نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز عید الاضحی کے بعد تکبیر تشریق پڑھنا مستحب ہے، مکروہ نہیں ہے۔(۱)(۱) قولہ: (عقب کل فرض عیني) … وخرج بہ الواجب کالوتر والعیدین والنفل، وعند البلخین یکبرون عقب صلاۃ العید لأدائہا بجماعۃ کالجعۃ، وعلیہ توارث المسلمین، فوجب اتباعہ کما یأتي، وخرج بالعیني الجنازۃ، فلا یکبر عقبہا، أفادہ في البحر۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین، مطلب: المختار أن الذبیح إسماعیل‘‘: ج ۳، ص: ۶۳)قولہ: (فوجب) الظاہر أن المراد بالوجوب الثبوت، لا الواجب المصطلح علیہ،  وفي البحر عن المجتبی: والبلخیون یکبرون عقب صلاۃ العید؛ لأنہا تؤدي بجماعۃ فأشبہت الجمعۃ۔ (أیضاً:، ’’مطلب: کلمۃ لا بأس قد تستعمل في المندوب‘‘: ج ۳، ص: ۶۵)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 255

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: رکعت اول میں مع تکبیر تحریمہ کے کل چار تکبیرات ہوں گی، چاروں تکبیروں میں ہاتھ کانوں تک اٹھائے اور پہلی اور چوتھی تکبیر کے بعد ہاتھ باندھے، یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ جہاں تکبیرات کے بعد کچھ پڑھنا ہے وہاں ہاتھ باندھے اور جہاں کچھ نہیں پڑھنا ہے وہاں چھوڑ دے۔ دوسری رکعت میں رکوع میں جانے والی تکبیر ملا کر کل چار تکبیرات ہوں گی، پہلی تین تکبیروں میں ہاتھ اٹھا کر چھوڑ دے اور چوتھی میں ہاتھ اٹھائے بغیر تکبیر کہتے ہوئے رکوع میں چلا جائے اس کو خیال میں رکھا جائے تو غلطی نہ ہوگی۔(۱)(۱) فیکبر تکبیرۃ الافتتاح، ثم یستفتح، ثم یکبر ثلاثا، ثم یقرأ جہرا، ثم یکبر تکبیرۃ الرکوع، فإذا قام إلی الثانیۃ قرأ ثم کبر ثلاثا، ورکع بالرابعۃ، فتکون التکبیرات الزوائد ستا: ثلاثا في الأولی، وثلاثا في الأخری، وثلاث أصلیات، تکبیرۃ الافتتاح، وتکبیرتان للرکوع، فیکبر في الرکعتین تسع تکبیرات ویوالي بین القراء تین۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السابع عشر في صلاۃ العیدین‘‘: ج ۱، ص: ۲۱۱)قولہ: (وھي ثلاث في کل رکعۃ) أي الزوائد ثلاث تکبیرات في کل رکعۃ وہو قول ابن مسعود رضي اللّٰہ عنہ وبہ أخذ أئمتنا أبو حنیفۃ وصاحباہ۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ العیدین‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۰، ۲۸۱)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 253

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اہل قریہ پر تکبیرات تشریق واجب نہیں اور صاحبینؒ واجب قرار دیتے ہیں، مگر اس بارے میں زیادہ احتیاط یہ ہے کہ قول صاحبینؒ کے مطابق اہل قریہ کو تکبیرات پڑھنی چاہئے۔(۱)(۱) ووجوبہ (علی إمام مقیم) بمصر (و) علی مقتد (مسافر أو قروي أو امرأۃ) بالتبعیۃ؛ لکن المرأۃ تخافت، ویجب علی مقیم اقتدی بمسافر (وقالا: بوجوبہ، فور کل فرض مطلقاً) ولو منفرداً أو مسافراً أو امرأۃ لأنہ تبع للمکتوبۃ …، (وعلیہ الاعتماد)، و العمل والفتویٰ في عامۃ الأمصار۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین، مطلب: المختار أن الذبیح إسماعیل‘‘: ج۳، ص: ۶۴)یجب علی کل من تجب علیہ المکتوبۃ في أیام التشریق، والرستاقي، والبلدي، والمسافر، والمقیم، والذي یصلي وحدہ، أو بجماعۃ سواء۔ (ابن العلاء، الفتاویٰ التاتارخانیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الفصل السابع والعشرون في تکبیرات أیام التشریق‘‘: ج ۲، ص: ۶۴۰، رقم: ۳۴۷۷)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 252

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: تکبیر تشریق کے وجوب میں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا قول یہ ہے کہ تکبیر تشریق ہر فرض نماز باجماعت ادا کرنے والے پر واجب ہے ۔ اور حضرت امام ابویوسف، امام محمد رحمۃ اللہ علیہما کا قول یہ ہے کہ مطلقاً ہر فرض نماز پڑھنے والے پر واجب ہے، خواہ مقتدی ہو یا منفرد ہو یا مقیم ہو، مسافر ہو، مرد ہو یا عورت ہو۔ اسی قول پر فتوی ہے۔’’وعندہما کل من صلی المکتوبۃ في ہذہ الأیام فعلیہ التکبیر مقیما کان أو مسافرا رجلا کان أو إمرأۃ في المصر أو في غیر المصر في الجماعات أو وحدہ‘‘(۱)’’(ویجب تکبیر التشریق) … (علی إمام مقیم) بمصر (و) علی مقتد (مسافر أو قروي أو امرأۃ) … وقالا: بوجوبہ فور کل فرض مطلقاً) ولو منفردا أو مسافرا أو امرأۃ لأنہ تبع للمکتوبۃ … قولہ: (لأنہ تبع للمکتوبۃ) فیجب علی کل من تجب علیہ الصلاۃ المکتوبۃ، قولہ: (وعلیہ الاعتماد)‘‘(۲)(۱) طاہر بن أحمد، خلاصۃ الفتاوی، اشرفیہ دیوبند: ج ۱، ص: ۲۱۶۔    …(۲) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’باب العیدین‘‘: ج ۳، ص: ۶۱ تا ۶۴۔ووجوبہ (علی إمام مقیم) بمصر (و) علی مقتد (مسافر أو قروي أو امرأۃ) بالتبعیۃ؛ لکن المرأۃ تخافت، ویجب علی مقیم اقتدی بمسافر (وقالا: بوجوبہ فور کل فرض مطلقاً) ولو منفرداً، أو مسافراً، أو امرأۃ لأنہ تبع للمکتوبۃ … (وعلیہ الاعتماد) والعمل والفتویٰ في عامۃ الأمصار۔ (أیضا: ’’مطلب: المختار أن الذبیح إسماعیل‘‘: ج ۳، ص: ۶۴) یجب علی کل من تجب علیہ المکتوبۃ في أیام التشریق، والرستاقي، والبلدي، والمسافر، والمقیم، والذي یصلي وحدہ، أو بجماعۃ سواء۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الفصل السابع والعشرون في تکبیرات أیام التشریق‘‘،مکتبہ زکریا، دیوبند: ج ۲، ص: ۶۴۰، رقم: ۳۴۷۷)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 251

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: تکبیرات تشریق واجب ہیں ان کو چھوڑنے والا گناہگار ہوگا، اس پر توبہ و استغفار لازم ہوگی۔(۱)(۱) (ویجب تکبیر التشریق) في الأصح للأمر بہ (مرۃ) وإن زاد علیہا یکون فضلا، قولہ: (في الأصح) وقیل سنۃ، وصحح أیضاً؛ لکن في الفتح أن الأکثر علی الوجوب، وحرر في البحر أنہ لا خلاف؛ لأن السنۃ المؤکدۃ والواجب متساویان رتبۃ في استحقاق الإثم بالترک۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین، مطلب: في تکبیر التشریق‘‘: ج ۳، ص: ۶۱، ۶۲)واختلف في أن تکبیرات التشریق واجبۃ في المذہب أو سنۃ، والأکثر علی أنہا واجبۃ۔ (ابن الہمام، فتح القدیر، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین، فصل في تکبیرات التشریق‘‘ مکتبہ الاتحاد، دیوبند: ج ۲، ص: ۷۹)قولہ: (وقد یقال الخ) … اختلف في أن تکبیرات التشریق واجبۃ فيالمذہب أو سنۃ والأکثر علی أنہا واجبۃ، ودلیل السنۃ أنہ وہو مواظبتہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ العیدین‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۷)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 250

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: صورت مسئولہ یعنی عیدگاہ میں بآواز بلند اجتماعی طور پر تکبیر کا التزام ایک رسم ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء راشدین وغیرہم تابعین اور ائمہ فقہاء وغیرہ میں کسی سے بھی اس کا ثبوت نہیں ہے۔(۲)(۲) والخروج إلی الجبانۃ سنۃ لصلاۃ العید وإن کان یسعہم المسجد الجامع عند عامۃ المشائخ ہو الصحیح، وفي المغرب: الجبانۃ المصلی العام في الصحراء … قولہ: (غیر مکبر ومتنفل قبلہا) … فالحاصل أن الجہر بالتکبیر بدعۃ في کل وقت إلا في المواضع المستثناۃ۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ العیدین‘‘: ج ۲، ص: ۲۷۸، ۲۷۹)(ثم خروجہ) … (ما شیاً إلی الجبانۃ) وہي المصلیٰ العام، والواجب مطلق التوجہ (والخروج إلیہا) أي الجبانۃ لصلاۃ العید (سنۃ وإن وسعہم المسجد الجامع) ہو الصحیح۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین‘‘: ج ۳، ص: ۴۸، ۴۹)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 249

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: احناف کے نزدیک نماز عیدین کی تکبیرات زوائد صرف چھ ہیں یعنی ہر رکعت میں صرف تین تکبیریں ہیں اور حدیث ابو داؤد سے یہ ثابت ہے۔’’أن سعید بن العاص رضي اللّٰہ عنہ، قال: سأل أبا موسیٰ الأشعري وحذیفۃ بن الیمان کیف کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یکبر في الأضحی و الفطر فقال أبو موسیٰ: کان یکبر أربعاً تکبیرۃ علی الجنائز، فقال حذیفۃ: صدق‘‘(۲)  پس مذہب حنفیہ موافق حدیث کے ہے، حنفی امام کو اس کے خلاف نہ کرنا چاہئے۔(۱)(۲) أخرجہ أبو داؤد، في سننہ، ’’کتاب الصلاۃ: باب التکبیر في العیدین‘‘: ج۱، ص: ۱۶۳؛ وأخرجہ البیہقي في سننہ، ’’کتاب صلاۃ العیدین: باب الخبر الذي فیہ التکبیر أربعاً‘‘ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان: ج۳، ص: ۲۸۹) (۱) أن القاسم أبا عبدالرحمن حدثہ قال: حدثني بعض أصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: صلی بنا النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یوم عید فکبر أربعا وأربعاً ثم أقبل علینا بوجہہ حین انصرف فقال: لاتنسو کتکبیر الجنائز وأشار بأصابعہ وقبض إبہامہ۔ (الطحاوي، شرح معاني الآثار، ’’کتاب الزیادات: باب صلاۃ العیدین، کیف التکبیر فیہا‘‘ مکتبہ تھانوی، دیوبند: ج ۲، ص: ۳۷۱)عن علقمۃ والأسود بن یزید قال: کان ابن مسعود رضي اللّٰہ عنہ جالسا وعندہ حذیفۃ وأبو موسیٰ رضي اللّٰہ عنہما فسألہما سعید بن العاص رضي اللّٰہ عنہ عن التکبیر في الصلاۃ یوم الفطر والأضحی فجعل ہذا یقول: سل ہذا وہذا یقول سل ہذا حتی فقال لہ حذیفۃ رضي اللّٰہ عنہ سل ہذا لعبد اللّٰہ بن مسعود رضي اللّٰہ عنہ فسألہ فقال بن مسعود رضي اللّٰہ عنہ یکبر أربعاً ثم یقرأ، ثم یکبر فیرکع … ثم یقوم في الثانیۃ فیقرأ، ثم یکبر أربعاً بعد القراء ۃ۔ (أخرجہ عبدالرزاق في مصنفہ، ’’باب التکبیر في الصلاۃ یوم العید‘‘: ج ۳، ص: ۲۹۳، ۲۹۴، رقم: ۵۶۸۷)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 248

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: عیدین کی نماز میں چھ تکبیرات زوائد واجب ہیں، اگر  کوئی تکبیر چھوٹ جائے، تو سجدہ سہو واجب ہوگا، پھر اگر مجمع زیادہ نہ ہو اور کسی انتشار کا خوف نہ ہو، تو سجدہ سہو کیا جائے اور اگر مجمع زیادہ ہو، تو چوں کہ فتنہ وانتشار کا خوف رہتا ہے؛ اس لیے سجدہ سہو نہ کیا جائے نماز ادا ہو جائے گی۔(۱)(۱) قولہ: (عدمہ في الأولیین) الظاہر أن الجمع الکثیر فیما سواہما کذلک … لیس المراد عدم جوازہ، بل الأولی ترکہ لئلا یقع الناس في فتنۃ۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۵۶۰)ولو ترک تکبیرۃ الرکوع الثاني في ثلاثۃ العید وجب علیہ السہو؛ لأنہا واجبۃ تبعاً لتکبیرات العید، بخلاف تکبیرۃ الرکوع الأول؛ لأنہا لیست ملحقۃ بہا، کذا في التبیین، السہو في الجمعۃ والعیدین والمکتوبۃ والتطوع واحد إلا أن مشایخنا قالوا: لایسجد للسہو في العیدین والجمعۃ لئلا یقع الناس في فتنۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۷)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 248

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: ’’(ویجب تکبیر التشریق) في الأصح للأمر بہ (مرۃ) وإن زاد علیہا یکون فضلاً قولہ: (وإن زاد الخ) أفاد أن قولہ: ’’مرۃ‘‘ بیان للواجب؛ لکن ذکر أبو السعود أن الحموي نقل عن القرا حصاري أن الإتیان بہ مرتین خلاف السنۃ‘‘(۱)اس عبارت سے معلوم ہوا کہ مسئلہ مختلف فیہ ہے اور مشہور قول مرۃ والا ہے اور دوسرا قول ضعیف ہے اور قطع نظر ضعیف کے مرۃ والے زیادہ کو خلاف سنت کہتے ہیں اور زیادہ کے قائل مرۃ کے سنت ہونے پر متفق ہیں؛ پس احتیاط مرۃ ہی میں ہے۔(۲)(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین‘‘: ج ۳، ص: ۶۱، ۶۲۔(۲) (وصفتہ) أي صفۃ التکبیر (أن یقول مرۃ) حتی لوزاد لقد خالف السنۃ۔ (عبد الرحمن بن محمد، مجمع الأنہر، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ العیدین‘‘دار الکتب العلمیۃ، بیروت: ج ۱، ص: ۲۶۰)قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللّٰہ تعالیٰ: (ویجب تکبیر التشریق) في الأصح للأمر بہ (مرۃ)، وإن زاد علیہا یکون فضلا قالہ العیني، قولہ: (وإن زاد الخ): أفاد أن قولہ: ’’مرۃ‘‘ بیان للواجب؛ لکن ذکر أبو السعود أن الحموي نقل عن القرا حصاري أن الإتیان بہ مرتین خلاف السنۃ۔ اہـ۔ قلت: وفي الأحکام عن البر جندي: ثم المشہور من قول علمائنا أنہ یکبر مرۃ وقیل: ثلاث مرات۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین‘‘: ج ۳، ص: ۶۱، ۶۲)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 247

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: جو مقتدی پہلی رکعت کی تکبیرات کے بعد شریک ہوا، تو نیت کر کے تکبیر تحریمہ کہے اور پھر فوراً تکبیرات زوائد کہے در مختار میں ہے ’’(ولو أدرک) المؤتم (الإمام في القیام) بعد ما کبر (کبر) في الحال‘‘ اور اگر دوسری رکعت میں شریک ہوا، تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد رکعت فائتہ کی ادائیگی کے لیے کھڑا ہو، ثنا، تعوذ، تسمیہ،سورۃ فاتحہ اور کوئی صورت پڑھے، پھر رکوع کرنے سے پہلے تکبیرات زوائد کہے، بقیہ نماز اپنے طریقہ پر پوری کرے۔’’ولو سبق برکعۃ یقرأ ثم یکبر لئلا یتوالی التکبیر‘‘(۱)(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین، مطلب: أمر الخلیفۃ لا یبقی بعد موتہ‘‘: ج ۳، ص: ۵۵، ۵۶۔أیضاً: ج ۳، ص: ۵۶۔ومن فاتتہ أول الصلاۃ مع الإمام یکبر في الحال ویکبر برأي نفسہ، قولہ: (یوالي بین القراء تین) … ثم المسبوق برکعۃ إذا قام إلی القضاء فإنہ یقرأ ثم یکبر لأنہ بدأ بالتکبیر یصیر موالیا بین التکبیرات۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ العیدین‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۲)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 245