Frequently Asked Questions
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: صورت مسئولہ میں سنت چھوڑ کر نماز تراویح میں شامل ہو جائے اور سنن بعد میں پڑھے۔(۱)
(۱) ورکعتان قبل الصبح وبعد الظہر والمغرب والعشاء شرعت البعد فیہ لجیر النقصان۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل، مطلب في السنن والنوافل‘‘: ج ۲، ص: ۴۵۲)
لأن السنۃ من لواحق الفریضۃ وتوابعہا ومکملاتہا فلم تکن أجنبیۃ عنہا فما یفعل بعدہا یطلق علیہ أنہ عقیب الفریضۃ الخ۔ (أیضاً: )
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 46
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: تراویح کا وقت مقرر ہے، یعنی عشاء کے بعد سے صبح صادق کے طلوع ہونے تک، اگر صبح صادق سے پہلے خبر آجائے، تو حسب استطاعت تراویح پڑھ سکتے ہیں، البتہ وقت نکلنے کے بعد تراویح کی قضاء نہیں ہے، لیکن اگر وقت کے بعد بھی کوئی شخص تراویح پڑھے گا، تو وہ نفل نماز ہو جائے گی۔(۱)
(۱) حکم التراویح فی أنہا لا تقضی إذا فاتت لحکم بقیۃ رواتب اللیل لأنہا منہا، لأن القضاء من خواص الفرض۔ (الحصکفي، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل، مبحث صلاۃ التراویح‘‘: ج ۲، ص: ۴۹۵)إذا فاتت التراویح لا تقضي بجماعۃ ولا بغیرہا وہو الصحیح۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب التاسع في النوافل، فصل في التراویح‘‘: ج ۲، ص: ۱۷۶)فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 45
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف میں جماعت کے ساتھ جو نماز پڑھائی وہ نماز تراویح تھی نماز تہجد نہیں تھی، کیوں کہ آپ نے بیس رکعت دو رات تک جماعت کے ساتھ پڑھائی، بیس رکعت تراویح ہی ہوتی ہیں تہجد نہیں۔(۲)
(۲) وإن کانت لم تکن في عہد أبي بکر فقد صلاہا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وإنما أشفاقاً من أن تفرض علیٰ أمتہ وکان عمر ممن تنبہ علیہا وسنہا علی الدوام فلہ أجر وأجر من عمل بہا إلی یوم القیمۃ۔
عن عائشۃ أن رسول اللّٰہ علیہ وسلم في المسجد ذات لیلۃ فصلی بصلاتہ ناس ثم صلی من القابلۃ فکثر الناس اجتمعوا من اللیلۃ الثالثۃ أو الرابعۃ فلم یخرج إلیہم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فلما أصبح قال قد رأیت الذي صنعتم فلم یمعنی من الخروج إلیکم إلا أني خشیت أن یفرض علیکم قال وذلک في رمضان۔ (أخرجہ مسلم، في صحیحہ، ’’کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ: باب الترغیب في قیام رمضان وہو التراویح‘‘: ج ۱، ص: ۲۵۹، رقم: ۷۶۱، دالاشاعت، یوبند)
أخرجہ أبو داؤد، في سننہ، ’’کتاب الصلاۃ: باب تفریع أبواب شہر رمضان، باب في قیام شہر رمضان‘‘: ج ۱، ص: ۱۹۴ - ۱۹۵، رقم: ۱۳۷۳؛ وأخرجہ البخاري، في صحیحہ، ’’کتاب التہجد: باب تحریض النبي صلاۃ اللیل والنوافل من غیر إیجاب‘‘: ج ۱، ص: ۱۱۲۹، دار الکتاب، دیوبند)
فتاوي دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 44.
نماز / جمعہ و عیدین
Ref. No. 3282/46-9007
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر کوئی شخص گھٹنوں کی تکلیف کی وجہ سے زمین پر بیٹھ کر سجدہ نہیں کر سکتا ہے تو ایسی صورت میں قیام کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے اس لئے کہ قیام ورکوع سجدہ کے لئے وسیلہ ہیں ایسے شخص کو اختیار ہے چاہے مکمل نماز بیٹھ کر اشارہ سے پڑھے یا قیام ورکوع اور سجدہ اشارہ سے کرے، دونوں صورتیں جائز ہیں، البتہ فقہاء نے ایسی صورت میں پوری نماز بیٹھ کر پڑھنے کو بہتر قرار دیا ہے اور کرسی کے مقابلہ زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا افضل ہے۔
وفی الذخيرة: رجل بلحقه خراج ان سجد سال وهو قادر علي الركوع والقيام والقرأة يصلي قاعدا يولي" ولو صلي قائما بركوع وقعد وأما بالسجود أجزأه والأول أفضل" لأن القيام والركوع لم يشرعا قربة بنفسها بل ليكونا وسيلتين الي السجود. (رد المحتار، ’’كتاب الصلاة: باب صلاة المريض‘‘: ج 2، ص: 97، سعيد)
(وان تعذر) ليس تعذرهما شرطا بلا تعذر السجود كاف (لا القيام أومأ قاعدا) وهو أفضل من الايماء قائما لقربة من الأرض. (الدر المختار مع رد المحتار: ج 2، 97، سعيد)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
نماز / جمعہ و عیدین
Ref. No. 3290/46-9018
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔(1) سورہ فاتحہ کی ایک آیت یا آیت کے ایک جزء کے تکرار سے نماز صحیح ہوجاتی ہے، ہاں اکثر فاتحہ کے تکرار سے سجدہ سہو واجب ہوجاتاہے، البتہ فرض کی آخری دو رکعت میں واجب نہیں ہوتاہے، (2) فرض نماز میں سورہ فاتحہ کے علاوہ دوسری سورتوں میں آیتوں کا تکرار بلاضرورت و عذر مکروہ ہے، البتہ عذر ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ (3) سورہ فاتحہ اور دیگر سورتوں کا تکرار سنن و نوافل میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
فلو قرآھا فی رکعۃ من الاولین مرتین وجب سجود السھو لتاخیر الواجب (ردالمحتار 2/152)
وفی الھندیۃ واذا کرر آیۃ واحدۃ مرارا فان کان التطوع الذی یصلی وحدہ فذالک غیرمکروہ وان کان فی الصلوۃ المفروضۃ فھو مکروہ فی حالۃ الاختیار واما فی حالۃ العذر والنسیان فلاباس (الھندیۃ 1/107)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: گنہگاری کا شبہ بے محل ہے، وہ گنہگار نہیں ہوں گے؛ بلکہ ثواب ہی کے مستحق ہوں گے۔(۱)
(۱) {لاَ یُکَلِّفُ اللَّہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} (سورۃ البقرۃ: ۲۸۶)فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 443.
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: نماز تراویح کا وقت نماز عشاء کے بعد سے شروع ہوتا ہے؛ اس لیے صورت مسئولہ میں نماز عشاء، تو درست ہو گئی، لیکن وقت سے پہلے پڑھی جانے کی وجہ سے تراویح درست نہیں ہوئی، در مختار میں ہے۔
’’ووقتہا بعد صلاۃ العشاء إلی الفجر قبل الوتر وبعدہ‘‘(۱)
اس کی شرح میں علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’قدر لفظ صلاۃ إشارۃ إلی أن المراد بالعشاء الصلاۃ لا وقتہا وإلی ما في النہر من أن المراد مابعد الخروج منہا حتی لو بني التراویح علیہا لا یصح وہو الأصح‘‘(۲)
(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل، مبحث صلاۃ التراویح: ج ۱، ص: ۴۹۳۔(۲) ابن عابدین، رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل، مبحث صلاۃ التراویح‘‘: ج ۲، ص۹۴ - ۴۹۳۔ووقتہا ما بعد صلاۃ العشاء علی الصحیح إلی طلوع الفجر و لتبعیتہا للعشاء یصح تقدیم الوتر علی التراویح وتأخیرہ عنہا وہو أفضل حتی لو تبین فساد العشاء دون التراویح والوتر۔ (أحمد بن إسماعیل، الطحطاوي، حاشیۃ الطحطاوي علی المراقي، ’’کتاب الصلاۃ: فصل في صلاۃ التراویح‘‘: ص: ۴۱۳)فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 43.
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: تراویح کی قضا نہیں ہے اور اگر وقت گزر نے کے بعد تراویح کی قضاء کی تو نفل کا ثواب ملے گا۔ تراویح کی سنت ادا نہ ہوگی ایسے میں جو پارہ چھوٹ گیا اس کو پڑھ لے یا سن لے پورے قرآن کا ثواب تو مل جائے گا مگر سنت تراویح میں قرآن کے پورا سننے کا ثواب نہ ملے گا۔(۱)
(۱) ولا تقضي إذا فاتت أصلاً ولا وحدہ في الأصح (فإن قضاہا کانت نفلا مستحبا ولیس بتراویح) کسنۃ مغرب وعشاء، قولہ: کسنۃ مغرب وعشاء أي حکم التراویح في أنہا لا تقضی إذا فاتت إلخ کحکم بقیۃ رواتب اللیل لأنہا منہا لأن القضاء من خواص الفرض وسنۃ الفجر بشرطہا۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل: مبحث التراویح‘‘: ج ۲، ص: ۴۹۵)
ولا تقضی التراویح أصلا بفواتہا عن وقتہا منفردا ولا بجماعۃ علی الأصح۔ (أحمد بن إسماعیل، الطحطاوي، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، فصل في صلاۃ التراویح‘‘: ص: ۴۱۶)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 42.
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: اگر وتر کی جماعت سے پہلے چھوٹی ہوئی تراویح کے ادا کرنے کا موقع نہ ملے تو وتر کے بعد چھوٹی ہوئی رکعات تراویح کو پورا کرے۔(۲)
(۲) قولہ: یصح تقدیم الوتر علی التراویح الخ وقیل وقتہا بعد العشاء قبل الوتر وبہ قال عامۃ مشایخ بخاري وأثر الخلاف یظہر فیما لو فاتتہ ترویحۃ لو اشتغل بہا یفوتہ الوتر بالجماعۃ یشتغل بالترویحۃ علی قول مشایخ بخاري وبالوتر علی قول غیرہم۔ (أحمد بن إسماعیل الطحطاوي، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: فصل في صلاۃ التراویح‘‘: ص: ۴۱۳)التراویح سنۃ للرجال والنساء ووقتہا بعد صلاۃ العشاء قبل الوتر وبعدہ في الأصح، فلو فاتہ بعضہا وقام الإمام إلی الوتر أوتر معہ ثم صلی ما فاتہ۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل، مبحث صلاۃ التراویح‘‘: ج ۲، ص: ۹۴ - ۴۹۳)فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 41نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: ایک مسجد میں بیک وقت دو تراویح کی نماز ادا کرنا مثلا ایک جماعت اوپر کی منزل میں اور دوسری نیچے کی منزل میں مکروہ ہے۔ اسی طرح یکے بعد دیگرے ایک مسجد میں تراویح کی دو جماعتیں کرنا بھی مکروہ ہے۔ حضرات فقہاء نے ایک مسجد میں تراویح کے تکرار کو مکروہ قرار دیا ہے۔ اس میں دوسرے مفاسد بھی ہیں بسا اوقات اوپر کی منزل میں تین پارے یومیہ پڑھے جاتے ہیں اس لیے زیادہ تر حضرات اوپر تراویح پڑھ کر دس دن میں فارغ ہوجاتے ہیں اور تراویح کی اصل جماعت جو تحتانی منزل پہ ہوتی ہے وہ بے رونق ہوجاتی ہے۔ اسی طرح جب ایک مسجد میں دو جماعت ہوتی ہیں تو لوگ دونوں امام کی قرأت کا موازنہ کرنے لگتے ہیں اس سے کبھی کبھی انتشار اور خلفشار بھی پیدا ہوتا ہے؛ اس لیے بہتر ہے کہ اس سے احتراز کیا جائے اور دوسری جماعت مسجد سے علاحدہ کسی مقام پر کرلی جائے۔
’’ولو صلی التراویح مرتین في مسجد واحد یکرہ‘‘(۱)
(۱) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب التاسع في النوافل، فصل في التراویح‘‘: ج ۱، ص: ۱۷۶۔ویکرہ تکرار الجماعۃ بأذان وإقامۃ في مسجد محلۃ۔ (الحصکفي، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب في تکرار الجماعۃ في المسجد‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۸)فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 7، ص: 40