Frequently Asked Questions
اسلامی عقائد
الجواب وباللّٰہ التوفیق:سیاسی وسماجی طور پر ایسی راہ اختیار کی جاسکتی ہے۔ (۱) عقیدہ کے لحاظ سے درست نہیں ہے۔ (۲)
۱) {قُلْ ٰٓیأَ یُّھَا الْکٰفِرُوْنَہلا ۱ لَآ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَہلا۲ وَلَآ أَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ أَعْبُدْہج ۳ وَلَآ أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْہلا ۴ وَلَآ أَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ أَعْبُدُہط ۵ لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِيَ دِیْنِ ہع ۶} (سورۃ الکافرون)
(۲) وللإمام الرازي أو جہ في تفسیر ہا لا یخلو بعضہا عن نظر، وذکر علیہ الرحمۃ أنہ جرت العبادۃ بأن الناس یتمثلون بہذہ الآیۃ عند المتارکۃ، وذلک لا یجوز لأن القرآن ما أنزل لیتمثل بہ بل لیہتدي بہ، وفیہ میل إلی سرّ باب الاقتباس، والصحیح جوازہ الخ۔ (علامہ آلوسي، روح المعاني، ’’سورۃ الکافرون، تفسیر الآیات: ۱-۶‘‘: ج ۱۶، ص: ۴۵۷)
اسلامی عقائد
الجواب وباللّٰہ التوفیق:ایسے افراد کے بارے میں فقہاء نے تصریح کی ہے کہ وہ اسلام سے خارج ہوجاتے ہیں۔ کفر ان پر لازم آجاتا ہے۔(۱)
فقط: واللہ اعلم بالصواب
(۱) إذا أنکر آیۃ من القرآن أو استخف بالقرآن أو بالمسجد، أو بنحوہ مما یعظم في الشرع، أو عاب شیأ من القرآن کفر۔ (عبد الرحمن بن محمد، مجمع الأنہر، ’’کتاب السیر والجہاد: باب المرتد، ثم إن ألفاظ الکفر أنواع‘‘: ج ۱، ص: ۵۰۷)
إذا أنکر الرجل آیۃ من القرآن، أو تسخر بآیۃ من القرآن، وفي ’’الخزانۃ‘‘: أو عاب کفر۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب السیر: الباب التاسع: في أحکام المرتدین، موجبات الکفر أنواع، ومنہا: ما یتعلق بالقرآن‘‘: ج ۲، ص: ۲۷۹)
مفتی دار العلوم وقف دبوبند
اسلامی عقائد
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مذکورہ وسیلہ جائز اور درست ہے، اگرچہ اس میں علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اختلاف کیا ہے جن پر فقہ کا غلبہ ہوگیا تھا جس کی وجہ سے ابن قیم بہت سے مسائل میں اہل سنت والجماعۃ کہ خلاف چلے گئے ہیں؛ اس لئے ابن قیم اور ان کی نسبت کا اختلاف حجت نہیں ہوگا جمہور علماء جواز کے قائل ہیں پس جمہور کا قول معتبر ہوگا۔ جیسا کہ روح المعانی اور فتح الباری کی عبارت میں اس کی تصریح موجود ہے۔
’’ففیہ جعل الدعاء وسیلۃ وہو جائز بل مندوب۔ ویحسن التوسل والاستغاثہ بالنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم إلی ربہ ولم یکن أحد من السلف والخلف حتی جاء ابن تیمیہ فانکر ذلک وعدل الصراط المستقیم وابتدع مالم یقلہ وصار بین الأنام مثلہ انتہی۔ في صحیح البخاري عن أنس -رضي اللّٰہ عنہ- أن عمر بن الخطاب -رضي اللّٰہ عنہ- کان إذا قحطوا استسقٰی باالعباس فقال اللہم إنا کنا نتوسل إلیک بنبینا صلی اللّٰہ علیہ وسلم فتسقینا وأنا نتوسل إلیک بعم نبینا فأسقنا الخ، أما الأول: فلقول عمر -رضي اللّٰہ عنہ- فیہ کنا نتوسل بنبیک، وأما الثاني: فلقولہ أنا نتوسل بعم بنبیک لما قیل: أن ہذ التوسل لیس من باب الأقسام بل ہو من جنس الاستشفاع وہو أن یطلب من الشخص الدعاء والشفاعۃ ویطلب من اللّٰہ تعالیٰ أن یقبل دعائہ وشفاعتہ ویؤید ذلک أن العباس -رضي اللّٰہ عنہ- کان یدعوا وہم یومنون لدعائہ حتی سقوا الخ‘‘۔
پس جمہور کے قول پر عمل کرتے ہوئے جواز توسل ہی راجح ہے۔(۱)
(۱) علامہ محمود آلوسي، روح المعاني: ج ۶، ص: ۱۲۶-۱۲۷۔
عن أنس بن مالک أن عمر بن الخطاب رضي اللّٰہ عنہ: کان إذا قحطوا استسقیٰ بالعباس بن عبد المطلب، فقال: اللّٰہم إنا کنا نتوسل إلیک بنبینا فتسقینا وأنا نتوسل إلیک بعم نبینا فأسقنا، قال: فیسقون۔ (أخرجہ البخاري، في صحیحہ، ’’کتاب الاستسقاء: باب سؤال الناس الإمام الاستسقاء إذا قحطوا‘‘: ج ۱، ص: ۱۳۷، رقم: ۱۰۱۰)
ومن أٓداب الدعاء تقدیم الثناء علی اللّٰہ والتوسل بنبي اللّٰہ، یستجاب الدعاء۔ (الشاہ ولي اللّٰہ الدہلوي، حجۃ اللّٰہ البالغۃ، ’’الأمور التي لا بد منہا في الصلاۃ‘‘: ج ۲، ص: ۴)
إن التوسل بالنبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم جائز في کل حال قبل خلقہ وبعد خلقہ في مدۃ حیاتہ في الدنیا وبعد موتہ فی مدۃ البرزخ۔ (السبکي، شفاء السقام: ص: ۳۵۸)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص276
اسلامی عقائد
الجواب وباللّٰہ التوفیق:اس کے لئے سفر کرنے میں شرعی قباحت نہیں ہے۔(۱) البتہ بزرگان دین کے جن مزارات پر اہل بدعت کا تسلط ہے اور وہاں بدعات وخرافات انجام دی جاتی ہوں وہاں زیارت کے لئے نہ جانا چاہئے، بلکہ اپنے مقام پر رہ کر ہی ایصال ثواب پر اکتفا کرنا چاہئے۔(۲)
(۱) ذہب بعض العلماء إلی الاستدلال بہ علی المنع من الرحلۃ لزیارۃ المشاہد وقبور العلماء والصالحین، وما تبین في أن الأمر کذلک، بل الزیارۃ مأمور بہا لخبر: (کنت نہیتکم عن زیارۃ القبور ألا فزوروہا)۔ والحدیث إنما ورد نہیا عن الشد لغیر الثلاثۃ من المساجد لتماثلہا، بل لا بلد إلا وفیہا مسجد، فلا معنی للرحلۃ إلی مسجد آخر، وأما المشاہد فلا تساوي بل برکۃ زیارتہا علی قدر درجاتہم عند اللّٰہ۔ (ملا علي قاري، مرقاۃ المفاتیح، ’’کتاب الصلاۃ: باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ‘‘: ج ۲، ص: ۵۸۹، رقم: ۶۹۳)
عن أبی ہریرۃ، قال: زار النبي صلی النبي صلی اللّٰہ علیہ و سلم قبر أمہ فبکی وأبکی من حولہ فقال استأذنت ربي في أن أستغفر لہا فلم یؤذن لي واستأذنتہ في أن أزور قبرہا فأذن لي فزوروا القبور فإنہا تذکر الموت۔ (أخرجہ المسلم، في صحیحہ، ’’کتاب الجنائز: فصل جواز زیارۃ قبور المشرکین ومنہ الاستغفار لہم‘‘: ج ۱، ص: ۳۱۴، رقم: ۹۷۶)
(۲) وأما أہل السنۃ والجماعۃ فیقولون في کل فعل وقول لم یثبت عن الصحابۃ رضي اللّٰہ عنہم ہو بدعۃ لأنہ لو کان خیراً لسبقونا إلیہ، لأنہم لم یترکوا خصلۃ من خصال الخیر إلا وقد بادروا إلیہا۔ (ابن کثیر، تفسیر ابن کثیر، ’’سورۃ الأحقاف: ۱۰-۱۴‘‘: ج ۷، ص: ۲۵۶)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص385
اسلامی عقائد
الجواب وباللّٰہ التوفیق:محرم الحرام کے چاند میں نئی دلہن کو چھپانا بالکل غلط عقیدہ ہے، ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔(۱)
(۱) عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما، قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من تشبہ بقومٍ فہو منہم۔ (أخرجہ أبوداود، في سننہ، ’’کتاب اللباس: باب في لبس الشہرۃ‘‘: ج ۲، ص: ۵۵۹، رقم: ۴۰۳۱)
قولہ ومبتغ في الإسلام سنۃ الجاہلیۃ أي یکون لہ الحق عند شخص فیطلبہ من غیرہ ممن لا یکون لہ فیہ مشارکۃ کوالدہ أو ولدہ أو قریبہ وقیل المراد من یرید بقاء سیرۃ الجاہلیۃ أو إشاعتہا أو تنفیذہا۔ (ابن حجر، فتح الباري، ’’قولہ باب العفو في الخطأ بعد الموت‘‘: ج ۱۲، ص: ۲۲۱، رقم: ۶۸۸۲)
{قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِکَ وَبِمَنْ مَّعَکَط قَالَ ٰٓطئِرُکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَہ۴۷} (سورۃ النمل: ۴۷)
{فَإِذَا جَآئَ تْھُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُوْا لَنَا ھٰذِہٖ ج وَإِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَۃٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰی وَمَنْ مَّعَہٗط أَ لَآ إِنَّمَا ٰطٓئِرُھُمْ عِنْدَ اللّٰہِ وَلٰکِنَّ أَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَہ۱۳۱} (سورۃ الأعراف: ۱۳۱)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص475
اسلامی عقائد
الجواب وباللّٰہ التوفیق:یہ مسئلہ استواء علی العرش کا ہے، اہل حق کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا برحق ہے؛ البتہ اس کی کیفیت کا ہم کو علم نہیں ہے اور عرش پر ہونا دنیاوی بادشاہوں کے تخت پر بیٹھنے سے بالکل مختلف ہے۔ مذکورہ فی السوال عقیدہ فرقۂ مرجیہ کا ہے جو اہل سنت
والجماعت سے خارج گمراہ فرقہ ہے؛ لہٰذا مذکورہ شخص ایمان سے خارج نہیں ہے۔ (۱)
(۱) ففي صحیح البخاري قال مجاہد: استوی علی العرش علا علی العرش وقال أبو العالیۃ: استوی علی العرش ارتفع۔ (علامہ آلوسي، روح المعاني، ’’سورۃ طہ: الآیات:۱، إلی ۱۶‘‘: ج ۸، ص: ۴۷۵)
ومن طریق ربیعۃ بن أبی عبد الرحمن أنہ سئل کیف استوی علی العرش فقال الاستواء غیر مجہول والکیف غیر معقول وعلی اللہ الرسالۃ وعلی رسولہ البلاغ وعلینا التسلیم۔ (ابن حجر، فتح الباري، ’’قولہ باب وکان عرشہ علی الماء وہو رب‘‘: ج ۱۳، ص: ۴۰۶)
اسلامی عقائد
الجواب وباللّٰہ التوفیق:اللہ تعالیٰ کی مقدس ذات کے علاوہ سب کے لئے فنا ہے اور سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں رزاق بھی صرف اسی کی ذات ہے، اپنی زندگی میں جو لین دین کرتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہیں ہوتا، تو انتقال کے بعد کوئی کسی کو اور کس طرح دے سکتا ہے۔ قرآن کریم میں واضح طور پر ہے کہ {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ہط ۴ }(۱) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں ’’أدعوني أستجب لکم‘‘(۲) مجھ سے مانگو میںتمہاری دعائیں قبول کرتا ہوں {ہُوَ الرَّزَّاقٌ}(۳) وہ ہی ہے جو رزق دیتا ہے، اس کے باوجود غیر اللہ سے مانگنا اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کو مددگار حقیقی یقین کرنا، اللہ تعالیٰ سے نہ مانگنے اور اس کے نہ دینے کا عقیدہ رکھنا کفریہ عقیدہ ہے اور ایسا شخص خارج از ایمان ہے(۴) البتہ اگر رزاق حقیقی اللہ تعالیٰ کو مانا جائے اور کسی ولی یا برزگ کا وسیلہ اختیار کیا جائے تو یہ درست ہے۔(۵)
(۱) (الفاتحہ: ۴) قال ابن عباس -رضي اللّٰہ عنہ-: معناہ نعبدک ولا نعبد غیرک وإیاک نستعین أي نعبدک مستعین بک۔ (محمد ثناء اللّٰہ پاني پتي، تفسیر مظہري: ج ۱، ص: ۸)
(۲) قال ابن جزیر: إن اللّٰہ واسع بإحاطۃ تورہ ووجودہ الأشیاء کلہا منہا مشارق الأرض ومغاربہا إحاطۃ غیر متکفیۃ ولا مدرکاً۔ (محمد ثناء اللّٰہ پاني پتي-رحمہ اللّٰہ-، تفسیر مظہري: ج ۱، ص: ۱۱۷)
(۳) {إِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقٌ ذُوْ الْقُوَّۃِ الْمَتِیْن} (سورۃ الزاریات: ۶۰) قال صاحب مظہري: إن اللّٰہ ہو الرزاق لجمیع خلقہ مستغن عنہ۔ (محمد ثناء اللّٰہ پاني پتي-رحمہ اللّٰہ-، تفسیر مظہري: ج ۹، ص: ۹۲)
(۴) (قولہ باطل وحرام) لوجوہ: منہا أنہ نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لا یجوز لأنہ عبادۃ والعبادۃ لا تکون لمخلوق۔ ومنہا أن المنذور لہ میت والمیت لا یملک۔ ومنہ أنہ إن ظن أن المیت یتصرف في الأمور دون اللّٰہ تعالیٰ واعتقادہ ذلک کفر۔ وأیضاً: والنذر الذي یقع
من أکثر العوام بأن یأتي إلی قبر بعض الصلحاء ویرفع سترہ قائلاً یا سیدي فلان إن قضیت حاجتي فلک مني من الذہب مثلاً کذا باطل إجماعاً۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصوم: باب ما یسفد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب: في النذر الذي یقع للأموات من أکثر‘‘: ج ۳، ص: ۴۲۷)
(۵) عن أنس بن مالک أن عمر بن الخطاب رضي اللّٰہ عنہ: کان إذا قحطوا استسقیٰ بالعباس بن عبد المطلب، فقال: اللّٰہم إنا کنا نتوسل إلیک بنبینا فتسقینا، وأنا نتوسل إلیک بعم نبینا فأسقنا، قال: فیسقون۔ (أخرجہ البخاري، في صحیحہ، ’’کتاب الاستسقاء: باب سؤال الناس الإمام الاستسقاء إذا قحطوا‘‘: ج ۱، ص: ۱۳۷، رقم: ۱۰۱۰)
ویستفاد من قصۃ العباس استحباب الاستشفاع بأہل الخیر والصلاح وأہل بیت النبوۃ۔ (أحمد بن علي بن حجر، فتح الباري شرح صحیح البخاري، ’’قولہ باب سؤال الناس الإمام الاستسقاء‘‘: ج ۲، ص: ۴۹۷)
ومن أداب الدعاء تقدیم الثناء علی اللّٰہ والتوسل بنبي اللّٰہ، لیستجاب الدعاء۔ (الشاہ ولي اللّٰہ الدہلوي، حجۃ اللّٰہ البالغۃ، ’’الأمور التي لا بد منہا في الصلاۃ‘‘: ج ۲، ص: ۴۴)
أن التوسل النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم جائز في کل حال قبل خلقہ وبعد خلقہ في مدت حیاتہ في الدنیا وبعد موتہ فی مدۃ البرزخ۔ (السبکي، شفاء السقام: ص: ۳۵۸)
لأن المیت لا یسمع بنفسہ۔ (أبو حنیفۃ -رحمہ اللّٰہ- شرح الفقہ الأکبر، ’’مسألۃ في أن الدعاء للمیت ینفع‘‘: ص: ۲۲۶)
{إِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَہٗط} (سورۃ الحج: ۷۳)
{قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ج لَا یَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَھُمْ فِیْھِمَا مِنْ شِرْکٍ وَّمَا لَہٗ مِنْھُمْ مِّنْ ظَھِیْرٍہ۲۲} (سورۃ السباء: ۲۲)
{قُلْ أَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ھَلْ ھُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہٖٓ أَوْ أَرَادَنِيْ بِرَحْمَۃٍ ھَلْ ھُنَّ مُمْسِکٰتُ رَحْمَتِہٖط قُلْ حَسْبِيَ اللّٰہُ ط عَلَیْہِ یَتَوَکَّلُ الْمُتَوَکِّلُوْنَ ہ۳۸} (سورۃ الزمر: ۳۸) أي: لا تستطیع شیئاً من الأمر۔ (ابن کثیر، تفسیر ابن کثیر: ج ۷، ص: ۱۰۰)
