Miscellaneous

Ref. No. 3308/46-9110

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  حدیث شریف میں صراحت کے ساتھ یہ بات آئی ہے کہ مدعی کے ذمہ اپنے دعوی پر دلیل قائم کرنا لازم ہے،  اگر اس کے پاس اپنے دعوی پر کامل نصاب شہادت نہیں ہے تو پھر مدعی علیہ سے قسم لی جاتی ہے ، لہذا اگر زید کے پاس اپنے دعوی پر دلیل نہیں ہے تو مدعی علیہ عمرو سے قسم لے کر فیصلہ کیاجائے گا۔

  البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر۔ ھذا الحدیث قاعدۃ کبیرۃ من قواعد الشرع (اعلاء السنن، کتاب الدعوی 15/350، ادارۃ القرآن)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Hadith & Sunnah

Ref. No. 3305/46-9072

In the name of Allah the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

Friendship has a profound impact on those involved, that is why it is crucial to choose good friends carefully who will have a positive impact on you. In a society like India, where people of various religions live side by side, maintaining harmonious relationships and fostering tolerance is of utmost importance. If your non-Muslim classmates treat you with respect and kindness, cultivating a good relationship with them is certainly not contrary to Islamic principles. In fact, Islam teaches us to interact with others with good manners and to uphold their rights. The life of Prophet Muhammad (saws) is filled with examples of how to build positive relationships and show kindness, even towards non-Muslims.

The core message of this hadith is that your closest friends should be those who enhance your spiritual life and help you stay on the righteous path. It is important to be cautious of friendships that might jeopardize your beliefs, lead you astray, or cause harm in any way. If your non-Muslim friends respect your faith and treat you with kindness, then forming a friendship with them is permissible, as long as they do not negatively influence your religious views, and you are surrounded by companions who encourage you toward righteousness. May Allah grant us the wisdom to live with the best character and the guidance to follow the right path! Ameen

قوله: باب ما يجوز من الهجران لمن عصى۔۔۔ أراد بهذه الترجمة بيان الهجران الجائز؛ لأن عموم النهي مخصوص بمن لم يكن لهجره سبب مشروع، فتبين هنا السبب المسوغ للهجر وهو لمن صدرت منه معصية فيسوغ لمن اطلع عليها منه هجره عليها ليكف عنها". (فتح الباری،10/497،ط:دارالمعرفة بیروت)

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband

Divorce & Separation

Ref. No. 3306/46-9073

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ صورت مسئولہ میں شوہر نے دو مرتبہ طلاق کو دو کام پر معلق کیا تھا اور بیوی نے دونوں پر عمل نہیں کیا، اس لئے مذکورہ بیوی پر دو طلاقیں رجعی واقع ہوگئیں۔ طلاق رجعی کی عدت میں رجعت کرنے سے بیوی باقی رہ جاتی ہے اور سوال میں صراحت ہے کہ دونوں نے جسمانی تعلق قائم کیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ  عدت کے دوران  رجعت ہوگئی۔ اس لئے  مذکورہ بیوی آپ کے نکاح میں باقی ہے۔ البتہ اب آپ کو اس کا خیال رکھنا لازم ہے کہ آئندہ ایک طلاق بھی دیدی تو یہ طلاق مغلظہ ہوجائے گی اور مذکورہ بیوی آپ کے نکاح سے مکمل نکل  کرحرام ہوجائے گی، جس سے پھر نکاح نہیں ہوسکے گا۔ اس لئے اگر کبھی نااتفاقی ہوجائے تو آپسی صلح و صفائی ہی کے ذریعہ اس کو حل کرنے کی کوشش کریں اور ہرگز آئندہ اپنی زبان پر طلاق کا لفظ نہ لائیں، ورنہ کافی مشکل میں پڑجائیں گے۔

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقةً رجعيةً أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض". ( الھندیۃ، الباب السادس فيما تحل به المطلقة وما يتصل به ج:1، ص: 470، ط: ماجديه)

"(قوله وينكح مبانته في العدة، وبعدها) أي المبانة ‌بما ‌دون ‌الثلاث لأن المحلية باقية لأن زوالها معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبلها، ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب، ولا اشتباه في الإطلاق له." (البحر الرائق، كتاب الطلاق،فصل فيما تحل به المطلقة،٦١/٤،ط : دار الكتاب الإسلامي]

"ولو تزوجها قبل التزوج أو قبل إصابة الزوج الثاني كانت عنده بما بقي من التطليقات". (المبسوط للسرخسی، ج:6، ص: 65، ط: دارالكتب العلميه بيروت)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Miscellaneous

Ref. No. 3307/46-9074

In the name of Allah the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

If the unibrow is causing ugliness to the face, then it is permissible to manage it. Both married and unmarried women are equal in this regard. However, one should refrain from doing so merely for the purpose of beautification and arrogance.

"(والنامصة إلخ ) ذكره في الاختيار أيضاً، وفي المغرب: النمص نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش اهـ ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه ففي تحريم إزالته بعد؛ لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه؛ لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء.  وفي تبيين المحارم: إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب." (حاشية رد المحتار على الدر المختار كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس/ج:6/ صفحه:373/ط: ایچ، ایم، سعید)

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband

بدعات و منکرات

Ref.  No.  3303/46-9058

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جس طرح نیکی کی ترغیب دینے والے کو نیکی کا ثواب ملتاہے، اسی طرح گناہ کی ترغیب دینے والے کو بھی  گناہ کئے جانے پر گناہ ملتاہے۔ البتہ دونوں  میں فرق یہ ہے کہ گناہ کی صرف ترغیب دینے پر گناہ نہیں ملتاہے بلکہ جب  دوسرا شخص گناہ کا ارتکاب  کرتاہے تو اس کا گناہ ترغیب دینے والے کو بھی جاتاہے۔  اور نیکی کی ترغیب دینے سے ہی ثواب ملنا  شروع ہوجاتاہے۔

والمجاهرون هم الذين جاهروا بمعاصيهم وأظهروها وكشفوا ما ستر الله عليهم منها فيتحدثون يقال: جهر وجاهر وأجهر، أقول: قول الأشرف: كل أمتي لا ذنب عليهم لايصح على إطلاقه بل المعنى كل أمتي لايؤاخذون أو لايعاقبون عقابًا شديدًا إلا المجاهرون. و أما ما ذكره الطيبي من التقييد بالغيبة فلا دلالة للحديث عليه و لا عبرة بعنوان الباب كما لايخفى على أولي الألباب بل في نفس الحديث ما يؤيد ما ذكرناه و هو قوله على طريق الاستئناف البياني وإن من المجانة بفتح الميم وخفه الجيم مصدر مجن يمجن من باب نصر وهي أن لا يبالي الإنسان بما صنع ولا بما قيل له من غيبة ومذمة ونسبة إلى فاحشة أن يعمل الرجل بالليل أي مثلا عملا أي من أعمال المعصية ثم يصبح بالنصب وفي نسخة بالرفع أي ثم هو يدخل في الصباح وقد ستره الله أي عمله عن الناس أو ستره ولم يعاقبه في ليله حتى عاش إلى النهار فيقول بالنصب ويرفع أي فينادي صاحبا له يا فلان عملت البارحة أي في الليلة الماضية كذا وكذا أي من الأعمال السيئة وقد بات أي والحال أن الرجل العاصي دام في ليله يستره ربه أي عن غيره ولم يكشف حاله بالعقوبة ويصبح أي الرجل مع ذلك يكشف خبر يصبح أي يرفع ويزيل ستر الله عنه." (مرقاۃ المفاتیح ، باب حفظ اللسان والغیبة والشتم: ج؛7، ص:3034، ط: دار الفکر)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

ربوٰ وسود/انشورنس

Ref.  No.  3300/46-9059

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  پیسہ بھیجنے پر یا ایپ استعمال کرنے پربلا معاوضہ جو  کوپن  یا رقم ایپ  کمپنی کی طرف سے  ملتی ہے وہ تبرع اور ہدیہ ہوتاہے  جس کا صارف کے لئے لینا  اور استعمال کرنا جائز ہے۔

وأمّا الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن ‌قرض جرّنفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض، فأما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما؛ فلا بأس بذلك؛ لأن الربا اسم لزيادة مشروطة في العقد، ولم توجد، بل هذا من باب حسن القضاء، وأنه أمر مندوب إليه قال النبي - عليه السلام -: «خيار الناس أحسنهم قضاء» . (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، فصل في شرائط ركن القرض، ج:7، ص:395)

لايتم الهبة إلا بقبض،فإذا وهب أحد شيئا إلى أخر لاتتم الهبة قبل القبض.(مجلة الأحكام العدلية،المقدمة،المقالة الثانية في القواعد الكلية،رقم المادة:57،ص:22)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: قبولیت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے، فقہی اور قانونی اعتبار سے نماز تراویح کو جائز کہا جائے گا؛ کیوں کہ اس کے لیے روزہ شرائط میں سے نہیں ہے۔ مگر بلا عذر رمضان کا روزہ چھوڑنا ایسا بڑا گناہ ہے کہ اس کی بنا پر تراویح کا ثواب بھی سوخت ہوجائے تو تعجب نہیں۔(۱)

(۱) عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ، قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من أفطر یوما من رمضان من غیر رخصۃ ولا مرض لم یقض عنہ صوم الدہر کلہ وإن صامہ۔ (أخرجہ أبوداود، في سننہ، ’’کتاب الصیام: باب التغلیظ في من أفطر عمداً‘‘: ج ۱، ص: ۳۲۶، رقم: ۲۳۹۸؛ و أخرجہ الترمذي في سننہ، ’’کتاب الصوم: باب ماجاء في الإفطار متعمداً‘‘: ج ۱، ص: ۱۵۳؛ و ملا علي قاري، مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، ’’کتاب الصوم: باب تنزیہ الصوم، الفصل الثاني‘‘: ج ۴، ص: ۴۴، رقم: ۲۰۱۳)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 59

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب و باللہ التوفیق: فرض نماز میں پہلی رکعت کو چھوٹی اور دوسری رکعت کو بڑی کرنا مکروہ ہے، لیکن سنن ونوافل میں ایسا کرنا مکروہ نہیں ہے اس لیے تراویح میں ایسا کرنا درست ہے۔’’وفي الدرایۃ: و إطالۃ الرکعۃ الثانیۃ علی الأولی بثلاث آیات فصاعداً في الفرائض مکروہ، و في السنن و النوافل لایکرہ؛ لأن أمرہا سہل‘‘(۱)’’و استظہر في النوافل عدم الکراہۃ مطلقاً‘‘’’(قولہ: مطلق) … أطلق في جامع المحبوبي عدم کراہۃ إطالۃ الأولی علی الثانیۃ في السنن و النوافل، لأن أمرہا سہل، و اختارہ أبو الیسر ومشی علیہ في خزانۃ الفتاوی، فکان الظاہر عدم الکراہۃ الخ‘‘(۲)

(۱) فخر الدین عثمان بن علي، تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ‘‘: ج ۱، ص: ۳۳۵۔(۲) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: فصل في القراء ۃ: مطلب: السنۃ تکون سنۃ عین وسنۃ کفایۃ‘‘: ج ۲، ص: ۲۶۵۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 58

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: قرآن پاک مکمل تراویح میں سننا سنت ہے، ضروری نہیں ہے۔(۲) اگر اس کے لیے اچھے قاری ملیں تو اس سنت پر عمل کرنا چاہئے۔ جن جگہوں پر حافظ نہ ملیں یا اچھے پڑھنے والے نہ ہوں وہاں اچھے پڑھنے والے امام سے الم تر کیف سے تراویح پڑھ لینی چاہئے۔ اتنا تیز پڑھنا، کہ الفاظ مکمل طور پر ادا نہ ہوتے ہوں یا پیچھے کھڑے حافظ وعالم کو بھی سمجھ میں نہ آتا ہو، درست نہیں ہے؛(۱) بلکہ نماز کے فاسد ہونے کا بھی خطرہ ہے۔ غلطیاں اور بھول ہو جایا کرتی ہیں؛ اس کے لیے ایک سامع بھی رکھنا چاہئے۔ اور اگر حافظ صاحب سے غلطیاں اور بھول بکثرت صادر ہوتی ہوں، لوگوں کو دشواری ہو اور تقلیل جماعت کا اندیشہ ہو، تو کسی دوسرے حافظ صاحب کا انتظام کرلیا جائے(۲) اور وہ بھی نہ ہوسکے، تو پھرالم ترکیف سے تراویح پڑھ لی جائے۔ (۲) والسنۃ فیہا الختم مرۃ فلایترک لکسل القوم۔ (إبراہیم محمد الحلبي، ملتقی الأبحر، ’’کتاب الصلاۃ‘‘: ج ۱، ص: ۸۴؛ وابن نجیم، البحرالرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل‘‘: ج ۳، ص: ۱۱۵؛ وعالم بن العلاء، الفتاویٰ التاتارخانیہ، ’’الفصل الثالث عشر في التراویح‘‘: ج۲، ص: ۳۲۴، زکریا بکڈپو، دیوبند؛ الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل، مبحث صلاۃ التراویح‘‘: ج ۲، ص: ۴۹۵)(۱) ورتل القرآن ترتیلا أي إقرأ علی تمہل فإنہ یکون عونا علی فہم القرآن وتدبرہ۔ (ابن کثیر، تفسیر ابن کثیر، ’’سورۃ المزمل‘‘: ج ۶، ص: ۳۲۹، زکریا بکڈپو، دیوبند)(۲) ولایترک الختم لکسل القوم لکن في الاختیار الأفضل في زماننا قدر مالایثقل علیہم وأقرہ المصنف وغیرہ وفي المجتبی عن الإمام لو قرأ ثلاثا قصارا أو آیۃ طویلۃ في الفرض فقد أحسن ولم یسئ فما ظنک بالتراویح۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد الحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل، مبحث صلاۃ التراویح‘‘: ج ۲، ص: ۴۹۷)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 57

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: ختم قرآن کے بعد {وَأُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَہ۵} تک پڑھنے کی فقہاء کرام نے اجازت دی ہے اور یہ مستحب ہے اس کے سواء دیگر آیات کا اس وقت پڑھنا منقول نہیں اس کا ترک کر دینا مناسب ہے۔’’ویکرہ الفصل بسورۃ قصیرۃ وأن یقرأ منکوساً إلا إذا ختم فیقرأ من البقرۃ‘‘(۲)’’قال في شرح المنیۃ وفي الولوا لجیۃ من یختم القرآن في الصلاۃ إذا فرغ من المعوذتین في الرکعۃ الأولیٰ یرکع ثم یقرأ في الثانیۃ بالفاتحۃ وشيء من سورۃ البقرۃ لأن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: خیر الناس الحال المرتحل، أي الخاتم المفتتح‘‘(۱)(۲) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ، مطلب الاستماع للقرآن فرض کفایۃ‘‘: ج ۲، ص: ۲۶۹۔(۱) أیضاً:

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 56