نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ الموفق: اس صورت میں بہتر تو یہی تھا کہ جس شخص نے خطبہ پڑھا ہے وہی نماز جمعہ پڑھائے؛ مگر کسی معزز شخصیت نے نماز پڑھادی تو یہ بھی جائز اور درست ہے بہر حال نماز ادا ہوگئی ہے اس میں شک نہ کیا جائے۔’’(لا ینبغي أن یصلي غیر الخطیب) لأنہما کشيء واحد (فإن فعل بأن خطب صبي بإذن السلطان وصلی بالغ جاز)‘‘(۱)(۱) (لاینبغي أن یصلي غیر الخطیب) لأنہما کشيء واحد (فإن فعل بأن خطب صبي بإذن السلطان وصلی بالغ جاز) ہو المختار قولہ: (لأنہما) أي الخطبۃ والصلاۃ کشيء واحد، لکونہما شرطا ومشروطا ولا تحقق للمشروط بدون شرطہ فالمناسب أن یکون فاعلہما واحدا قولہ: (ہو المختار) وفي الحجۃ أنہ لا یجوز، في فتاوی العصر فإن الخطیب یشترط فیہ أن یصلح للإمامۃ، وفي الظہیریۃ لو خطب صبي اختلف المشایخ فیہ، والخلاف في صبي یعقل، والأکثر علی الجواز۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: في حکم المرقي بین یدي الخطیب‘‘: ج ۳، ص: ۳۹، ۴۰۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 126

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ الموفق: خطبہ سے پہلے اردو ترجمہ مقتدیوں کو سنادیا جائے پھر اذان خطبہ کی پڑھ کر خطبہ عربی میں پڑھا جائے اس کے بعد متصلاً نماز جمعہ پڑھی جائے یہ جائز اور درست ہوگا۔(۲)(۲) لاشک في أن الخطبۃ بغیر العربیۃ خلاف السنۃ المتوارثۃ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم والصحابۃ رضي اللّٰہ تعالٰی عنہم، فیکون مکروہا تحریماً۔ (اللکھنوي، عمدۃ الرعایۃ علی شرح الوقایۃ، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعہ‘‘: ج ۲، ص: ۳۲۴)وعن مالک قال: بنی عمر رحبۃ في ناحیۃ المسجد تسمی البطیحاء وقال: من کان یرید أن یلغط أو ینشد شعرا، أو یرفع صوتہ فلیخرج إلی ہذہ الرحبۃ۔ رواہ في الموطأ۔ (خطیب تبریزی، مشکاۃ المصابیح، ’’کتاب الصلاۃ: باب المساجد ومواضع الصلاۃ، الفصل الثالث‘‘: ج ۱، ص: ۷۱، رقم: ۷۴۵)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 125

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ الموفق: عجیب وغریب باتیں ذہانت اور اولوالعزمی کی علامت ہیں اس میں آپ کو کیا اشکال ہے۔ حضرت علیؓ بڑے جری اور بہادر تھے اور بہت سارے امور آپ نے انجام دئے اس لیے بعض لوگ آپ کو مظہر العجائب والغرائب سے یاد کرتے تھے اس جملہ کا  استعمال بندوں کے لیے کیا جاسکتا ہے آپ کے ذہن میں جو اشکال ہو اس کو تحریر کریں۔(۱)(۱) وذکر الخلفاء الراشدین والعمین مستحسن بذلک جری التوارث۔ (أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ص: ۵۱۶)و یندب ذکر الخلفاء الراشدین والعمین۔ (الحصکفي، الدرالمختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: في نیۃ آخر ظہر بعد صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۲۱)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 124

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ الموفق: خطبہ ثانیہ میں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین کا ذکر خیر ان کی مدح ان کے لیے دعاء خیر کرنا بدعت نہیں ہے اور نہ بے اصل ہے۔ زمانہ خیر القرون سے جاری ہے اور اسلاف صالحین کے عمل سے ثابت ہے۔ اور اس کے مستحب ہونے کی یہ ہی دلیل کافی ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ نے جماعت صحابہ کی موجودگی میں خطبہ میں حضرات خلفاء راشدین کا ذکر خیر کیا ان کی مدح کی اور ان کے لیے دعا خیر کی ہے۔ فقہ کی معتبر کتابوں میں خلفاء راشدین کے تذکرے کو مستحب قریب السنۃ؛ بلکہ شعار دین خصوصاً اہل سنت والجماعت کا شعار بتایا ہے۔(۱)

(۱) و یندب ذکر الخلفاء الراشدین والعمین۔ (الحصکفي، الدرالمختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: في نیۃ آخر ظہر بعد صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۲۱)والرابع: الخطبۃ فیہ۔ (أیضاً: ج ۳، ص: ۱۹)وذکر الخلفاء الراشدین والعمین مستحسن بذلک جری التوارث۔ (أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ص: ۵۱۶)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 122

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ الموفق: (۱) اذان خطبہ و خطبہ جمعہ عربی زبان میں مسنون ہے اس سے قبل جو اردو میں تقریر ہوتی ہے وہ خطبہ میں شمار نہیں ہوتی اور اس کا حکم خطبہ جیسا بھی نہیں ہوتا تقریر ہوتے ہوئے نماز وغیرہ سب کچھ پڑھا جاسکتا ہے جب کہ نماز میں سلام، کلام بوقت خطبہ جمعہ ممنوع ہے اس تقریر میں دینی باتیں، دینی مسائل، دینی واقعات احادیث و قرآن کی روشنی میں بیان کئے جائیں سیاسی تقریر دنیاوی تقریر کرنے والے کو وہاں پر تقریر کا موقع نہ دیا جائے کہ مسجد اللہ کا گھر ہے موجودہ قسم کی سیاست کا نہیں ہے۔(۱)(۲) امام کو چاہئے کہ پہلی رکعت میں لمبی سورت پڑھیں اور دوسری میں اس سے چھوٹی سورت پڑھیں یہ ہی مسنون ہے اس کے خلاف خلاف اولیٰ ہے۔ صورت مذکورہ میں الم نشرح واقعی چھوٹی  سورت ہے کہ اس میں آٹھ آیات ہیں اور سورہ القارعہ بڑی سورت ہے کہ اس میں گیارہ آیات ہیں اس طرح پڑھنا خلاف اولیٰ ہے امام صاحب کو چاہئے کہ سنت کے مطابق پڑھیں تاکہ نماز جیسا اہم فریضہ کراہت سے خالی رہے اور سنت کے مطابق اس کی ادائیگی ہوجائے۔(۱)

(۱) لاشک في أن الخطبۃ بغیر العربیۃ خلاف السنۃ المتوارثۃ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، والصحابۃ رضي اللّٰہ تعالٰی عنہم، فیکون مکروہا تحریماً۔ (عبد الحی اللکھنوي، عمدۃ الرعایہ علی شرح الوقایۃ، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعہ‘‘: ج ۲، ص: ۳۲۴)وعن مالک قال: بنی عمر رحبۃ في ناحیۃ المسجد تسمی البطیحاء وقال: من کان یرید أن یلغط أو ینشد شعرا أو یرفع صوتہ فلیخرج إلی ہذہ الرحبۃ۔ رواہ في الموطأ۔ (خطیب تبریزی، مشکاۃ المصابیح، ’’کتاب الصلاۃ: باب المساجد ومواضع الصلاۃ، الفصل الثالث‘‘:ج ۱، ص: ۷۱، رقم: ۷۴۵)الجلوس في المسجد للحدیث لا یباح بالاتفاق؛ لأن المسجد ما بني لأمور الدنیا۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الکراہیۃ: الباب الخامس: في آداب المسجد والقبلۃ‘‘: ج ۵، ص: ۳۷۲)(۱) (وإطالۃ الثانیۃ علی الأولیٰ یکرہ) تنزیہاً (إجماعاً إن بثلاث آیات) إن تقاربت طولاً وقصراً، وإلا اعتبر الحروف والکلمات۔ واعتبر الحلبي فحش الطول لا عدد الآیات، واستثنی في البحر ما وردت بہ السنۃ، واستظہر في النفل عدم الکراہۃ مطلقاً (وإن بأقل لا) یکرہ، لأنہ علیہ الصلاۃ والسلام صلی بالمعوذتین۔ (قولہ: إن تقاربت إلخ) ذکر ہذا في الکافي في المسألۃ التي قبل ہذہ، واعتبرہ في شرح المنیۃ في ہذہ المسألۃ أیضاً کما یأتي في عبارتہ۔ والحاصل: أن سنیۃ إطالۃ الأولی علی الثانیۃ، وکراہیۃ العکس إنما تعتبر من حیث عدد الآیات، إن تقاربت الآیات طولاً وقصراً فإن تفاوتت تعتبر من حیث الکلمات، فإذا قرأ في الأولی من الفجر عشرین آیۃً طویلۃً، وفي الثانیۃ منہا عشرین أیۃً قصیرۃً تبلغ کلماتہا قدر نصف کلمات الأولی فقد حصل السنۃ، ولو عکس یکرہ، وإنما ذکر الحروف للإشارۃ إلی أن المعتبر مقابلۃ کل کلمۃ بمثلہا في عدد الحروف، فالمعتبر عدد الحروف لا الکلمات، فلو اقتصر الشارح علی الحروف أو عطفہا علی الکلمات کما فعل في الکافي لکان أولیٰ۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، مطلب السنۃ تکون سنۃ عین وسنۃ کفایۃ‘‘: ج ۲، ص: ۲۶۳)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 121

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ الموفق: صورت مذکورہ میں وعظ اور تقریر سے سنتوں کے پڑھنے والوں کو تشویش ہوگی اور ان کی توجہ دوسری طرف سننے والی ہوگی اس لیے ایسے وقت میں یا تقریر نہ کریں یا ایسے وقت سنتیں نہ پڑھیں۔ بہتر یہ ہے کہ تقریر اور وعظ شروع ہونے کے بعد جو نمازی حضرات آئیں وہ سنتیں نہ پڑھیں؛ بلکہ وضو بناکر وعظ میں شرکت کریں وعظ کے ختم کرنے کے بعد پانچ منٹ کا وقت ان کو سنت پڑھنے کا دیا جائے پھر اذان خطبہ پڑھی جائے۔(۱)(۱) قولہ: ولو ’’لقرآن أو تعلیم‘‘: لأن المسجد بني للصلاۃ وغیرھا تبع لھا بدلیل أنہ إذا ضاق فللمصلي إزعاج القاعد للذکر أو القراء ۃ أو التدریس لیصلي موضعہ دون العکس۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الدیات: باب ما یحدثہ الرجل في الطریق وغیرہ‘‘: ج ۱۰، ص: ۲۶۱)إن کان في النفل، ثم شرع الخطیب في الخطبۃ یقطع قبل السجدۃ، وبعدہا عند الرکعتین، ہکذا في القنیۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السادس عشر: في صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۰۹)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 120

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ الموفق: کراہت سے خالی نہیں ہے۔ حدیث میں ہے ’’ومن مس الحصاء فقد لغا رواہ مسلم‘‘ جب ’’مس حصاء‘‘ یعنی کنکریوں سے کھیلنے اور ان کو ہاتھ میں لینے کی ممانعت ہے کہ اس میں مشغول ہے غیر خطبہ کی طرف تو پنکھا جھلنا اس سے زیادہ مشغول ہونا ہے الا یہ کہ گرمی کی شدت ہو اور پنکھے کے بغیر سکون نہ ملے تو قدر ضرورت گنجائش ہے۔(۱)(۱) من توضأ فأحسن الوضوء ثم أتی الجمعۃ فاستمع وانصت غفرلہ ما بین الجمعۃ إلی الجمعۃ وزیادۃ ثلاثۃ أیام ومن مس الحصی فقد لغا۔ (أخرجہ أبوداود، في سننہ، ’’کتاب الصلاۃ: باب فضل الجمعۃ‘‘: ج۱، ص: ۱۰۵۰، رقم: ۱۰۵۰)فمعناہ کما قال النووي: فیہ الہني عن مس الحصی وغیرہ من أنواع العبث في حال الخطبۃ، وفیہ إشارۃ إلی الحض علی إقبال القلب والجوارح علی الخطبۃ والمراد باللغو ہنا: الباطل المذموم المردود۔ (نووي، دلیل الفالحین لطرق ریاض الصالحین لمحي الدین النووي، ’’باب فصل یوم الجمعۃ و وجوبھا‘‘ بیروت: دارالکتب العلمیہ ج ۳، ص: ۵۷۴)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 119

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ الموفق:(۱) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختصر اور متعدد خطبے ثابت ہیں جنہیں مختلف بزرگوں نے جمع فرمایا ہے۔(۲) ایک ہی خطبہ کو بار بار پڑھنے میں حرج نہیں ہے آخر نماز میں بھی تو سورہ فاتحہ بار بار پڑھی جاتی ہے اچھا یہ ہے کہ مختلف مختصر خطبے یاد کرنے چاہئے ایسے عوام پر نظر نہیں ہونی چاہئے صحیح اور مسنون عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات پر نظر ہونی چاہئے اور اس کی رضامندی ہی اصل ہے۔(۱)(۳) جان بوجھ کر نماز کے چھوڑنے کو کفر کے قریب بتایا جاتا ہے حدیث شریف میں ہے ’’من ترک الصلاۃ متعمداً فقد کفر‘‘(۲) کہ جان بوجھ کر نماز کا چھوڑ نا کفر کے قریب قریب ہے اللہ تعالیٰ نماز کی  ہمت دے اس کی اہمیت اور فضیلت پر نظر ہو تو ادائیگی آسان ہوجاتی ہے۔(۱) فحقیقۃ الإخلاص: التبري عن کل مادون اللّٰہ تعالی۔ (المفردات في غریب القرآن: ص: ۲۹۳)(۲) من ترک الصلاۃ متعمداً فقد کفر، أي المستحق عقوبۃ الکفر کذا فسرہ الشافعي۔ (ملا علي قاري، مرقاۃ المفاتیح، ’’کتاب القصاص: الفصل الأول‘‘: ج ۷، ص: ۵، رقم: ۳۴۴۶)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 118

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ الموفق: جمعہ کی اذان اول کے بعد اور اذان ثانی سے پہلے وعظ و نصیحت و بیان مسائل کا دور صحابہؓ سے ثبوت ہے اس کو بدعت و ناجائز کہنا بلا دلیل ہے، حسب ضرورت وعظ و نصیحت اس وقت بھی بلا شبہ جائز ہے، شرط یہ ہے کہ نماز پڑھنے والوں کی نمازوں میں خلل کا سبب نہ بنے جس کی صورت یہ ہے کہ تمام لوگوں کو اطلاع ہو کہ اذان ثانی سے قبل سنتوں کا وقت دیا جائے گا نیز اذان ثانی کا جو وقت مقرر ہے اسی وقت پر ہو اور وعظ و نصیحت میں اس قدر تاخیر نہ ہو کہ لوگوں کے لیے زحمت کا باعث بن جائے نیز حسب مصلحت وضرورت باہمی مشورے سے وقت کے اندر کچھ تقدیم و تاخیر میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔(۱)(۱) وأخرج ابن عساکر رحمہ اللّٰہ تعالیٰ عن حمید بن عبد الرحمن أن تمیماً الداري رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہ استأذن عمر رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہ في القصص سنین، فأبي أن یأذن لہ،   فاستأذن في یوم واحد، فلما أکثر علیہ، قال لہ: ما تقول؟ قال: أقرأ علیہم القرآن، وآمرہم بالخیر، وأنہاہم عن الشر۔ قال عمر رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہ: ذلک الذبح، ثم قال: عظ قبل أن أخرج في الجمعۃ فکان یفعل ذلک یوماً واحداً في الجمعۃ۔ (ابن الجوزي، الموضوعات الکبری، ’’مقدمہ فصل: ولما کان أکثر القصاص والوعاظ‘‘: ص: ۲۰)تنبیہ: ذکر الملا علی القاري رحمہ اللّٰہ ہذا الحدیث في مقدمۃ الموضوعات الکبریٰ؛ ولکنہ لیس بموضوع بل ہو من مستدلاتہ علی عدم جواز القصص الطویلۃ التي لا ضرورۃ إلی بیانہا؛ بل الأحسن أن یکون الوعظ مختصراً جامعاً خالیاً عن الحشو والزوائد علی طریق الإیجاز۔ (أخرجہ المسلم، في صحیحہ، ’’کتاب الإیمان: باب إن الدین النصحیۃ‘‘: ج ۱، ص: ۵۴)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 117

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ الموفق: جمعہ کی اذان اول کے بعد خطبہ کا ترجمہ و مفہوم بتانا درست ہے اور خطبہ کی اذان ثانی کے بعد نماز سے پہلے ترجمہ وغیرہ درست نہیں ہے؛ صرف عربی زبان میں خطبہ دیا جائے۔(۳)(۳) وأخرج ابن عساکر رحمہ اللّٰہ تعالیٰ عن حمید بن عبد الرحمن أن تمیماً الداري رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہ استأذن عمر رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہ في القصص سنین، فأبی أن یأذن لہ، فاستأذن في یوم واحد، فلما أکثر علیہ، قال لہ: ما تقول؟ قال: أقرأ علیہم القرآن، وآمرہم بالخیر، وأنہاہم عن الشر۔…قال عمر رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہ ذلک الذبح، ثم قال: عظ قبل أن أخرج في الجمعۃ فکان یفعل ذلک یوماً واحداً في الجمعۃ۔ ( ابن الجوزي، الموضوعات الکبری، ’’مقدمہ فصل: ولما کان أکثر القصاص والوعاظ‘‘بیروت: دارالکتب العلمیۃ: ص: ۲۰)تنبیہ: ذکر الملا علی القاري رحمہ اللّٰہ ہذا الحدیث في مقدمۃ الموضوعات الکبریٰ؛ ولکنہ لیس بموضوع، بل ہو من مستدلاتہ علی عدم جواز القصص الطویلۃ التي لا ضرورۃ إلی بیانہا، بل الأحسن أن یکون الوعظ مختصراً جامعاً خالیاً عن الحشو والزوائد علی طریق الإیجاز۔ (أخرجہ المسلم، في صحیحہ، ’’کتاب الإیمان: باب إن الدین النصحیۃ‘‘: ج ۱، ص: ۵۴)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 116