ربوٰ وسود/انشورنس
Ref. No. 2900/45-4541 بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ کمپنی کاجاری کردہ کارڈ اگر اسی نوعیت کا ہے جو آپ نے ذکر کیا جس میں شروع میں کاغذی کارروائی کے لئے کچھ فیس لی جاتی ہے پھر ایک متعین رقم کارڈ میں ڈال دی جاتی ہے اور آپ اس کو اپنی ضروریات میں استعمال کرتے ہیں، اور اس میں یہ شرط ہوتی ہے کہ اگر وقت پر قسط ادا نہ کی تو اتنا جرمانہ دینا ہوگا، تو ایسی صورت میں اس کارڈ کو استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، اور جرمانہ سے بچنے کے لئے وقت سے پہلے قسط کی ادائیگی لازم ہوگی تاکہ سود ی لین دین سے بچاجاسکے۔ معاہدہ نامہ میں جرمانہ کا ذکر آپ کی مرضی سے نہیں ہے اس لئے اس کا گناہ آپ پر نہیں ہوگا۔ہاں اگر قسط وقت پر آپ نے ادا نہیں کی اور جرمانہ دینا پڑا تو اب آپ گنہگار ہوں گے۔ اس لئے علاوہ سخت مجبوری اور ضرورت کے سودی لون کے کسی بھی طرح کے معاملہ سے بچنا چاہئے ۔ واللہ اعلم بالصواب دارالافتاء دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق
Ref. No. 2899/45-4540 بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ عبداللہ کے طلاق کے بعد عدت گزار کر عورت اپنی مرضی سے جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے، زید سے نکاح کرنے پر اس کو مجبور نہیں کیاجاسکتاہے، اسی طرح زید پر فاطمہ سے نکاح کرنا لازم نہیں ہے۔ نکاح سے پہلے جو کچھ بات چیت یا ان کے تعلقات تھے وہ غلط تھے مگر زید پر اس کی وجہ سے نکاح کرنا لازم نہیں ہوگا اور فاطمہ سے نکاح نہ کرنے کی صورت میں زید گنہگار نہیں ہوگا۔ نکاح سے پہلے اپنی رائے کبھی بھی تبدیل کرسکتاہے، البتہ اگر کوئی مانع نہ ہو تو نکاح کرلینا مناسب رہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب دارالافتاء دارالعلوم وقف دیوبند

نکاح و شادی
Ref. No. 2898/45-4539 بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ نکاح میں مہر کی جو رقم طے ہوئی ہے وہ عورت کا حق واجب ہے اس کو جلد از جلد بیوی کے سپرد کردینا چاہئے۔ اور اس سلسلہ میں بیوی کو بھی حق ہے کہ مہر وصول ہونے سے پہلے شوہر کو اپنے پاس آنے سے منع کرسکتی ہے۔ "و كذا لها أن تحبس نفسها حتى يفرض لها المهر و يسلّم إليها بعد الفرض، و ذلك كله دليل الوجوب بنفس العقد". (بدائع الصنائع 5/468) "قال رحمه الله: (ولها منعه من الوطء والإخراج للمهر ، وإن وطئها ) أي لها أن تمنع نفسها إذا أراد الزوج أن يسافر بها أو يطأها حتى تأخذ مهرها منه، ولو سلمت نفسها ووطئها برضاها لتعين حقها في البدل، كما تعين حق الزوج في المبدل وصار كالبيع". "وأما إذا ، نصا على تعجيل جميع المهر أو تأجيله فهو على ما شرطا حتى كان لها أن تحبس نفسها إلى أن تستوفي كله فيما إذا شرط تعجيل كله ، وليس لها أن تحبس نفسها فيما إذا كان كله مؤجلاً؛ لأن التصريح أقوى من الدلالة فكان أولى (تبیین الحقائق (5/490) "قال: (وللمرأة أن تمنع نفسها وأن يسافر بها حتى يعطيها مهرها )؛ لأن حقه قد تعين في المبدل فوجب أن يتعين حقها في البدل تسويةً بينهما، وإن كان المهر كله مؤجلاً ليس لهاذلك؛ لأنها رضيت بتأخير حقها". (الاختیار لتعلیل المختار 3/122) واللہ اعلم بالصواب دارالافتاء دارالعلوم وقف دیوبند

عائلی مسائل
Ref. No. 2897/45-4538 بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ آپ نےاز راہ تبرع و احسان اپنے گھروالوں کو باغبانی سے ہونے والے نفع میں برابر کا شریک کیا ہے اور ہر ایک کو ایک مناسب مقدار میں نفع پہونچانے کی کوشش کی۔ اب گھروالوں کا اس نفع میں اپنے حق کا دعوی درست نہیں ہے۔ واللہ اعلم بالصواب دارالافتاء دارالعلوم وقف دیوبند

تجارت و ملازمت
Ref. No. 2896/45-4537 بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جانوروں کی خوراک بیچنا جائز ہے، جانور حلال ہو یا حرام ہو اس کی خوراک بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور یہ کمائی حلال ہے۔ البتہ جوچیز غیر قانونی دائرہ میں آتی ہو اس سے احتراز کرنا چاہئے۔ واللہ اعلم بالصواب دارالافتاء دارالعلوم وقف دیوبند

احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 2895/45-4563 بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں مرحوم کی چھ بیٹیاں اور اییک بیٹاہے، ان کے علاوہ ورثہ میں سے کوئی نہیں ہے، تو ترکہ کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ لڑکے کو دوہرا اور لڑکیوں کو اکہرا حصہ ملے گا۔ لہذا مرحوم کا کل ترکہ آٹھ حصوں میں تقسیم کریں گے، جن میں سے بیٹے کو دو حصے اور ہر ایک بیٹی کو ایک ایک حصہ ملے گا۔ مرحوم نے جو کچھ مال ، زمین و مکان یا زیورات چھوڑے ان کو جمع کرلیاجائے اور ان کی مالیت نکال لی جائے پھر مذکورہ طریقہ پرپورے ترکہ کو تقسیم کرلیا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب دارالافتاء دارالعلوم وقف دیوبند

عائلی مسائل
Ref. No. 2893/45-4535 بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ان کو گھر سے نکالنا شاید اس مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ گھر سے باہرنکال دیا گیا تو مزید پریشانیاں آسکتی ہیں۔ اگر ان کی بیوی نہیں ہیں تو ان کی شادی کردی جائے، ایک دو تین اور چار شادیاں شریعت میں اسی لئے جائز قرار پائی ہیں تاکہ آدمی زنا جیسی لعنت میں مبتلا نہ ہو۔ ان کو کسی تدبیر کے ذریعہ کسی جائز کام میں لگادیں تاکہ ہمہ وقت اسی کام میں مصروف رہیں اور اس طرح خالی ذہن کی وجہ سے جو پریشانیاں آرہی ہیں وہ کم ہوجائیں گی۔ ان کو جماعت وغیرہ میں جانے کے لئے آمادہ کریں، نیک لوگوں کی مجلس میں بھیجیں۔ واللہ اعلم بالصواب دارالافتاء دارالعلوم وقف دیوبند

اعتکاف
Ref. No. 2892/45-4534 بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ رمضان کے پورے مہینہ کا اعتکاف کرنا بھی نبی کریم ﷺ کے عمل سے ثابت ہے؛ لہذا آپ ﷺ کے عمل کی اتباع میں رمضان کے پورے مہینہ کا اعتکاف کرنا باعثِ اجر و ثواب ہوگا، تاہم چونکہ یہ آپ ﷺ کا مستقل معمول نہیں تھا،اور آپ نے پورے رمضان کا اعتکاف شب قدر کی تلاش میں کیا تھا جس سے واضح ہوگیا تھا کہ شب قدر اخیر عشرہ میں ہے اور پھر آپ نے اسی کے اعتکاف کا حکم فرمایا۔ اس لئے پورے رمضان اعتکاف کرنے کو سنت قرار نہیں دیاجائے گا۔ بلکہ رمضان کے صرف اخیر عشرہ میں اعتکاف کرنا سنت ہوگا، اس کے علاوہ ایام میں اعتکاف کرنا مستحب قرار پائے گا۔ سنت اعتکاف ہو یا مستحب اعتکاف ہو دونوں میں ایک جیسی پابندیاں ہیں۔ رمضان کےاخیرہ عشرہ کا اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایۃ ہے، جس مطلب یہ ہے کہ اہل محلہ پر اس سنت پر عمل کرنا ضروری ہے، لیکن ایک شخص کے عمل سے سارے محلہ والے بری ہوجائیں گے اور ان سے گناہ ساقط ہوجائے گا، لیکن اگر اہل محلہ میں سے کوئی بھی اعتکاف میں نہیں بیٹھا اور مسجد خالی رہی تو سنت مؤکدہ کے ترک کا گناہ سب پر ہوگا۔ "وينقسم إلى واجب، وهو المنذور تنجيزا أو تعليقا، وإلى سنة مؤكدة، وهو في العشر الأخير من رمضان، وإلى مستحب، وهو ما سواهما، هكذا في فتح القدير". (الفتاوى الهندية (1 / 211) "وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنهم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتكف العشر الأول من رمضان ثم اعتكف العشر الأوسط في قبة تركية ثم أطلع رأسه، فقال: «إني اعتكفت العشر الأول ألتمس هذه الليلة ثم اعتكفت العشر الأوسط، ثم أتيت فقيل لي: إنها في العشر الأواخر، فمن اعتكف معي فليعتكف العشر الأواخر، فقد أريت هذه الليلة ثم أنسيتها وقد رأيتني أسجد في ماء وطين من صبيحتها، فالتمسوها في العشر الأواخر والتمسوها في كل وتر». قال: فمطرت السماء تلك الليلة وكان المسجد على عريش فوكف المسجد فبصرت عيناي رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلى جبهته أثر الماء والطين والماء من صبيحة إحدى وعشرين. متفق عليه في المعنى واللفظ لمسلم إلى قوله: " فقيل لي: إنها في العشر الأواخر ". والباقي للبخاري". (مشكاة المصابيح (1 / 644) واللہ اعلم بالصواب دارالافتاء دارالعلوم وقف دیوبند

احکام میت / وراثت و وصیت
Ref. No. 2891/45-4533 بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بشرط صحت سوال، صورت مسئولہ میں مرحوم کی کل جائداد کو 12حصوں میں تقسیم کریں گے جن میں سے ہر ایک بھائی کو دو دواور ہر ایک بہن کو ایک ایک حصہ ملے گا، ۔ چچا کو اس وراثت میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ واللہ اعلم بالصواب دارالافتاء دارالعلوم وقف دیوبند

اعتکاف
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ معتکف کے لئے مسجد میں پردہ لگانا مستحب ہے، جس سے عبادت میں یکسوئی اور خلوت حاصل ہوتی ہے، اور سوتے وقت ستر کی بھی حفاظت ہوتی ہے، البتہ اس بات کا خیال رکھاجائے کہ ضرورت سے زیادہ جگہ نہ روکی جائے۔ عن عائشۃ قالت کان رسول اللہ ﷺ اذا اراد ان یعتکف صلی الفجر ثم دخل فی معتکفہ۔ (رواہ ابوداؤد وا بن ماجۃ ) واللہ اعلم بالصواب دارالافتاء دارالعلوم وقف دیوبند