Frequently Asked Questions
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: پہلی اذان سے متعلق علامہ یوسف بنوریؒ نے معارف السنن میں صراحت کی ہے کہ وہ زوال کے فوراً بعد ہوا کرتی تھی؛ اس لیے پہلی اذان زوال کے بعد بیان سے پہلے ہی دینی چاہیے۔ البتہ اگر کسی جگہ جمعہ کا بیان زوال سے پہلے ہی شروع ہو تو ظاہر ہے پہلی اذان زوال سے پہلے نہیں دی جائے گی؛ اس لیے بیان ختم ہوتے ہی ظہر کے اول وقت میں دے دی جائے۔ معارف السنن میں حضرت مولانا سید محمدیوسف بنوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’و بالجملۃ فہذا الأذان کان قبل التأذین بین یدي الخطیب، وکان في أول وقت الظہر متصلاً بالزوال‘‘(۱) ’’(ویجب السعي وترک البیع بالأذان الأول)، والواقع عقیب الزوال ‘‘(۲) (۱) یوسف البنوري، معارف السنن: ج ۴، ص: ۳۹۶۔ (۲) عبدالرحمن آفندی، مجمع الأنہر في شرح ملتقی الأبحر، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘:دار الکتب العلمیۃ، بیروت ج ۱، ص: ۲۵۳
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 153
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: خطبۂ جمعہ سے پہلے امام کے سامنے جو اذان دی جاتی ہے، وہ سنت مؤکدہ، واجب کے قریب اور شعائر اسلام میں سے ہے؛ بلکہ جمعہ کی اصل اذان وہی ہے؛ لہٰذا اگر اذان کسی وجہ سے نہیں دی گئی تو نماز جمعہ بغیر اذان دیئے ہوئے بھی ہوجائے گی؛ لیکن اذان کے ترک کی وجہ سے جماعت کا ثواب گھٹ جائے گا، البتہ جمعہ کی نماز بلا کراہت ادا ہو جائے گی۔ ’’(ویؤذن) ثانیاً (بین یدیہ)، أي: الخطیب‘‘(۳)’’قال في شرح المنیۃ: واختلفوا في المراد بالأذان الأول، فقیل: باعتبار المشروعیۃ، وھو الذي بین یدي المنبر؛ لأنہ الذي کان أولاً في زمنہ علیہ الصلاۃ والسلام وزمن أبي بکر وعمر حتی أحدث عثمان الأذان الأول علی الزوراء حین کثر الناس، والأصح أنہ الأول باعتبار الوقت، وھو الذي یکون علی المنارۃ بعد الزوال‘‘’’قولہ: ’’ویؤذن ثانیاً بین یدیہ‘‘: أي: علی سبیل السنیۃ کما یظھر من کلامھم، رملي (رد المحتار)(۱)’’(إعلام مخصوص) لم یقل بدخول الوقت لیعم الفائتۃ، وبین یدي الخطیب … (وھو سنۃ) … (مؤکدۃ) ھي کالواجب في لحوق الإثم (للفرائض) الخمس (في وقتھا ولو قضاء)؛ لأنہ سنۃ للصلاۃ الخ‘‘(۲)قولہ: ’’للفرائض الخمس‘‘: دخلت الجمعۃ، بحر‘‘ (رد المحتار)(۳) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۳۸۔(۱) ابن عابدین، رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۳۸۔(۲) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الأذان‘‘: ج ۲، ص: ۴۷ تا ۴۹۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 153
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: ہاں یہ بات صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جمعہ کی ایک اذان ہوا کرتی تھی، اسی طرح حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں بھی جمعہ کے لیے ایک ہی اذان ہوتی تھی اور یہ وہ اذان ہے جو آج کل دوسری اذان کہلاتی ہے، یعنی جو اذان مؤذن امام کے سامنے کھڑے ہو کر دیتا ہے۔پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مجمع بڑھ گیا تو ایک اور اذان کی ضرورت محسوس کی گئی، جس کے لیے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ’’زوراء‘‘ نامی مقام سے اذان دینے کا حکم دیا، اور یہ وہ اذان ہے جو آج کل جمعہ کی پہلی اذان کہلاتی ہے، اور اس پر صحابہ میں سے کسی نے کوئی اشکال نہیں کیا، اس طرح اس اذان پر امت کا اجماع ہو گیا۔جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی تابع داری لازم ہے، اسی طرح احادیث مبارکہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بالخصوص خلفائے راشدین کی اتباع واقتدا کا حکم دیاگیاہے، لہٰذا اجماعِ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی وجہ سے اس اذانِ ثانی کااہتمام بھی لازم ہے، نیز فقہاء نے لکھا ہے کہ اذان سنتِ مؤکدہ ہے جو واجب کے قریب اور دین کے شعائر میں سے ہے، اس لیے اس اذانِ ثانی کو ترک کرنا خلافِ سنت و اجماعِ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ہوگا۔(۱)’’وأیضاً في الحدیث: علیکم بسنتي وسنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین … إلخ وفي شرح ہذا الحدیث قولان، قیل: إن سنۃ الخلفاء والطریقۃ المسلوکۃ عنہم أیضاً سنۃ ولیس ببدعۃ وقیل: إن سنۃ الخلفاء في الواقع سنۃ النبي صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وإنما ظہرت علی أیدیہم، ویمکن لنا أن نقول: إن الخلفاء الراشدین مجازون في إجراء المصالح المرسلۃ، وہذہ المرتبۃ فوق مرتبۃ الاجتہاد، وتحت مرتبۃ التشریع، والمصالح المرسلۃ: الحکم علی اعتبار علۃ لم یثبت اعتبارہا من الشارع، وہذا جائز للخلفاء الراشدین، لا للمجتہدین‘‘(۲)’’أقول: إن سنۃ الخلفاء الراشدین أیضاً تکون سنۃ الشریعۃ؛ لما في الأصول أن السنۃ سنۃ الخلفاء وسنتہ، وقد صح في الحدیث: علیکم بسنتي وسنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین‘‘(۳)’’عن السائب بن یزید قال: کان النداء یوم الجمعۃ أولہ إذا جلس الإمام علی المنبر علی عہد النبي صلی اللہ علیہ وسلم وأبي بکر وعمر رضي اللّٰہ عنہما، فلما کان عثمان رضي اللّٰہ عنہ وکثر الناس زاد النداء الثالث علی الزوراء‘‘(۴)’’عن السائب بن یزید قال: کان الأذان علی عہد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وأبي بکر وعمر إذا خرج الإمام و إذا أقیمت الصلاۃ، فلما کان عثمان رضي اللّٰہ عنہ زاد النداء الثالث علی الزوراء۔ قال أبو عیسی: ہذا حدیث حسن صحیح‘‘(۱)(۱) باب الأذان: وہو في اللغۃ: مطلق الإعلام، قال تعالی:) وأذان من اللہ ورسولہ۔ (سورۃ التوبۃ: ۳)؛ وفي الشرع: الإعلام بوقت الصلاۃ بألفاظ معلومۃ مأثورۃ علی صفۃ مخصوصۃ، وہو سنۃمحکمۃ۔ قال أبو حنیفۃ: في قوم صلوا في المصر بجماعۃ بغیر أذان وإقامۃ: خالفوا السنۃوأثموا، وقیل: ہو واجب لقول محمد: لو اجتمع أہل بلد علی ترک الأذان لقاتلتہم، وذلک إنما یکون علی الواجب، والجمع بین القولین أن السنۃ المؤکدۃ کالواجب في الإثم بترکہا، وإنما یقاتل علی ترکہ، لأنہ من خصائص الإسلام وشعائرہ۔ (عبداللہ بن المحمود الموصلي، الاختیار لتعلیل المختار، ’’کتاب الصلاۃ: صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۴۶)(۲) علامہ أنور شاہ الکشمیري، العرف الشذي، ’’کتاب الصلاۃ: باب ما جاء في قیام شہر رمضان‘‘، دار الکتاب، دیوبند: ج ۲، ص: ۶۹۔(۳) أیضاً: ج ۲، ص: ۲۹۴۔(۴) أخرجہ البخاري، في صحیحہ، ’’کتاب الجمعۃ: باب الأذان یوم الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۱۲۴، رقم: ۹۱۲۔(۱) أخرجہ الترمذي، في سننہ، ’’أبواب الجمعۃ، باب ما جاء في أذان الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۱۱۵، رقم: ۵۱۶۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 150
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: اذان خطبہ کے متعلق حدیث میں ’’بین یدي الإمام‘‘ کے الفاظ ہیں یعنی امام کے سامنے خواہ بالکل متصل ہو یا کچھ فاصلے پر ہو جب امام کے سامنے ہوگی تو مسجد کے وسط میں ہی شمار ہوگی۔’’(ویؤذن) ثانیاً (بین یدیہ) أي الخطیب (إذا جلس علی المنبر)‘‘(۱)’’وإذا صعد الإمام المنبر جلس وأذن المؤذن بین یدي المنبر بذلک جری التوارث‘‘(۲)(۱) الحصکفي، الد المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: في حکم المرقي بین یدي الخطیب‘‘: ج ۳، ص: ۳۸، ۳۹۔(۲) ابن الہمام، فتح القدیر، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۲، ص: ۶۸۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 149
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: مسجد کی بناء وتعمیر ذکرو اذکار اور باجماعت نماز کے لیے ہوئی ہے خریدوفروخت کے لیے نہیں بلکہ ر وایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خریدو فروخت کو ناپسند کیا ہے اور اس پر نکیر فرمائی ہے، پھر جمعہ کی نماز کے وقت جب کہ بہت سے لوگ عبادت میں مشغول ہوتے ہیں اس وقت منبر سے کسی چیز کو فروخت کرنا یا نیلامی کرنا اگر چہ وہ چیز مصالح مسجد کے لیے ہی کیوں نہ ہو درست اور پسندیدہ عمل نہیں ہے اس سے لوگوں کی عبادت میں خلل ہوگا، خاص کر اس کا معمول بنالینا اور مسلسل خطبہ جمعہ سے قبل نیلامی کرنا مزید اس کی قباحت میں اضافہ کردیتاہے اس لیے اس سے پرہیز کرنا لازم ہے۔ نماز کے بعد مسجد شرعی کے باہر نیلامی کی جائے۔’’عن أبي عبد اللہ، مولی شداد بن الہاد أنہ سمع أبا ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہم، یقول: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’من سمع رجلا ینشد ضالۃ في المسجد فلیقل لا ردہا اللہ علیک فإن المساجد لم تبن لہذا‘‘(۱)’’وفي حاشیۃ النووي: في ہذین الحدیثین فوائد، منہا: النہي عن نشد الضالۃ في المسجد ویلحق بہ ما في معناہ من البیع والشراء والإجارۃ ونحوہا من العقود‘‘(۱)(۱) أخرجہ مسلم، في صحیحہ، ’’کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ: باب النہي عن نشد الضالۃ في المسجد وما یقولہ من سمع الناشد‘‘: ج ۱، ص: ۲۱۰، رقم: ۵۶۸۔(۱) نووی، شرح النووي علی مسلم: ج ۱، ص: ۲۱۰۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 150
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: خطبہ جمعہ انعقاد جمعہ کے لیے شرط ہے یعنی جمعہ کی نماز سے پہلے خطبہ کا ہونا شرط ہے لیکن ہر شخص کا خطبہ سننا شرط نہیں ہے اس لیے اگر کوئی شخص اس وقت مسجد میں آئے جب کہ خطبہ ہوچکا ہو تب بھی اس کی جمعہ کی نماز درست ہوجائے گی، تاہم وہ شخص مخصوص ثواب سے محروم رہے گا۔’’(و) الرابع: (الخطبۃ فیہ) فلو خطب قبلہ وصلی فیہ لم تصح۔ (و) الخامس: (کونہا قبلہا) لأن شرط الشيء سابق علیہ (بحضرۃ جماعۃ تنعقد) الجمعۃ (بہم ولو) کانوا (صما أو نیاما فلو خطب وحدہ لم یجز علی الأصح) کما في البحر عن الظہیریۃ‘‘(۱)’’بدلیل أن المقتدي بالإمام تصح جمعتہ وإن لم یدرک الخطبۃ لہذا المعنی فکذا ہذا‘‘(۲)(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب في نیۃ آخر ظہر بعد صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۱۹۔(۲) الکاساني، بدائع الصنائع، ’’کتاب الصلاۃ: فصل في بیان شرائط الجمۃ، محظورات الخطبۃ‘‘: ج ۱، ص: ۵۹۶۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 149
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: خطبہ جمعہ میں عصا لینا بدعت نہیں ہے؛ بلکہ مستحب ہے، خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عصا لینا ثابت ہے، اس لیے اسے بدعت کہنا درست نہیں ہے بلکہ یہ جہالت اور ناواقفی کی بات ہے، البتہ اسے لازم سمجھنابدعت ہے ہر حکم کو اس کے درجہ میں ہی رکھنا چاہئے۔’’وقیل الحکمۃ فیہ الإشارۃ إلی أن ہذا الدین قد قام بالسیف، وفیہ إشارۃ إلی أنہ یکرہ الإتکاء علی غیرہ کعصا وقوس، خلاصۃ لأنہ خلاف السنۃ محیط، وناقش فیہ ابن أمیرحاج بأنہ ثبت أنہ صلی اللہ علیہ وسلم قام خطیبا بالمدینۃ متکئا علی عصا أو قوس کما في أبي داود، وکذا رواہ البراء بن عازب عنہ صلی اللہ علیہ وسلم وصححہ ابن السکن‘‘(۱)’’ونقل القہستاني عن المحیط أن أخذ العصا سنۃ کالقیام‘‘(۲)(۱) أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ص: ۵۱۵۔(۲) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب في حکم المرقي بین یدي الخطیب‘‘: ج ۳، ص: ۳۹۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 148
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: آخری خطبہ کے ساتھ ہی اقامت شروع کردینی چاہیے، اور امام منبر سے اتر کر جب مصلی پر آئے تو اقامت ہوچکی ہو یا کم از کم شروع ہوچکی ہو اختتام خطبہ اور افتتاح نماز کے درمیان فصل نہیں ہے؛ لیکن مجمع کثیر ہونے کی وجہ سے یا نماز ہی سے متعلق کسی وجہ سے کچھ فصل ہوجائے تو کوئی حرج نہیں اور بلا عذر یا دنیاوی کام کی وجہ سے فصل طویل ہوجائے تو خطبہ کا اعادہ کیا جائے، مقدار طویل مبتلی بہ کی رائے پر موقوف ہے، اگر صاحب الرائے لوگوں کو معلوم ہوکہ یہ فصل طویل ہوگیا تو خطبہ کا اعادہ کرنا ہوگا۔’’(ویؤذن) ثانیا (بین یدیہ) أي الخطیب۔ أفاد بوحدۃ الفعل أن المؤذن إذا کان أکثر من واحد أذنوا واحدا بعد واحد، ولا یجتمعون کما في الجلابي والتمرتاشي، ذکرہ القہستاني (إذا جلس علی المنبر) فإذا أتم أقیمت ویکرہ الفصل‘‘(۱)’’(قولہ فإذا أتم) أي الإمام الخطبۃ (قولہ أقیمت) بحیث یتصل أول الإقامۃ بآخر الخطبۃ وتنتہی الإقامۃ بقیام الخطیب مقام الصلاۃ‘‘(۲)’’ولو خطب محدثا أو جنبا ثم توضأ أو اغتسل وصلی جاز، ولو خطب ثم رجع إلی بیتہ فتغدی أو جامع واغتسل ثم جاء استقبل الخطبۃ، وکذا في المحیط معللا بأن الأول من أعمال الصلاۃ بخلاف الثاني‘‘(۳)(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب في حکم المرقي بین یدي الخطیب‘‘: ج ۳، ص: ۳۸۔
(۲) أیضاً: ص: ۳۹۔(۳) ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۲، ص: ۱۵۹۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 148
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: خطبہ کے وقت کسی خاص انداز میں ہاتھ باندھ کر بیٹھنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے؛ بلکہ اصل مقصود ادب اور توجہ کے ساتھ خطبہ سنناہے، فقہاء کرام کے مطا بق خطبہ میں اس طرح بیٹھنا مستحب ہے جس طرح نماز میں بیٹھا جاتاہے، باقی دیگر ہیئت پر بھی بیٹھنے کی اجازت ہے اور ہاتھ کو باندھنے کی کوئی مخصوص ہیئت منقول نہیں ہے۔’’إذا شہد الرجل عند الخطبۃ إن شاء جلس محتبیا أو متربعا أو کما تیسر؛ لأنہ لیس بصلاۃ عملا وحقیقۃ، کذا في المضمرات، ویستحب أن یقعد فیہا کما یقعد في الصلاۃ، کذا في معراج الدرایۃ‘‘(۱)(۱) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۱۴۸۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 146
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: واضح رہے کہ جمعہ کا خطبہ جمعہ کی نماز سے قبل ہی دینے کا حکم ہے، کیوںکہ خطبۂ جمعہ نماز کی صحت کے لیے شرط ہے اور شرط اپنے مشروط پر مقدم ہوتی ہے، نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کا معمول اور اجماع امت اسی پر ہے کہ خطبہ جمعہ نماز سے پہلے ہو اسی لیے خطبۂ جمعہ جمعہ کی نماز سے قبل دیا جاتا ہے جبکہ عیدین کا خطبہ سنت ہے عید کی نماز کے لیے شرط نہیں ہے۔’’اعلم أن الخطبۃ سنۃ وتأخیرہا إلی ما بعد الصلاۃ سنۃ أیضاً‘‘(۱)’’قولہ ویخطب بعدہا خطبتین اقتداء بفعلہ علیہ السلام بخلاف الجمعۃ فإنہ یخطب قبلہا لأن الخطبۃ قبلہا شرط والشرط متقدم أو مقارن وفي العید لیست بشرط ولہذا إذا خطب قبلہا صح وکرہ لأنہ خالف السنۃ کما لو ترکہا أصلاً‘‘(۲)’’عن أنس رضي اللّٰہ عنہ قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم وأبو بکر وعمر (رضي اللّٰہ عنہما) یبدؤون بالصلاۃ قبل الخطبۃ في العید‘‘(۳)’’عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہ قال: کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وأبو بکر، وعمر (رضي اللّٰہ عنہما)، یصلون العیدین قبل الخطبۃ) قال التوربشتي: ذکر الشیخین مع النبي صلی اللہ علیہ وسلم فیما یقررہ من السنۃ … قال ابن المنذر: أجمع الفقہاء علی أن الخطبۃ بعد الصلاۃ‘‘(۴)’’(ویخطب بعدہا خطبتین) وہما سنۃ (فلو خطب قبلہا صح وأساء)؛ لترک السنۃ، وما یسن في الجمعۃ ویکرہ یسن فیہا ویکرہ‘‘(۵)(۱)أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب أحکام العیدین‘‘: ص: ۵۲۸۔(۲) ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ العیدین‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۳۔(۳) ہیثمی، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ’’کتاب الصلاۃ: باب الصلاۃ قبل الخطبۃ‘‘: ج ۲، ص: ۴۳۶، رقم: ۳۲۲۸۔(۴) ملا علی قاری، مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین‘‘: ج ۳، ص: ۱۰۱۶، رقم: ۱۴۲۸۔(۵) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب العیدین، مطلب أمر الخلیفۃ لا یبقی بعد موتہ‘‘: ج ۳، ص: ۵۷۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 144