نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: جمعہ کے دن کی فجر سے پہلے اور جمعہ کی نماز کے بعد سفر کرنے میں کوئی اختلاف نہیں ہے بالاتفاق جائز ہے ، اور فجر کے بعد زوال سے پہلے سفر شروع کرنے میں بھی احناف کے یہاں کوئی کراہت نہیں ہے، جائز ہے ،البتہ زوال کے بعد یعنی جمعہ کا وقت شروع ہوجانے کے بعد سفر شروع کرنا احناف کے یہاں مکروہ ہے ہاں اگر ساتھی کے چھوٹ جانے کا اندیشہ ہو، یا شدید مجبوری ہو، ٹرین کا ٹائم وہی ہو اور کوئی مناسب متبادل نہ تو زوال کے بعد بھی سفر کیا جاسکتاہے۔’’کما یکرہ السفر بعد دخول وقت الجمعۃ‘‘(۱)’’ویکرہ بعد الزوال یوم الجمعۃ لا قبلہ، و في شرح الأقطع: لا یکرہ قبلہ و بعدہ، و في النوادر: أن یسافر یوم الجمعۃ قبل الصلاۃ من غیر فصل، و في المبسوط: لا یجوز السفر بعد الزول یوم الجمعۃ عند الشافعي، وکذاعند المالکیۃ ذکرہ في الذخیرۃ للقرافي‘‘(۲)(۱) ابن الہمام الحنفي، فتح القدیر، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ‘‘: ج ۱، ص: ۳۴۹۔(۲) العیني، البنایۃ، شرح الہدایۃ، ’’کتاب الصلاۃ: البیع و الشراء بعد أذان الجمعۃ الأول‘‘: ج ۳، ص: ۹۴۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 175

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: شریعت اسلامیہ کی نظر میں قیام جمعہ کا مقصد تکثیر جماعت مسلمین ہے تاکہ ان کو وعظ و نصیحت اور خطبہ سننے کا موقع ملے اور اس کے ذریعہ مسائل اور دینی معلومات فراہم ہوں؛ لیکن فریضہ کی ادائیگی ایک ساتھ مل کر کر سکیں اس کے پیش نظر مسجد کے قرب و جوار کے مسلمان، دوکانداروں اور صادرین مسلمان جس وقت میں زیادہ سے زیادہ جمع ہوسکیں اور سب کو نماز جمعہ سہولت کے ساتھ مل سکے ایسے وقت کا تعین ذمہ داران مسجد کے لیے جائز ہے۔ اور اس کے پیش نظر تبدیلی وقت بھی بلا شبہ جائزاور درست ہے۔(۱)(۱) وقال الجمہور لیس بمشروع؛ لأنہا تقام بجمع عظیم فتأخیرہ مفض إلی الحرج۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: مطلب: في طلوع الشمس من مغربہا‘‘: ج ۲، ص: ۲۵)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 174

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: نماز کے بعدجو دعا کی جاتی ہے وہ سنت ہے۔ اس کی پابندی لوگ اس وجہ سے کرتے ہیں کہ فرائض کے بعد خاص طور پردعا مقبول ہوتی ہے۔ اس لیے نماز جمعہ کے بعد دعاء کو مؤخر کرنے اور مذکورہ تقریر و چندہ کو مقدم کرنے کی شرعاً گنجائش ہے۔ ہاںاس کے بعد جو دعا کی جائے گی وہ دعاء اس حدیث کا مصداق نہیں ہوگی جس میں کہا گیا ہے کہ فرائض کے بعد قبولیت دعاء کا بہترین وقت ہے اور اس کا وہ اجر نہ ہوسکے گا جو بعد فرض متصلاً دعاء پر ملتا ہے؛ اس لیے بہتر یہ ہے کہ سب نمازیوں کو پہلے سے اطلاع دے دی جائے کہ بعد دعاء صرف پانچ منٹ بیان ہوگا امید کہ لوگ ضرور ٹھہر کر سنیں گے۔(۱)(۱) قال اللّٰہ تعالیٰ: {فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَب ہلا۷  } (سورۃ الم نشرح: ۷)وقال قتادۃ: فإذا فرغت من صلاتک فانصب إلیٰ ربک في الدعاء۔ (أحمد بن علی الجصاص، أحکام القرآن، ’’سورۃ القدر: ۳‘‘: ج ۳، ص: ۸۱۳)وعن علي بن أبي طالب رضي اللّٰہ عنہ قال: کان النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم إذا سلم من الصلاۃ قال: اللہم اغفرلي ما قدمت، وما أخرت، وما أسررت، وما أعلنت، وما أسرفت، وما أنت أعلم بہ مني، أنت المقدم وأنت المؤخر لا إلہ إلا أنت۔ (أخرجہ أبوداود، في سننہ، ’’کتاب الصلاۃ: باب ما یقول الرجل إذا سلم‘‘: ج ۱، ص: ۲۱۲، رقم: ۱۵۰۹)قولہ: (قلت الخ) … ولا ینبغي أن یتکلف لإلتزام ما لم یکن في الصدر الأول۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل، مطلب: في کراہۃ الاقتداء في النفل علی سبیل التداعي الخ‘‘: ج ۲، ص: ۵۰۱)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 172

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک نماز فجر میں (بوقت ضرورت) قنوت نازلہ پڑھنا افضل اور بہتر ہے، کسی دوسری سری یا جہری نماز میں مشروع نہیں ہے۔شوافع کے یہاں جن روایات سے فجر کے علاوہ دیگر نمازوں میں قنوت نازلہ کی مشروعیت پر استدلال کیا جاتا ہے وہ روایات ہمارے نزدیک منسوخ ہیں۔’’عن أنس بن مالک رضي اللّٰہ عنہ قال: قنت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم شہراً بعد الرکوع في صلاۃ الصبح یدعو علی رعل وذکوان ویقول عصیۃ عصیت اللّٰہ ورسولہ‘‘(۱)’’قولہ: (فیقنت الإمام في الجہریۃ) … وأما القنوت في الصلات کلہا للنوازل لم یقل بہ؛ إلا الشافعي وکأنہم حملوا ما روي عنہ علیہ الصلاۃ والسلام أنہ قنت في الظہر والعشاء کما في مسلم، وأنہ قنت في المغرب أیضاً کما في البخاري علی النسخ لعدم ورود المواظبۃ والتکرار الواردین في الفجر عنہ علیہ الصلاۃ والسلام‘‘(۲)(۱) أخرجہ البخاري في صحیحہ، ’’کتاب الوتر: باب القنوت قبل الرکوع وبعدہ‘‘: ج ۱، ص: ۱۳۶، رقم: ۱۰۰۳۔(۲) ابن عابدین، ردالمحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل، مطلب: في القنوت للنازلۃ‘‘: ج ۲، ص: ۴۴۹۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 171

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: اس صورت میں دو رکعت نماز جمعہ کی ادا کرے، ظہر نہ پڑھے یہ ہی صحیح قول ہے۔(۱)(۱) ومن أدرکہا فيالتشہد أو في سجود السہو أتم جمعۃ۔ (حسن بن علي الشرنبلالي، نورالایضاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ص: ۱۱۸  حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ص: ۵۲۲)    (ومن أدرکہا في تشہد أو سجود سہو) … (یتمہا جمعۃ)۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۳۳۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 171

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کرناافضل ہے، احادیث شریفہ میں اس کے بڑے فضائل مذکور ہیں؛ چناں چہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے روز سورہ کہف پڑھے وہ اگلے آٹھ دن تک ہر فتنہ سے محفوظ رہے گا،حتی کہ اگر دجال نکل آئے تو اس کے فتنے سے بھی محفوظ رہے گا۔’’من قرأ سورۃ الکہف یوم الجمعۃ فہو معصوم إلی ثمانیۃ أیام من کل فتنۃ وإن خرج الدجال عصم منہ‘‘(۱)(۱)ابن کثیر، تفسیر ابن کثیر، ’’سورۃ الکہف: ۵‘‘: دار الکتب العلمیہ، بیروت، ج ۵، ص: ۱۲۲۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 170

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: جمعہ کے دن درج ذیل امور مسنون ومستحب ہیں:(۱)غسل کرنا۔ (۲) مسواک کرنا۔ (۳) خوشبو لگانا۔ (۴) عمدہ لباس پہننا۔ (۵) تیل لگانا۔جیساکہ البحر الرائق میں لکھا ہے کہ:’’فالمستحب في یوم الجمعۃ لمن یحضر الجمعۃ أن یدہن، ویمس طیبا ویلبس أحسن ثیابہ، إن کان عندہ ذالک ویغتسل، لأن الجمعۃ من أعظم شعائر الإسلام، فیستحب أن یکون المقیم لہا علی أحسن وصف‘‘(۱)ہر ایک کی تفصلات درج ذیل ہیں۔ (۱) غسل کرنا:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو جمعہ کا دن نصیب ہو جائے وہ غسل کرے۔’’عن عبد اللّٰہ بن عمر رضي اللّٰہ عنہما أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: إذا جاء أحدکم الجمعۃ فلیغتسل‘‘(۲)(۲) مسواک کرنا:حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جمعہ والے دن) مسواک کرے۔ ’’عن أبي بکر بن المنکدر، قال: حدثنی عمرو بن سلیم الأنصاري، قال: أشہد علي أبي سعید، قال: أشہد علی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: الغسل یوم الجمعۃ واجب علی کل محتلم، وأن یستن، وأن یمس طیبا إن وجد‘‘(۱)(۳) تیل لگانا:حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ والے دن تیل لگائے۔’’عن سلمان الفارسي، قال: قال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لا یغتسل رجل یوم الجمعۃ ویتطہر ما استطاع من طہر، ویدہن من دہنہ أو یمس من طیب بیتہ‘‘(۲)(۴) اچھا لباس پہننا:حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن اچھا لباس پہنے۔’’عن أبي ذر رضي اللّٰہ عنہ، عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، قال: من اغتسل یوم الجمعۃ فأحسن غسلہ، وتطہر فأحسن طہورہ، ولبس من أحسن ثیابہ، ومس ما کتب اللّٰہ لہ من طیب أہلہ، ثم أتی الجمعۃ، ولم یلغ، ولم یفرق بین اثنین غفر لہ ما بینہ وبین الجمعۃ الأخری‘‘(۳)(۵) ایسے ہی نماز فجر میں امام کا سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت کرنا۔ (۷)نماز جمعہ کے لیے پیدل جانا۔ (۸) جمعہ کے لیے مسجد میں جلدی جانا۔ (۹) امام کے قریب بیٹھنا۔ (۱۰) جمعہ کے خطبے کو خاموشی کے ساتھ سننا۔ (۱۱) نماز جمعہ میں امام صاحب کا سورہ اعلی اور سورہ غاشیہ یاسورہ جمعہ اور سورہ منافقین کی تلاوت کرنا۔’’عن ابن عباس أنہ قال: سمعت النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقرأ في صلاۃ الجمعۃ في الرکعۃ الأولیٰ سورۃ الجمعۃ، وفي الثانیۃ: سورۃ المنافقین‘‘(۱)(۱۲)جمعہ کے دن درود پاک کثرت سے پڑھنا۔’’أکثرو الصلاۃ علي یوم الجمعۃ فإنہ مشہود یشہد ہ الملائکۃ الخ‘‘(۲)(۱۳)جمعہ کے دن دعا مانگناخاص کر دونوں خطبوں اور عصر سے مغرب کے درمیان واضح رہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان دعاصرف دل دل میں کی جائے،زبان سے نہیں اور نہ ہی اس کے لیے ہاتھ اٹھائے جائیں۔’’إن في الجمعۃ لساعۃ لا یوافقہا مسلم یسأل اللہ تعالی فیہا خیرا؛ إلا أعطاہ إیاہ‘‘(۳)’’التمسوا الساعۃ التي ترجی في یوم الجمعۃ بعد العصر إلی غیوبۃ الشمش‘‘(۴)(۱) الکاساني، بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، ’’کتاب الصلاۃ: فصل في صلاۃ الجمعۃ، بیان ما یستحب لیوم الجمعۃ وما یکرہ فیہ‘‘: ج ۱، ص: ۶۰۴۔(۲) أخرجہ البخاري، في صحیحہ، ’’کتاب الجمعۃ: باب فضل غسل الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۱۲۰، رقم: ۸۷۷۔(۱) أیضا: ج ۱، ص: ۱۲۰، رقم: ۸۸۰۔(۲) أیضا: ’’باب الدہن للجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۱۲۱، رقم: ۸۸۳۔(۳) أخرجہ ابن ماجہ، في سننہ، ’’کتاب إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا، باب ما جاء في الزنیۃ یوم الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۷۷، رقم: ۱۰۹۸۔(۱) الکاساني، بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، ’’کتاب الصلاۃ: فصل: في صلاۃ الجمعۃ، مقدار الجمعۃ وبیان ما یفسدہا‘‘: ج ۱، ص: ۶۰۳۔(۲) خطیب تبریزی، مشکوۃ المصابیح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، الفصل الثالث‘‘: ج ۳، ص: ۴۱۵، رقم: ۱۳۶۶۔(۳) أیضاً: ’’الفصل الأول‘‘: ج ۳، ص: ۴۰۳، رقم: ۱۳۵۷۔(۴) أیضاً: ’’الفصل الثاني‘‘: ج ۳، ص: ۴۰۸، رقم: ۱۳۶۰۔

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 166

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: جمعہ کے روز سرمہ لگانا مسنون نہیں ہے؛البتہ لگانے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔(۱)(۱) عن عکرمۃ عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یکتحل بالإثمد کل لیلۃ قبل أن ینام، وکان یکتحل في کل عین ثلاثۃ میال۔ (أخرجہ أحمد بن حنبل، في مسندہ: ج ۵، ص: ۳۴۳، رقم: ۳۳۲۰)عن عکرمۃ عن ابن عباس قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أن خیر ما تداویتم بہ اللدود والسعوط، والحجامۃ والمشي وخیر ما اکتحلتم بہ الإثمد فإنہ یحلو البصر وینبت الشعر وکان لرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مکحلۃ یکتحل بہا عند النوم ثلاثا في کل عین۔… (أخرجہ الترمذي، في سننہ، ’’أبواب الطب عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، باب: ماجاء في السعوط وغیرہ‘‘: ج ۲، ص: ۲۰، رقم: ۲۰۴۸)لا یکرہ (دہن شارب و) لا (کحل) إذا لم یقصد الزینۃ)۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصوم: باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب: فیما یکرہ للصائم‘‘: ج ۳، ص: ۳۹۷)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 166

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: گاہے گاہے جمعہ کی رکعت اولیٰ میں سورہ اعلیٰ اور ثانیہ میں سورۂ غاشیہ پڑھنا سنت ہے۔ اور کبھی کبھی رکعت اول میں سورہ جمعہ اور دوسری رکعت میں سورہ منافقون پڑھنا بھی مسنون ہے۔ لیکن جیسا کہ آپ کے امام صاحب کرتے ہیں اور اس کو مسنون بتلاتے ہیں یہ صحیح نہیں ہے، کچھ  اماموں نے اس کو سنت سمجھ کر اس طرح پڑھنے کی عادت بنالی ہے جو درست نہیں ہے، لیکن اس سے نماز میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔(۱)(۱) عن ابن أبي رافع، قال: استخلف مروان أبا ہریرۃ علی المدینۃ،… وخرج إلی مکۃ، فصلی لنا أبو ہریرۃ الجمعۃ، فقرأ بعد سورۃ الجمعۃ، في الرکعۃ الآخرۃ: إذا جائک المنافقون، قال: فأدرکت أبا ہریرۃ حین انصرف، فقلت لہ: إنک قرأت بسورتین کان علي بن أبي طالب یقرأ بہما بالکوفۃ، فقال أبو ہریرۃ: إني سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، یقرأ بہما یوم الجمعۃ۔عن النعمان بن بشیر، قال: کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقرأ في العیدین، وفي الجمعۃ بسبح اسم ربک الأعلی، وہل أتاک حدیث الغاشیۃ، قال: وإذا اجتمع العید والجمعۃ، في یوم واحد، یقرأ بہما أیضا في الصلاتین۔عن عبید اللّٰہ بن عبد اللّٰہ، قال: کتب الضحاک بن قیس إلی النعمان بن بشیر یسألہ: أي شيء قرأ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یوم الجمعۃ، سوی سورۃ الجمعۃ؟ فقال: کان یقرأ ہل أتاک۔ (أخرجہ مسلم، في صحیحہ، ’’کتاب الجمعۃ: باب قراء ۃ القرآن في الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۸۷، رقم: ۸۷۷)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 165

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللہ التوفیق: نماز جمعہ سے پہلے چار رکعت سنت مؤکدہ، پھر فرض کے بعد چار رکعت سنت مؤکدہ، پھر دو رکعت سنت، یعنی نماز جمعہ کے بعد مفتی بہ قول کے مطابق چھ رکعت مؤکدہ ہیں۔(۱)(۱) وأما السنۃ قبل الجمعۃ وبعدہا فقد ذکر في الأصل: وأربع قبل الجمعۃ، وأربع بعدہا، وکذا ذکر الکرخي، وذکر الطحاوي عن أبي یوسف أنہ قال: یصلي بعدہا ستاً، وقیل: ہو مذہب علي رضي اللّٰہ عنہ وما ذکرنا أنہ کان یصلي أربعاً مذہب ابن مسعود، وذکر محمد في کتاب الصوم: أن المعتکف یمکث في المسجد الجامع مقدار ما یصلي أربع رکعات، أو ست رکعات، أما الأربع قبل الجمعۃ؛ فلما روي عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یتطوع قبل الجمعۃ بأربع رکعات؛ ولأن الجمعۃ نظیر الظہر، ثم التطوع قبل الظہر أربع رکعات کذا قبلہا۔     …وأما بعد الجمعۃ فوجہ قول أبي یوسف: إن فیما قلنا جمعا بین قول النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم وبین فعلہ؛ فإنہ روي أنہ أمر بالأربع بعد الجمعۃ، وروي أنہ صلی رکعتین بعد الجمعۃ، فجمعنا بین قولہ وفعلہ، قال أبو یوسف: ینبغي أن یصلي أربعاً، ثم رکعتین، کذا روي عن علی رضي اللّٰہ عنہ کي لایصیر متطوعاً بعد صلاۃ الفرض بمثلہا، وجہ ظاہر الروایۃ ما روي عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ قال: من کان مصلیاً بعد الجمعۃ فلیصل أربعاً۔ وما روي من فعلہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فلیس فیہ ما یدل علی المواظبۃ، ونحن لانمنع من یصلي بعدہا کم شاء، غیر أنا نقول: السنۃ بعدہا أربع رکعات لا غیر؛ لما روینا۔ (الکاساني، بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، ’’کتاب الصلاۃ: الصلاۃ المسنونۃ، بیان ما یکرہ‘‘: ج ۱، ص: ۶۳۸، ۶۳۹)(وسن) مؤکدا (أربع قبل الظہر و) أربع قبل (الجمعۃ و) أربع (بعدہا بتسلیمۃ) فلو بتسلیمتین لم تنب عن السنۃ، ولذا لو نذرہا لایخرج عنہ بتسلیمتین، وبعکسہ یخرج (ورکعتان قبل الصبح وبعد الظہر والمغرب والعشاء) شرعت البعدیۃ لجبر النقصان، والقبلیۃ لقطع طمع الشیطان۔ (الحصکفي، الدر المختار مع ردالمحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الوتر والنوافل، مطلب: في السنن والنوافل‘‘: ج ۲، ص: ۴۵۱، ۴۵۲)

فتاوى دار العلوم وقف ديوبند: ج 8، ص: 164