نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں امام صاحب کا صفیں درست کرنے  یا موبائل بند کرنے کے لیے جمعہ کی نماز میں یا دیگر نمازوں میں کہنا اقامت سے پہلے بھی درست ہے اور اقامت کے بعد بھی کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کی تفصیلات حدیث وکتب فقہیہ سے ثابت ہے۔’’حدثنا أنس، قال: أقیمت الصلاۃ فأقبل علینا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بوجہہ، فقال: أقیموا صفوفکم وتراصوا فإني أراکم من وراء ظہري‘‘(۱)’’وینبغي للقوم إذا قامو إلی الصلوۃ أن یتراصوا ویسددوا الخلل، ویسووا بین مناکبہم في الصفوف، ولا بأس أن یأمرہم الإمام بذلک: لقولہ علیہ السلام: سووا صفوفکم، فإن تسویۃ الصف من تمام الصلوۃ‘‘(۲)(۱) أخرجہ البخاري في صحیحہ، ’’کتاب الأذان: باب اقبال الإمام علی الناس عند تسویۃ الصفوف‘‘: ج ۱، ص: ۱۰۰، رقم: ۷۱۹۔(۲) زیلعي، تبیین الحقائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ‘‘: ج ۱، ص: ۱۳۶۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 143

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: واضح رہے کہ دورانِ خطبہ سامعین کو خاموش رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور کسی طرح کے کلام یا لایعنی امر سے منع کیا گیا ہے تاہم مذکورہ حکم سے امام وخطیب مستثنیٰ   ہیں، لہٰذا خطیب کا خطبہ کے دوران امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور اصلاح کرنا بلاکراہت جائز ہے خطیب کی اصلاح سے خطبہ اور نہ ہی نماز میں کسی طرح کی کوئی خرابی لازم ہوگی ایسے ہی ضرورت کی وجہ سے خطیب اگر خطبہ کے دوران اصلاح کے لیے مادری زبان کا استعمال کرے تو بھی درست ہے اس سے بھی نماز میں کوئی فساد لاحق نہیں ہوگا۔’’کل ماحرم في الصلاۃ حرم فیہا أي في الخطبۃ، فیحرم أکل وشرب وکلام ولو تسبیحاً، أو رد سلام أو أمراً بمعروف وقال الشامي إلا إذا کان من الخطیب کما قدمہ الشارح‘‘(۱)’’والتکلم بہ من غیر الإمام حرام‘‘(۲)(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳،ص: ۳۵۔(۲) أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۵۵۲۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 142

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: بلا کسی وجہ کے دونوں کے درمیان فاصلہ کرنا درست نہیں ہے، کیوں کہ امام صاحب کے خطبہ دینے کے لئے نکلنے کے وقت سے نماز ہونے تک بات چیت کرنا مکروہ ہے، لہٰذا خطبہ اور اذانِ خطبہ کے مابین بلا وجہ فاصلہ کرنا مناسب نہیں ہے، اسی پر دور صحابہؓ سے آج تک توارث چلا آ رہا ہے۔’’وکذا الجلوس علی المنبر قبل الشروع في الخطبۃ والأذان بین یدیہ، جریٰ بہ التوارث کالإقامۃ بعد الخطبۃ ثم قیامہ بعد الأذان في الخطبتین‘‘(۱)’’وإذا خرج الإمام فلا صلاۃ ولا کلام لما رواہ ابن شیبۃ عليِّ وابن عباس وابن عمر رضي اللّٰہ عنہم الخ‘‘(۲)(۱) أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ص: ۵۱۵۔(۲) ابن نجیم، البحرا الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الجمعۃ‘‘: ج ۲، ص: ۲۷۰۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 141

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: ہر خطیب کو کوشش تو یہی کرنی چاہئے کہ زبانی خطبہ دیں، کیوں کہ خطبہ وعظ ونصیحت ہی کا نام ہے اور وعظ ونصیحت زبانی ہی زیادہ مؤثر ہوتی ہیں، لیکن اگر زبانی خطبہ یاد نہ ہوتو دیکھ کر پڑھنے میں چاہے موبائل ہی میں دیکھے شرعاً کوئی مضائقہ نہیں ہے۔’’الخطبۃ بضم الخاء لغۃ الکلام المنثور یخاطب بہ متکلم فصیح جمعاً من الناس لإقناعہم الخطیب التحدث عن القوم ومن یقوم بالخطابۃ في المسجد وغیرہ … والخطبۃ في الاصطلاح ہي الکلام المؤلف الذي یتضمن وعظاً وإبلاغاً علی صفۃ مخصوصۃ‘‘(۱)(۱) الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ: ج ۱۹، ص: ۱۷۶۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 140

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں عیدگاہ میں منبر نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی مدینہ میں مسجد نبوی کا منبر عیدگاہ لایا جاتا تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو زمین پر کھڑے ہوکر خطاب فرمایا کرتے تھے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدگاہ میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے سے پہلے بغیر اذان واقامت کے نماز پڑھائی پھر بلال کا سہارا لے کر خطاب کے لئے کھڑے ہوئے اور لوگوں کو وعظ ونصیحت فرمائی۔(۱)فتح الباری میں ہے کہ عیدین، جمعہ اور دیگر خطبوں کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اکثر خطاب منبر پر ہوتے تھے۔(۲)جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عیدین کے خطبوں کے لئے منبر ہونا ثابت نہیں ہے، لہٰذا عیدین کا خطبہ منبر سے نیچے دوران خطبہ کرسی بر بیٹھنا خلاف سنت نہیں ہے، بلکہ بعض علماء تو بغیر منبر کے خطبہ دینا عیدین کے موقع پر مسنون وبہتر قرار دیا ہے۔(۳)(۱) قال جابر رضي اللّٰہ عنہ،: شہدت مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الصلاۃ یوم العید فبدأ بالصلاۃ قبل الخطبۃ بلا أذان ولا إقامۃ، ثم قام متوکئاً علی بلال فأمر بتقوی اللّٰہ وحث علی طاعتہ ووعظ الناس وذکرہم۔ (ابن القیم، زاد المعاد، ’’فصل في ہدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم في العیدین‘‘: ج ۱، ص: ۲۱۲)(۲)ابن الحجر، فتح الباري، ’’کتاب العیدین: باب الخروج إلی المصلی بغیر منبر‘‘: ج ۳، ص: ۵۵۴۔(۳) أخرجہ البخاري في صحیحہ، ’’کتاب العیدین: باب الخروج إلی المصلی بغیر منبر‘‘: ج ۱ ، ص: ۱۳۱، رقم: ۹۵۶۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 139

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: صورت مذکورہ میں زید پر خاموشی سے خطبہ کا سننا واجب ہے، سنتیں پڑھنا جائز نہیں، کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔(۲)

(۲) وأخرج ابن أبي شیبۃ عن عروۃ قال: إذا قعد الإمام علی المنبر فلا صلاۃ وعن الزہری قال: في الرجال یجيء یوم الجمعۃ والإمام یخطب یجلس ولا یصلي۔ (ابن الہمام، فتح القدیر، ’’کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۲، ص: ۶۵)عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ ﷺ: من تکلم یوم الجمعۃ والإمام یخطب فہو کمثل الحمار یحمل أسفاراً۔ (خطیب تبریزی، مشکوٰۃ المصابیح، ’’کتاب الصلاۃ: باب التنظیف والتکبیر‘‘: ص: ۱۲۳س، رقم: ۱۳۹۷)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 138

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: سننے والے بھی آہستہ تکبیر کہہ سکتے ہیں اور دل میں درود پڑھیں۔

’’وإذا کبر الإمام بالخطبۃ یکبر القوم معہ، وإذا صلی علی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یصلي الناس في أنفسہم امتثالاً للأمر وسنۃ الإنصات‘‘(۱)(۱) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السابع عشر: في صلاۃ العیدین‘‘: ج۱، ص: ۲۱۲۔ویکبر القوم معہ، ویصلون علی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم في أنفسہم امتثالاً للأمر وسنۃ الإنصات۔ (أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب أحکام العیدین‘‘: ص: ۵۳۵)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 138

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: خطبہ میں مذکورہ مقدس حضرات کا ذکر کرنا اور پڑھنا سنت نہیں؛ بلکہ مستحب ہے۔ اور اگر کوئی مذکورہ اسمائے مبارکہ کو خطبہ میں نہ پڑھے تو خطبہ میں کوئی خرابی نہیں آئے گی۔’’ویندب ذکر الخلفاء الراشدین والعمین‘‘(۱)(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: في نیۃ آخر ظہر بعد صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۲۱۔وذکر الخلفاء الراشدین والعمین مستحسن بذلک جری التوارث۔ (أحمد بن إسماعیل، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ص: ۵۱۶)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 137

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: قرآن پاک کی تفسیر اور مطلب سے ناواقف عوام کے لیے بیان سننا اور دینی احکامات سے واقف ہونا زیادہ افضل ہے، تلاوت تو بعد میں بھی کی جا سکتی ہے۔’’أولیٰ الظاہر أن ہذا خاص بمن لا قدرۃ لہ علی فہم الآیات القرآنیۃ والتدبر في معانیہا الشرعیۃ، والاتعاظ بمواعظہا الحکمیۃ، إذ لا شک أن من لہ قدرۃ علی ذلک یکون استماعہ أولیٰ بل أوجب، بخلاف الجاہل فإنہ یفہم من المعلم والواعظ ما لا یفہمہ من القارئ فکان ذلک أنفع لہ‘‘(۱)(۱) الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب ما یفسد الصلاۃ، وما یکرہ فیہا، مطلب: في من سبقت یدہ إلی مباح‘‘: ج ۲، ص: ۴۳۷۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 136

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: مذکورہ وقت میں امام کو سلام نہیں کرنا چاہیے۔ البحر الرائق میں خطبہ کے بیان میں ہے۔’’وترک السلام من خروجہ إلی دخولہ في الصلاۃ وترک الکلام، … قولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إذا خرج الإمام فلا صلاۃ ولا کلام یبطل ذلک‘‘(۲)(۲) ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۲، ص: ۲۵۹۔وترک الکلام من خروجہ إلی دخولہ في الصلاۃ۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۲۳)وإذا خرج الإمام فلا صلاۃ ولا کلام الخ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السادس عشر: في صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۰۸)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 136