نکاح و شادی

Ref. No. 2799/45-4380

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ میاں بیوی کے لئے ہر طرح کے کِس کی اجازت ہے، اس میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے، البتہ تنہائی میں یہ امور انجام دئے جائیں، عام جگہوں پر ایسا کرنا بے حیائی کی بات ہوگی۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

اسلامی عقائد

Ref. No. 1099 Alif

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔  ایسی کوئی روایت ہماری نظر سے نہیں گذری، البتہ حدیث میں یہ ہے کہ اللہ کے راستہ میں ایک نیکی کا ثواب سات لاکھ  تک ہوجاتاہے، تبلیغی جماعت میں جانا نیکی اور کار ثواب ہے، اور جماعت میں نکلنے والابھی اللہ کے راستے میں ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کو اس حدیث کی رو سے سات لاکھ اور اس سے بھی زیادہ ثواب مل سکتا ہے۔ اللہ تعالی جس قدر چاہیں اس کے اخلاص کے مطابق اس کا ثواب بڑھاسکتے ہیں۔واللہ یضاعف لمن یشاء ﴿القرآن﴾۔لیکن اللہ کے راستہ سے مراد صرف جماعت ہی نہیں  ہے، جہاد وتعلیم وتعلم وغیرہ کےلئے نکلنا بھی اللہ ہی کے راستہ میں شمار ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طلاق و تفریق

Ref. No. 38/ 926

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                                                                                        

بسم اللہ الرحمن الرحیم: طلاق بائن واقع ہوگئی ۔ واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

ربوٰ وسود/انشورنس

Ref. No. 40/970

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ہوم لون لے کر اپنی پریشانی میں اضافہ نہ کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ زیادہ کی لالچ میں اصل سرمایہ بھی ہاتھ سے نکل جائے۔ اخراجات کم کیجئے اور ذریعہ آمدنی بدل کر کوشش کیجئے اور دعاء کیجئے کہ اللہ تعالی آسانی پیدافرمائیں۔ واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

آداب و اخلاق

Ref. No. 1369/42-787

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  یہ سب عرف میں رائج ہیں اور پسند و ناپسند ظاہر کر نے کے مختصر ترین طریقے ہیں؛ اشارہ کی زبان ہیں۔ اشارہ کی زبان سیکھنے سے حاصل ہوتی ہے اور اس کے لئے اہل زبان کی طرف سے کچھ علامات متعین کردی جاتی ہیں تاکہ دیگر لوگوں کو اس حوالہ سے آسانی پیدا ہو۔ ان علامات کو استعمال کرنے میں شرعا کوئی قباحت نہیں ہے۔

وكنت أرى بعض العَجَم- كعبد الحكيم على (العقائد النسفية) (1) يكتب"اهـ" بدل "إِلخ"، مع أن "اهـ" عندنا علامةٌ على انتهاء الكلام، ولا مشاحة في الاصطلاح. (المطالع النصریۃ للمطابع المصریۃ فی الاصول، الرموز عن اسماء المشھور 1/398)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

عائلی مسائل

Ref. No. 1592/43-1138

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ "زمل" لے معنی بوجھ کے ہیں ، یہ نام مناسب نہیں ہے۔  "اِیزِل" (الف اور زاء کے  نیچے زیر کے ساتھ) کے معنی ہیں:  تصویر بنانے میں استعمال ہونے والی لکڑی۔ یہ نام مناسب نہیں ہے۔''آیت '' کے معنی ہیں :علامت اور نشانی ۔ہمارے عرف میں جب آیت بولا جائے تو اس سے قرآن کی آیت مراد ہوتی ہے اور اسی کی طرف ذہن منتقل ہوتاہے۔گوکہ آیت  نام رکھنا جائز ہے، لیکن مناسب نہیں۔ "یشفع" کامعنی ہے: وہ سفارش کرتا ہے۔ یہ نام مناسب نہیں ہے، شفیعۃ(سفارش کرنےوالی) مناسب نام ہے۔  "اسراء" کے معنی : رات کے وقت چلنا، یہ نام لڑکی کے لیے رکھنا درست ہے۔  "یسری"  کا معنی ہے:آسانی ،  سہولت اور مالی وسعت۔ یہ لڑکی کا نام رکھا جاسکتا ہے،  قرآن عظیم میں یہ لفظ  جنت کے لیے استعمال ہوا ہے ۔ یسرا (الف کے  ساتھ)  مناسب  نام نہیں ہے۔'سحر'' کا معنی ہے: طلوع آفتاب سے کچھ پہلے کا وقت۔ اور "نورِسحر" کا معنی ہوگا: طلوع آفتاب سے پہلے کی ہلکی روشنی۔ یہ نام رکھنا جائز ہے۔ "فجر" کا معنی ہے: رات کی تاریکی چھٹنا، صبح کی روشنی۔  مذکورہ نام رکھنا جائز ہے، البتہ بچے  اور بچیوں کے نام انبیاء علیہم السلام یا صحابہ  و صحابیات رضوان اللہ علیہم  وعلیہن اجمعین کے اسماء میں سے کسی کے نام پر رکھنا چاہئے۔  اس لئے کوئی دوسرا نام تجویز کریں جو اچھے معنی والا ہو یا کسی صحابی و صحابیہ کے نام پر ہو۔

وقال أبو عبيد عن أصحابه سريت بالليل وأسريت فجاء باللغتين وقال أبو إسحق في قوله عز وجل سبحان الذي أسرى بعبده قال معناه سير عبده يقال أسريت وسريت إذا سرت ليلا (لسان العرب  (14 / 377)

"الفَجْرُ : انكشافُ ظلمةِ الليل عن نور الصُّبْح. وهما فَجْرَانِ: أَحدهما: المستطيلُ، وهو الكاذبُ: والآخر: المستطيرُ المنتشرُ الأُفُقِ، وهو الصادقُ. يقال: طريقٌ فَجْرٌ: واضحٌ." (معجم الوسيط)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

متفرقات

Ref. No. 1673/43-1286

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مرغی کی دمچی  حلال ہے۔مرغی کی دمچی اس کے چمڑے کا ایک حصہ ہے، شرمگاہ نہیں ہے، اس لئے اس کا کھانا جائز ہے۔

وأما بيان ما يحرم أكله من أجزاء الحيوان المأكول فالذي يحرم أكله منه سبعة: الدم المسفوح، والذكر، والأنثيان، والقبل، والغدة، والمثانة، والمرارة لقوله عز شأنه {ويحل لهم الطيبات ويحرم عليهم الخبائث} [الأعراف: 157] وهذه الأشياء السبعة مما تستخبثه الطباع السليمة فكانت محرمة. (بدائع، صفۃ التضحیۃ 5/61)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طہارت / وضو و غسل

Ref. No. 1771/43-1502

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر کپڑے پر کوئی ظاہری نجاست نہیں ہے تو ان کو پاک ہی سمجھاجائے گا۔  غیرمسلم  کا بدن بھی   پاک  ہے تو اس کا کپڑا بھی پاک شمار ہوگا الا یہ کہ اس کے کپڑے یا بدن پر کوئی نجاست ہو تو اب ان کی ناپاکی کا حکم لگے گا۔   

" الأول من الأقسام: سؤر طاهر مطهر بالاتفاق من غیر کراهة في استعماله، وهوما شرب منه آدمي لیس بفمه نجاسة ... ولا فرق بین الصغیر والکبیر والمسلم والکافر والحائض والجنب."--------- )"وإذا تنجس فمه فشرب الماء من فوره تنجس.‘‘ (نورالإیضاح مع شرحه مراقي الفلاح، الطبعة الأولیٰ : ص ۱۸ ط مصطفیٰ البابي الحلبي وأولاده بمصر)

 وأما نجاسة بدنه فالجمهور علی أنه لیس بنجس البدن والذات؛ لأن الله تعالیٰ أحل طعام أهل الکتاب". (تفسیر ابن کثیر تحت قوله تعالیٰ: ﴿اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ﴾ الآیة : ۲/۳۴۶ ط سهیل أکادمي)

’’قال محمد - رحمه الله تعالى -: ويكره الأكل والشرب في أواني المشركين قبل الغسل، ومع هذا لو أكل أو شرب فيها قبل الغسل جاز، ولايكون آكلاً ولا شارباً حراماً، وهذا إذا لم يعلم بنجاسة الأواني، فأما إذا علم فإنه لا يجوز أن يشرب ويأكل منها قبل الغسل، ولو شرب أو أكل كان شارباً وآكلاً حراماً(‘‘.الفتاوى الهندية (5/ 347)

’’شک فی وجود النجس فالاصل بقاء الطھارۃ.‘‘(الاشباہ و النظائر،صفحہ 61،مطبوعہ کراچی)  ’’ولو شک فی نجاسۃ ماء أو ثوب أو طلاق أو عتق لم یعتبر) در مختار مع رد المحتار،جلد1،صفحہ310،مطبوعہ کوئٹہ(

’’قولہ:(ولو شک)فی التاتر خانیۃ: من شک فی انائہ أو ثوبہ أو بدنہ أصابتہ نجاسۃ أو لا، فھو طاھر ما لم یستیقن،و کذا لآبار والحیاض والحباب الموضوعۃ فی الطرقات و یستقی منھا الصغار و الکبار والمسلمون والکفار )رد المحتار مع الدر المختار،جلد1،صفحہ310،مطبوعہ کوئٹہ(

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

طہارت / وضو و غسل
یہ فتوی پڑھئے: https://dud.edu.in/darulifta/?qa=4827/%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81-%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%DB%92-%D9%86%D8%A7%D9%BE%D8%A7%DA%A9%DB%8C-%DA%86%DA%BE%DB%8C%D9%86%D9%B9%DB%92-%D9%86%D8%A7%D9%BE%D8%A7%DA%A9%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D9%88%D9%86%DA%A9%DB%81-%DA%86%DA%BE%DB%8C%D9%86%D9%B9%DB%92&show=4827#q4827

اسلامی عقائد

الجواب وباللّٰہ التوفیق:حسا ب و کتاب تو آخرت میں ہوگا قبر میں دو امور ہیں سوال و جواب اور فتنہ قبر اس کو عذاب قبر بھی کہہ سکتے ہیں، جہاں تک سوال و جواب کی بات ہے اس کے بارے میں بعض فقہاء نے کہا ہے کہ ہر ذی نفس سے سوال ہوگا، لیکن یہ قول مرجوح ہے۔ شارح بخاری شریف علامہ قسطلانی اور شارح جامع صغیر علقمہ کی تحقیق یہ ہے کہ کچھ مستثنیات بھی ہیں جن سے سوال نہیں ہوگا؛ علامہ سیوطی نے بھی ان کو بیان کیا ہے جن سے سوال نہیں ہوگا۔
مثلاً: (۱)شہیدوں سے اور جو اسلامی حکومت کی سرحد کی فوجی حفاظت پر مامور ہیں۔ (۲) طاعون کی بیماری میں مبتلا ہوکر جو مرے۔ (۴) طاعون کا مرض جب پھیل رہا ہو اور وہ دوسری جگہ منتقل نہ ہو۔ اور انہی ایام میں اس کا انتقال ہوجائے۔
(۵) صدیقین سے۔ (۶) جمعہ کے دن یا رات میں جس کا انتقال ہو۔ (۷) اطفال۔ (۸) جو ہر رات میں سورہ ملک پڑھتا ہو اور بعض نے سورہ سجدہ کا اضافہ کیا ہے۔ رمضان میں مرنے والا اور انبیاء علیہم السلام، فتنۂ قبر اور عذاب قبر کے بارے میں وارد ہے۔
’’قال علیہ الصلوٰۃ والسلام: ما من مسلم یموت یوم الجمعۃ أو لیلۃ الجمعۃ إلا وقاہ اللّٰہ فتنۃ القبر الخ‘‘(۱) مصنف بن عبدالرزاق اور مسند دیلمی میں حضرت علی کرم اللہ وجہ سے روایت ہے ’’من مات لیلۃ الجمعۃ أو یوم الجمعۃ دفع اللّٰہ عنہ عذاب القبر‘‘ (۲)
معلوم ہوا کہ جس کا انتقال جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن ہوا ہو اس کو عذاب بھی نہیں ہوگا۔

۱) أخرجہ الترمذي، في سننہ، ’’أبواب الجنائز: باب ما جاء في من یموتیوم الجمعۃ‘‘: ج ۱، ص: ۲۰۵، رقم: ۱۰۷۴۔
(۲) محمد السخاوي، مقاصد حسنہ: ج ۱، ص: ۶۷۲، رقم: ۱۱۷۷۔
ثم ذکر أن من لا یسأل ثمانیۃ: الشہید، والمرابط، والمطعون، والمیت زمن الطاعون بغیرہ إذا کان صابرا محتسبا، والصدیق، والأطفال، والمیت یوم الجمعۃ أو لیلتہا، والقارئ کل لیلۃ تبارک الملک وبعضہم ضم إلیہا السجدۃ۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: ثمانیۃ لا یسألون في قبورہم‘‘: ج ۳، ص: ۸۱)

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص244