اسلامی عقائد

Ref. No. 1246/42-568

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ عام دنوں میں اس طرح کے  خواب کے بعدسفید پانی  دیکھنے سے غسل واجب ہوجاتاہے۔ لیکن حیض کے زمانے میں اس کے لئے الگ سے غسل کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ جب پاک ہوں گی اسی وقت غسل کرنا ہوگا۔ اور دونوں سے پاکی حاصل ہوجائے گی۔

ھل علی المراۃ من غسل اذا ھی  احتلمت فقال رسول اللہ ﷺ نعم اذا رات الماء (بخاری شریف ، باب اذا احتلمت المراۃ ، 1/64 رقم: 282)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

Miscellaneous

Ref. No. 1488/42-997

In the name of Allah the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

In the Holy Qur'an, Allah Almighty has clearly stated that the Jews plotted secretly and Allah Almighty also plotted and Allah Almighty is the best of plotters. The Jews wanted to kill Jesus and came to kill him. But they were deluded by resemblance and Jesus was lifted to the heaven alive. They killed that person instead of Jesus; the secret of which was later revealed to them. there is no deception and lies in it.

It is a common thing to take measures on the occasion of war and battle and it is also a requisite of human nature.

Here, in the light of this principle, Allah Almighty has revealed the weakness of human beings and the supremacy of divine power. For your satisfaction, read the Quranic commentary books.

And Allah knows best

 

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband

مساجد و مدارس

Ref. No. 1869/43-1730

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ شریعت میں مال پر جرمانہ جائز نہیں، کیونکہ کسی مسلمان کو شرعی وجہ کے بغیر کسی کامال لینا جائز نہیں ہے ۔ ۔ظلم وزیادتی کے ذریعے لئے ہوئے مال کو مدرسہ میں  پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔جس قدر جلد ہوسکے جرمانہ کی رقم ادا کردی جائے، اگر جلد اداکرنا ممکن نہ ہو تو اس  کو قسطوار اداکردیاجائے تاکہ حقدار کو اس کا حق مل جائے ۔ اس رقم سے تعمیر شدہ کمرے کو تعلیم کے لئے استعمال کیا جاسکتاہے، بشرطیکہ جس قدر رقم اس میں لگی ہے وہ اس کے مالک کو لوٹادی جائے۔

''وفي شرح الآثار : التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ .والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال''۔ (رد المحتار) (4/ 61)

"مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي." (رد المحتار) (4/ 61)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

ربوٰ وسود/انشورنس

Ref. No. 2193/44-2331

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ سب کی رضامندی سے پہلی چیٹی آپ کے لئے لینا جائز ہے، البتہ آپ جب خود اس معاملہ میں شریک ہیں تو آپ کے لئے وصولیابی کے نام پر تین ہزار روپئے لینا جائز نہیں ہے۔ وصولیابی کی مزدوری میں اپنی وصولی کی مزدوری بھی شامل ہے، اور اس طرح کا معاملہ شرعا ناجائز ہے۔

ولو دفع غزلًا لآخر لینسجہ لہ بنصفہ أی بنصف الغزل أو استأجر بغلًا لیحمل طعامہ ببعضہ أو ثورًا لیطحن برّہ ببعض دقیقہ فسدت فی الکلّ؛ لأنّہ استأجرہ بجزءٍ من عملہ، والأصل فی ذلک نہیہ - صلّی اللّہ علیہ وسلّم - عن قفیز الطّحّان إلخ (درمختار مع الشامي: ۹/۷۹، باب الإجارة الفاسدة، ط: زکریا، دیوبند)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

اسلامی عقائد

الجواب وباللّٰہ التوفیق: رمضان المبارک اور جمعہ کے فضائل میں یہ بات واردہے کہ ان ایام میں جن کا انتقال ہو ان سے سوالات نہیں ہوتے؛ لیکن یہ وضاحت نہیں کہ کب تکنہیں ہوتے یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر ہے جس کی وضاحت نہیں ہے۔ البتہ رحمت خداوندی سے امید کی جانی چاہئے کہ قیامت تک سوالات نہیں ہوں گے تاہم غضب الٰہی سے بھی ڈرنا چاہئے کہ کب سوالات ہوجائیں۔
’’عن عبد اللّٰہ بن عمرو، رضي اللّٰہ عنہ، قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ما من مسلم یموت یوم الجمعۃ أو لیلۃ الجمعۃ إلا وقاہ اللّٰہ فتنۃ القبر‘‘(۱)
’’ویرفع عنہ العذاب یوم الجمعۃ وشہر رمضان بحرمۃ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم لأنہ مادام في الأحیاء لا یعذبہم اللّٰہ تعالیٰ بحرمتہ فکذلک في القبر یرفع عنہم العذاب یوم الجمعۃ وکل رمضان بحرمتہ‘‘(۲) قال إبن عابدین والمؤمن المطیع لا یعذب بل لہ ضغطۃ یجد ہول ذلک وخوفہ والعاصي یعذب ویضغط لیکن ینقطع عنہ العذاب یوم الجمعۃ ولیلتہا، ثم لا یعود وإن مات یومہا أو لیلتہا یکون العذاب ساعۃ واحدۃ وضغطۃ القبر ثم یقطع‘‘(۳)

۱) أخرجہ الترمذی، في سننہ، ’’أبواب الجنائز، باب ماجاء فیمن یموت یوم الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۰۵، رقم: ۱۰۷۴۔
(۲) أبو حنیفۃ -رحمہ اللّٰہ- شرح الفقہ الأکبر، ’’بحث في أن عذاب القبر حق‘‘ص: ۱۷۲۔
(۳) ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب ما اختص بہ یوم الجمعۃ‘‘: ج ۳، ص: ۴۴۔
ثم ذکر أن من لا یسأل ثمانیۃ! … ومنہم … والمیت یوم الجمعۃ أو لیلتہا۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: ثمانیۃ لا یسألون في قبورہم‘‘: ج ۳، ص: ۸۱)
عذاب القبر حق وسؤال منکر ونکیر وضغطۃ القبر حق، … ویرفع عنہ یوم الجمعۃ وشہر رمضان۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، مطلب: ما اختص بہ یوم الجمۃ‘‘: ج ۳، ص: ۴۴)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص240

مذاہب اربعہ اور تقلید

الجواب وباللّٰہ التوفیق:کسی مسلمان سنی حنفی پر بلا تحقیق ایسی تہمت لگانا کہ وہ قادیانی ہوگیا ہے، گویا اس کو کافر کہنا ہے اور حدیث شریف میں ہے کہ اگر کسی کو بلا وجہ کافر کہا؛ جب کہ وہ ایسا نہ ہو، تو وہ کفر اس پر لوٹتا ہے جس نے کہا ہے؛ نیز حدیث میں ہے مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔ الغرض زید اس صورت میں فاسق ہے، اس کو توبہ کرنی چاہئے اور جس پر تہمت لگائی ہے اس سے معافی مانگنی چاہئے۔
’’قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إذا قال الرجل لأخیہ یا کافر فقد باء بہ أحدہما‘‘(۱) نیز حدیث شریف: ’’سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر(۲) وقال اللّٰہ تبارک وتعالی: {ٰٓیأَیُّھَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓی أَنْ یَّکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْھُمْ وَلَا نِسَآئٌ مِّنْ نِّسَآئٍ عَسٰٓی أَنْ یَّکُنَّ خَیْرًا مِّنْھُنَّج وَلَا تَلْمِزُوْٓا أَنْفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْأَلْقَابِ  بِئْسَ الإِسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْإِیْمَانِ ج وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فَأُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ہ۱۱}(۱)۔
(۱) أخرجہ البخاري، في صحیحہ، ’’کتاب الأدب: باب من کفر أخاہ بغیر تأویل فہو کما قال‘‘: ج ۲، ص: ۹۰۱، رقم: ۶۱۰۳۔
(۲) أخرجہ البخاري، في صحیحہ، ’’کتاب الإیمان: باب خوف المؤمن من أن یحبط عملہ: ج ۱، ص: ۱۲، رقم: ۴۸۔
(۱) (سورۃ الحجرات: ۱۱)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج2ص289

اسلامی عقائد

Ref. No. 2653/45-4010

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ آپ ضرورت کی وجہ سے یہ انجکشن لیتے ہیں، اگر ڈاکٹر نے مسلسل لینے کے لئے کہا ہے تو لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اگر ضرورت پر یعنی درد ہونے یا نیند نہ آنے پر لینے کو کہا ہے تو اس کے مطابق عمل کریں اور ضرورت نہ ہو تو انجکش نہ لگوائیں۔ لیکن بہرحال آپ نشہ کی عادت میں سے شمار ہوکر کسی طرح کی وعید کے مستحق نہیں ہوں گے ان شاء اللہ۔  

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

Taharah (Purity) Ablution &Bath

Ref. No. 2698/45-4159

In the name of Allah the most Gracious the most Merciful

The answer to your question is as follows:

Filtration of impure water will not purify it, though the water is extra cleansed through this process. So it will not be allowable to perform ablution from this impure water.

والدلیل علی تحریم استعمال الماء الذی فیہ جزء من النجاسۃ وان لم یتغیر طعمہ اولونہ او رائحۃ، قول اللہ تعالیٰ ویحرم علیہم الخبث والنجاسات من الخبائث لانہا محرمۃ‘‘ (شرح مختصر الطحاوی: ج ١، ص: ١٧)

المستقطر من النجاسۃ نجس‘‘ (مراقی الفلاح: ص: ٨٩)

 

And Allah knows best

Darul Ifta

Darul Uloom Waqf Deoband

 

طہارت / وضو و غسل

الجواب وباللّٰہ التوفیق:مسواک پکڑنے اور کرنے کا مسنون و مستحب طریقہ یہ ہے کہ مسواک کو دائیں ہاتھ سے اِس طرح پکڑا جائے کہ سب سے چھوٹی انگلی کو مسواک کے نیچے رکھ کر اُس کے برابر والی تینوں انگلیوں کو مسواک کے اوپر رکھا جائے اور انگوٹھا مسواک کے سر کی طرف نیچے رکھا جائے۔ جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہے: ’’والسنۃ في کیفیۃ أخذہ أن یجعل الخنصر أسفلہ والإبہام أسفل رأسہ وباقي الأصابع فوقہ، کما رواہ ابن مسعود‘‘(۱)
اس کے بعد اوپر والے دانتوں کو دائیں طرف سے تین مرتبہ صاف کرے پھر بائیں طرف والے دانتوں کو، اسی طرح نیچے والے دانتوں کو پہلے دائیں طرف سے تین مرتبہ صاف کرے، اس کے بعد بائیں طرف والے دانتوں کو صاف کرے اور تین مرتبہ پانی میں بھگو کر یہی عمل کیا جائے گا ایسے ہی مسواک سے زبان اور گلے کو صاف کرنا بھی مسنون ہے؛ اس لئے کہ حدیث پاک میں ہے: مسواک کرنا منہ کی صفائی اور اللہ رب العزت کی خوشنودی حاصل کرنے کا سبب ہے۔
’’وأقلہ ثلاث في الأعالی وثلاث في الأسافل (بمیاہ) ثلاثۃ، (و) ندب إمساکہ (بیمناہ) وکونہ لیناً، مستویاً بلا عقد، في غلظ الخنصر وطول شبر۔  ویستاک عرضاً لا طولاً‘‘(۲)
’’(قولہ: في الأعالی) ویبدأ من الجانب الأیمن ثم الأیسر وفي الأسافل کذلک بحر۔ (قولہ: بمیاہ ثلاثۃ) بأن یبلہ في کل مرۃ‘
‘(۱)
نیز مسواک فصاحت میں اضافہ کرتی ہے، مسواک کرنا بیماری کے لیے شفاء ہے۔ صاحب کنز العمال نے مسواک کے فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے:
’’علیکم بالسواک، فنعم الشيء السواک، یذھب بالجفر، وینزع البلغم، ویجلوالبصر ویشد اللثۃ، ویذھب بالبخر، ویصلح المعدۃ، ویزید في درجات الخیر ویحمد الملائکۃ ویرضی الرب، ویسخط الشیطان‘‘(۲)
مسواک کو لازم پکڑو کیونکہ مسواک بہت عمدہ چیز ہے۔ جسم کی بو زائل کرتی ہے، بلغم کو ختم کرتی ہے، بینائی کو تیز کرتی ہے، مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے، منہ کی بدبو کو زائل کرتی ہے، معدہ کو درست کرتی ہے، نیکی کے درجات میں اضافہ کرتی ہے، ملائکہ کو خوش کرتی ہے، رب تعالیٰ کو راضی کرتی ہے اور شیطان کو ناراض کرتی ہے۔

(۱) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الطہارۃ: الفصل الثاني: في سنن الوضوء‘‘: ج ۱، ص: ۷۔
(۲) ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الطہارۃ: مطلب في من منافع السواک‘‘: ج ۱، ص: ۲۳۴-۲۳۵۔
(۱)  أیضًا
(۲) علاؤ الدین علي بن حسام الدین، کنز العمال في سنن الأقوال والأفعال: ج ۹، ص: ۳۱۴، رقم: ۲۶۱۸۱۔

 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج3 ص206

نماز / جمعہ و عیدین

الجواب وباللّٰہ التوفیق: صورت مسئولہ میں نماز کی حالت میں امام صاحب کا کپڑوں کے ساتھ کھیلنا مکروہ تحریمی ہے، البتہ اگر کسی عذر اور ضرورت کی وجہ سے کپڑے درست کرنا پڑے تو اس صورت میں مکروہ نہیں ہے؛ جیسا کہ فقہاء نے لکھا ہے۔
’’کل عمل ہو مفید لا بأس بہ للمصلي‘‘ کہ ہر وہ عمل جو مفید ہو اس کے کرنے میں نمازی کے لیے کوئی حرج نہیں ہے اور جو مفید نہ ہو وہ کام کرنا مکروہ ہے ’’وما لیس بمفید یکرہ‘‘(۱)
اور اگر کپڑے سیدھے کرتے کرتے عملِ کثیر پایا گیا تو نماز فاسد ہوجائے گی، اور اس نماز کا اعادہ واجب ہوگا سجدۂ سہو سے بھی فساد کی تلافی نہ ہوگی۔
نیز عملِ کثیر یہ ہے کہ کوئی ایسا کام کرے کہ دور سے دیکھنے والے کو یقین ہو جائے کہ یہ کام کرنے والا نماز نہیں پڑھ رہا ہے یا جو کام عام طور پر دو ہاتھوں سے کیا جاتا ہے، مثلاً عمامہ باندھنا  ازار بند باندھنا وغیرہ، یہ تمام کام عملِ کثیر شمار ہوتے ہیں ایسے ہی تین حرکاتِ متوالیہ یعنی تین بار ’’سبحان ربي الأعلی‘‘ کہنے کی مقدار وقت میں تین دفعہ ہاتھ کو حرکت دی تو یہ عملِ کثیر ہے  ورنہ قلیل ہے اور عمل کثیر سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔
’’(قولہ: أي رفعہ) أي سواء کان من بین یدیہ أو من خلفہ عند الانحطاط للسجود، بحر۔ وحرر الخیر الرملي ما یفید أن الکراہۃ فیہ تحریمیۃ۔ بین یدیہ أو من خلفہ عند الانحطاط للسجود، بحر۔ وحرر الخیر الرملي ما یفید أن الکراہۃ فیہ تحریمیۃ‘‘(۱)
’’(و) یفسدہا (کل عمل کثیر) لیس من أعمالہا ولا لإصلاحہا، وفیہ أقوال خمسۃ أصحہا (ما لایشک) بسببہ (الناظر) من بعید (في فاعلہ أنہ لیس فیہا) وإن شک أنہ فیہا أم لا فقلیل، (قولہ: لیس من أعمالہا) احتراز عما لو زاد رکوعًا أو سجودًا مثلًا فإنہ عمل کثیر غیر مفسد؛ لکونہ منہا غیر أنہ یرفض؛ لأن ہذا سبیل ما دون الرکعۃ ط قلت: والظاہر الاستغناء عن ہذا القید علی تعریف العمل الکثیر بما ذکرہ المصنف، تأمل۔ (قولہ: ولا لإصلاحہا) خرج بہ الوضوء والمشي لسبق الحدث فإنہما لایفسدانہا ط۔ قلت: وینبغي أن یزاد ولا فعل لعذر احترازًا عن قتل الحیۃ أو العقرب بعمل کثیر علی أحد القولین کما یأتي، إلا أن یقال: إنہ لإصلاحہا؛ لأن ترکہ قد یؤدي إلی إفسادہا، تأمل (قولہ: وفیہ أقوال خمسۃ أصحہا ما لایشک إلخ) صحّحہ في البدائع، وتابعہ الزیلعي والولوالجي، وفي المحیط: أنہ الأحسن، وقال الصدر الشہید: إنہ الصواب۔ وفي الخانیۃ والخلاصۃ: إنہ اختیار العامۃ، وقال في المحیط وغیرہ: رواہ الثلجي عن أصحابنا، حلیۃ۔ القول الثاني: إن ما یعمل عادۃً بالیدین کثیر وإن عمل بواحدۃ کالتعمیم وشدّ السراویل وما عمل بواحدۃ قلیل وإن عمل بہما کحلّ السراویل ولبس القلنسوۃ ونزعہا إلا إذا تکرر ثلاثًا متوالیۃً، وضعّفہ في البحر بأنہ قاصر عن إفادۃ ما لایعمل بالید کالمضغ والتقبیل۔ الثالث: الحرکات الثلاث المتوالیۃ کثیر وإلا فقلیل۔ الرابع: ما یکون مقصودًا للفاعل بأن یفرد لہ مجلسًا علی حدۃ۔ قال في التتارخانیۃ: وہذا القائل: یستدل بامرأۃ صلت فلمسہا زوجہا أو قبلہا بشہوۃ أو مص صبي ثدیہا وخرج اللبن: تفسد صلاتہا، الخامس: التفویض إلی رأی المصلي، فإن استکثرہ فکثیر وإلا فقلیل‘‘(۲)
’’یکرہ للمصلي أن یعبث بثوبہ أو لحیتہ أو جسدہ وإن یکف ثوبہ بأن یرفع ثوبہ من بین یدیہ أو من خلفہ إذا أراد السجود کذا في معراج الدرایۃ‘‘(۱)

(۱) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلوۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الثاني فیما یکرہ في الصلاۃ وما لا یکرہ‘‘: ج ۱، ص: ۱۶۴۔
(۱) ابن عابدین، رد المحتار، ’’کتاب الصلوۃ، باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا، مطلب: في الکراہۃ التحریمیۃ والتنزیہیۃ‘‘: ج۲، ص: ۴۰۶۔
(۲) أیضًا: مطلب في التشبہ بأہل الکتاب‘‘: ج۲، ص: ۳۸۴، ۳۸۵۔
(۱) جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الثاني فیما یکرہ في الصلاۃ وما لا یکرہ‘‘: ج ۱، ص: ۱۶۴۔

 

 فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج5 ص69