Frequently Asked Questions
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: صورت مسئولہ میں قعدہ اخیرہ میں تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہوا اور سجدہ سہو کرلیا گیا تو تراویح کی دو رکعت درست ہوگئیں شبہ نہ کیا جائے البتہ تیسری رکعت باطل ہوگئی اس تیسری رکعت میں پڑھا ہوا قرآن پاک لوٹایا جائے گا تاکہ تراویح میں قرآن پاک پورا ہوجائے۔(۱)(۱) ولو صلی أربعاً بتسلیمۃ ولم یقعد في الثانیۃ ففي الاستحسان لاتفسد وہو اظہر الروایتین عن أبي حنیفۃ وأبي یوسف رحمہما اللّٰہ تعالیٰ … وعن أبي بکر الإسکاف۔ أنہ سئل عن رجل قام إلی الثالثۃ في التراویح ولم یقعد في الثانیۃ قال إن تذکر في القیام ینبغي أن یعود ویقعد ویسلم وإن تذکر بعد ما سجد للثالثۃ، فإن أضاف إلیہا رکعۃ أخری کانت ہذہ الأربع عن تسلیمۃ واحدۃ، وإن قعد في الثانیۃ قدر التشہد اختلفوا فیہ فعلی قول العامۃ یجوز عن تسلیمتین، وہو الصحیح۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب التاسع: في النوافل، فصل: في التراویح‘‘: ج ۱، ص: ۱۷۸)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 267
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: اس صورت میں سجدہ سہو واجب نہیں ہے اور سب کی نماز درست ہوگئی ہے۔(۲)(۲) ولا یجب السجود إلا بترک واجب أو تاخیرہ أو تاخیر رکن أو تقدیمہ أو تکرارہ أو تغییر واجب بأن یجہر فیما یخافت وفي الحقیقۃ وجوبہ بشيء واحد وہو ترک الواجب … ولا یجب بترک التعوذ والبسملۃ في الأولیٰ والثناء وتکبیرات الانتقالات۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر: في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۵)إن ذکر آیۃ مکان إن وقف علی الأولیٰ وقفاً تاماً وابتدأ بالثانیۃ لا تفسد صلاتہ … وإن تغیر المعنی بأن قرأ، إن الأبرار لفي جہیم وإن الفجار لفي نعیم … تفسد صلاتہ۔ (فتاویٰ قاضي خان، ’’کتاب الصلاۃ: باب الحدث في الصلاۃ، وما یکرہ فیہ ومالا یکرہ، فصل: فیما یفسد الصلاۃ‘‘: ج ۱، ص: ۹۷)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 266
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: صرف ایک طرف (دائیں جانب) سلام پھیرے اگر دونوں طرف سلام پھیر دیا تب بھی کوئی حرج نہیں سجدہ سہو ادا ہو جائے گا، لیکن ایسا کرنا نہیں چاہئے۔’’یجب بعد سلام واحد عن یمینہ فقط لأنہ المعہود وبہ یحصل التحلیل وہو الأصح‘‘(۱)(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ج ۲، ص: ۵۴۰۔یجب سجدتان لأنہ علیہ السلام سجد سجدتین للسہو وہو جالس بعد التسلیم وعمل بہ الأکابر من الصحابۃ والتابعین بتشہد وتسلیم۔ (أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ص: ۴۶۰)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 265
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: چوں کہ واجب کی ادائیگی میں تاخیر ہو گئی اس لیے سجدہ سہو سے نماز درست ہوجائے گی۔ اور سجدہ سہو نہ کرنے کی صورت میں نماز قابل اعادہ ہوگی۔(۱)(۱) یجب سجدتان بتشہد وتسلیم لترک واجب بتقدیم أو تأخیر أو زیادۃ أو نقص … سہواً۔ (أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب سجود السہو‘‘: ص: ۴۶۰)وإذا قرأ الفاتحۃ مکان التشہد فعلیہ السہو وکذلک إذا قرأ الفاتحۃ ثم التشہد کان علیہ السہو۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر: في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۷)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 265
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: دوران نماز جس وقت یاد آئے اسی وقت دوسرا سجدہ کرے اور پھر آخر میں سجدہ سہو کرے۔ اگر سجدہ سہو نہ کیا تو نماز کا اعادہ کرے۔ کیوں کہ دونوں سجدے فرض ہیں اور فرض کے ترک سے نماز باطل ہوجاتی ہے۔(۱)(۱) ومنہا السجود، السجود الثاني فرضٌ کالأول بإجماع الأمۃ، کذا في الزاہدي۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الرابع: في صفۃ الصلوۃ‘‘: ج ۱، ص: ۱۲۷)(و) یفترض (العود إلی السجود) الثاني لأن السجود الثاني کالأول فرض باجماع الأمۃ۔ (أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب شروط الصلاۃ، وأرکانہا‘‘: ص: ۲۳۳، ۲۳۴)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 264
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: بشرط صحت سوال اگر مقتدی نے امام کے ساتھ سلام نہیں پھیرا اور سوتا رہا اور جوں ہی بیدار ہو سلام پھیر دیا تو اس پر سجدہ سہو نہیں ہوگا۔(۱)(۱) وقولہ مع الإمام: بیان للأفضل یعنی الأفضل للمأموم المقارنۃ في التحریمۃ والسلام عند أبي حنیفۃ، وعندہما الأفضل عدمہا؛ للاحتیاط، ولہ أن الاقتداء عقد موافقۃ، وإنہا في القران لا في التأخیر، وإنما شبہ السلام بالتحریمۃ؛ لأن المقارنۃ في التحریمۃ باتفاق الروایات عن أبي حنیفۃ، وأما في السلام ففیہ روایتان، لکن الأصح ما في الکتاب، کما في الخلاصۃ۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ‘‘: ج ۱، ص: ۵۸۱)…ومنہا) أنہ لو سلم ساہیا أو قبلہ لایلزمہ سجود السہو، وإن سلم بعدہ لزمہ، کذا في الظہیریۃ، ہو المختار، کذا في جواہر الأخلاطي، وإن سلم مع الإمام علی ظن أن علیہ السلام مع الإمام فہو عمد فتفسد، کذا في الظہیریۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الخامس: في الإمامۃ، الفصل السابع: في المسبوق واللاحق‘‘: ج ۱، ص: ۱۴۹)ولو أتمہ قبل إمامہ فتکلم جاز وکرہ۔ قولہ: (لو أتمہ إلخ) أي لو أتم المؤتم التشہد، بأن أسرع فیہ وفرغ منہ قبل إتمام إمامہ فأتي بما یخرجہ من الصلاۃ کسلام أو کلام أو قیام جاز: أي صحت صلاتہ؛ لحصولہ بعد تمام الأرکان؛ لأن الإمام وإن لم یکن أتم التشہد لکنہ قعد قدرہ؛ لأن المفروض من القعدۃ قدر أسرع ما یکون من قراء ۃ التشہد وقد حصل، وإنما کرہ للمؤتم ذلک؛ لترکہ متابعۃ الإمام بلا عذر، فلو بہ کخوف حدث أو خروج وقت جمعۃ أو مرور مار بین یدیہ فلا کراہۃ، کما سیأتي قبیل باب الاستخلاف، (قولہ: فلو عرض مناف) أي بغیر صنعہ کالمسائل الأثنی عشریۃ وإلا بأن قہقہ أو أحدث عمدا فلا تفسد صلاۃ الإمام أیضا کما مر۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: في خلف الوعید وحکم الدعاء بالمغفرۃ للکافر ولجمیع المؤمنین‘‘: ج ۲، ص: ۲۴۰)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 263
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: صورت مسئولہ میں طبعی عذر چھینک ڈکار وغیرہ کی وجہ سے جو تاخیر ہو رہی ہے اس سے سجدہ سہو لازم نہیں آتا۔(۳)(۳) أما مالا یمکن الامتناع عنہ فلا یفسد عند الکل کالمریض إذا لم یملک نفسہ من الأمین والتاؤہ لأنہ حینئذ کالعطاس والجشاء إذا حصل بہما حروف۔ (ابن نجیم، البحرالرائق، … ’’کتاب الصلاۃ: باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا‘‘: ج ۲، ص: ۷)(والتنحنع) بحرفین (بلا عذر) أما بہ بأن نشأ من طبعہ فلا (أو) بلا (غرض صحیح) فلو لتحسین صوتہ أو یہتدی إمامہ للإعلام أنہ في الصلاۃ فلا فساد علی الصحیح …… قولہ: (إلا لمریض) قال في المعراج: ثم إن کان الأنین من وجع مما یمکن الإمتناع عنہ، فعن أبي یوسف یقطع الصلا، وإن کان مما لا یمکن لا یقطع۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب ما یفسد الصلاۃ: وما یکرہ فیہا، مطلب: المواضع التي لا یجب فیہا رد السلام‘‘: ج ۲، ص: ۳۷۶، تا ۳۷۸)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 262
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: نماز میں اگر ثنا چھوٹ جائے تو نماز نہ قابل اعادہ ہے اور نہ ہی کوئی فساد نماز میں آیا بلکہ صرف ترک سنت ہوا اگر بھول کر ہوا تو وہ معاف ہے اور اگر دانستہ ایسا کیا تو اچھا نہیں کیا، بہر صورت سجدہ سہو واجب نہیں ہے۔(۱)اگر سورت ملانا بھول جائے تو سجدۂ سہو سے اس کی تلافی ہوجاتی ہے اور اگر سجدۂ سہو بھی نہیں کیا تو نماز واجب الاعادہ ہے ترک واجب کی بنا پر۔(۲)(۱) ولایجب بترک التعوذ والبسملۃ في الأولیٰ والثناء۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر: في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۵)(۲) لو قرأ الفاتحۃ وحدہا وترک السورۃ یجب علیہ سجود السہو۔ (أیضاً: ص: ۱۸۶)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 261
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: صورت مسئولہ میں اگر امام نے سجدۂ سہو کرلیا تو نماز درست ہوجائے گی اس لیے کہ قعدۂ اولیٰ واجب ہے فرض نہیں اور واجب کے ترک کی تلافی سجدۂ سہو سے ہوجاتی ہے۔(۱)(۱) ولا یجب السجود إلا بترک واجب، أو تاخیرہ، أو تاخیر رکن، أو تقدیمہ، أو تکرارہ، أو تغییر واجب بأن یجہر فیما یخافت وفي الحقیقۃ وجوبہ بشيء واحد وہو ترک الواجب کذا في الکافي۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الثاني عشر: في سجود السہو‘‘: ج ۱، ص: ۱۸۵)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 261
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللہ التوفیق: جس کی امام کے ساتھ کوئی رکعت چھوٹ جائے اس کو مسبوق کہتے ہیں، مسبوق اپنی چھوٹی ہوئی رکعت اسی طرح پوری کرتا ہے جس طرح کہ منفرد اپنی نماز پوری کرتا ہے، یعنی قرأت وغیرہ امور انجام دیتا ہے، اس میں کبھی سجدہ سہو کی بھی ضرورت پیش آجاتی ہے، پس مسبوق کے لیے سجدہ سہو ضروری نہیں ہے، لیکن اگر چھوٹی ہوئی رکعت کے پورا کرنے کے دوران ایسی غلطی ہوگئی جس پر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے، تو مسبوق کو بھی سجدہ سہو کرنا پڑتا ہے۔’’(والمسبوق من سبقہ الإمام بہا أو ببعضہا وہو منفرد) حتی یثنی ویتعوذ ویقرأ، وإن قرأ مع الإمام لعدم الإعتداد بہا لکراہتہا مفتاح السعادۃ (فیما یقضیہ) أي: بعد متابعتہ لإمامہ، فلو قبلہا فالأظہر الفساد، ویقضی أول صلاتہ في حق قراء ۃ، وآخرہا في حق تشہد؛ (في الشامیہ)، ویلزمہ السجود إذا سہا فیما یقضیہ کما یأتي، وغیر ذلک مما یأتي متنا وشرحا‘‘(۱)(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب: فیما لو أتی بالرکوع والسجود أو بہما مع الإمام أو قبلہ أو بعدہ‘‘: ج ۲، ص: ۳۴۶، ۳۴۷۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 259