نماز / جمعہ و عیدین

Ref. No. 2445/45-3708

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جمعہ کی نماز میں ہر دو خطبے طوال مفصل یعنی سورۂ حجرات سے سورۂ بروج تک میں سے کسی سورہ کے برابر رہیں‘ اتنا طویل خطبہ دیناکہ طوال مفصل سے بڑھ جائے مکروہ ہے۔ حدیث میں خطبہ طویل کرنے کی ممانعت آئی ہے۔ اس لئے   نماز جمعہ میں خطبہ مختصر ہونا چاہئے، نبی اکرم ﷺ کے اقوال ا فعال سے، اور صحابہ کرام کے آثار اور اجماع سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ طویل خطبہ دینا خلافِ سنت ہے۔ حدیث میں صراحت کے ساتھ نمازمیں تخفیف کا حکم ہے۔ لہذانماز پڑھانے والے پر لازم ہے کہ کمزوروں اور ضرورتمندوں کا خیال رکھ کر نماز پڑھائے خطبہ مختصر دے۔ اس قدر طویل خطبہ دینا جو تقلیل جماعت کا سبب بنے  درست  نہیں ہے۔

خطبنا عمار فاوجز وابلغ فلما نزل قلنا یا ابا الیقظان لقد بلغت واوجزت فلو کنت تنفست فقال انی سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول ان طول صلوٰة الرجل وقصر خطبتہ مئنة من فقہ فاطیلو الصلوٰة واقصروا الخطبة وان من البیان لسحرًا(مسلم شریف ج۱،ص۲۸۶،مکتبہ ملت دیوبند۔)

عن جابر بن سمرة قال کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یخطب قائماً ثم یجلس ثم یقوم ویقرأ آیات ویذکر اللّٰہ عزوجل وکانت خطبة قصدا وصلاتہ قصدًا․ (نسائی شریف جلد۱، ص۱۵۹، ابن ماجہ ص ۷۷، مکتبہ فیصل دیوبند۔ ترمذی شریف ج۱، ص۱۱۴، فیصل دیوبند۔)

عن جابررضى الله تعالى عنہ قال :  کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یوم الجمعة یخطبہ فیقول بعد ان یحمد اللّٰہ ویصلی علی انبیائہ ”ایہا الناس ان لکم معالم فانتہو الی معالمکم وان لکم نہایة فانتہوا الی نہایتکم ان العبد الموٴمن بین مخافتین بین اجل قد مضی لایدری ما اللّٰہ قاض فیہ وبین اجل قد بقی لا یدری ما اللّٰہ صانع فیہ فلیاخذ العبد من نفسہ لنفسہ ومن دیناہ لآخرتہ ومن الشبیبة قبل الکبر ومن الحیاة قبل الممات والذی نفسی بیدہ ما بعد الموت من مستعتب ما بعد الدنیا من دار الا الجنة او النار اقول قولی ہذا واستغفر اللّٰہ لی ولکم وقد تقدم ما خطبہ بہ علیہ الصلوٰة والسلام اول جمعة عند قدومہ المدینة (اخرجہ ابوداؤد، مراسیل ص ۱۹۴۰۸، بیہقی ج۲، ص۲۱۵، باب کیف یستحب ان تکون الخطبة، بحوالہ الجامع الاحکام القرآن ص ۱۰۵،۱۰۶ ج۹، جز ۱۸ مکتبہ دارالفکر۔)

عن جابررضى الله تعالى عنہ قال :  کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لایطیل الموعظة یوم الجمعة انما ہن کلمات یسیرات․( ابوداؤد شریف ج۱، ص۱۵۸، مکتبہ ملت دیوبند۔)

"قال أبوحنیفة رحمة الله عليه: إن اقتصر الخطیب علی مقدار یسمي ذکر اللّٰه کقوله: الحمد اللّٰه، سبحان اللّٰه جاز ... وقال الصاحبان: لابد من ذکر طویل یسمٰی خطبة".(بدائع الصنائع ج۱، ص۳۸۹، مکتبه دارالفکر)
"ومنها الخطبة"؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم ما صلاها بدون الخطبة في عمره، "وهي قبل الصلاة بعد الزوال"، به وردت السنة، "ويخطب خطبتين يفصل بينهما بقعدة"، به جرى التوارث"، ويخطب قائمًا على طهارة؛ "لأن القيام فيهما متوارث، ثم هي شرط الصلاة فيستحب فيها الطهارة كالأذان، "ولو خطب قاعدًا أو على غير طهارة جاز؛ "لحصول المقصود، إلا أنه يكره؛ لمخالفته التوارث؛ وللفصل بينهما وبين الصلاة، "فإن اقتصر على ذكر الله جاز عند أبي حنيفة رحمه الله، وقالا: لا بد من ذكر طويل يسمى خطبة، "لأن الخطبة هي الواجبة والتسبيحة أو التحميدة لاتسمى خطبةً، وقال الشافعي رحمه الله: لاتجوز حتى يخطب خطبتين اعتبارًا للمتعارف، وله قوله تعالى: {فَاسَعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ} [الجمعة: 9] من غير فصل، وعن عثمان رضي الله عنه أنه قال: الحمد لله فأرتج عليه، فنزل وصلى". (الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 82)

 (والرابع عشر) تخفیف الخطبتین بقدرسورۃ من طوال المفصل ویکرہ التطویل۔ (فتاویٰ عالمگیری ج1ص 147)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

حدیث و سنت

الجواب وباللّٰہ التوفیق:یہ حدیث درست اور معجم کبیر وغیرہ میں مذکور ہے۔(۲)

(۲) عن عبد اللّٰہ: عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: من وسع علی عیالہ یوم عاشوراء لم یزل في سعۃ سائر سنتہ۔ (أخرجہ سلیمان بن أحمد، المعجم الکبیر: ج ۱۰، ص: ۷۷، رقم: ۱۰۰۰۷)  حدیث: من وسع علی عیالہ في یوم عاشوراء وسع اللّٰہ علیہ السنۃ کلہا، الطبراني في الشعب وفضائل الأوقات، وأبو الشیخ عن ابن مسعود، والأولان فقط عن أبي سعید، والثاني فقط في الشعب عن جابر وأبي ہریرۃ، وقال: إن أسانیدہ کلہا ضعیفۃ، ولکن إذا ضم بعضہا إلی بعض أفاد قوۃ، بل قال العراقي في أمالیہ: لحدیث أبي ہریرۃ طرق، صحح بعضہا ابن ناصر الحافظ، وأوردہ ابن الجوزي في الموضوعات من طریق سلیمان ابن أبي عبد اللّٰہ عنہ، وقال: سلیمان مجہول، وسلیمان ذکرہ ابن حبان في الثقات، فالحدیث حسن علی رأیہ، قال: ولہ طریق عن جابر علی شرط مسلم، أخرجہا ابن عبد البر في الاستذکار من روایۃ أبي الزبیر عنہ، وہي أصح طرقہ، ورواہ ہو والدارقطني في الأفراد بسند جید، عن عمر موقوفا علیہ، والبیہقي في الشعب من جہۃ محمد بن المنتشر، قال: کان یقال، فذکرہ، قال: وقد جمعت طرقہ في جزء، قلت: واستدرک علیہ شیخنا رحمہ اللّٰہ کثیرا لم یذکرہ، وتعقب اعتماد ابن الجوزي في الموضوعات، قول العقیلي في ہیصم بن شداخ راوي حدیث ابن مسعود: إنہ مجہول بقولہ بل ذکرہ ابن حبان في الثقات والضعفاء۔ (شمس الدین، المقاصد الحسنۃ: ج ۱، ص: ۶۷۴)

 فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج2ص115

بدعات و منکرات

الجواب وباللّٰہ التوفیق:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد اصلیہ میں داخل تھا کہ اسلام و احکام اسلام کی تبلیغ فرماکر دنیاسے گمراہی و ضلالت کو دور فرمائیں۔ متعدد نصوص قطعیہ اس پر شاہد ہیں {ٰٓیأَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ أُنْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَط}(۱) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب ضرورت و موقع دعوت کے طریقے اختیار کئے جس بے نظیر اولو العزم، جانفشانی، مسلسل جدوجہد اور صبر و استقلال سے فرض رسالت و تبلیغ کو ادا کیا وہ اس کی واضح دلیل تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہر چیز سے بڑھ کر اپنے فرض منصبی رسالت و ابلاغ کا احساس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعوت اسلام کا کامیاب طریقہ بھی خود ہی مصرح فرمایا {أُدْعُ إِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِوَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِيْ ھِيَ أَحْسَنُط} (۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقہ کو ہر قدم پر پیش نظر رکھا اور کامیابی و کامرانی کا اعلیٰ مقام حاصل کیا اس طریقہ دعوت اسلام ہی کو دوسرے مقام پر اس طرح واضح فرمایا {وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًام بِغَیْرِ عِلْمٍط} (۳) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تازیست پیغام رسالت کو پہونچانے کی پیہم سعی فرمائی، پھر حجۃ الوداع کے موقعہ پر اس ذمہ داری کی تکمیل اس حد تک فرمادی کہ عام خطاب فرمایا کہ جو یہاں موجود ہیں ان پر لازم ہے کہ یہ پیغام ان لوگوں تک پہونچادیں جو یہاں موجود نہیں ہیں، اس طرح یہ سلسلہ قیامت تک کے لئے جاری ہوگیا، یہ سب اسی پیغام کی تکمیل ہے؛ نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ أُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ إِلَی الْخَیْرِ وَیَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِط وَأُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَہ۱۰۴}(۱) یعنی ایمان، اعتصام بحبل اللہ، اتفاق ، اتحاد اس وقت باقی رہ سکتا ہے، جب مسلمانوں میں ایک خاص جماعت دعوت وارشاد کے لیے باقی رہے اور اس کا طریقہ کار وہ ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بایں الفاظ بیان کیا ’’من رأی منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ الخ‘‘ (۲) یعنی حسب موقع قول و عمل، تقریر وتحریر وعظ و نصیحت اور ذرائع اشاعت وغیرہ کے ذریعہ ہر برائی کو دنیا سے مٹانے کی سعی کی جائے لیکن یہ سعی حسب موقع و حسب استطاعت ہو یعنی اس طریقہ کو اختیار کئے جانے میں کسی فتنہ میں مبتلاء ہونے کا احتمال نہ ہو ظاہر ہے کہ یہ کام وہی حضرات کر سکتے ہیں جو معروف و منکر کا علم رکھنے اور قرآن و سنت سے باخبر ہونے کے ساتھ ذی ہوش و موقع شناس بھی ہوں ورنہ بہت ممکن ہے کہ ایک جاہل آدمی معروف کو منکر ومنکر کو معروف خیال کرکے بجائے اصلاح کے سارا نظام مختل کر دے، یا ایک منکر کی اصلاح کا ایسا طریقہ اختیار کرلے جو اس سے بھی زیادہ منکرات کا موجب ہو جائے یا نرمی کی جگہ سختی اور سختی کی جگہ نرمی برتنے لگے یا احوال و کوائف کو مدنظر نہ رکھ کر عظیم فتنہ میں پڑ جائے شاید اسی لئے مسلمانوں میں سے ایک مخصوص جماعت کو اس منصب پر مامور کیا گیا جو ہر طرح دعوت الی الخیر، امر بالمعروف نہی عن المنکر کی اہل ہو اس مختصر وضاحت کی روشنی میں معلوم ہوا کہ:
(۱) غیر مسلموں میں اسلام اور مسلمانوں میں احکام کی دعوت دینا فرض کفایہ ہے۔
(۲) اسلام واحکام اسلام کی دعوت میں تقدم وتاخر زمانہ واحوال کے اعتبار سے ہے۔
(۳) دعوت اسلام ہو یا دعوت احکام اسلام اس کی ذمہ داری صرف آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں؛ بلکہ حسب وضاحت مذکور امت مسلمۃ پر بھی عائد ہوتی ہے۔
(۴) اگر کسی بڑے فتنہ میں مبتلاء ہونے کا احتمال ہو اور اس لئے کسی علاقہ کے لوگوں کو دعوت نہ پہونچ سکی تو ان شاء اللہ امت مسلمۃ ماخوذ نہ ہوگی۔
(۵) جو جماعت دعوت اسلام یا احکام اسلام کا کام انجام دے اس جماعت کا تعاون کرنا بلاشبہ موجب اجر و ثواب ہے۔ {وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰیص} (۱)

(۱) سورۃ المائدۃ: ۶۷۔    (۲) سورۃ النحل: ۱۲۵۔         (۳) سورۃ الإنعام: ۱۰۸۔
(۱) سورۃ النساء: ۱۰۴۔
(۲) أخرجہ مسلم، في صحیحہ، ’’کتاب الإیمان: ج ۱، ص: ۵۱، رقم: ۴۹)

--------------------

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج2ص332

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: دکاندار اگر لائق امامت ہو تو اس کی امامت بالکل درست ہے، دکاندار ہونے کی وجہ سے اس کی امامت کے صحیح ہونے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔(۱)

(۱) إذا لم یکن بین الحاضرین صاحب منزل ولا وظیفۃ ولا ذو سلطان فالأعلم أحق بالإمامۃ ثم الأقرأ ثم الأورع ثم الأسن ثم الأحسن خلقا ثم الأحسن وجہا ثم الأشرف نسبا ثم الأحسن صوتا ثم الأنظف ثوبا، فإن استووا یقرع أو الخیار إلی القوم فإن اختلفوا فالعبرۃ بما اختارہ الأکثر وإن قدموا غیر الأولی فقد أساء وا۔ (حسن بن عمار، مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلوۃ، فصل في الأحق بالإمامۃ وترتیب الصفوف‘‘:  ص: ۱۱۱، ۱۱۲)
عن عبداللّٰہ بن مسعود رضي اللّٰہ عنہ قال: قال لنا علیہ السلام: یؤم القوم أقرأہم لکتاب اللّٰہ وأقدمہم قراء ۃ۔ (أخرجہ مسلم في صحیحہ: ’’کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب من أحق بالإمامۃ‘‘: ج۱، ص: ۲۳۶، رقم:۶۷۳)
الأحق بالإمامۃ الأعلم بأحکام الصلاۃ ثم الأحسن تلاوۃ، وتجویداً للقراء ۃ۔ (ابن عابدین، رد المحتار، ’’کتاب الصلوۃ، باب الإمامۃ، مطلب في تکرار الجماعۃ في الصلوۃ‘‘ : ج ۲، ص: ۲۹۵، ۲۹۴)؛
وثم الأحسن تلاوۃ وتجویداً، ومعنی الحسن في التلاوۃ أن یکون عالماً بکیفیۃ الحروف والوقف وما یتعلق بہا۔ (أیضًا:)

 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبندج5 ص104

طہارت / وضو و غسل

الجواب وباللّٰہ التوفیق:وقت ضرورت حیض بند کرنے والی گولیوں (Tablets) کے استعمال کی گنجائش ہے؛ البتہ بسا اوقات ان دواؤں کا استعمال طبی لحاظ سے عورت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے، اس سے ماہواری کے ایام میں بے قاعدگی بھی ہو جاتی ہے جس سے بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو ان ایام میں معذور رکھا ہے، ان دنوں میں نماز روزہ ادا نہ کرنے پر کوئی مواخذہ نہیں ہے؛ لہٰذا ایسی مشقت اٹھانے اور تکلیف کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔
’’في حدیث عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا قالت: فلما کنا بسرف حضت فدخل علی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وإنا أبکی فقال: انفست قلت: نعم! قال: إن ہذا أمر کتبہ اللّٰہ علی بنات آدم فاقضی ما یقضی الحاج غیر أن لا تطو فی بالبیت‘‘(۱)
نیز اگر کسی عورت نے حیض آنے سے پہلے دوا کھائی جس سے حیض کا خون نہیں آیا تو جب تک خون جاری نہ ہو وہ عورت پاک ہی شمار ہوگی ان ایام میں نماز پڑھے گی اور روزے رکھے گی۔
’’لا یجوز للمرأۃ أن تمنع حیضہا أو تستعجل إنزالہ إذا کان ذلک یضر صحتہا لأن المحافظۃ علی الصحۃ واجبۃ‘‘(۲)

(۱) أخرجہ البخاري، في صحیحہ، ’’کتاب الحیض، باب کیف کان بدأ الحیض‘‘: ج ۱، ص: ۴۳۔
(۲) عبد الرحمن الجزیري، الفقہ علی المذاہب الأربعۃ، ’’کتاب الطہارۃ: تعریف الحیض‘‘: ج ۱، ص: ۱۲۰۔(بیروت: دارالکتب العلمیۃ، لبنان)

 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج3 ص404

 

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق:زید کی یہ نماز ادا ہے، قضاء نہیں ہے؛ کیوںکہ عشاء کا وقت طلوع فجر تک رہتا ہے؛ البتہ آدھی رات سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہ ہے؛(۱) اس لیے آدمی رات سے پہلے عشاء کی نماز پڑھ لیا کریں، تاکہ کراہت نہ ہو نیز عشاء اداء کرنے سے پہلے سونا مکروہ ہے۔
’’عن أبي برزۃ رضي اللّٰہ عنہ، أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یکرہ النوم قبل العشاء والحدیث بعدہا‘‘(۲)
نیز زید کا ترک جماعت کرنا سخت گناہ ہے زید کو چاہئے کہ عشاء کی نماز باجماعت ادا کرے اور پھر سوجائے ۔(۳)

(۱) وتاخیرہا إلی ما بعدہ أي بعد نصف اللیل إلی طلوع الفجر مکروہ إذا کان بغیر عذر۔ (إبراہیم الحلبي، حلبي کبیري: ص: ۲۰۶)
(۲) أخرجہ البخاري، في صحیحہ، کتاب مواقیت الصلوۃ  ’’باب ما یکرہ من النوم قبل العشاء‘‘: ج ۱، ص: ۸۰، رقم: ۵۶۸، مکتبہ فیصل، دیوبند۔
(۳) قال رسول اللّٰہ ﷺ : من سمع المنادی فلم یمنعہ من اتباعہ عذر قالوا: وماالعذر؟ قال: خوف أو مرض لم تقبل منہ الصلاۃ التی صلی۔(أخرجہ أبو داود ، في سننہ، کتاب الصلاۃ، في التشدید في ترک الجماعۃ، ج:۱،ص:۱۵۱)

 

 فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج4 ص78

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر دل میں عشاء کی نمازہے اور غلطی سے زبان سے مغرب کا لفظ نکل گیا تو عشاء کی نماز ادا ہوگئی، لیکن اگر جلدی میں نیت کی تعیین نہیں کرسکا اور زبان سے مغرب بول دیا تو نماز نہیں ہوگی، دوبارہ نماز پڑھنی ہوگی۔(۱)

(۱) لا یصح اقتداء مصلي الظہر بمصلي العصر۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ الباب الخامس: في الإمامۃ، الفصل الثالث في بیان من یصلح إماما‘‘: ج ۱، ص: ۱۴۳)
(والمعتبر فیہا عمل القلب اللازم للإرادۃ) فلا عبرۃ للذکر باللسان إن خالف القلب لأنہ کلام لا نیۃ إلا إذا عجز عن إحضارہ لہموم أصابتہ فیکفیہ اللسان مجتبی (وہو) أي عمل القلب (أن یعلم) عند الإرادۃ (بداہۃ) بلا تأمل (أي صلاۃ یصلي) فلو لم یعلم إلا بتأمل لم یجز۔ (ابن عابدین، رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ باب شروط الصلاۃ، بحث النیۃ‘‘: ج ۲، ص: ۹۲)
عزم علی الظہر وجری علی لسانہ العصر یجزیہ کذا في شرح مقدمۃ أبي اللیث وہکذا في القنیۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثالث: في شروط الصلاۃ،… الفصل الرابع في النیۃ‘‘: ج ۱، ص: ۱۲۳)
قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إذا اقیمت الصلٰوۃ فلا صلٰوۃ إلا المکتوبۃ التي أقیمت۔ (أخرجہ أحمد، في مسندہ، ’’الجزء الرابع عشر‘‘: ج ۱۴، ص: ۲۷۱، رقم: ۸۶۲۳)
واستدل بقولہ: (التي أقیمت) بأن المأموم لا یصلي فرضا ولا نفلا خلف من یصلي فرضا آخر کالظہر مثلا خلف من یصلي العصر وإن جازت إعادۃ الفرض خلف من یصلي ذلک الفرض۔ (ابن حجر العسقلاني، فتح الباري  شرح البخاري، ’’کتاب الأذان: باب إذا أقمت الصلاۃ فلا صلاۃ‘‘: ج ۲، ص: ۱۸۷)

 

فتاویٰ دارالعلوم وقف دیوبند ج4 ص350

 

زیب و زینت و حجاب

Ref. No. 984

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                                                                                        

بسم اللہ الرحمن الرحیم: اس سلسلہ میں اصول یہ ہے کہ جن عورتوں سے نکاح جائز ہوتا ہے ان سے پردہ بھی  لازم ہوتاہے، اور جو عورتیں محرمات  ابدیہ ہوں ان سے پردہ لازم نہیں ہوتا ہے۔  صورت مذکورہ میں زید کی دوسری بیوی سے زید کے داماد کا پردہ لازم ہے۔   اور جن عورتوں سے پردہ ہے ان سے ہر حال میں پردہ ہے؛ عدت کے ایام میں اور عدت کے ایام کے علاوہ میں  بھی ان سے پردہ لازم ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

اسلامی عقائد

Ref. No. 39 / 938

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔اللہ تعالی تمام زبانوں کے خالق ہیں ، اس لئے ہرطرح کی زبان کا پورا علم اللہ تعالی رکھتے ہیں۔ لیکن رسول اکرم ﷺ تمام زبانیں نہیں بولتے تھے۔  

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

آداب و اخلاق

Ref. No. 40/803

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مسجد کے بہت سے آداب ہیں جن کی تفصیل کتابوں میں موجود ہے۔ مسجد کو صاف ستھرا رکھنا اور گندگی کو دور کرنا  بہت اہم ہے۔ اس کے علاوہ مندرجہ ذیل امور سے بچنا ضروری ہے: مسجدمیں شور وشغب کرنا۔ دنیاوی باتیں  کرنا، بدبودار چیز کھاکر مسجد آنا۔ مسجد میں ہنسی مذاق کرنا، مسجد میں خریدوفروخت  کرنا۔ مسجد میں حلقہ لگاکر سیاسی باتیں  کرنا۔ مسجد میں گالی دینا۔ مسجد میں کرسی ومیز لے جانا۔ مسجد کے نیچے بنے ہوئے کمرہ میں گائے بکری جانور باندھنا۔ یہ ساری چیزیں آداب مسجد کے خلاف ہیں۔ مسجد اللہ کا گھر ہے اس میں بہت اہتمام سے اور ہر وقت ذکر اللہ میں لگے رہنا چاہئے۔ اللہ کی رحمت ہمہ وقت متوجہ رہتی ہے ، اس سے اعراض کرنا اور دوسرے لایعنی بلکہ گناہوں کے کام میں لگ جانا بڑی محرومی کی بات ہے۔ اللہ تعالی ہماری حفاظت فرمائیں۔ آمین۔  

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند