Frequently Asked Questions
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: صرف قرآن کے پورا کرنے کے لیے چھوٹی ہوئی آیات کا اعادہ کرلیا جائے تو کافی ہے، اس طرح پورے قرآن کے ختم کا ثواب ہوگا اور اگر بھولا ہی رہے تو اس میں کچھ گناہ نہیں ہے۔ ’’وإذا غلط في القراء ۃ في التراویح فترک سورۃ أو آیۃ وقرأ ما بعدہا فالمستحب لہ أن یقرأ المتروکۃ ثم المقروء ۃ لیکون علی الترتیب، کذا في فتاویٰ قاضي خان‘‘(۱)’’وإن ترک آیۃ من سورۃ وقد قرأ مقدار ما تجوز بہ الصلاۃ جازت صلوتہ‘‘(۲)(۱) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: فصل في التراویح، الباب التاسع في النوافل‘‘: ج ۱، ص: ۱۷۷۔(۲) ابن العلاء، فتاویٰ قاضي خان، ’’کتاب الصلاۃ: فصل في التراویح‘‘: ج ۱، ص: ۹۸۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 102
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: نماز میں قرآن کریم کی آیتوں کو بلا ترتیب یا کہیں کہیں سے کاٹ کر پڑھنے سے معنی میں تغیر و تبدل کا خوف ہوتا ہے، نیز مضمون و مفہوم میں یکسانیت باقی نہیں رہتی اور اس طرح مذکورہ صورت کا کوئی ثبوت بھی نہیں ملتا؛ اس لیے ہاتھ اٹھاکر یا بغیر ہاتھ اٹھائے دونوں طرح اس میں کراہت ہے، ہاتھ اٹھاکر پڑھنے کی صورت میں کراہت شدید ہوگی اس لیے کہ اس کا ثبوت ہمارے مسلک میں نہیں ہے۔ تراویح کی آخری رکعت میں سورۂ بقرہ کا پہلا رکوع پڑھنا مستحب ہے۔’’ویکرہ الفصل بسورۃ قصیرۃ وأن یقرأ منکوسا إلا إذا ختم فیقرأ من البقرۃ، قال في شرح المنیۃ وفي الولوالجیۃ: من یختم القرآن في الصلاۃ إذا فرغ من المعوذتین في الرکعۃ الأولیٰ یرکع ثم یقرأ في الثانیۃ بالفاتحۃ وشيء من سورۃ البقرۃ لأن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: خیر الناس الحال المرتحل أي الخاتم المفتتح‘‘(۱)(۱) ابن عابدین، رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: فصل في القراء ۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب الاستماع للقرآن فرض کفایۃ‘‘: ج ۳، ص: ۲۶۹۔عن ابن عباس، قال، قال رجل: یا رسول اللّٰہ أي العمل أحب إلی اللّٰہ: قال (الحال المرتحل) قال: وما الحال، المرتحل؟ قال: الذي یضرب من أول القرآن إلی أخرہ کلما حل ارتحل۔ (أخرجہ الترمذي، في سننہ، ’’أبواب القراء ۃ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، باب ما جاء أن القرآں أنزل علی سبعۃ أحرف‘‘: ج ۲، ص: ۱۲۳، رقم: ۲۹۴۸)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 101
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: جو حضرات حافظ نہیں ہوتے ان کے لیے سہولت کے پیش نظر الم تر کیف سے تراویح پڑھانا مشہور ہے، ورنہ تو اگر کوئی شخص حافظ ہے یا اس کو قرآن پاک یاد ہے تو وہ تراویح میں جہاں سے جی چاہے پڑھ سکتا ہے؛ بلا شبہ جائز اور درست ہے، البتہ تراویح میں بالترتیب پورا قرآن سنانا یا سننا سنت ہے۔(۱)(۱) والختم مرۃ سنۃ ومرتین فضیلۃ وثلاثاً أفضل، ولا یترک، الختم (لکسل القوم)، لکن في الاختیار، الأفضل في زماننا قدر مالا یثقل علیہم، وأقرہ المصنف وغیرہ، وفي المجتبی عن الإمام: لو قرأ ثلاثاً قصاراً أو آیۃ طویلۃ في الفرض فقد أحسن ولم یسئ، فما ظنک بالتراویح؟ وفي فضائل رمضان للزاہدي أفتی أبو الفضل الکرماني والوبري أنہ إذا قرأ في التراویح الفاتحۃ وآیۃ، أو آیتین لا یکرہ، ومن لم یکن عالماً بأہل زمانہ فہو جاہل۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل، مبحث صلاۃ التراویح‘‘: ج ۲، ص: ۴۹۷، ۴۹۸)السنۃ في التراویح: إنما ہو الختم مرۃ فلا یترک لکسل القوم … والختم مرتین فضیلۃ، والختم ثلاث مرات أفضل … والأفضل أن یقرأ بما لایؤدي إلی تنفیر القوم عن الجماعۃ لکسلہم؛ لأں تکثیر الجماعۃ أفضل من تطویل القراء ۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب التاسع في النوافل، فصل في التراویح‘‘: ج ۱، ص: ۱۷۷)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 100
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: پورا قرآن کریم تراویح میں سننا سنت ہے؛ اس لیے ترتیب کو مقدم رکھا جائے بغیر کسی شرعی وجہ کے ترتیب نہ چھوڑے۔(۱)(۱) والختم مرۃ سنۃ أي قراء ۃ الختم في صلاۃ التراویح سنۃ وصححہ في الخانیۃ وغیرہا۔ (الحصکفي، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل، مبحث صلاۃ التراویح‘‘: ج ۲، ص: ۴۹۷)السنۃ في التراویح إنما ہو الختم مرۃً۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب التاسع في النوافل، فصل في التراویح‘‘: ج ۱، ص: ۱۷۵)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 100
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: کوئی ایک ہی سورت نہیں پڑھنی چاہئے، قرآن کریم مزید یاد کریں تاہم کچھ اور یاد نہ ہونے تک ایک ہی سورت پڑھ سکتے ہیں، شامی نے لکھا ہے کہ ’’واختار بعضہم سورۃ الإخلاص من کل رکعۃ‘‘(۲) اس سے معلوم ہوا کہ اس میں کچھ حرج نہیں ہے۔
(۲) وفي التنجیس: واختار بعضہم سورۃ الإخلاص في کل رکعۃ، وبعضہم سورۃ الفیل: أي البدائۃ منہا ثم یعیدہا، وہذا أحسن لئلا یشتغل قلبہ بعدد الرکعات۔ (ابن عابدین، رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل، مبحث صلاۃ التراویح‘‘: ج ۲، ص: ۴۹۸)ثم بعضہم اختار {قل ہو اللّٰہ أحد} (سورۃ الإخلاص: ۱) في کل رکعۃ وبعضہم اختار قراء ۃ سورۃ الفیل إلی آخر القرآن وہذا أحسن القولین؛ لأنہ لا یشتبہ علیہ عدد الرکعات ولا یشتغل قلبہ بحفظہا۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب التاسع في النوافل، فصل في التراویح‘‘: ج ۱، ص: ۱۷۷)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 99
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: تراویح میں قرآن کریم کی تکمیل کے لیے پورے قرآن میں ایک بار ’’بسم اللّٰہ‘‘ زور سے پڑھنا ضروری ہے؛ کیوں کہ بسم اللہ قرآن پاک کا جز ہے، ہر سورت کے شروع میں ’’بسم اللّٰہ‘‘ پڑھنا چاہے، تو آہستہ پڑھے یہ ہی سنت ہے اور اگر زور سے پڑھ لی تب بھی نماز ہوگئی۔(۱)(۱) والخلاف في الاستنان أما عدم الکراہۃ فمتفق علیہ ولہذا صرح في الذخیرۃ والمجتبی بأنہ إن سمی بین الفاتحۃ والسورۃ کان حسنا عند أبي حنیفۃ سواء کانت تلک السورۃ مقروء ۃ سرا أو جہرا۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ، فصل ہو في اللغۃ فرق مابین الشیئین‘‘: ج ۱، ص: ۵۴۵)وذکر في المصفی أن الفتوی علی قول أبي یوسف أنہ یسمي في أول کل رکعۃ ویخفیہا، وذکر في المحیط: المختار قول محمد، وہو أن یسمی قبل الفاتحۃ وقبل کل سورۃ في کل رکعۃ۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ، مطلب لفظ الفتویٰ آکد وأبلغ من لفظ المختار‘‘: ج ۲، ص: ۱۹۲)وہي آیۃ واحدۃ من القرآن والبسملۃ آیۃ ورحمۃ وأمن ولیست من الفاتحۃ… ولامن کل سورۃ۔ (أحمد بن إسماعیل الطحطاوي، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: فصل في بیان سننہا‘‘: ص: ۲۶۰)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 98
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: تراویح میں قرآن مجید ختم کر کے آخری دو رکعت میں پہلی رکعت سورۃ الفلق وسورۃ الناس اور دوسری رکعت میں سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات {المفلحون} تک پڑھنا مستحب ہے، یہ حدیث سے مستنبط ہے اور سلف صالحین کا اس پر عمل ہے، حدیث مبارک میں آتا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سا عمل اللہ کے نزدیک محبوب ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رک کر روانہ ہو جانا، عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن شریف پڑھنے والا شروع سے لے کر آخر تک پڑھتا رہے اور جب بھی وہ رکے تو پھر سے شروع کردے۔اس حدیث کی بنا پرسلف صالحین سے یہ طریقہ منقول ہے کہ تراویح میں قرآن مجید ختم کے فوراً بعد دوسرا قرآن شروع کردیتے ہیں، البتہ یہ عمل مستحب ہے اس کو اسی درجہ میں رکھنا چاہئے، مستحب عمل کو فرض یا واجب کا درجہ نہ دیا جائے۔’’ولو ختم القرآن في الأولیٰ یقرأ من البقرۃ في الثانیۃ لقولہ علیہ السلام خیر الناس الحال المرتحل یعني الخاتم المفتح‘‘(۱)’’عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہ، قال: قال رجل یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أي العمل أحب إلی اللّٰہ …؟ قال الحال المرتحل … قال وما الحال المرتحل … قال الذي یضرب من أول القرآن إلی آخرہ کلما حل ارتحل‘‘(۲)’’ویکرہ الفصل بسورۃ قصیرۃ وأن یقرأ منکوسا إلا إذا ختم فیقرأ من البقرۃ، قولہ إلا إذا ختم قال في شرح المنیۃ وفي الولو الجیۃ: من یختم القرآن في الصلاۃ إذا فرغ من المعوذتین في الرکعۃ الأولیٰ یرکع ثم یقرأ في الثانیۃ بالفاتحۃ وشيء من سورۃ البقرۃ لأن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: خیر الناس الحال المرتحل، أي الخاتم المفتح‘‘(۳)(۱) أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی المراقي، ’’کتاب الصلاۃ: فصل المکروہات‘‘: ص: ۳۵۲۔(۲) أخرجہ الترمذي، في سننہ، ’’أبواب القراء ۃ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، باب ما جاء أن القرآں أنزل علی سبعۃ أحرف‘‘: ج ۲، ص: ۱۲۳، رقم: ۲۹۴۸۔(۳) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، مطلب الاستماع للقرآن فرض کفایۃ‘‘: ج ۲، ص: ۲۶۹۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 97
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: امام موصوف کا اپنی امامت میں یہ شرط لگانا کہ جب تک میں امام رہوں گا، میرا بھتیجہ قرآن پاک سنائے گا خلاف شریعت اور ناجائز ہے، ایسی صورت میں مسجد کی منتظمہ کمیٹی کو اختیار ہے کہ جس کو چاہے قرآن پاک سنانے کے لیے مقرر کریں؛ کیوں کہ ان کی یہ شرط فرائض امامت کے خلاف ہے تاہم کمیٹی والوں کو چاہیے کہ امام صاحب کے بھتیجے لائق وفائق ہیں، تو دوسروں کے مقابلہ میں ان ترجیح دی جائے کہ اس میں امام صاحب کہ ساتھ حسن معاملہ بھی ہے، اور رفع نزاع بھی ہے۔(۱)(۱) ومن حکمہا نظام الألفۃ وتعلم الجاہل من العالم قال الشامي نظام الألفۃ بتحصیل التعاہد باللقاء في أوقات الصلوات بین الجیران۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب شروط الإمامۃ الکبریٰ‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۷)ولو أم قوماً وہم لہ کارہون إن الکراہۃ لفساد فیہ أو لأنہم أحق بالإمامۃ منہ کرہ ذلک تحریماً۔ (أیضاً: ’’مطلب في تکرار الجماعۃ في المسجد‘‘: ج ۲، ص: ۲۹۷)وأما الراتب فہو أحق من غیرہ وإن کان غیرہ أفقہ منہ۔ (عبد الرحمن بن الشیخ محمد، مجمع الانہر: ج۲، ص: ۱۶۲؛ والحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب في تکرار الجماعۃ في المسجد‘‘: ج ۱، ص: ۲۹۴)ولو أم قوما وہم لہ کارہون، إن الکراہۃ (لفساد فیہ أو لأنہم أحق بالإمامۃ یکرہ) لہ ذلک۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الثالث في بیان من یصلح إماماً لغیرہ‘‘: ج ۱، ص: ۱۴۴)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 96
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: آن لائن تراویح کی نماز درست نہیں ہے؛ اس لیے کہ علامہ شامی نے اقتداء کی دس شرطیں ذکر کی ہیں۔ (۱) مقتدی اقتداء کی نیت کرے کہ میں اس امام کے پیچھے یہ نماز پڑھ رہا ہوں۔ (۲) دونوں کی نماز ایک ہو، اگردونوں کی نماز الگ الگ ہوگی مثلا امام ظہر کی نماز پڑھا رہا ہو اور مقتدی عصر کی نیت کرے یا امام نفل کی نیت کرے اور مقتدی فرض کی نیت کرے تو نماز نہیں ہوگی۔ (۳) مکان متحد ہو۔ (۴) امام کی نماز صحیح ہو۔ (۵) عورت، مرد کے محاذات میں نہ ہو۔ (۶) مقتدی امام سے آگے نہ ہو اگر مقتدی امام سے آگے ہوگیا تو مقتدی کی نماز نہیں ہوگی۔ (۷) مقتدی کو امام کے حرکات وانتقالات کا علم ہو۔ (۸) مقتدی کو امام کے مسافر یا مقیم ہونے کا علم ہو۔ (۹) مقتدی امام کے ارکان میں شریک ہو، اگر امام کسی رکن میں ہو اور مقتدی دوسرے رکن میں ہو تو مقتدی کی نماز درست نہیں ہوگی۔ (۱۰) مقتدی امام کے برابر ہو یا اس سے کمتر ہو مثلا اگر تندرست آدمی نے معذور کی اقتداء کی تو نماز درست نہیں ہوگی یا رکوع سجدہ کرنے والا شخص اگر اشارہ سے نماز پڑھنے والے کی اقتداء کرے تو اقتداء درست نہ ہوگی۔(۱)آن لائن تراویح میں یہ شرطیں نہیں پائی جاتی ہیں:حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے:’’إذا کان بینہ و بین الإمام طریق أو نہر أو حائط فلیس معہ‘‘(۲)’’فقد تحرر بما تقرر ان اختلاف المکان مانع من صحۃ الاقتداء و لو بلا اشتباہ و لا یصح الاقتداء و ان اتحد المکان ثم رأیت الرحمتی قد قرر ذلک فاغتنم ذلک‘‘(۳) اگر امام مسجد میں تراویح پڑھائے او رآواز گھر وں میں آرہی ہو تو اگر گھر مسجد سے متصل ہے درمیان میں کوئی فاصلہ نہیں ہے تو اقتداء درست ہے؛ لیکن اگر درمیان میں کوئی فاصلہ ہو تو پھر اقتداء درست نہیں ہے ، اسی طرح ،ایک گھر میں تراویح ہو اور مائک کے ذریعہ دوسرے گھر وں میں اقتداء کی جائے تو یہ بھی درست نہیں ہے ،اس لیے کہ مکان مختلف ہے۔ اسکائپ کے ذریعہ اقتداء کرنے میں مذکورہ خرابی کے علاوہ دوسری بہت سی خرابیاں ہیں، مثلانیٹ میں بعض مرتبہ کنکشن کٹ سکتا ہے اور امام کے انتقال کا علم نہیں ہو پائے گا، اسی طرح اسکائپ میں یا انٹر نیٹ کے ذریعہ جو آواز آئے گی وہ عکس ہوگی، تصویر کے سامنے نماز پڑھنا لازم آئے گا،عام طور پر لائیو میں بھی پہلے تصویر محفوظ ہوتی ہے پھر ٹیلی کاسٹ ہوتی ہے ہم دیکھتے ہیںکہ کوئی پروگرام دو ٹی وی چینل پر لائیو چلتا ہے لیکن دونوںکے درمیان فرق ہوتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لائیوپروگرام پہلے محفوظ ہوتا ہے پھر نشر ہوتاہے اس لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ امام رکوع سے واپس آجائے او رلوگ ابھی قیام میں ہی ہوں ،پھر اگر موجودہ ضرورت کی وجہ سے اس کی اجازت دے دی جائے گی تو کل جب یہ ضرورت ختم ہوگی تو بھی لوگ مسجد میں آنے کے بجائے آن لائن نماز ہی پڑھنا چاہیں گے جو کہ جماعت کے مقصد کے بالکل خلاف ہے اس لیے کہ جماعت کا مقصد اجتماعیت اور مسجدوں کو آباد کرنا ہے آن لائن سسٹم اس اجتماعیت کو ختم کردے گا؛ اس لیے اسکائپ بلکہ آن لائن کی تمام صورتیں ناجائز ہیں اس سے نماز صحیح نہیں ہوگی۔موجودہ حالات میں بھی یہی ضروری ہے کہ امام اور مقتدی ایک ساتھ نماز تروایح پڑھیں اگر حافظ امام مل جائے تو بہت اچھی بات ہے ورنہ سورہ تراویح کے ذریعہ تراویح کا اہتمام کریں ، ایسا نہ ہو کہ حافظ امام نہ ملنے کی صورت میں تراویح ترک کردی جائے ،بلکہ اگر جماعت کے ساتھ تراویح کا نظم نہ ہو سکے تو لوگ انفرادی طور پر سورہ تراویح کا نظم کرلیں لیکن ہمیشہ کی طرح تراویح کا اہتمام ضرور کریں۔(۱) صلاۃ المؤتم بالإمام بشروط عشرۃ: نیۃ المؤتم و الاقتداء، واتحاد مکانہما وصلاتہما، وصحۃ صلاۃ إمامۃ، وعدم محاذاۃ امرأۃ وعدم تقدمہ علیہ بعقبہ، وعلمہ فانتقالاتہ وبحالہ من إقامۃ وسفر، ومشارکۃ في الأرکان، وکونہ مثلہ أو دونونہ فیہا۔ (ابن عابدین، رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب: شروط الإمامۃ الکبری‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۴، ۲۸۵، ۲۸۶)(۲) ابن بطال، شرح صحیح البخاري، ’’کتاب الصلاۃ: أبواب صلاۃ الجماعۃ الإمامۃ، باب إذا کان بین الإمام وبین القوم حائط أو سترۃ‘‘: ج ۲، ص: ۴۱۹، دار الکتب العلمیۃ، بیروت۔(۳) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب: الکافي للحاکم جمع کلام محمد في کتبہ التي ہي ظاہر الروایۃ‘‘: ج ۲، ص: ۳۳۵۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 93
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: احناف کے نزدیک دیکھ کر قرآن پڑھنا مفسد نماز ہے جن لوگوں نے اس کا مشورہ دیا ہے وہ غلط مشورہ دیا ممکن ہے کہ کسی دوسرے امام کی پیروی میں انہوں نے ایسا مشورہ دیا ہو؛ لیکن احناف کے یہاں یہ عمل درست نہیں ہے اور اس کی احناف کے یہاں دو علتیں ہیں؛ ایک علت یہ ہے کہ قرآن میں دیکھنا،اوراق کو پلٹنا اور رکوع سجدہ میں جاتے وقت قرآن کو رکھنا یہ عمل کثیر ہے اور عمل کثیر مفسد نماز ہے۔دوسری علت یہ ہے کہ قرآن دیکھ کرپڑھنا یہ درحقیقت تعلیم حاصل کرنا ہے،جس طرح نماز میں کسی زندہ آدمی سے اگر کوئی تعلیم حاصل کرے تو اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے؛ اسی طرح مصحف کے ذریعہ بھی اگر کوئی تعلیم حاصل کرے تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ علامہ ابن ہمام نے اس کی صراحت کی ہے وہ لکھتے ہیں:’’و تحقیقہ أنہ قیاس قراء ۃ ما تعلمہ في الصلاۃ من غیر معلم حی علیہا من معلم حي بجامع أنہ تلقن من خارج وہو المناط في الأصل فقط‘‘(۱)’’ولأبي حنیفۃ رحمہ اللّٰہ وجہان: حمل المصحف وتقلیب الأوراق، والنظر فیہ عمل کثیر والصلاۃ منہ بد فتفسد الصلاۃ، فعلی ہذا الوجہ نقول: إن کان المصحف بین یدیہ علی رجل وہو لا یحمل، ولا یقلب الأوراق تصح صلاتہ، وکذلک لو قراء آیۃ مکتوبۃ علی المحراب تصح صلاتہ عند أبي حنیفۃ رحمہ اللّٰہ علی قیاس ہذا التعلیل والوجہ الثاني: أن ہذا تعلم من المصحف في الصلاۃ، والتعلم في الصلاۃ، مفسد للصلاۃ کما لو تعلّم من معلم؛ وہذا لأن التعلم نوعان: تعلم من الکتاب، وہما علم الصحیفتین، وتعلم من معلم، ثم التعلم من المعلم یفسد الصلاۃ، فکذا من الکتاب، فعلی ہذا الوجہ نقول: وإن کان المصحف بین یدیہ، وہو لا یحملہ ولا یقلب الأوراق تفسد صلاتہ عن أبي حنیفۃ‘‘(۱)(۱) ابن الہمام، فتح القدیر، ’’کتاب الصلاۃ: باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا‘‘: ج ۱، ص: ۴۱۲۔(۱) محمود بن أحمد، المحیط البرہاني، ’’کتاب الصلاۃ: الفصل الخامس في کیفیتہا، باب في القراء ۃ بالفارسیۃ‘‘: ج ۱، ص: ۳۱۲۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 92