(فتاوی دار العلوم وقف دیوبند جلد اول ص 181)
اسلامی عقائد
الجواب وباللّٰہ التوفیق:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم و دیگر انبیاء ؑ و صحابہؓ و دیگر علماء و صلحاء کو (ان کی زندگی میں یا بعد وفات) وسیلہ بناکر ان کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا شرعاً جائز اور باعث قبولیت ہے۔
ایک روایت میں کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نابینا صحابی کو اپنے وسیلہ سے دعاء کرنے کی تلقین فرمائی اور کتب حدیث بخاری وغیرہ کی روایات سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو استسقاء کے لئے وسیلہ بنانا بھی ثابت ہے؛ لیکن اس سے یہ بات ہرگز لازم نہیں آتی کہ بعد وفات انبیاء یا صلحاء کو وسیلہ بنانا جائز نہیں، احناف وجمہور علماء محدثین کا یہی مسلک ہے۔ معارف القرآن، امداد الفتاویٰ، شرح فقہ اکبر وغیرہ اور حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے مشکلات القرآن میں طبرانی وبیہقی کے حوالہ سے روایات نقل کی ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نے عرش الٰہی پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھا ہوا دیکھا، تو آپ کے وسیلہ سے دعاء کی، تو اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت متوجہ ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے حضرت آدم علیہ السلام کو یہ کلمات (ربنا ظلمنا أنفسنا الخ) عطا فرمائے۔ مشکلات القرآن۔(۱)
(۱) ’’عن عثمان بن حنیف، أن رجلا ضریر البصر أتی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال: أدع اللّٰہ أن یعافیني قال: إن شئت دعوت، وإن شئت صبرت فہو خیر لک۔ قال: فادعہ، قال: فأمرہ أن یتوضأ فیحسن وضوئہ ویدعو بہذا الدعاء: اللہم إني أسألک وأتوجہ إلیک بنبیک محمد نبي الرحمۃ، إني توجہت بک إلی ربي في حاجتي ہذہ لتقضی لی، اللہم فشفعہ في: (أخرجہ الترمذي، في سننہ، ’’أبواب الدعوات عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، باب ما جاء في جامع الدعوات باب منہ‘‘: ج ۲، ص: ۱۹۸)
بینما ثلاثۃ نفر یتماشون أخذہم المطر فأوؤا إلی غار في الجبل فقال بعضہم لبعض أنظروا أعمالا عملتموہا صالحۃ للّٰہ فادعوا للّٰہ بہا لعلہ یفرجہا عنکم۔ (أخرجہ البخاري، في صحیحہ، ’’کتاب الحرث والمزارعۃ، باب إذا زرع بمال قوم بغیر إذنہم‘‘: ج ۱، ص: ۳۱۳)؛ کذا في فتح القدیر،’’کتاب الحج‘‘: ج ۳، ص: ۱۸۱)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص278
اسلامی عقائد
الجواب وباللّٰہ التوفیق:عینی ج۴ ص ۷۶، فتح الملہم ص ۸۱۱ و بذل الجہود ج۲ ص ۲۱۴ میں ہے کہ ابن حزم نے زیارت القبور کو زندگی میں ایک مرتبہ واجب کہا ہے؛ کیونکہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں صیغہ امر ہے جو وجوب کے لئے ہے۔
’’قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: نہیتکم عن زیارۃ القبور ألافزوروہا‘‘(۱) محی السنہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ عبدربہ رحمۃ اللہ علیہ اور مازنی رحمۃ اللہ علیہ نے مردوں کے لیے زیارت قبور کے لیے جواز پر تمام اہل علم اور ائمہ دین کا اتفاق نقل کیا ہے لیکن امام ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ نے ابن سیرین، امام نخعی اور امام شیبہ رحمہم اللہ سے مردوں کے لئے زیارت قبور کی کراہت نقل کی ہے۔ ان کی دلیل بھی مسلم کی روایت ہے جس میں ’’نہیتکم‘‘ فرماکر منع کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جن محدثین اور اہل علم کے یہاں مردوں کے لئے زیارت قبور کی اجازت ہے ان کے پاس دلیل میں بہت سی حدیثیں ہیں۔ مثلاً اوپر والی حدیث ہی ہے کہ ابتدائے اسلام میں منع فرمایا گیا، پھر اجازت دیدی گئی ہے۔ ایسے ہی مسلم میں روایت ہے ’’قال کان النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعلمہم إذا خرجوا إلی المقابر السلام علی الدیار‘‘ (۲) اور ابن ماجہ میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ’’عن عائشۃ -رضي اللّٰہ عنہا- أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رخص في زیارۃ القبور‘‘(۳) اس قسم کی بہت سی حدیثیں ہیں جن سے جواز ثابت ہے۔
ابن حزم نے جو واجب کہہ دیا تو وہ صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ اصول میں یہ بات طے شدہ ہے کہ حکم نہی ممانعت کے بعد واجب کو ثابت نہیں کرسکتا صرف اباحت اور جواز ہی ثابت ہوسکتا ہے ۔ امام نخعیؒ اور شعبیؒ نے جومکروہ فرمایا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو وہ تمام حدیثیں نہیں پہونچی جن سے ممانعت کے بعد جواز ثابت ہوتا ہے جیسا کہ علامہ عینی اور صاحب فتح الباری اور صاحب بذل نے فرمایا ہے۔ علامہ عینی کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ بت پرستی چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوئے اور وہ قبروں کا غیر ضروری احترام کرتے تھے؛ اس لیے ابتدائے اسلام میں زیارت قبور سے منع فرمایا گیا ہے جب اسلام کی محبت راسخ ہوگئی اور بت پرستی سے نفرت ہوگئی تو وہ حکم منسوخ ہوگیا۔(۴)
حاصل یہ ہے کہ گاہے بگاہے عبرت اور موت کو یاد کرنے کے لئے قبرستان جانا جائز ہے، عورتوں کی زیارت قبور سے متعلق اہل علم میں اختلاف ہے: بعض اہل علم کے یہاں عورت کا قبرستان جانا مکروہ ہے۔ ان کی دلیل حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہے کہ آپ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ’’لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم زوارات القبور‘‘(۱) لیکن اکثر اہل علم نے کہا ہے کہ اگر فتنہ دین ودنیا نہ ہو تو عورتوں کو اجازت ہے۔ مسلم میں روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’کیف أقول یا رسول اللّٰہ إذا زرت القبور؟ قال علیہ السلام: قولي السلام علی أہل الدیار من المؤمنین والمسلمین‘‘(۲) ایسے ہی مسند حاکم میں روایت ہے کہ حضرت فاطمہؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کرتی تھیں۔(۳)
امام قرطبی نے کہا ہے کہ جن روایات میں ممانعت آئی ہے وہاں صیغہ مبالغہ کا ہے ’’زوارات القبور‘‘ یعنی جو بکثرت زیارت کرتی ہوں تو کثرت سے عورتوں کا جانا ممنوع ومکروہ ہے ورنہ اجازت ہے۔ یا عورتوں میں جزع وفزع کا معاملہ زیادہ ہے صبر کم ہے، حقوق زوجیت بھی متاثر ہوتے ہیں(۴) اگر دینی اور دنیاوی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو، تو شرعی حدود میں رہ کر زیارت قبور کی جاسکتی ہے؛ لیکن فی زمانہ عورتیں قبرستان میں جاکر بدعت کرتی ہیں، اور ایسی خرافات اور واہیات حرکتیں کرتی ہیں جن سے دین کو نقصان پہونچتا ہے، بے پردگی اور بے آبروئی کے اندیشے اپنی جگہ الگ ہیں؛ اس لئے انتظام اور احتیاط کی بات یہ ہی ہے کہ عورتوں کو قبرستان نہ جانے دیا جائے۔(۵)
(۱) أخرجہ مسلم، في صحیحہ، ’’کتاب الجنائز: فصل في جواز زیارۃ قبور المشرکین‘‘: ج ۱، ص: ۳۱۴، رقم: ۹۷۷)
(۲) قد سبق تخریجہ۔
(۳) أخرجہ ابن ماجہ، في سننہ، ’’أبواب الجنائز: باب ما جاء في زیارۃ القبور‘‘: ج ۱، ص: ۱۱۲، رقم: ۱۵۷۰۔
(۴) إن زیارۃ القبور إنما کان في أول الإسلام عند قربہم بعبادۃ الأوثان واتخاذ القبور مساجد، فلما استحکم الإسلام وقوی في قلوب الناس وآمنت عبادۃ القبور والصلوٰۃ إلیہا نسخ النہي عن زیارتہا الخ۔ (العیني، عمدۃ القاري، ’’باب قول النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘‘: ج ۸، ص: ۷۰)
(۱) أخرجہ ابن ماجہ، في سننہ، ’’أبواب الجنائز، باب ما جاء في النہي عن زیارۃ النساء القبور‘‘: ج ۱، ص: ۱۱۳، رقم: ۱۵۷۴۔
(۲) أخرجہ مسلم، في صحیحہ، ’’کتاب الجنائز: فصل فی جواز زیارۃ قبور المشرکین‘‘: ج ۱، ص: ۳۱۴، رقم: ۹۷۴۔
(۳) أن الرخصۃ ثابتۃ للرجال والنساء لأن السیدۃ فاطمۃ رضي اللّٰہ عنہا کانت تزور قبر حمزۃ کل جمعۃ وکانت عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا تزور قبر أخیہا عبد الرحمٰن بمکۃ کذا ذکرہ البدر العیني في شرح البخاري۔ (الطحطاوي، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: فصل في زیارۃ القبور‘‘: ج ۱، ص:۶۲۰)
(۴) الزیارۃ لقلۃ صبرہن وجرعہن۔ (ملا علي قاري، مرقاۃ المفاتیح، ’’باب زیارۃالقبور‘‘: ج ۲، ص: ۴۰۴)
(۵) وأما النساء إذا أردن زیارۃ القبور إن کان ذلک التجدید الحزن والبکاء والندب کما جرت بہ عادتہن لا تجوز لہن الزیارۃ۔ (الطحطاوي، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: فصل في زیارۃ القبور‘‘: ج۱: ۶۲۰)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص386
اسلامی عقائد
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مذکورہ رسم مالیدہ وغیرہ کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں ہے؛ اس لیے اس کو ثواب کی نیت سے کرنا بدعت ہے جو واجب الترک ہے۔(۲)
(۲) {حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ أُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ} (سورۃ المائدہ: ۳)
وقد عاکس الرافضۃ والشیعۃ یوم عاشوراء النواصب من أہل الشام فکانوا … …إلی یوم عاشوراء یطبخون الحبوب ویغتسلون ویتطیبون ویلبسون أفخر ثیابہم ویتخذون ذلک الیوم عیدا یصنعون فیہ أنواع الأطعمۃ ویظہرون السرور والفرح یریدون بذلک عناد الروافض ومعاکستہم۔ (أبو الفداء إسماعیل، البدایۃ والنہایۃ، ’’فصل وکان مقتل الحسین -رضي اللّٰہ عنہ-‘‘: ج ۸، ص: ۲۰۳)
ویظہر الناس الحزن والبکاء وکثیر منہم لا یشرب الماء لیلتئذ موافقۃ للحسین لأنہ قتل عطشانا ثم تخرج النساء حاسرات عن وجوہہن ینحن ویلطمن وجوہہن وصدورہن حافیات في الأسواق إلی غیر ذلک من البدع الشنیعۃ والأہواء الفظیعۃ۔ (’’أیضاً‘‘: ص: ۲۰۲)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص476