Frequently Asked Questions
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: جمعہ کا خطبہ کھڑے ہوکر پڑھنا سنت ہے، بیٹھ کر اگرچہ پڑھنا جائز ہے؛ لیکن بغیر عذر کے مکروہ ہے۔(۱)(۱) قولہ: (وطہارۃ وستر عورۃ قائما)، جعل الثلاثۃ في شرح المنیۃ واجبات مع أنہ نفسہ صرح في متن الملتقی بسنیۃ الطہارۃ والقیام کما في کثیر من المعتبرات۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: في قول الخطیب قال اللّٰہ تعالیٰ: أعوذ باللّٰہ من الشیطان الرجیم‘‘: ج ۳، ص: ۲۳) (ویخطب قائما علی طہارۃ) لأن القیام فیہما متوارث … (ولو خطب قاعداً أو علی غیر طہارۃ جاز)۔ (علي بن أبي بکر المرغیناني، الہدایۃ مع فتح القدیر، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۲، ص: ۵۶، ۵۷)وأما سننہا فخمسۃ عشر … وثانیہا: القیام ہکذا في البحر الرائق،… … ولو خطب قاعداً أو مضطجعا جاز۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السادس عشر: في صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۰۷)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 135
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: بہتر اور افضل یہ ہے کہ خطبہ جمعہ کے دوران مثل حالت تشہد صلوۃ کے بیٹھے؛ لیکن اگر اس طرح بیٹھنے میں تکلیف ہو یا عذر ہو تو پھر جس طرح بیٹھنے میں سہولت ہو اس طرح بیٹھ سکتے ہیں؛(۱) البتہ پاؤں قبلہ کی طرف پھلا کر نہ بیٹھے کہ اس میں مسجد کی بے ادبی ہے اور نمازیوں کے لیے تکلیف دہ ہے سوال میں جس مخصوص انداز میں بیٹھنے کا تذکرہ کیا گیا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔(۱) إذا شہد الرجل عند الخطبۃ إن شاء جلس محتبیا أو متربعا أو کما تیسر؛ لأنہ لیس بصلاۃ عملا وحقیقۃ، کذا في المضمرات، ویستحب أن یقعد فیہا کما یقعد في الصلاۃ، کذا في معراج الدرایۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السادس عشر: في صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۰۹)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 134
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: زبان سے نہیں دل سے کہہ سکتا ہے۔ یہ مستثنیٰ ہے۔(۳)
(۳) وینبغي أن لا یجیب بلسانہ اتفاقاً فيالأذان بین یدي الخطیب۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الأذان، مطلب: في کراہۃ تکرار الجماعۃ في المسجد‘‘: ج ۲، ص: ۷۰)قولہ: (ولا کلام) … وکذلک إذا ذکر النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا یجوز أن یصلوا علیہ بالجہر؛ بل بالقلب، وعلیہ الفتوی رملي۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: في شروط وجوب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۳۵)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 133
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: خطیب کے ممبر پر آجانے کے بعد کوئی وظیفہ پڑھنا یا انگلیاں چومنا وغیرہ شرعاً درست نہیں۔ حاضرین پر لازم ہے کہ پوری توجہ کے ساتھ اذان وخطبہ سنیں(۱) اگر کچھ لوگ دور ہوں اور آواز کم آئے یا بالکل نہ آئے، تو بھی پورے طور پر متوجہ رہنا لازم ہے یہ حکم حدیث پاک میں صراحۃً موجود ہے۔ ’’وإذا خرج الإمام فلا صلاۃ ولا کلام‘‘(۱)’’وإذا خرج الإمام یوم الجمعۃ ترک الناس الصلاۃ والکلام‘‘(۲)(۱) ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۳۹۔(۲) أخرج ابن أبي شیبۃ عن عروۃ قال: إذا قعد الإمام علی المنبر فلا صلاۃ وعن الزہري قال: في الرجال یجیئ یوم الجمعۃ والإمام یخطب یجلس ولا یصلي۔ (ابن ہمام، فتح القدیر، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجمعۃ‘‘: ج ۲، ص: ۶۵)عن ابن عباس قال: قال رسول اللّٰہ ﷺ: من تکلم یوم الجمعۃ والإمام یخطب فہو کمثل الحمار یحمل أسفاراً۔ (خطیب تبریزی، مشکوٰۃ المصابیح، ’’کتاب الصلاۃ: باب التنظیف والتکبیر‘‘: ص: ۱۲۳، رقم: ۱۳۹۷)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 132
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: مذکورہ صورت میں وہ شخص جمعہ کا خطبہ دے سکتا ہے؛ اس لیے کہ یہ جائز ہے کہ جمعہ کا خطبہ کوئی دے اور نماز کوئی اور پڑھائے مگر مناسب بات یہ ہے کہ خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ دونوں کو ایک ہی شخص پڑھائے مگر کوئی اس کے خلاف کرے تو جائز ہے۔(۲)
’’قولہ: (لأنہما) أي: الخطبۃ والصلاۃ کشيء واحد، لکونہما شرطاً مشروطا ولا تحقق المشروط بدون شرطہ، فالمناسب أن یکون فاعلہما واحداً‘‘(۱) اسی طرح عیدین کا مسئلہ بھی ہے۔(۲) (لا ینبغي أن یصلي غیر الخطیب) لأنہما کشيء واحد (فإن فعل بأن خطب صبي بإذن السلطان، وصلی بالغ جاز) ہو المختار۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار،… ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: في حکم المرقي بین یدي الخطیب‘‘: ج ۳، ص: ۳۹)وقد علم من تفاریعہم أنہ لا یشترط في الإمام أن یکون ہو الخطیب۔ (أیضاً: ص: ۱۹)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 131
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: جس لباس میں باہر نکلنا، بازار جانا، شادی وغمی کی مجالس میں شرکت پسند نہ کرتا ہو، بلکہ معیوب سمجھتا ہو اس لباس کو پہن کر نماز پڑھنا یا پڑھانا مکروہ ہے اور جب کہ لنگی پہن کر خطبہ پڑھانے والے، لنگی باندھنے اور مجالس میں جانے باہر نکلنے کے عادی ہیں، تو پھر نماز پڑھانے میں بھی کراہت نہیں ہے۔(۱)(۱) قولہ: (وصلاتہ في ثیاب بذلۃ) … قال في البحر: وفسرہا في شرح الوقایۃ: بما یلبسہ في بیتہ ولا یذہب بہ إلی الأکابر، والظاہر أن الکراہۃ تنزیہیۃ۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، مطلب: في الکراہۃ التحریمیۃ والتنزیہیۃ‘‘: ج ۲، ص: ۴۰۷)وتکرہ الصلاۃ في ثیاب البذلۃ، کذا في معراج الدرایۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہند، ’’کتاب الصلاۃ: الباب السابع: فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الثاني: فیما یکرہ في الصلاۃ وما لا یکرہ‘‘: ج ۱، ص: ۱۶۵)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 131
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ التوفیق: جمعہ کا خطبہ منبر پر کھڑے ہوکر دینا مسنون ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح ثابت ہے، البتہ منبر پر خطبہ دیتے وقت اگر کوئی شرعی حاجت وضرورت ہو تو خطیب کے لیے منبر سے اترنا یا کلام کرنا (جیسے کھڑے ہوئے لوگوں کو بیٹھنے کا حکم دینا وغیرہ) دونوں جائز ہیں۔ لیکن بلا عذر ایسا کرنا خلاف سنت ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ ابو رفاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمارہے تھے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں مسافر اور ناواقف آدمی ہوں، مجھے اپنے دین کا علم نہیں ہے، ابورفاعہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دینا موقوف کیا، اور منبر سے اتر کر کرسی پر تشریف فرماہوئے جس کے پائے لوہے کے بنائے گئے تھے؛ چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دین کی تعلیم دی، پھر لوٹ کر خطبہ شروع کیا۔’’عن ابن عمر، قال: کان النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یخطب خطبتین، کان یجلس إذا صعد المنبر حتی یفرغ أراہ قال: المؤذن ثم یقوم، فیخطب، ثم یجلس فلایتکلم، ثم یقوم فیخطب‘‘(۱)(۱) أخرجہ أبو داود، في سننہ، ’’کتاب الصلاۃ: تفریع أبواب الجمعۃ، باب الجلوس إذا صعد المنبر‘‘: ج ۱، ص: ۱۵۶، رقم: ۱۰۹۲۔عن جابر بن سمرۃ، قال: من حدثک أنہ لأن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یخطب قاعداً قط، فلا تصدقہ، قد رأیتہ أکثر من مأۃ مرۃ، فرأیتہ یخطب قائماً، ثم یقوم فیخطب خطبتہ الأخری الخ۔ (أخرجہ أحمد بن حنبل، في مسندہ: ج ۳۴، ص: ۴۸۰، رقم: ۲۰۹۴۵)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 129
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ الموفق: جمعہ سے قبل کی سنتیں مؤکدہ ہیں؛ اس لیے صورت مسئولہ میں وعظ و تقریر کا پروگرام نماز جمعہ کے بعد کیا جائے یا پھر تقریر کے بعد سنتوں کا وقت دیا جائے حسب موقع کوئی بھی صورت اختیار کرلی جائے؛ لیکن سنتوں کے وقت میں تقریر وغیرہ درست نہیں۔’’سن مؤکدا أربع قبل الظہر وأربع قبل الجمعۃ وأربع بعدہا بتسلیمۃ … … لما عن عائشۃ کان النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یصلي قبل الظہر أربعا وبعدہا رکعتین‘‘(۱)’’عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہ کان النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یرکع قبل الجمعۃ أربعا لا یفصل في شيء منہن‘‘(۲)’’وفي الأربع قبل الظہر والجمعۃ وبعدہا‘‘(۳)’’قولہ: (والسنۃ … قبل الظہر والجمعۃ وبعدہا أربع)، … فالأول في کل یوم ما عدا الجمعۃ ثنتا عشرہ رکعۃ وفي یوم الجمعۃ أربع عشرۃ رکعۃ، والأصل فیہ ما رواہ الترمذي عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا، قالت: قال رسول اللّٰہ علیہ وسلم: من ثابر علیٰ ثنتي عشرۃ رکعۃ من السنۃ بنی اللّٰہ لہ بیتا في الجنۃ‘‘(۴)(۱) أخرجہ أبوداود، في سننہ، ’’کتاب الصلاۃ: باب تفریع أبواب التطوع ورکعات السنۃ‘‘: ج ۱، ص: ۱۷۸، رقم: ۱۲۵۱۔(۲) أخرجہ ابن ماجہ، في سننہ، ’’کتاب إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا، باب ما جاء فيالصلاۃ قبل الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۷۹، رقم: ۱۱۲۹؛ والحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل، مطلب: في السنن والنوافل‘‘: ج ۲، ص: ۴۵۱۔(۳) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب التاسع: في النوافل‘‘: ج ۱، ص: ۱۷۲۔(۴) ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل‘‘: ج ۲، ص: ۸۳۔
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 128
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ الموفق: خطبہ سننا واجب ہے اور دوران خطبہ ڈبہ گھمانا یا کسی اور انداز سے چندہ کرنا خطبہ سننے میں خلل ڈالتا ہے؛ اس لیے دوران خطبہ چندہ کرنا مکروہ تحریمی ہے،(۲) نماز کے بعد دعا سے فراغت سے پہلے ڈبہ گھمانا اور چندہ کرنا دعاء کے لیے مخل ہے؛ اس لیے اس وقت میں بھی بغیر ضرورت شدیدہ چندہ کرنا مناسب نہیں ہے؛ البتہ دعاء کے بعد چندہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، اسی طرح مقرر کا چندہ کی ترغیب دینا یا چندہ کرانا بھی درست ہے، مسجد کی ضروریات کے لیے مسجد میں چندہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(۱)(۲) (وکل ما حرم في الصلاۃ حرم فیہا) أي في الخطبۃ خلاصۃ وغیرہا فیحرم أکل وشرب وکلام ولو تسبیحا أو رد سلام أو أمرا بمعروف؛ بل یجب علیہ أن یستمع ویسکت۔ وفي الشامي: ظاہرہ أنہ یکرہ الاشتغال بما یفوت السماع، وإن لم یکن کلاماً۔ (الحصکفی، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: فی شروط وجوب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۳۵)(۱) عن عبد الرحمن بن خباب، قال: شہدت النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہو یحث علی جیش العسرۃ فقام عثمان بن عفان فقال: یا رسول اللّٰہ علی مائۃ بعیر بأحلاسہا وأقتابہا في سبیل اللّٰہ، ثم حض علی الجیش فقام عثمان بن عفان فقال: یا رسول اللّٰہ علی مائتا بعیر بأحلاسہا وأقتابہا في سبیل اللّٰہ، ثم حض علی الجیش فقام عثمان بن عفان فقال: یا رسول اللّٰہ علی ثلاث مائۃ بعیر بأحلاسہا وأقتابہا في سبیل اللّٰہ، فأنا رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ینزل عن المنبر وہو یقول: ما علی عثمان ما عمل بعد ہذہ، ما علی عثمان ما عمل بعد ہذہ۔ (أخرجہ الترمذي، في سننہ، ’’أبواب المناقب عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘‘: ج ۲، ص: ۲۱۱، رقم:۳۷۰۰)
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 127
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللہ الموفق: ’’فإن افتتح الصلاۃ بالفارسیۃ أوقرأ فیہا بالفارسیۃ أو ذبح وسمیٰ بالفارسیۃ وہو یحسن العربیۃ أجزأہ عند أبي حنیفۃ، وقالا: لا یجزیہ إلا في الذبیحۃ وإن لم یحسن العربیۃ أجزأہ … ویروي رجوعہ في أصل المسئلۃ إلیٰ قولہما، وعلیہ الاعتماد والخطبۃ والتشہد علی ہذا الاختلاف‘‘(۱)(۱) المرغیناني، الہدایۃ، ’’کتاب الصلاۃ: باب صفۃ الصلاۃ‘‘:دار الکتاب دیوبند، ج ۱، ص: ۱۰۱، ۱۰۲
فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 126