Frequently Asked Questions
نماز / جمعہ و عیدین
Ref. No. 3219/46-7078
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بالوں کی کٹنگ اس طور پر کرنا کہ کچھ حصہ کے بال بڑے ہوں اور کچھ حصہ کے چھوٹے ہوں، خلاف سنت اور مکروہ ہے، ایسا کرنے سے احتراز کرنا چاہئے اور بالوں کو ہرچہار جانب سے برابر کٹوانا چاہئے۔ البتہ اگرسر کے بالوں کو کنارے سے مونڈدیاجائے یا انتہائی باریک کردیاجائے اور بیچ میں بال رکھے جائیں، یا بیچ سے مونڈ کر کنارے کے بال باقی رکھے جائیں تو ایسا کرنا 'قزع' کے تحت ناجائز اور سخت گناہ ہوگاجس کی حدیث میں ممانعت ہے ۔
جو امام فساق اور فجار والی ہیئت پر سر کے بال رکھتا ہو جیسا کہ آپ کی بھیجی ہوئی تصاویر میں ہے تو ایسے شخص کو مستقل امام بنانا مکروہِ تحریمی ہو گا۔ مسجد کمیٹی کو چاہئے کہ امام مقرر کرنے سے پہلے ان سب چیزوں پر نظر کرلیں۔ تاہم اگر امام کو تنبیہ کردی جائے اور وہ اپنے بال صحیح کرالے تو اس کو امامت پر باقی رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
القزع أربعة انواع: أحدہا: أن یحلق من رأسہ مواضع من ھاھنا و ھاھنا ․․․․․․․․ الثانی: أن یحلق وسطہ ویترک جوانبہ ․․․․․․․․ الثالث: أن یحلق جوانبہ ویترک وسطہ ․․․․․․․․ الرابع: أن یحلق مقدمہ ویترک موٴخرہ وہذا کلہ من القزع ۔ (تحفة المودود بأحکام المولود: ۱۴۷-۱۴۸، الباب السابع، ط: دار علم الفوائد بیروت)۔
ویکرہ القزع:وہوأن یحلق البعض ویترک البعض۔(ردالمختار:۹/۵۹۴،کتاب الحظروالاباحة،باب الاستبراءوغیرہ،ط:زکریا دیوبند)
عن ابن عمر أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہی عن القزع۔ فتح الباری: ۱۰/۳۷۶، کتاب اللباس، باب القزع حدیث نمبر ۵۷۱۰، ص:۵۹۲۰، ط: علی نفقة صاحب السمو الملکی الأمیر سلطان بن عبد العزیز آل سعود۔ وعنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من تشبہ بقوم فہو منہم۔ (ابوداوٴد، کتاب اللباس، باب في لبس الشہوة، رقم الحدیث: ۴۰۳۱۔)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 3218/46-7079
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اجنبیہ عورت کے ساتھ تنہائی اختیار کرنا ، اس کے ساتھ غلط تعلق کرنا وغیرہ امور حرام ہیں، ایسا شخص گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے، اس پر توبہ و استغفار لازم ہے۔ اس عورت سے اگر ممکن ہو تو نکاح کرلے اورنکاح نہ کرسکتاہو تو اس سے بالکل قطع تعلق کرلے۔ اسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی حد وغیرہ نافذ نہ ہوگی۔ البتہ اپنے فعل پر ندامت کے ساتھ اللہ کی طرف برابر توبہ کا خواستگار رہے تو ان شاء اللہ اس کی معافی کی امید ہے اور اس کی توبہ مقبول ہوگی۔
قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُواعَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَاتَقْنَطُوامِن رَّحْمَةِاللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُالذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ [الزمر:53]
اِنَّ اللَّهَ یُحِبُّ التَّوَّابِینَ وَ یُحِبُّ المُتَطَهِّرِینَ‘‘ [البقرة:222]
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طلاق و تفریق
Ref. No. 3217/46-7080
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اسلام میں نکاح ایک پاکیزہ رشتے کا نام ہے،اسلام نے اس کی پائداری پر زور دیا ہے، اور اس کے لیے باہمی الفت ومحبت اور دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی ہے لیکن اگر کسی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان نااتفاقی ہونے لگے تو پہلے دونوں خاندان کے بزرگ کو صلح کرانے کی کوشش کرنی چاہیے؛ کیوںکہ اسلام میں طلاق ناپسندیدہ فعل ہے اور بلا ضرورت اسکا استعمال درست نہیں ہے۔ پھر بھی اگر نباہ کی کوئی صورت نہ بن سکے اور فتنہ وفساد کا اندیشہ ہو تو ایک طلاق صریح دے کر دونوں کو الگ ہو جانے کا حکم ہے۔ ایک طلاق کے بعد اگر دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو عدت میں رجوع کے ذریعہ اور عدت کے بعد نکاح کے ذریعہ دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں۔ ایک ساتھ تین طلاق دینا شرعاً گناہ ہے اور ملکی قانون کے مطابق قابل مواخذہ جرم ہے۔
بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں عورت پر شرعا تین طلاقیں واقع ہوگئیں، نکاح بالکلیہ ختم ہوگیا اور رجعت کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی اور تین طلاق کے بعد نکاح بھی نہیں ہوسکتاہے، اس لئے اب عورت آزاد ہے، عدت کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے۔
فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ (القرآن)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
بدعات و منکرات
Ref. No. 3215/46-7071
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ دُفّ سے ایسی ڈفلی مراد ہے جس میں ایک طرف چمڑا چڑھا ہوا ہو، اور اس میں گھنگرو وغیرہ نہ ہو، توایسا دف اعلانِ نکاح کے لیے بجانا درست ہے، ایسی دف کے ساتھ نعت پڑھنے کی گنجائش ہے، مگر اس سے بچنا بہتر ہے، ورنہ آہستہ آہستہ اس طرح کی نعت سننے سے دیگر موسیقی آلات کی طرف میلان ہونے کا اندیشہ ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
متفرقات
Ref. No. 3214/46-7072
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر بچپن میں کہیں سے آپ نے کوئی سامان وغیرہ لیا تھا جس کا پیسہ نہیں دیا تھا تو اب اس دوکان میں پیسے دیدینے سے آپ کا ذمہ پورا ہوجائے گا اور ان شاء اللہ کل قیامت میں بازپرس سے بچ جائیں گے۔ اگر سوال کچھ اور ہو تو دوبارہ تفصیل لکھ کر بھیجیں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: چھ دن یا اس سے کم یا اس سے زیادہ ایام میں تراویح میں قرآن پورا کرنے میں کوئی قباحت وکراہت نہیں ہے اور اس میں شرکت کرنا بھی درست ہے بس یہ لحاظ رکھنا چاہئے کہ مقتدیوں کو پریشانی نہ ہو اور اس کے بعد بھی تراویح کا پورا اہتمام کیا جائے بعد میں تراویح کا نہ پڑھنا غلط اور سنت کا ترک ہے۔(۱)
(۱) الختم مرّۃً سنۃٌ ومرّتین فضیلۃ وثلاثا أفضل، ولایترک الختم لکسل القوم؛ لکن في الاختیار: الأفضل في زماننا قدر مالایثقل علیہم۔ (الحصکفي، الدرالمختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل، مبحث صلاۃ التراویح‘‘: ج ۲، ص: ۴۹۷)السنۃ في التراویح: إنما ہو الختم مرۃ فلا یترک لکسل القوم … والختم مرتین فضیلۃ والختم ثلاث مرات أفضل۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب التاسع في النوافل‘‘: ج ۱، ص: ۱۷۷)فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 34نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: مروجہ شبینہ میں بالعموم ایک رات میں کلام پاک پورا ہوتا ہے جوکہ خلاف سنت ہے، کم ازم تین دن میں کلام پاک کو ختم کیا جاسکتا ہے، اس سے کم میں خلاف سنت ہوگا الایہ کہ لوگ رغبت سے سنیںاور کسی کو شکایت نہ ہواور یہ طریقہ تو بالکل درست نہیں کہ چھوٹی مسجد میں بیک وقت تین یا چار جگہ شبینہ پڑھا جائے اور آوازوں کا ٹکراؤ نماز میں خلل انداز ہوتا رہے۔(۱)
(۱) والأفضل في زماننا: أن یقرأ بما لایؤدي إلی تنفیر القوم عن الجماعۃ لکسلہم لأن تکثیر الجمع أفضل من تطویل القراء ۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب التاسع في النوافل، فصل في التراویح‘‘: ج ۱، ص: ۱۷۷)والأفضل في زماننا قدر مالا یثقل علیہم۔ (الحصکفي، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل، مبحث صلاۃ التراویح‘‘: ج ۲، ص: ۴۹۷)فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 34نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: خارج از نماز کا لقمہ امام کو نہ لینا چاہئے اور جب کہ امام کو معلوم بھی ہو، تو اگر ایسے شخص کا لقمہ لے لیا تو امام اور مقتدیوں سبھی کی نماز فاسد ہو جائے گی اور نماز کا لوٹانا ضروری ہوگا۔(۱)
(۱) وإن فتح غیر المصلي علی المصلي فأخذ بفتحہ تفسد۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الأول فیما یفسدہا‘‘: ج ۱، ص: ۱۵۷)ولو سمعہ المؤتم ممن لیس في الصلاۃ ففتح بہ علی إمامہ یجب أن تبطل صلاۃ الکل۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب ما یفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا، مطلب: المواضع التي لا یجب فیہا‘‘: ج ۲، ص: ۳۸۲)فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 33نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: تراویح کی نماز سنت مؤکدہ ہے، سفر میں اگر موقع ہو تو پڑھ لینا بہتر ہے اور اگر موقع نہ ہو تو چھوڑ دینا بھی جائز ہے، اور سفر کی وجہ سے اگر نماز چھوٹ گئی تو پھر سنتوں کی قضا کی ضرورت نہیں۔(۱)
(۱) وبعضہم جوزوا للمسافر ترک السنن والمختار أنہ لا یأتي بہا في حال الخوف ویأتي بہا في حال القرار والأمن، ہکذا فيالوجیز الکردي۔ (جماعۃ من علماء الہند،الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الخامس عشر: في صلاۃ المسافر‘‘: ج ۱، ص: ۱۹۹)وقال الہندواني: الفعل حال النزول والترک وحال المیسر وفي التنجیس، والمختار أنہ إن کان حال أمن وقرار یأتي بہا، لأنہا شرعت مکملات والمسافر إلیہ محتاج۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ‘‘: ج ۲، ص: ۱۳۰، دار الکتاب، دیوبند)فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 32نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: دوبارہ جماعت خواہ وہ کسی بھی نماز کی ہو اس مسجد میں نہ کریں کیوں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سب تراویح پڑھنے والوں کو (جو الگ الگ مسجد میں تراویح پڑھتے تھے) ایک امام کے پیچھے جمع کیا تھا۔ اس لیے مذکورہ عمل سنت طریقہ کے خلاف ہے۔ ہاں مسجدسے ہٹ کر اگر جماعت کریں تو کوئی حرج نہیں ہے۔(۲)
(۲) لو صلی التراویح مرتین في مسجد واحد یکرہ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب التاسع في النوافل‘‘: ج ۱، ص: ۱۷۶)ویکرہ تکرار الجماعۃ بأذان وإقامۃ في مسجد محلۃ۔ (الحصکفي، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب في تکرار الجماعۃ في المسجد‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۸)فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 31