اسلامی عقائد

Ref. No. 1797/43-1533

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مسجد اللہ کا گھر ہے، اللہ کی ملکیت ہے، اس سے کسی بندے کا کوئی حق وابستہ نہیں رہتاہے۔ مسجد زمین سے آسمان تک پوری کی پوری مسجد ہوتی ہے۔  مسجد ایک  دو منزل  اور اس سے زیادہ  منزل والی بھی ہوسکتی ہے، البتہ مسجد کا نیچے سے اوپر تک ہر فلور مسجد اور مصالح مسجد ہی میں استعمال ہوگا۔ مسجد کا وضو خانہ ، مسجد کے امام و مؤذن کا کمرہ ، مسجد میں نمازیوں کے لئے گاڑی کی پارکنگ وغیرہ کی سہولیات کا شمار مصالح مسجد میں ہوتاہے۔

 چند منزلہ بلڈنگ کے کسی ایک فلور کو مسجد بنانے کی صورت میں اس کو مصلی کہاجائے گا، وہ شرعی مسجد نہیں ہوگی اور مسجد شرعی کے احکام بھی اس پر جاری نہیں ہوں گے، اس میں پنجوقتہ نمازیں اور نماز جمعہ قائم کرنا درست ہے۔اس لئے کسی ایک فلور کو مسجد بناکر باقی فلور میں  ، مارکیٹ،  پارکنگ ،اسکول ، مدرسہ قائم کرنا اور اس میں طلبہ کی رہایش رکھنا جائز نہیں ہے۔  اور کسی پرانی مسجد کو مذکورہ مقصد کے لئے شہید کرنا  قطعا جائز نہیں ہے۔ ان سب کاموں کے لئے کوئی اور انتظام کیا جائے۔ وقف للہ مسجد میں یہ امور ممنوع ہیں ۔

حتی لو لم یخلص المسجد للّٰہ تعالی بأن کان تحتہ سرداب أو فوقہ بیت،أو جعل وسط دارہ مسجداً وأذن للناس بالدخول والصلاة فیہ لا یصیر مسجداً ویورث عنہ إلا إذا کان السرداب أو العلو لمصالح المسجد أو کانا وقفاً علیہ (الاختیار لتعلیل المختار ۲: ۵۲۴،ط: دار الکتب العلمیة بیروت)،قولہ:”أو جعل فوقہ بیتاً الخ“ ظاھرہ أنہ لا فرق بین أن یکون البیت للمسجد أو لا، إلا أنہ یوٴخذ من التعلیل أن محل عدم کونہ مسجداً فیما إذا لم یکن وقفاً علی مصالح المسجد ،وبہ صرح فی الإسعاف فقال: وإذا کان السرداب أو العلو لمصالح المسجد أو کانا وقفاً علیہ صار مسجداً اھ شرنبلالیة۔ قال فی البحر: وحاصلہ أن شرط کونہ مسجداً أن یکون سفلہ وعلوہ مسجداً لینقطع حق العبد عنہ لقولہ تعالی: ”وأن المساجد للہ“بخلاف ما إذا کان السرداب والعلو موقوفاً لمصالح المسجد فھوکسرداب بیت المقدس، وھذا ھو ظاہر الروایة، وھناک روایات ضعیفة مذکورة فی الھدایة (رد المحتار، کتاب الوقف ۶: ۵۴۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، لو بنی فوقہ بیتاً للإمام لا یضر؛ لأنہ من المصالح، أما لو تمت المسجدیة ثم أراد البناء منع الخ تاتر خانیة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الوقف ۶: ۵۴۸) ومثلہ في الکتب الأخری من الفقہ الفتاوی ۔

"فقد قال الله تعالى: {وأن المساجد للّٰه} [الجن: 18] و ما تلوناه من الآية السابقة فلايجوز لأحد مطلقًا أن يمنع مؤمنًا من عبادة يأتي بها في المسجد؛ لأن المسجد ما بني إلا لها من صلاة و اعتكاف و ذكر شرعي و تعليم علم و تعلمه و قراءة قرآن و لايتعين مكان مخصوص لأحد." (البحر الرائق  2 / 36 ، کتاب الصلاۃ، فصل ، ط؛ دارالکتاب الاسلامی، بیروت)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

اسلامی عقائد

الجواب وباللّٰہ التوفیق:روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نبی ہیں، ان کو عمر طویل دی گئی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعزیت کے لئے آنا بھی روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ ان کی حیات کب تک ہے اس کو اللہ ہی جانتا ہے۔ (۱)
(۱) والصحیح أنہ نبي، وجزم بہ جماعۃ۔ وقال الثعلبي: ہو نبي علی جمیع الأقوال معمر محجوب عن الأبصار، وصححہ ابن الجوزي، أیضاً: في کتابہ، لقولہ تعالیٰ: حکایۃ عنہ {وما فعلتہ عن أمري} (سورۃ الکہف: ۸۲) فدل علی أنہ نبي أوحی إلیہ، ولأنہ کان أعلم من موسیٰ في علم مخصوص، ویبعد أن یکون ولي أعلم من نبي وإن کان یحتمل أن یکون أوحي إلی نبي في ذلک العصر یأمر الخضر بذلک، ولأنہ أقدم علی قتل ذلک الغلام، وما ذلک إلا للوحي إلیہ في ذلک لأن الولي لا یجوز لہ الإقدام علی قتل النفس، بمجرد ما یلقی في خلدہ، لأنہ خاطرہ لیس بواجب العصمۃ۔ (العیني،عمدۃ القاري، ’’کتاب العلم: باب ما ذکر في ذہاب موسیٰ علیہ السلام‘‘: ج ۲، ص: ۸۵)وأیضاً: النوع الثالث في نبوتہ: فالجمہور علی أنہ نبي وہو الصحیح، لأن أشیاء في قصتہ تدل علی نبوتہ۔ (أیضاً: ’’باب طو فان من السبیل‘‘: ج ۱۵، ص: ۲۹۹، رقم: ۲۰۴۳)

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص286

اسلامی عقائد

الجواب وباللّٰہ التوفیق:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت جو صحابہؓ نابالغ تھے وہ بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمرہ میں داخل ہیں ان کو بھی صحابی ہی کہا جائے گا۔ (۱)

(۱) من لقي النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم مؤمنا بہ ومات علی الإیمان، (سید عمیم الإحسان، قواعد الفقہ: ص: ۳۴۶)
ومن صحب النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أو رآٔہ من المسلمین فہو من أصحابہ۔ (أخرجہ البخاري، في صحیحہ،’’کتاب المناقب: باب فضائل أصحاب النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘‘: ج ۱، ص: ۵۱۵، رقم: ۳۶۴۹)

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص287

 

اسلامی عقائد

الجواب وباللّٰہ التوفیق:بغیر ہاتھ اٹھائے دعا کرے اور قبر کی طرف پشت کرکے اور اگر قبلہ کی طرف منھ کرکے دعا کرے کہ قبر سامنے نہ ہو، توہاتھ اٹھاکر دعاء کرسکتا ہے۔(۱)

(۱) وفي حدیث ابن مسعود رضي اللّٰہ عنہ، رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم في قبر عبد اللّٰہ ذي النجادین الحدیث وفیہ فلما فرغ من دفنہ استقبل القبلۃ رافعاً یدیہ أخرجہ أبو عوانہ في صحیحہ۔ (ابن حجرالعسقلاني، فتح الباري، ’’کتاب الدعوات: قولہ باب الدعاء مستقبل القبلۃ‘‘: ج ۱۱، ص: ۱۶۵، رقم: ۶۳۴۳)
ویکرہ النوم عند القبر وقضاء الحاجۃ وکل ما لم یعہد من السنۃ والمعہود منہا لیس إلا زیارتہا والدعاء عندہا قائماً کما کان یفعل صلی اللّٰہ علیہ وسلم في الخروج إلی البقیع۔ (ابن الہمام، فتح القدیر، ’’کتاب الصلوۃ: فصل في الدفن‘‘: ج ۲، ص: ۱۵۰)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص392

اسلامی عقائد

الجواب وباللّٰہ التوفیق:قرآن کریم کو عقیدت سے چومنا یا آنکھوں سے لگانا ثابت ہے؛ اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔ (۱)

(۱) عن عمر رضي اللّٰہ عنہ، أنہ کان یأخذ المصحف کل غداۃ ویقبلہ ویقول: عہد ربي ومنشور ربي عز وجل وکان عثمان رضي اللّٰہ عنہ، یقبل المصحف ویمسحہ علی وجہہ۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الحظر والإباحۃ: باب الاستبراء وغیرہ، متصل فصل في البیع‘‘: ج ۹، ص: ۵۵۲)

فتاوی درالعلوم وقف دیوبند ج1ص518

اسلامی عقائد

الجواب وباللّٰہ التوفیق:بانی اسلام حضرت آدم علیہ السلام ہیں، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تکمیل اسلام ہوئی ہے۔ {اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ الخ} (الآیہ)(۱)

(۱) سورۃ المائدہ: ۳۔                
 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص288

اسلامی عقائد

الجواب وباللّٰہ التوفیق:مزار پر سجدہ تعظیمی بھی جائز نہیں ہے، یہ سخت گناہ ہے، تاہم آدمی ایمان سے خارج نہیں ہوتا ہے، اس لئے نکاح باقی ہے۔ (۱)

(۱) {وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ أٰلِھَتَکُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا ۵لا وَّ لَا یَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْرًاہج ۲۳} (سورۃ نوح: ۷۱)
 عن الحسن قال: بلغني أن رجلا قال: یا رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نسلِّم علیک کما یسلِّم بعضنا علی بعض أفلا نسجد لک؟ قال: لا، ولکن أکرموا نبیکم وأعرفوا الحق لأہلہ فإنہ لا ینبغي أن یسجد لأحد من دون اللّٰہ۔ (جلال الدین السیوطي، الدر المنثور، ’’سورۃ آل عمران: ۷۹‘‘: ج ۱، ص: ۵۸۲)
من سجد للسلطان علي وجہ التحیۃ أو قبَّلَ الأرض بین یدیہ لا یکفر، ولکن یأثم لارتکابہ الکبیرۃ ہو المختار، قال الفقیہ أبو جعفر رحمہ اللّٰہ تعالیٰ: وإن سجد للسطان بنیۃ العباد أو لم تحضرہ النیۃ فقد کفر۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الکراہیۃ: الباب الثامن والعشرون في ملاقاۃ الملوک‘‘: ج ۵، ص: ۴۲۵)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص393

اسلامی عقائد

الجواب وباللّٰہ التوفیق:یہ تصور کہ: جس عورت کے تل یا کوئی دھبہ ہو یا آنکھ میں خرابی ہو وہ لعنتی ہوتی ہے، شرعی اعتبار سے بالکل غلط ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔(۱)

(۱) إن کان الشئوم في شیئ ففي الدار والمرأۃ والفرس۔ (أخرجہ البخاري، في صحیحہ، ’’کتاب النکاح: باب مای یتقی من شؤم المرأۃ‘‘: ج ۲، ص: ۷۶۳، رقم: ۵۰۹۴)
قال القرطبي: إنہ یحملہ علی ماکانت الجاہلیۃ تعتقدہ بناء علی أن ذلک یضر وینفع بذاتہ فإن ذلک خطأ إلخ۔ (ابن حجر، العسقلاني، فتح الباري: ج ۶، ص: ۶۱)

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص519

اسلامی عقائد

Ref. No. 1616/43-1200

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  حالت حمل میں عورت کی طبیعت خراب ہونا، کھانسی، الٹی  وغیرہ ہونا عام بات ہے۔ کھانسی کا علاج کسی اچھے اسپتال میں کرانا چاہئے تھا۔بلا ڈاکٹر کے مشورہ کے اسقاط حمل جائز نہیں، اس لئے  میاں بیوی نے جو کچھ کیا وہ ناجائز تھا۔ دونوں اللہ تعالی سے توبہ کریں اور حسب حیثیت صدقہ بھی کریں تو بہتر ہے۔

الْعِلَاجُ لِإِسْقَاطِ الْوَلَدِ إذَا اسْتَبَانَ خَلْقُهُ كَالشَّعْرِ وَالظُّفْرِ وَنَحْوِهِمَا لَا يَجُوزُ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُسْتَبِينِ الْخَلْقِ يَجُوزُ وَأَمَّا فِي زَمَانِنَا يَجُوزُ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى كَذَا فِي جَوَاهِرِ الْأَخْلَاطِيِّ. ۔ ۔ وَفِي الْيَتِيمَةِ سَأَلْت عَلِيَّ بْنَ أَحْمَدَ عَنْ إسْقَاطِ الْوَلَدِ قَبْلَ أَنْ يُصَوَّرَ فَقَالَ أَمَّا فِي الْحُرَّةِ فَلَا يَجُوزُ قَوْلًا وَاحِدًا وَأَمَّا فِي الْأَمَةِ فَقَدْ اخْتَلَفُوا فِيهِ وَالصَّحِيحُ هُوَ الْمَنْعُ كَذَا فِي التَّتَارْخَانِيَّة." (الھندیۃ كتاب الكراهية، الْبَابُ الثَّامِنَ عَشَرَ فِي التَّدَاوِي وَالْمُعَالَجَاتِ وَفِيهِ الْعَزْلُ وَإِسْقَاطُ الْوَلَدِ، ٥ / ٣٥٦، ط: دار الفكر)

"العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز وأما في زماننا يجوز على كل حال وعليه الفتوى، كذا في جواهر الأخلاطي. وفي اليتيمة سألت علي بن أحمد عن إسقاط الولد قبل أن يصور فقال: أما في الحرة فلايجوز قولاً واحدًا، و أما في الأمة فقد اختلفوا فيه والصحيح هو المنع، كذا في التتارخانية….امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة كذا في خزانة المفتين. و هكذا في فتاوى قاضي خان." (الھندیۃ 5 / 356، الباب الثامن عشر فی التداوی والمعالجات، کتاب الکراہیۃ، ط؛ رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

اسلامی عقائد

Ref. No. 1801/43-1541

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ حق بات بولنا اور بدعت و گمراہی  سے نفرت کرنا اور اس کی بیخ کنی کے لئے حسب قدرت  اٹھ کھڑا ہونا یہ ایمانی تقاضہ ہے۔ ہر مؤمن کو ایسا ہونا چاہئے، حدیث میں اس کی جانب رہنمائی کی گئی ہے، البتہ موقع و محل اور کہنے کا انداز ایسا ہونا چاہئے جو مؤثر ہو، ایسانہ ہو کہ اصلاح کے بجائے فتنہ وفساد کاسبب بن جائے۔ اس لئے قرآن کریم نے  لوگوں کو حکمت کے ساتھ دعوت و تبلیغ کرنے اور بحث ومباحثہ میں احسن طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیاہے۔

کسی مسلمان کے بارے میں حسن ظن ہی رکھنا چاہئے جب تک کہ اس کے خلاف کا مشاہدہ نہ ہوجائے، اس لئے کس نے کونسا گناہ کیاہے، اس کا علم مغیبات میں سے ہے، جس کو صرف اور صرف اللہ تعالی جانتے ہیں۔ آپ کو کسی کےبارے میں بدگمان نہیں ہونا چاہئے، کسی کے بارے میں اگردل میں یہ خیال آتاہے کہ اس نے فلاں گناہ کیا ہے تو اس کو محض ایک وسوسہ سمجھیں، اس شخص کو برا نہ سمجھیں، ہوسکتاہے کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہو، یا  اس نے اس گناہ سے توبہ کرلیا ہو یا وہ گناہ کسی نیک عمل سے بدل گیاہو وغیرہ۔ اس طرح کے وساوس کے دفعیہ کے لئے جلد از جلد کسی صاحب نسبت بزرگ سے  مسلسل رابطہ میں رہنا مفید معلوم ہوتاہے۔

عن أبی سعيد: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: «من رأى منكم منكرا، فاستطاع أن يغيره بيده، فليغيره بيده، فإن لم يستطع، فبلسانه، فإن لم يستطع، فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان» (سنن ابن ماجہ، باب الامر بالمعروف 2/1330 الرقم 4013)

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ (سورۃ النحل 125)  

ان الحسنات یذھبن السیئات، ذلک ذکری للذاکرین (سورہ ھود 114)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند