَا مِنْ رُطَبِهِ؟ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ تَخْبُرُوا أَوْ تَخَيَّرُوا مِنْ رُطَبِهِ وَبُسْرِهِ، فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا وَالَّذِي نَفْسِي فِي يَدِهِ النَّعِيمُ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: ظِلٌّ بَارِدٌ، وَرُطَبٌ طَيَّبٌ، وَمَاءٌ بَارِدٌ، فانْطَلَقَ أَبُو الْهَيْثَمِ لِيَصْنَعَ لَهُمْ طَعَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَاتَذْبَحَنَّ ذَاتَ دَرٍّ، فَذَبَحَ لَهُمْ عَنَاقًا أَوْ جَدْيًا، فَأَتَاهُمْ بِهَا، فَأَكَلُوا، ... الحديث. (شرح السنة للبغوي، كتاب البر والصلة،بَاب المشورة وَأَن المستشار مؤتمن،13/189-190،رقم الحديث: 3612، ط: المكتب الإسلامي - دمشق، بيروت )

19192 -أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ حَذْفٍ الْعَبْسِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالرَّحْبَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ يَسُوقُ بَقَرَةً مَعَهَا وَلَدُهَا، فَقَالَ: إِنِّي اشْتَرَيْتُهَا أُضَحِّي بِهَا وَإِنَّهَا وَلَدَتْ. قَالَ: فَلَاتَشْرَبْ مِنْ لَبَنِهَا إِلَّا فَضْلًا عَنْ وَلَدِهَا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَانْحَرْهَا هِيَ وَوَلَدَهَا عَنْ سَبْعَةٍ". (سنن الكبري للبيهقي، كتاب الضحايا، بَابُ مَا جَاءَ فِي وَلَدِ الْأُضْحِيَّةِ وَلَبَنِهَا، 9 / 485، ط: دار الكتب العلمية)

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband