Frequently Asked Questions
حدیث و سنت
Ref. No. 1495/43-1048
الجواب وباللہ التوفیق
ذکر کردہ سوال میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا واقعہ جو نبی پاک صلی اللہ علیہ کے حوالے سے لکھا گیا ہے تتبع اور تلاش کے باوجود حدیث کی معتبر کتابوں میں حتی کہ موضوع احادیث پر لکھی ہوئی کسی کتاب میں بھی یہ مجھے نہیں مل سکا؛ اس لئے اس طرح کے من گھڑت واقعہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے بیان کرنے سے اجتناب کریں۔
بخاری شریف کی روایت ہے: ’’من تعمد علی کذباً، فلیتبوأ مقعدہ من النار، وأیضاً: من یقل علی مالم أقل فلیتبوأ مقعدہ من النار‘‘ (أخرجہ البخاری، فی صحیحہ: ج ۱، ص: ۳۳، رقم: ۱۰۸، و ۱۰۹)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے، دوسری روایت کا مفہوم ہے جو میری طرف ایسی بات کی نسبت کرے جو میں نے نہیں کہی اس کو چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔
ان دونوں روایتوں سے یہ صاف ہو جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط بات منسوب کرنا یعنی جو بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہی ہے اس کے بارے میں کہنا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، سخت گناہ ہے، اس سے بچنا ضروری ہے؛ نیز ترغیب وترہیب کی نیت ہو یا کسی اور وجہ سے اس طرح کی بے سند باتوں کو بیان کرنا جس کی کوئی اصل نہ ہو، شریعت مطہرہ میں جائز نہیں ہے، آئندہ اس کا خاص خیال رکھا جائے۔فقط
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
طلاق و تفریق
Ref. No. 1763/43-1492
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ لفظ "طلاق دے دوں گا" میں طلاق دینے کی دھمکی ہے اور طلاق دینے کا وعدہ ہے، اس لئے اس جملہ سے طلاق واقع نہیں ہوئی، لیکن اس کے علاوہ "طلاق دی" یا"طلاق دیتاہوں" یا بیوی کی طرف نسبت کرکے "طلاق طلاق " کہا تو ان تمام صورتوں میں طلاق واقع ہوگئی۔ اسی طرح واٹسآپ پر طلاق لکھ کر بیوی کو میسیج کرنے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ ایک اور دو طلاق کے بعد شوہر رجوع کرسکتاہے اور بیوی کو اپنے ساتھ رکھ سکتاہے، لیکن تین طلاق کے بعد بیوی مکمل طور پر حرام ہوجاتی ہے۔ اس لئے چونکہ زید نے تین بار سے زیادہ مرتبہ طلاق دی یا طلاق دیتاہوں کہہ چکا ہے یا میسیج کرچکا ہے اس لئے اس کی بیوی پر تین طلاقیں مغلظہ واقع ہوگئیں ، اگر دونوں ایک ساتھ رہتے ہیں تو حرام کاری میں مبتلا ہیں۔ ان میں علیحدگی لازم ہے۔
"قالت لزوجها من باتو نميباشم فقال الزوج مباش فقالت طلاق بدست تو است مرا طلاق كن فقال الزوج طلاق ميكنم طلاق ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك." (الھندیۃ: كتاب الطلاق، الباب الثانى فى ايقاع الطلاق، الفصل الثانى فى الطلاق بالالفاظ الفارسية، ج:1، ص:384، ط:مكتبه رشيديه)
"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض." (الھدایۃ، كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:2، ص:373، ط:مكتبه رشيديه)
﴿ الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ﴾ [البقرة: 229] ﴿ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ [البقرة: 230]
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
نماز / جمعہ و عیدین
Ref. No. 2198/44-2324
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جس شخص کی داڑھی نہ نکلی ہو اور بالغ ہوگیا ہو تو اس کو امام بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے، مستقل امامت کے لئے بھی رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، نماز میں کوئی کراہت نہیں ہوگی۔ البتہ اگر فتنہ کا خوف ہے تو کراہت آئیگی۔
شروط الامامۃ للرجال الاصحاء ستۃ اشیاء:الاسلام والبلوغ والعقل والذکورۃ والقراءۃ والسلامۃ من الاعذار۔“ رد المحتار علی الدر المختار،ج2،ص337،مطبوعہ کوئٹہ)
وكذا تكره خلف أمرد، الظاهر أنها تنزيهية أيضاً: و الظاهر أيضاً كما قال الرحمتي: إن المراد به الصبيح الوجه ؛ لأنه محل الفتنة''. (شامی، باب الإمامة، مطلب في إمامة الأمرد، ط: سعيد)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
فقہ
Ref. No. 2486/45-3782
بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ استنجاء کرتے وقت قبلہ کی طرف چہرہ یا پیٹھ کرنا مکروہ ہے، یہ قبلہ کی تعظیم کے خلاف ہے، بعض صحابہ سے منقول ہے کہ جب وہ دوسرے ملکوں میں گئے تو وہاں کے بیت الخلاء قبلہ رخ بنے ہوئے تھے تو صحابہ ضرورت کی وجہ سے استعمال تو کرتے تھے لیکن قبلہ رخ ہونے سے بچنے کے لئے ٹیڑھا ہوکر بیٹھتے تھے۔ آپ کے لئے مناسب یہ ہے کہ ویسٹرن ٹائلٹ کا رخ تبدیل کرائیں تاکہ ہمیشہ کے لئے قبلہ کی طرف پیشاب کرنا لازم نہ آئے، اور جب تک تبدیل نہیں ہوجاتاہے مجبوری میں کراہت کے ساتھ اسی کو استعمال کیاجاسکتاہے اور جتنا ٹیڑھا ہونا ممکن ہو اس کا خیال رکھاجائے،اور توبہ واستغفار کرتے رہیں ۔
اذا اتیتم الغائط لاتستقبلوا القبلۃ بغائط ولابول ولکن شرقوا او غربوا فقدمنا الشام فوجدنا مراحیض قد بنیت قبل القبلۃ فکنا ننحرف عنھا ونستغفراللہ (سنن ابی داؤد 1/9)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
دارالعلوم وقف دیوبند
اسلامی عقائد
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مرزا غلام احمد قادیانی اور متبعین کے کفر اور ارتداد میں کوئی شبہ نہیں ہے وہ بلاشبہ مرتد اور کافر ہیں؛ کیونکہ اس کا اپنی نبوت کو ثابت کرنا ہی کفر ہے مزید براں ختم نبوت کا انکار صریح کفر ہے؛ اس لئے وہ سب کافر ہیں۔(۱)
(۱) إعلم أن الإجماع قد انعقد علی أنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم المرسلین کما أنہ خاتم النبیین وإن کان المراد بالنبیین في الآیۃ ہم المرسلون۔ (الیواقیت والجوامي: ج ۲، ص: ۳۷)…عن ثوبان: قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وإنہ سیکون في أمتي کذابون کلہم یزعم أنہ نبي وأنا خاتم النبیین لا نبي بعدي۔ (أخرجہ أبو داود، في سننہ، ’’أول کتاب الفتن: ذکر الفتن ودلائلہا‘‘: ج۲، ص: ۵۷۴، رقم: ۴۲۵۲)
ولا یجوز من الکفر إلا من أکفر ذلک الملحد (أي: غلام أحمد القادیاني) بلا تلعثم وتردد (مجموع رسائل کشمیري، إکفار الملحدین: ج ۱، ص: ۱۰)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج2ص288
طہارت / وضو و غسل
الجواب وباللہ التوفیق:فقہاء نے لکھا ہے کہ بیت الخلا میں قدم رکھنے سے پہلے اور جنگل میں ستر کھولنے سے پہلے دعا پڑھی جائے، جیسا کہ الفتاویٰ الہندیہ میں مذکور ہے:
’’ویستحب لہ عند الدخول في الخلاء أن یقول: اللہم إني أعوذبک من الخبث والخبائث ویقدم رجلہ الیسری وعند الخروج یقدم الیمنیٰ‘‘(۱)
’’قبل الاستنجاء وبعدہ إلا حال انکشاف: قولہ: إلا حال انکشاف الظاہر أن المراد أنہ یسمی قبل رفع ثیابہ إن کان في غیر المکان المعد لقضاء الحاجۃ وإلا فقبل دخولہ فلو نسي فیہما سمی بقلبہ ولا یحرک لسانہ تعظیماً لإسم اللّٰہ تعالیٰ‘‘(۲)
(۱) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الطہارۃ: الباب السابع: في النجاسۃ وأحکامہا، الاستنجاء علی خمسۃ أوجہ‘‘: ج ۱، ص: ۱۰۶۔
(۲) ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الطہارۃ: سنن الوضوء‘‘: ج ۱، ص: ۱۰۹۔
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج3 ص105
طہارت / وضو و غسل
الجواب وباللّٰہ التوفیق : اگر مسواک کرتے وقت خون نکلتا ہے اور وہ تھوک پر غالب آجاتاہے، تو ایسی صورت میں وضو درست نہیں ہوگا، آپ کو چاہیے کہ مسواک نہ کریں، ا س کے بجائے آہستگی سے دانتوں پر انگلی پھیرلیا کریں؛ یہ انگلی پھیرنا مسواک کے قائم مقام ہوجائے گا۔
و ینقضہ دم مائع من جوف أو فم غلب علی بزاق(۱) لا ینقضہ المغلوب بالبزاق(۲) و علامۃ کون الدم غالباً أو مساویاً أن یکون البزاق أحمر، و علامۃ۔ کونہ مغلوباً أن یکون أصفر۔(۳) من خشي من السواک تحریک القئ ترکہ(۴) و عندہ فقدہ أو فقد أسنانہ، تقوم الخرقۃ الخشنۃ أو الأصبع مقامہ۔ (۵)
(۱) ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الطہارۃ، مطلب: نواقض الوضوء،‘‘ ج ۱ ص:۲۶۷
(۲)ایضاً: (۳)ایضاً:
(۴) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الثاني في سنن الوضوء و منھا السواک،‘‘ ج۱، ص:۵۷(مکتبہ فیصل دیوبند)
(۵) ابن عابدین، الدرالمختار مع رد المحتار، ’’کتاب الطہارۃ، مطلب في منافع السواک،‘‘ ج ۱، ص:۲۳۶۔
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج3 ص205
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز کے صحیح ہونے کے لیے طہارت ضروری ہے۔ اگر امام صاحب صرف پانی سے طہارت پر اکتفاء کرتے ہیں اور اس سے زائد احتیاط کی ضرورت نہ ہو تو ان کی اقتداء میں بلا شبہ نماز درست ہے، بظاہر اس قسم کا شبہ درست نہیں ہے۔(۲)
(۲) والاستنجاء بالماء أفضل إن أمکنہ ذلک من غیر کشف العورۃ …یستنجي بالحجر ولا یستنجي بالماء، والأفضل أن یجمع بینہما … قیل ہو سنۃ في زماننا وقیل علی الإطلاق وعلیہ الفتویٰ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الطہارۃ: الباب السابع في النجاسۃ وأحکامہا، الفصل الثالث في الاستنجاء‘‘: ج ، ص: ۱۰۴، زکریا دیوبند)
ثم اعلم أن الجمع بین الماء والحجر أفضل ویلیہ في الفضل الاقتصار علی الماء ویلیہ الإقصار علی الحجر وتحصل السنۃ بالکل وإن تفاوت الفضل۔ (ابن عابدین، رد المحتار، ’’کتاب الطہارۃ: باب الأنجاس، مطلب إذا دخل المستنجي في الماء القلیل‘‘: ج ۱، ص: ۵۵۰، زکریا دیوبند)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج5 ص41
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب وباللّٰہ التوفیق: واضح رہے کہ ایسے تعویذ اور عملیات جو آیاتِ قرآنیہ اور ادعیہ ماثورہ یا کلماتِ صحیحہ پر مشتمل ہوں ان کو لکھنا، استعمال کرنا اور ان سے علاج کرنا شرعاً درست ہے، سوال میں مذکور امام اگر جائز تعویذات کا کام کرتے ہیں اور غیر محرم عورتوں سے پردہ بھی کرتے ہیں اور دیگر اوصافِ امامت سے متصف ہیں تو ان کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے اور اگر ناجائز تعویذات جن میں کلماتِ شرکیہ یا کلماتِ مجہولہ یا نامعلوم قسم کے منتر لکھے جاتے ہیں اور امام صاحب غیر محرم عورتوں سے پردہ نہیں کرتے تو ایسے امام کی امامت میں نماز پڑھنا کراہت سے خالی نہیں ہے امام صاحب کو چاہیے کہ متہم ہونے سے بچیں اور اپنے کردار پر خاص توجہ دیں اس لیے کہ امامت کا منصب بہت ہی مقدس اور بابرکت ہے جو تقویٰ طہارت اور اعلیٰ اخلاقی رویہ کا تقاضا کرتا ہے وہ عامۃ الناس کے لیے نمونہ اور قائد کی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے امام صاحب کو ان سب چیزوں سے بچنا چاہئے جو عوام میں بحث کا موضوع بنتا ہو، تاہم ان کی اقتداء میں ادا کی گئی نماز درست ہو جائے گی اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔
’’عن عوف بن مالک الأشجعي، قال: کنا نرقي في الجاہلیۃ، فقلنا: یا رسول اللّٰہ کیف تری في ذلک؟ فقال: اعرضوا علی رقاکم، لا بأس بالرقی ما لم یکن فیہ شرک‘‘(۱)
’’عن أبي سعید الخدري أن رہطاً من أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم انطلقوا في سفر سافروہا، فنزلوا بحي من أحیاء العرب، فقال بعضہم: إن سیدنا لدغ، فہل عند أحد منکم شيء ینفع صاحبنا؟ فقال رجل من القوم: نعم، واللہ إني لأرقی، ولکن استضفناکم، فأبیتم أن تضیفونا، ما أنا براق حتی تجعلولي جعلاً، فجعلوا لہ قطیعاً من الشاء، فأتاہ، فقرأ علیہ أم الکتاب ویتفل حتی برأ کأنما نشط من عقال، قال: فأوفاہم جعلہم الذي صالحوہم علیہ، فقالوا: اقتسموا، فقال الذي رقی: لاتفعلوا حتی نأتي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فنستأمرہ، فغدوا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فذکروا لہ، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من أین علمتم أنہا رقیۃ؟ أحسنتم، اقتسموا واضربوا لي معکم بسہم‘‘(۱)
’’قال العیني: کأنہ أراد المبالغۃ في تصویبہ إیاہم۔ فیہ جواز الرقیۃ، وبہ قالت الأئمۃ الأربعۃ، وفیہ جواز أخذ الأجرۃ۔ قال محمد في الموطأ: لابأس بالرقی بما کان في القرآن وبما کان من ذکر اللّٰہ تعالی، فأما ماکان لایعرف من الکلام فلاینبغي أن یرقی بہ، انتہی۔ وأما ما کان من الآیات القرآنیۃ، والأسماء والصفات الربانیۃ، والدعوات المأثورۃ النبویۃ، فلا بأس، بل یستحب سواء کان تعویذاً أو رقیۃً أو نشرۃً، وأما علی لغۃ العبرانیۃ ونحوہا، فیمتنع؛ لاحتمال الشرک فیہا‘‘(۲)
’’رجل أم قوما وہم لہ کارہون إن کانت الکراہۃ لفساد فیہ أو لأنہم أحق بالإمامۃ یکرہ لہ ذلک وإن کان ہو أحق بالإمامۃ، لا یکرہ‘‘(۳)
(۱) أخرجہ أبوداود، في سننہ، ’’کتاب الطب:باب کیف الرقی‘‘: ج ۲، ص: ۵۴۴، رقم: ۳۹۰۰۔
(۲) ملا علي قاري، مرقاۃ المفاتیح، ’’ کتاب الطب والرقی، الفصل الثانی‘‘: ج ۷، ص: ۲۸۸۰، رقم: ۴۵۵۳۔
(۳) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الخامس، في الإمامۃ، الفصل الثالث في بیان من یصلح إماماً لغیرہ‘‘: ج ۱، ص: ۱۴۴، زکریا دیوبند۔
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج5 ص67
نماز / جمعہ و عیدین
الجواب و باللّٰہ التوفیق: جس نے اپنی رضا مندی سے نسبندی کرائی ہو اس کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے۔ اس کے پیچھے نماز کراہت ِ تحریمی کے ساتھ ادا ہوگی۔(۱)
جس نے عذر اور مجبوری کی بنا پر کرائی ہو (چونکہ معذور و مجبور کے احکام جدا ہیں) اس کی امامت بلاکراہت درست ہے۔
(۱) ومنہا أي من صفات المؤذن أن یکون تقیًا؛ لقول النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: الإمام ضامن، والمؤذن مؤتمن، والأمانۃ لایؤدیہا إلا التقي۔ (ومنہا): أن یکون عالمًا بالسنۃ لقولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: یؤمکم أقرؤکم، ویؤذن لکم خیارکم، وخیار الناس العلماء۔ (الکاساني، بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، ’’کتاب الصلوۃ، فصل في بیان سنن الأذان وصفات المؤذن‘‘: ج۱، ص: ۳۷۲، ط: دارالکتب العلمیۃ)
وینبغي أن یکون المؤذن رجلاً عاقلاً صالحًا تقیًا عالمًا بالسنۃ، کذا في النہایۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلوۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول في صفتہ وأحوال المؤذن‘‘: ج۱، ص: ۱۱۰)
خصاء بني آدم حرام بالاتفاق۔ (أیضاً: ’’کتاب الکراہیۃ، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق‘‘: ج۵، ص: ۴۱۲) کذا أجذم ومجبوب وحاقن ومن لہ ید واحدۃ۔ (ابن عابدین، رد المحتار، ’’ ‘‘: ج۲، ص: ۲۰۳)
قولہ: وکرہ إمامۃ العبد والأعرابي والفاسق … أما الکراہۃ فمبنیۃ علی قلۃ الناس في رغبۃ الناس في ہؤلاء فیؤدي إلی تقلیل الجماعۃ المطلوب تکثیرہا تکثیرا للآخر … والفاسق لایہتم لأمر دینہ۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصلوۃ، باب الإمامۃ‘‘: ج۱، ص: ۶۱۰)
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج5 ص197